aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khumaar-e-ishq"
اور ذرا تھم کے عدم نامۂ حسرت ہو کراشک بیزار تری ڈھال سے میں ہوتا ہوں
دیدۂ سیلاب جو کی دشت پیرائی خمارعالم خاشاک کی دیکھی تباہی دیکھ کر
عشق میں کون مقابل تھا مرے کس پہ کھلےمنصب قیس کی خواہاں ہے یہ مسند کہ نہیں
یہ تاب و تواں خمارؔ کب تھیمنزل کی لگن میں چل رہے ہیں
میں سوچتا ہوں بھلا میرے جسد خاکی سےاے اشکؔ کیا مرے تار نفس کا رشتہ تھا
خمار عشق بھی اترے گا روز وصل کے بعدرہے گی اپنی بھلا عمر بھر جوانی کیا
جولاں گہہ نشاط بھی تھی غم بھی تھے خمارؔدیوار و در سے شاخ و شجر سے نکلتے ہم
پتھروں کے ہر اک آباد جزیرے سے خمارؔجنس شیشہ لیے بے خوف گزرتا سورج
خمار عشق ہے باقی رگ شکستہ میںنشہ یہ جائے اتر تھوڑی دور ساتھ چلو
پونچھے کون اب اشکؔ کے آنسودور ہے دامن عصمت خانم
خمارؔ بلا نوش تو اور توبہتجھے زاہدوں کی نظر لگ گئی ہے
نیند کے بین بجاتے ہی اشکؔبستر میں سانپ آ جاتا ہے
عالم عشق میں مجنوں بھی بڑا گاڑھا تھایار مجنوں سے بھی ہم گاڑے ہیں پر رونے میں
گرے نہ اشک کبھی حادثوں کے دامن پرہماری آنکھ شناسائے درد اتنی تھی
کھا گیا تھا جب سمندر سیپیاں ساری خمارؔپھر تمہارے ہاتھ یہ گوہر کہاں سے آ گئے
اک اہتمام خصوصی کے باوجود خمارؔیہ فاصلوں کو بڑھاتا ہوا سا کچھ تو ہے
خدائے حسن ازل نے مجھے نوازا ہےخمار عشق سے صرف نظر نہیں ہوئی میں
اے اشکؔ زندگی میں نہ پوچھی کسی نے باتاب خاک چومتے ہیں ہمارے مزار کی
اشکؔ اپنے سینۂ پر خوں میں سیل اشک بھیروک رکھتا ہوں جگر کے خون کی تحلیل تک
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books