aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",hOnT"
تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹزندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نےتجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیںتجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے
گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شامدھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے راتاور مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گیاور ان ہاتھوں سے مس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہاتان کا آنچل ہے کہ رخسار کہ پیراہن ہےکچھ تو ہے جس سے ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیںجانے اس زلف کی موہوم گھنی چھاؤں میںٹمٹماتا ہے وہ آویزہ ابھی تک کہ نہیںآج پھر حسن دل آرا کی وہی دھج ہوگیوہی خوابیدہ سی آنکھیں وہی کاجل کی لکیررنگ رخسار پہ ہلکا سا وہ غازے کا غبارصندلی ہاتھ پہ دھندھلی سی حنا کی تحریراپنے افکار کی اشعار کی دنیا ہے یہیجان مضموں ہے یہی شاہد معنی ہے یہیآج تک سرخ و سیہ صدیوں کے سائے کے تلےآدم و حوا کی اولاد پہ کیا گزری ہے؟موت اور زیست کی روزانہ صف آرائی میںہم پہ کیا گزرے گی اجداد پہ کیا گزری ہے؟ان دمکتے ہوئے شہروں کی فراواں مخلوقکیوں فقط مرنے کی حسرت میں جیا کرتی ہےیہ حسیں کھیت پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا!کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہےیہ ہر اک سمت پر اسرار کڑی دیواریںجل بجھے جن میں ہزاروں کی جوانی کے چراغیہ ہر اک گام پہ ان خوابوں کی مقتل گاہیںجن کے پرتو سے چراغاں ہیں ہزاروں کے دماغیہ بھی ہیں ایسے کئی اور بھی مضموں ہوں گےلیکن اس شوخ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے ہونٹہائے اس جسم کے کمبخت دل آویز خطوطآپ ہی کہیے کہیں ایسے بھی افسوں ہوں گے
وہ آنکھیں جن میں خواب ہیںوہ دل ہے جن میں آرزووہ بازو جن میں ہے سکتوہ ہونٹ جن پہ لفظ ہیںرہوں گا ان کے درمیاںکہ جب میں بیت جاؤں گا
آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیالمدھ بھرا حرف کوئی زہر بھرا حرف کوئیدل نشیں حرف کوئی قہر بھرا حرف کوئیحرف الفت کوئی دل دار نظر ہو جیسےجس سے ملتی ہے نظر بوسۂ لب کی صورتاتنا روشن کہ سر موجۂ زر ہو جیسےصحبت یار میں آغاز طرب کی صورتحرف نفرت کوئی شمشیر غضب ہو جیسےتا ابد شہر ستم جس سے تبہ ہو جائیںاتنا تاریک کہ شمشان کی شب ہو جیسےلب پہ لاؤں تو مرے ہونٹ سیہ ہو جائیں
سب مال نکالو، لے آؤاے بستی والو لے آؤیہ تن کا جھوٹا جادو بھییہ من کی جھوٹی خوشبو بھییہ تال بناتے آنسو بھییہ جال بچھاتے گیسو بھییہ لرزش ڈولتے سینے کیپر سچ نہیں بولتے سینے کییہ ہونٹ بھی، ہم سے کیا چوریکیا سچ مچ جھوٹے ہیں گوری؟ان رمزوں میں ان گھاتوں میںان وعدوں میں ان باتوں میںکچھ کھوٹ حقیقت کا تو نہیں؟کچھ میل صداقت کا تو نہیں؟یہ سارے دھوکے لے آؤیہ پیارے دھوکے لے آؤکیوں رکھو خود سے دور ہمیںجو دام کہو منظور ہمیں
