aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".nmo"
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہماراہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہماراغربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میںسمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہماراپربت وہ سب سے اونچا ہم سایہ آسماں کاوہ سنتری ہمارا وہ پاسباں ہماراگودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاںگلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارااے آب رود گنگا وہ دن ہے یاد تجھ کواترا ترے کنارے جب کارواں ہمارامذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھناہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارایونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سےاب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہماراکچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماریصدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارااقبالؔ کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میںمعلوم کیا کسی کو درد نہاں ہمارا
چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارامسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہماراتوحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارےآساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارادنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کاہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہماراتیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیںخنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارامغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماریتھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہماراباطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہمسو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارااے گلستان اندلس وہ دن ہیں یاد تجھ کوتھا تیری ڈالیوں میں جب آشیاں ہمارااے موج دجلہ تو بھی پہچانتی ہے ہم کواب تک ہے تیرا دریا افسانہ خواں ہمارااے ارض پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہمہے خوں تری رگوں میں اب تک رواں ہماراسالار کارواں ہے میر حجاز اپنااس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارااقبالؔ کا ترانہ بانگ درا ہے گویاہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا
شاعرساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظرگوشۂ دل میں چھپائے اک جہان اضطرابشب سکوت افزا ہوا آسودہ دریا نرم سیرتھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصوير آبجیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شیر خوارموج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خوابرات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیرانجم کم ضو گرفتار طلسم ماہتابدیکھتا کیا ہوں کہ وہ پيک جہاں پيما خضرجس کی پیری میں ہے مانند سحر رنگ شبابکہہ رہا ہے مجھ سے اے جويائے اسرار ازلچشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجابدل میں یہ سن کر بپا ہنگامۂ محشر ہوامیں شہید جستجو تھا یوں سخن گستر ہوااے تری چشم جہاں بیں پر وہ طوفاں آشکارجن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموشکشتئ مسکين و جان پاک و ديوار يتيمعلم موسیٰ بھی ہے ترے سامنے حیرت فروشچھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تو صحرا نوردزندگی تیری ہے بے روز و شب و فردا و دوشزندگی کا راز کیا ہے سلطنت کیا چیز ہےاور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروشہو رہا ہے ایشیا کا خرقۂ دیرینہ چاکنوجواں اقوام نو دولت کے ہیں پيرايہ پوشگرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگیفطرت اسکندری اب تک ہے گرم ناؤ نوشبیچتا ہے ہاشمی ناموس دين مصطفیٰخاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوشآگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہےکیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہےجواب خضرصحرا نوردی
