aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "samarpan"
جڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میںدور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھے
درویش خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربیگھر میرا نہ دلی نہ صفاہاں نہ سمرقند
ایک رخسار پہ دیکھا ہے وہ تل ہم نے بھیہو سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے
مرے قبضہ میں نہ مٹی ہے نہ بادل نہ ہواپھر بھی چاہت ہے کہ ہر شاخ ثمر بار کروں
اب اس رخسار کا تل ہے علامت اس بھنور کیجہاں سارا سمرقند و بخارا جا رہا ہے
خبردار اے سبک ساران ساحلیہ ساحل ہی کبھی منجدھار بھی ہے
وہ خلق سے پیش آتے ہیں جو فیض رساں ہیںہیں شاخ ثمر دار میں گل پہلے ثمر سے
اسی نے رنگ بھرے ہیں تمام پھولوں میںوہی شجر کو ثمر دار کرنے والا ہے
فتنے عجب طرح کے سمن زار سے اٹھےسارے پرند شاخ ثمر دار سے اٹھے
میرا دل ہاتھوں میں لو تو کیا تمہارا جائے گااور میرا ہی سمرقند و بخارا جائے گا
صورت شاخ ثمر دار تھا وہصورت دست صبا تھا میں بھی
دیکھ کے تجھ کو میں دیکھتا رہ گیاعشق کرنے کو اب کیا بچا رہ گیا
دکھلاتا اک ادا میں ہے سو سو طرح بناؤاس سادہ پن کے ساتھ ترا بانکپن مجھے
فتنۂ جاں وہ سخن دل پذیردشمن دیں وہ نگہ سحر فن
وہی ہے تل وہی رخسار ہیں وہی تو ہےمگر نہیں ہے سمرقند اور بخارا مرا
سادہ پن میں ہزار جوبن ہےبال کھولے نہائے بیٹھے ہیں
رادھا رانی پھول سمانہری گئے ہریالی پر
آنکھوں میں تری چاہت کا ایسا نشہ دیکھامیخانے میں جیسے میں نے جام بھرا دیکھا
دم سادھ کے بیٹھا ہوں اگرچہ مرے سر پراک شاخ ثمر دار ہے تلوار نہیں ہے
وقت کیسا بھی ہو تم ساتھ نبھانا سیکھوپیڑ ہر سال ثمر دار نہیں رہتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books