ابھی ہم خوبصورت ہیںہمارے جسم اوراق خزانی ہو گئے ہیںاور ردائے زخم سے آراستہ ہیںپھر بھی دیکھو توہماری خوش نمائی پر کوئی حرفاور کشیدہ قامتی میں خم نہیں آیاہمارے ہونٹ زہریلی رتوں سے کاسنی ہیںاور چہرے رتجگوں کی شعلگی سےآبنوسی ہو چکے ہیںاور زخمی خوابنادیدہ جزیروں کی زمیں پراس طرح بکھرے پڑے ہیںجس طرح طوفاں زدہ کشتی کے ٹکڑوں کوسمندر ساحلوں پر پھینک دیتا ہےلہو کی بارشیںیا خودکشی کی خواہشیں تھیںاس اذیت کے سفر میںکون سا موسم نہیں آیامگر آنکھوں میں نملہجے میں سمہونٹوں پہ کوئی نغمۂ ماتم نہیں آیاابھی تک دل ہمارےخندۂ طفلاں کی صورت بے کدورت ہیںابھی ہم خوبصورت ہیںزمانے ہو گئےہم کوئے جاناں چھوڑ آئے تھےمگر اب بھیبہت سے آشنا نا آشنا ہمدماور ان کی یاد کے مانوس قاصداور ان کی چاہتوں کے ہجر نامےدور دیسوں سے ہماری اور آتے ہیںگلابی موسموں کی دھوپجب نورستہ سبزے پر قدم رکھتی ہوئیمعمورۂ تن میں در آتی ہےتو برفانی بدن میںجوئے خوں آہستگی سے گنگناتی ہےاداسی کا پرندہچپ کے جنگل میںسر شاخ نہال غم چہکتا ہےکوئی بھولا ہوا بسرا ہوا دکھآبلہ بن کر ٹپکتا ہےتو یوں لگتا ہےجیسے حرف اپنےزندہ آوازوں کی صورت ہیںابھی ہم خوبصورت ہیںہماری خوش نمائی حرف حق کی رونمائی ہےاسی خاطر تو ہم آشفتہ جاںعشاق کی یادوں میں رہتے ہیںکہ جو ان پر گزرتی ہے وہ کہتے ہیںہماری حرف سازیاب بھی محبوب جہاں ہےشاعری شورید گان عشق کے ورد زباں ہےاور گلابوں کی طرح شاداں چہرےلعل و مرجاں کی طرح لبصندلیں ہاتھوں سےچاہت اور عقیدت کی بیاضوں پرہمارے نام لکھتے ہیںسبھی درد آشناایثار مشربہم نفس اہل قفسجب مقتلوں کی سمت جاتے ہیںہمارے بیت گاتے ہیںابھی تک ناز کرتے ہیں سب اہل قافلہاپنے حدی خوانوں پر آشفتہ کلاموں پرابھی ہم دستخط کرتے ہیں اپنے قتل ناموں پرابھی ہم آسمانوں کی امانتاور زمینوں کی ضرورت ہیںابھی ہم خوبصورت ہیں
حضور آپ اور نصف شب مرے مکان پرحضور کی تمام تر بلائیں میری جان پرحضور خیریت تو ہے حضور کیوں خموش ہیںحضور بولئے کہ وسوسے وبال ہوش ہیںحضور ہونٹ اس طرح سے کپکپا رہے ہیں کیوںحضور آپ ہر قدم پہ لڑ کھڑا رہے ہیں کیوںحضور آپ کی نظر میں نیند کا خمار ہےحضور شاید آج دشمنوں کو کچھ بخار ہےحضور مسکرا رہے ہیں میری بات بات پرحضور کو نہ جانے کیا گماں ہے میری ذات پرحضور منہ سے بہ رہی ہے پیک صاف کیجئےحضور آپ تو نشے میں ہیں معاف کیجئےحضور کیا کہا میں آپ کو بہت عزیز ہوںحضور کا کرم ہے ورنہ میں بھی کوئی چیز ہوںحضور چھوڑیئے ہمیں ہزار اور روگ ہیںحضور جائیے کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں
تمہاری آنکھیں سدا سوگوار رہتی ہیںتمہارے ہونٹ ترستے ہیں مسکرانے کوتمہاری روح کو تنہائیاں عطا کر کےیہ سوچتی ہو کہ کیا مل گیا زمانے کو