مرا درد نغمۂ بے صدامری ذات ذرۂ بے نشاںمیرے درد کو جو زباں ملےمجھے اپنا نام و نشاں ملےمیری ذات کا جو نشاں ملےمجھے راز نظم جہاں ملےجو مجھے یہ راز نہاں ملےمری خامشی کو بیاں ملےمجھے کائنات کی سروریمجھے دولت دو جہاں ملے
وہ چائے کی پیالی پہ یاروں کے جلسےوہ سردی کی راتیں وہ زلفوں کے قصےکبھی تذکرے حسن شعلہ رخاں کےمحبت ہوئی تھی کسی کو کسی سےہر اک دل وہاں تھا نظر کا نشانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہبہت اپنا انداز تھا لاابالیکبھی تھے جلالی کبھی تھے جمالیکبھی بات میں بات یوں ہی نکالیسر راہ کوئی قیامت اٹھا لیکسی کو لڑانا کسی کو بچانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکبھی سچی باتوں کو جھوٹا بتایاکبھی جھوٹی باتوں کو سچ کر دکھایاکبھی راز دل کہہ کے اس کو چھپایاکبھی دوستوں میں یوں ہی کچھ اڑایابتا کر چھپانا چھپا کر بتانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکبھی بزم احباب میں شعلہ افشاںکبھی یونین میں تھے شمشیر براںکبھی بزم واعظ میں تھے پا بہ جولاںبدلتے تھے ہر روز تقدیر دوراںجہاں جیسی ڈفلی وہاں ویسا گانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہزمانہ تھا وہ ایک حیوانیت کاوہ دور ملامت تھا شیطانیت کاہمیں درد تھا ایک انسانیت کااٹھائے علم ہم تھے حقانیت کابڑھے جا رہے تھے مگر باغیانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہمقابل میں آئے جسارت تھی کس کوکوئی روک دے بڑھ کے ہمت تھی کس کوپکارے کوئی ہم کو طاقت تھی کس کوکہ ہر بوالہوس کو تھے ہم تازیانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہخیالات پر شوق کا سلسلہ تھابدل دیں زمانے کو وہ حوصلہ تھاہر اک دل میں پیدا نیا ولولہ تھاہر اک گام احباب کا قافلہ تھاادھر دعویٰ کرنا ادھر کر دکھانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ شہہ راہ میرس کے پر پیچ چکروہ شمشاد بلڈنگ پہ اک شور محشروہ مبہم سی باتیں وہ پوشیدہ نشتروہ بے فکر دنیا وہ لفظوں کے دفترکہ جن کا سرا تھا نہ کوئی ٹھکانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکسی کو ہوئی تھی کسی سے محبتکوئی کر رہا تھا کسی کی شکایتغرض روز ڈھاتی تھی تازہ قیامتکسی کی شباہت کسی کی ملامتکسی کی تسلی کسی کا ستانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکوئی غم زدہ تھا کوئی ہنس رہا تھاکوئی حسن ناہید پر مر مٹا تھاکوئی چشم نرگس کا بیمار سا تھاکوئی بس یوں ہی تاکتا جھانکتا تھاکبھی چوٹ کھانا کبھی مسکرانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ ہر جنوری میں نمائش کے چرچےوہ پر شوق آنکھیں وہ حیران جلوےوہ چکر پہ چکر تھے بارہ دری کےوہ حسرت کہ سو بار مل کر بھی ملتےہزاروں بہانوں کا وہ اک بہانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ رخ آفتابی پہ ابرو ہلالیوہ تمثال سیمیں وہ حسن مثالیشگوفوں میں کھیلی گلابوں میں پالیوہ خود اک ادا تھی ادا بھی نرالینگاہیں بچا کر نگاہیں ملا کربہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ ہرچند مجھ کو نہیں جانتی تھیمگر میری نظروں کو پہچانتی تھیاگرچہ مرے دل میں وہ بس گئی تھیمگر بات بس دل کی دل میں رہی تھیمگر آج احباب سے کیا چھپانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ اک شام برسات کی دن ڈھلا تھاابھی رات آئی نہ تھی جھٹپٹا تھاوہ باد بہاری سے اک گل کھلا تھادھڑکتے ہوئے دل سے اک دل ملا تھانظر سن رہی تھی نظر کا فسانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہجوانی اداؤں میں بل کھا رہی تھیکہانی نگاہوں میں لہرا رہی تھیمحبت محبت کو سمجھا رہی تھیوہ چشم تمنا جھکی جا رہی تھیقیامت سے پہلے قیامت وہ ڈھانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہہمیں بیتی باتیں جو یاد آ رہی تھیںوہ مخمور نظریں جو شرما رہی