تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "declare"
غزل کے متعلقہ نتیجہ "declare"
غزل
کیوں ترے ہجر کے منظر پہ ستم ڈھاتے ہیں
زخم بھی دیتے ہیں اور خواب بھی دکھلاتے ہیں
کفیل آزر امروہوی
غزل
ہم تو دل کی ویرانی بھی دکھلاتے شرماتے ہیں
ہم کو دکھلانے آتے ہیں ذہنوں کے ویرانے لوگ
راہی معصوم رضا
غزل
مجھے دنیا اپنی چھب دکھلانے روز چلی آتی ہے مگر
کوئی دونوں بیچ آ جاتا ہے پر جانے کون آ جاتا ہے