آہو مانگے بن کا رمنابھنورا چاہے پھول کی ڈالیسوکھے کھیت کی کونپل مانگےاک گھنگھور بدریا کالیدھوپ جلے کہیں سایہ چاہیںاندھی راتیں دیپ دوالیہم کیا مانگیں ہم کیا چاہیںہونٹ سلے اور جھولی خالیدل بھنورا نہ پھول نہ کونپلبگیا نا بگیا کا مالیدل آہو نہ دھوپ نہ سایادل کی اپنی بات نرالیدل تو کسی درشن کا بھوکادل تو کسی درشن کا سوالینام لیے بن پڑا پکارےکسے پکارے دشت کنارے
وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاںوہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاںہزار فتنے تہ پائے ناز خاک نشیںہر اک نگاہ خمار شباب سے رنگیںشباب جس سے تخیل پہ بجلیاں برسیںوقار جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیںادائے لغزش پا پر قیامتیں قرباںبیاض رخ پہ سحر کی صباحتیں قرباںسیاہ زلفوں میں وارفتہ نکہتوں کا ہجومطویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوموہ آنکھ جس کے بناؤ پہ خالق اترائےزبان شعر کو تعریف کرتے شرم آئےوہ ہونٹ فیض سے جن کے بہار لالہ فروشبہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بہ دوشگداز جسم قبا جس پہ سج کے ناز کرےدراز قد جسے سرو سہی نماز کرےغرض وہ حسن جو محتاج وصف و نام نہیںوہ حسن جس کا تصور بشر کا کام نہیںکسی زمانے میں اس رہگزر سے گزرا تھابصد غرور و تجمل ادھر سے گزرا تھااور اب یہ راہگزر بھی ہے دل فریب و حسیںہے اس کی خاک میں کیف شراب و شعر مکیںہوا میں شوخیٔ رفتار کی ادائیں ہیںفضا میں نرمیٔ گفتار کی صدائیں ہیںغرض وہ حسن اب اس رہ کا جزو منظر ہےنیاز عشق کو اک سجدہ گہ میسر ہے
تمہارے ہیں کہو اک دنکہو اک دنکہ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے سب کچھ تمہارا ہےکہو اک دنجسے تم چاند سا کہتے ہو وہ چہرہ تمہارا تھاستارہ سی جنہیں کہتے ہو وہ آنکھیں تمہاری ہیںجنہیں تم شاخ سی کہتے ہو وہ بانہیں تمہاری ہیںکبوتر تولتے ہیں پر تو پروازیں تمہاری ہیںجنہیں تم پھول سی کہتے ہو وہ باتیں تمہاری ہیںقیامت سی جنہیں کہتے ہو رفتاریں تمہاری ہیںکہو اک دنکہو اک دنکہ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے سب کچھ تمہارا ہےاگر سب کچھ یہ میرا ہے تو سب کچھ بخش دو اک دنوجود اپنا مجھے دے دو محبت بخش دو اک دنمرے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ کر روح میری کھینچ لو اک دن
ہونٹ جم جانے سے فرمان نہیں مر جاتےجسم کی موت کوئی موت نہیں ہوتی ہے
تیرے نازک سے پروں پر یہ زر و سیم کا بوجھتیری پرواز کو آزاد نہ ہونے دے گاتو نے راحت کی تمنا میں جو غم پالا ہےوہ تری روح کو آباد نہ ہونے دے گا
چاندنی کھل کے نکھر آئی ہے دروازے پراوس سے بھیگتے جاتے ہیں پرانے گملےکس قدر نرم ہے کلیوں کا سہانا سایہجیسے وہ ہونٹ جنہیں پا کے بھی میں پا نہ سکااے تڑپتے ہوئے دل اور سنبھل اور سنبھلیہ تری چاپ سے جاگ اٹھیں گی تو کیا ہوگا