تھیںبہت عقل سادہ کو بہکا رہی تھیںبڑی بے نیازی سے فرما رہی تھیںانہیں یاد رکھنا ہمیں بھول جانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہاب وہ امنگیں نہ دل میں مرادیںاب رہ گئیں چند ماضی کی یادیںیہ جی چاہتا ہے انہیں بھی بھلا دیںغم زندگی کو کہاں تک دعا دیںحقیقت بھی اب بن گئی ہے فسانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہعلی گڑھ ہے بڑھ کر ہمیں کل جہاں سےہمیں عشق ہے اپنی اردو زباں سےہمیں پیار ہے اپنے نام و نشاں سےیہاں آ گئے ہم نہ جانے کہاں سےقسم دے کے ہم کو کسی کا بلانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہمحبت سے یکسر ہے انجان دنیایہ ویران بستی پریشان دنیاکمال خرد سے یہ حیران دنیاخود اپنے کیے پر پشیمان دنیاکہاں لے کے آیا ہمیں آب و دانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
برسوں سے ہو رہا ہے برہم سماں ہمارادنیا سے مٹ رہا ہے نام و نشاں ہمارا
یہ ویرانہ گزر جس میں نہیں ہے کاروانوں کاجہاں ملتا نہیں نام و نشاں تک ساربانوں کااسی ویرانے میں اک دن مری ریحانہؔ رہتی تھییہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی
بھارت کے اے سپوتو ہمت دکھائے جاؤدنیا کے دل پہ اپنا سکہ بٹھائے جاؤمردہ دلی کا جھنڈا پھینکو زمین پر تمزندہ دلی کا ہر سو پرچم اڑائے جاؤلاؤ نہ بھول کر بھی دل میں خیال پستیخوش حالئ وطن کا بیڑا اٹھائے جاؤتن من مٹائے جاؤ تم نام قومیت پرراہ وطن میں اپنی جانیں لڑائے جاؤکم ہمتی کا دل سے نام و نشاں مٹا دوجرأت کا لوح دل پر نقشہ جمائے جاؤاے ہندوؤ مسلماں آپس میں ان دنوں تمنفرت گھٹائے جاؤ الفت بڑھائے جاؤبکرمؔ کی راج نیتی اکبرؔ کی پالیسی کیسارے جہاں کے دل پر عظمت بٹھائے جاؤجس کشمکش نے تم کو ہے اس قدر مٹایاتم سے ہو جس قدر تم اس کو مٹائے جاؤجن خانہ جنگیوں نے یہ دن تمہیں دکھائےاب ان کی یاد اپنے دل میں بھلائے جاؤبے خوف گائے جاؤ ''ہندوستاں ہمارا''اور ''وندے ماترم'' کے نعرے لگائے جاؤجن دیش سیوکوں سے حاصل ہے فیض تم کوان دیش سیوکوں کی جے جے منائے جاؤجس ملک کا ہو کھاتے دن رات آب و دانہاس ملک پر سروں کی بھیٹیں چڑھائے جاؤپھانسی کا جیل کا ڈر دل سے فلکؔ مٹا کرغیروں کے منہ پہ سچی باتیں سناتے جاؤ
وہ جو کہلاتا تھا دیوانہ تراوہ جسے حفظ تھا افسانہ تراجس کی دیواروں پہ آویزاں تھیںتصویریں تریوہ جو دہراتا تھاتقریریں تریوہ جو خوش تھا تری خوشیوں سےترے غم سے اداسدور رہ کے جو سمجھتا تھاوہ ہے تیرے پاسوہ جسے سجدہ تجھے کرنے سےانکار نہ تھااس کو دراصل کبھی تجھ سےکوئی پیار نہ تھااس کی مشکل تھیکہ دشوار تھے اس کے رستےجن پہ بے خوف و خطرگھومتے رہزن تھےسدا اس کی انا کے در پےاس نے گھبرا کےسب اپنی انا کی دولتتیری تحویل میں رکھوا دی تھیاپنی ذلت کو وہ دنیا کی نظراور اپنی بھی نگاہوں سے چھپانے کے لئےکامیابی کو تریتری فتوحاتتری عزت کووہ ترے نام تری شہرت کواپنے ہونے کا سبب جانتا تھاہے وجود اس کا جدا تجھ سےیہ کب مانتا تھاوہ مگرپر خطر راستوں سے آج نکل آیا ہےوقت نے تیرے برابر نہ سہیکچھ نہ کچھ اپنا کرم اس پہ بھی فرمایا ہےاب اسے تیری ضرورت ہی نہیںجس کا دعویٰ تھا کبھیاب وہ عقیدت ہی نہیںتیری تحویل میں جو رکھی تھی کلاس نے اناآج وہ مانگ رہا ہے واپسبات اتنی سی ہےاے صاحب نام و شہرتجس کو کلتیرے خدا ہونے سے انکار نہ تھاوہ کبھی تیرا پرستار نہ تھا
ہاں تصور کو میں اب اپنے بنا کر دولہااسی پردے کے نہاں خانے میں لے جاؤں گاکیسے تلوار چلی کیسے زمیں کا سینہدل بے تاب کی مانند تڑپ اٹھا تھاایک بے ساختہ انداز میں بجلی کی طرحجل پری گوشۂ خلوت سے نکل آئی تھی!زندگی گرم تھی ہر بوند میں آبی پاؤںخشک پتوں پہ پھسلتے ہوئے جا پہنچے تھے!میں بھی موجود تھا اک کرمک بے نام و نشاںمیں نے دیکھا کہ گھٹا شق ہوئی دھارا نکلیبرق رفتاری سے اک تیر کماں نے چھوڑااور وہ خم کھا کے لچکتا ہوا تھرا کے گراقلۂ کوہ سے گرتے ہوئے پتھر کی طرحکوئی بھی روک نہ تھی اس کے لیے اس کے لیےخشک پتوں کا زمیں پر ہی بچھا تھا بستراسی بستر پہ وہ انجان پری لیٹ گئی!
