aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "fom"
بدن چرا کے وہ چلتا ہے مجھ سے شیشہ بدناسے یہ ڈر ہے کہ میں توڑ پھوڑ دوں گا اسے
خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہہتکھنڈے ہیں چرخ نیلی فام کے
جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیںان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے
اے حسن لالہ فام! ذرا آنکھ تو ملاخالی پڑے ہیں جام! ذرا آنکھ تو ملا
یوں رات کو ہوتا ہے گماں دل کی صدا پرجیسے کوئی دیوار سے سر پھوڑ رہا ہو
ایسے شخص کو میر بنایا جو بس خواب دکھاتا تھابستی کے لوگوں نے اپنا آپ مقدر پھوڑ لیا
پیو کہ مفت لگا دی ہے خون دل کی کشیدگراں ہے اب کے مئے لالہ فام کہتے ہیں
شانوں کو چھین چھین کے پھینکا گیا کہاںآئینے توڑ پھوڑ کے ڈالے کہاں گئے
رخ ہے پر نور تو تعجب کیابادۂ لالہ فام پیتا ہوں
تسکین دل کی ایک ہی تدبیر ہے فقطسر پھوڑ لیجئے کوئی دیوار دیکھ کر
دروازے سر پھوڑ رہے ہیںکون اس گھر کو چھوڑ گیا ہے
عجب دیوانگی ہے جس کے ہم سائے میں بیٹھے ہیںاسی دیوار سے سر پھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم
شب ماہ میں جب بھی یہ درد اٹھا کبھی بیت کہے لکھی چاند نگرکبھی کوہ سے جا سر پھوڑ مرے کبھی قیس کو جا استاد کیا
کھینچے دل انساں کو نہ وہ زلف سیہ فاماژدر کوئی گر اس کو نگل جائے تو اچھا
مر گیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی ہے ہےبیٹھنا اس كا وو آ کر تری دیوار کے پاس
پھوڑ کر سر ترے در پر یہیں مر جائیں گےہم ترے شہر سے ہجرت نہیں کرنے والے
تکلف کیا جو کھوئی جان شیریں پھوڑ کر سر کوجو تھی غیرت تو پھر خسرو سے ہوتا کوہ کن بگڑا
جی میں ہے یاد رخ و زلف سیہ فام بہترونا آتا ہے مجھے ہر سحر و شام بہت
آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوںیا عشق کی پکڑ کر گردن مروڑ ڈالوں
کرب ان کا کہ جو فٹ پاتھ پہ کرتے ہیں بسرکیا سمجھ پائیں گے یہ راج گھرانے والے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books