میں کاغذ پر ترے ہونٹ لکھوںترے ہونٹوں پر مسکان آئے
تیرے چہرے کے یہ سادہ سے اچھوتے سے نقوشمیری تخئیل کو کیا رنگ عطا کرتے ہیںتیری زلفیں تری آنکھیں ترے عارض ترے ہونٹکیسی ان جانی سی معصوم خطا کرتے ہیں
اس سے پہلے کہ تیری چشم کرممعذرت کی نگاہ بن جائےاس سے پہلے کہ تیرے بام کا حسنرفعت مہر و ماہ بن جائےپیار ڈھل جائے میرے اشکوں میںآرزو ایک آہ بن جائےمجھ پہ آ جائے عشق کا الزاماور تو بے گناہ بن جائےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گااس سے پہلے کہ سادگی تیریلب خاموش کو گلہ کہہ دےمیں تجھے چارہ گر خیال کروںتو مرے غم کو لا دوا کہہ دےتیری مجبوریاں نہ دیکھ سکےاور دل تجھ کو بے وفا کہہ دےجانے میں بے خودی میں کیا پوچھوںجانے تو بے رخی سے کیا کہہ دےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گاچارۂ درد ہو بھی سکتا تھامجھ کو اتنی خوشی بہت کچھ ہےپیار گو جاوداں نہیں پھر بھیپیار کی یاد بھی بہت کچھ ہےآنے والے دنوں کی ظلمت میںآج کی روشنی بہت کچھ ہےاس تہی دامنی کے عالم میںجو ملا ہے وہی بہت کچھ ہےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گاچھوڑ کر ساحل مراد چلااب سفینہ مرا کہیں ٹھہرےزہر پینا مرا مقدر ہےاور ترے ہونٹ انگبیں ٹھہرےکس ترا تیرے آستاں پہ رکوںجب نہ پاؤں تلے زمیں ٹھہرےاس سے بہتر ہے دل یہی سمجھےتو نے روکا تھا ہم نہیں ٹھہرےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گامجھ کو اتنا ضرور کہنا ہےوقت رخصت سلام سے پہلےکوئی نامہ نہیں لکھا میں نےتیرے حرف پیام سے پہلےتوڑ لوں رشتۂ نظر میں بھیتم اتر جاؤ بام سے پہلےلے مری جان میرا وعدہ ہےکل کسی وقت شام سے پہلےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا
امنڈ آتے تھے جب اشک محبت اس کی پلکوں تکٹپکتی تھی در و دیوار سے شوخی تبسم کیجب اس کے ہونٹ آ جاتے تھے از خود میرے ہونٹوں تکجھپک جاتی تھیں آنکھیں آسماں پر ماہ و انجم کی
ہونٹ تبسم کے عادی ہیں ورنہ روح میں زہر آگیںگھپے ہوئے ہیں اتنے نشتر جن کی کوئی تعداد نہیںکتنی بار ہوئی ہے ہم پر تنگ یہ پھیلی ہوئی زمیںجس پر ناز ہے ہم کو اتنا جھکی ہے اکثر وہی جبیںکبھی کوئی سفلہ ہے آقا کبھی کوئی ابلہ فرزیںبیچی لاج بھی اپنے ہنر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی آباد خرابے میں
سمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دویہ پھیلا آسماں اس وقت کیوں دل کو لبھاتا تھاہر اک سمت اب انوکھے لوگ ہیں اور ان کی باتیں ہیںکوئی دل سے پھسل جاتی کوئی سینہ میں چبھ جاتیانہی باتوں کی لہروں پر بہا جاتا ہے یہ بجراجسے ساحل نہیں ملتامیں جس کے سامنے آؤں مجھے لازم ہے ہلکی مسکراہٹ میں کہیں یہ ہونٹ تم کوجانتا ہوں دل کہے 'کب چاہتا ہوں میں'انہی لہروں پہ بہتا ہوں مجھے ساحل نہیں ملتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books