میں ہوں جس کا شاعروہ انسان کہاں ہےساری دنیا جسے مانتی رہی ہےوہ بھگوان کہاں ہےحسین چہرےپھول اور کلیاںجھومتی شاخیںدرخت آشیاںہریالینہریں دریا ساگراونچے اونچے کہساروں کی بلندیاںناچنے والےہزار ہا رنگین پرندےشام و سحر کو پھولنے والی شفقبرکھا رت کی ست رنگی دھنکسورج چاند ستارےراتوں کو جھلملاتی کہکشاںجن کے دیکھے سےبہل جائیں دلسکھ پائیں پراناب وہ دل وہ سکھ ان پرانوں کانام و نشاں کہاں ہےمیں ہوں جس کا شاعروہ انسان کہاں ہےساری دنیا جسے مانتی رہی ہےوہ بھگوان کہاں ہےبے حساب صدیوں کی آنکھیںایک پل میںان گنت بار جھپکتی پلکیںنظر نہ آنے والی نظریںچھاتی سے بچوں کو لپٹائے ہوئے ماتائیںکھنک دار چوڑیوں بھری کلائیاںجن پر دودھ پلاتی ماتاؤں کیجھکی ہوئی شرمیلی آنکھیںآنچلوں میں چھپے ہوئے ننھے ننھے بالکچوری چوری ماتاؤں کا چہرہ تاکیں
اک شہر تھا اک باغ تھااک شہر تھایا تازہ میووں سے لدا اک باغ تھااک باغ تھایا شوخ رنگوں سے بھرا بازار تھابازار تھا یا جگنوؤں کی روشنی سے کھیلتی اک رات تھیاک رات تھییا گنگناتی جھومتینغمات کی بارش میں بھیگیوصل کی سوغات تھیاک شہر تھا اک باغ تھا اک رات تھیاور ان کے دامن میںبہار وصل کی سوغات تھیاک روز رنگ و نور کے موسم کوباد شرط اڑا کر لے گئیاک موج خوں کہئے اسےاس شہر کے اس باغ کےنام و نشاں سارے بہا کر لے گئیاے نوحہ گراے راقم افسانۂ زیر و زبراے چشم حیرت چشم ترعبرت کی جا ہے کس قدراب یاد کا ہے ایک افسردہ نگراس شہر میںکچھ دیر کو ٹھہریں ذرانوحہ کریںقصہ لکھیںتاریخ کے اوراق میںاک باب کھولیں یاد کاتقدیر ہست و بود کامغموم افسانہ لکھیں
میں زندگی ہوں زندگی یہ ہے مرا نام و نشاںجنبش دہ برگ و ثمرصورت گر شام و سحرجان و دل شمس و قمرصوت و نوائے بحر و برہے مجھ سے گردش میں زمیں مجھ سے ہے دور آسماںمیں زندگی ہوں زندگی یہ ہے مرا نام و نشاںانعام یہ میرے لئےعیش و طرب میرے لئےہیں روز و شب میرے لئےہیں ایک سب میرے لئےمزدور کا ہو خش کدہ یا اہل دولت کا مکاںمیں زندگی ہوں زندگی یہ ہے مرا نام و نشاںمطرب کی آوازوں میں ہوںچڑیوں کی پروازوں میں ہوںبجتے ہوئے سازوں میں ہوںشہ زور جاں بازو میں ہوںاٹھتے ہیں میرے زور سے طوفان ہوں یا آندھیاںمیں زندگی ہوں زندگی یہ ہے مرا نام و نشاںہمت ہے میری صفت شکنعزت ہے میرا بانکپنہے عاجزی میرا چلنکیا غم جو ہے راہ محنہے دست