aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".khuc"
یہ ہم جو ہیں ہماری بھی تو ہوگی کوئی نوٹنکیہمارا خون بھی سچ مچ کا صحنے پر بہا ہوگا
جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسمخاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
تم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تممیں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میں
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکناسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
اپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دے
قدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہے
سو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزاراجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغ
رات کا لبادہ بھیچاک ہو گیا آخر خاک ہو گیا آخر
خاک بر سر چلو خوں بداماں چلوراہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو
سینۂ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسورجذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں
دشت تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلےکھل رہے ہیں ترے پہلو کے سمن اور گلاب
کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخرخود سے اس بات پہ سو بار وہ الجھا ہوگا
چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیںاور خود بھی نہ یاد آؤں تمہیں
کیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخ گلابکس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے
وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپشوجود خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی
خون اپنا ہو یا پرایا ہونسل آدم كا خون ہے آخر
میں خود نہ جنہیں پہچان سکوںکچھ اتنے دھندلے سائے ہیں
وہ جس کے جینے کی خواہشیں بھیخود اس کے اپنے نصیب سی تھیں
مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ رسوائی ہےمیں نے خود اپنے کیے کی یہ سزا پائی ہے
عروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books