قدرت میں مرے رخش ترقی کی عناںمیں زندگی ہوں زندگی یہ ہے مرا نام و نشاںآدم کے دل کا راز ہوںجبریل کی پرواز ہوںداؤد کی آواز ہوںمیں نوح کی دم ساز ہوںیوسف نے میری چاہ کی عیسیٰ کی ہوں روح رواںمیں زندگی ہوں زندگی یہ ہے مرا نام و نشاںمیرے قدم جب ڈٹ گئےتیغوں کے بادل چھٹ گئےخود شیر پیچھے ہٹ گئےخطروں کے حلقے کٹ گئےمیں نے فنا کے روبرو ہنس ہنس کے لیں انگڑائیاںمیں زندگی ہوں زندگی یہ ہے مرا نام و نشاں
وہ جتنے رنگ ملال کے ہیںہم کیا جانیں کس حال کے ہیںہم راہی دشت خیال کے ہیںاور سائل ایک وصال کے ہیںہم ہجر کی مار سے ڈرتے ہیںاور عشق کی باتیں کرتے ہیںہم عقل کے تانے بانے ہیںمت سمجھو ہم مستانے ہیںان راہوں سے بیگانے ہیںبس نام کے ہی دیوانے ہیںہم نام و نمود پہ مرتے ہیںاور عشق کی باتیں کرتے ہیںہم ہوش کے شہر میں رہتے ہیںاور موج طرب میں بہتے ہیںکب کون سا صدمہ سہتے ہیںبس خواب کا قصہ کہتے ہیںہم جھوٹی آہیں بھرتے ہیںاور عشق کی باتیں کرتے ہیں
اے وطن اے وطن اے زمین وطنہم ہیں تارے ترے تو ہمارا گگنتیری شہرت زمانے میں صدیوں سے ہےتو وفا کے فسانے میں صدیوں سے ہےتو ہمیشہ رہے یوں ہی رشک زمناے وطن اے وطن اے زمین وطنہم ہیں تارے ترے تو ہمارا گگنقابل رشک ہے تیرا نام و نموداے وطن در حقیقت ہے تیرا وجودشان گنگ و جمن فخر کوہ و دمناے وطن اے وطن اے زمین وطنہم ہیں تارے ترے تو ہمارا وطنلٹنے دیں گے نہ ہرگز تری آبروہر قدم پر تجھے دے کے اپنا لہوہم سلامت رکھیں گے ترا بانکپناے وطن اے وطن اے زمین وطنہم ہیں تارے ترے تو ہمارا گگنتجھ پہ ڈالے گا کوئی جو اوچھی نظرسرحدوں سے بڑھے کوئی دشمن اگرہم نکل آئیں گے سر پہ باندھے کفناے وطن اے وطن اے زمین وطنہم ہیں تارے ترے تو ہمارا گگن
سورج کے دم قدم سےروشن جہاں ہے ساراہے اس کی روشنی سےدل کش ہر اک نظاراسورج اگر نہ ہوتاکچھ بھی یہاں نہ ہوتاسبزے کا پھول پھل کانام و نشاں نہ ہوتاسورج کی روشنی سےہر چیز خوش نما ہےگو وقت کا ہے خالقپابند وقت کا ہے
کیا کھڑا تکتا ہے صورت عہد حاضر کے جواںہاں مٹا دے دشمن انصاف کا نام و نشاں
عجب دن تھے وہجب بھی کچھ کہنا چاہاگھسے مردہ لفظوں کی کوئی کمک تک نہ آئیجو آئی تو پھر ہونٹ سل سے گئےاور آنکھیںنہ کہہ سکنے کے کرب میں مبتلا ہو کےاپنے ہی حلقوں سے باہر نکل آئیں رسنے لگیںاور پھر ایک دناونچے نیچے پہاڑوں سے ہوتا ہوا وہیہاں آ کے ٹھہرایہاں آ کے اس نےمعمر ترین ون کے نیچے وہ شعلہ جگایاکہ جس میں بھسم ہو گئے سب یہ ون جھنڈ پھرواں پھلائیہوا ہو گئے سنت سادھو کٹی جھاڑیاںاور کائی زدہ تال دھرتی کے ناسوراب ان کا نام و نشاں بھی نہیں تھاتب اس نےمقدس عصا سے وہ جادو جگایا کہ ساری فضا سیل انوار میں بہہ گئیگھونسلوں اور پھولوں میں ڈھلتی گئی یہ زمیںچہچہوں خوشبوؤں سے ہوا اٹ گئیآج وہ لوٹ کر جا چکا ہےتو پھر کالی دھرتی کے اندر سے آگ آئے ہیںجنڈ کے پیڑ کانٹوں بھری جھاڑیاںپھر سے رسنے لگے ہیںوہ کائی زدہ تالجن کے اندر سےمنحوس سادھو نکل کر کناروں پہ بیٹھے ہوئے ہیںاداسی ہوا بن کے پھرنے لگی ہےکسی نے الاؤ پہ بھاری قدم کیا رکھا ہےاندھیرے کا بوجھل سا پٹ کھل گیا ہےفضا بجھ گئی ہے
برسوں سے ہو رہا ہے برہم سماں ہمارادنیا سے مٹ رہا ہے نام و نشاں ہماراکچھ کم نہیں ازل سے خواب گراں ہمارااک لاش بے کفن ہے ہندوستاں ہماراعلم و کمال و ایماں برباد ہو رہے ہیںعیش و طرب کے بندے غفلت میں سو رہے ہیں
ساز دروں سے جل نہ اٹھیں جسم و جاں کہیںرگ رگ نہ میری پھونک دے قلب تپاں کہیںگم صم ہوں اور ششدر و حیراں کچھ اس طرحجیسے کہ کھو چکا ہوں میں روح رواں کہیںاس ناؤ کی طرح ہوں میں موجوں کے رحم پرلنگر ہو جس کے ٹوٹے کہیں بادباں کہیںیا مست ناز سرو سا کوئی نہال سبزآ جائے ضد میں برق کی جو ناگہاں کہیںیا جس طرح بہار میں مرغ شکستہ پرحسرت سے دیکھتا ہوں سوئے آسماں کہیںمغلوب اس قدر ہوں میں احساس غم سے آجکھو جائے سسکیوں میں نہ یہ داستاں کہیںبیتے دنوں کے خواب ہیں آنکھوں کے سامنےفردا کا ایک خوف ہے دل میں نہاں کہیںنکلے تھے جب وطن سے ہم اپنے بہ حال زارمنزل کا تھا خیال نہ نام و نشاں کہیںکچھ ایسی منتشر سی ہوئی دوستی کی بزمپتے بکھیر دیتی ہے جیسے خزاں کہیںزندہ ہے یار صحبتیں باقی مگر کہاںدیوار کھنچ گئی ہے نئی درمیاں کہیںفردا پہ کیا یقین ہو نالاں ہوں حال پرماضی کی سمت لے چلے عمر رواں کہیںباد صبا کے شانوں پہ امواج نور پرلے جاؤ مجھ کو دوستوں کے درمیاں کہیںیا شمع میری یادوں کی گل کر دو ایک ایکتاریک دل کا گوشہ نہ ہو ضو فشاں کہیںروداد غم سناتے ہی یوں آئی ان کی یادمیں ہوں کہیں خیال کہیں داستاں کہیںاوجھل ہیں گو نگاہ سے دل سے کہیں ہیں دورذکر حبیب اب بھی ہے ورد زباں کہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books