aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".ore"
ہوا بھی خوش گوار ہےگلوں پہ بھی نکھار ہےترنم ہزار ہےبہار پر بہار ہےکہاں چلا ہے ساقیاادھر تو لوٹ ادھر تو آارے یہ دیکھتا ہے کیااٹھا سبو سبو اٹھاسبو اٹھا پیالہ بھرپیالہ بھر کے دے ادھرچمن کی سمت کر نظرسماں تو دیکھ بے خبروہ کالی کالی بدلیاںافق پہ ہو گئیں عیاںوہ اک ہجوم مے کشاںہے سوئے مے کدہ رواںیہ کیا گماں ہے بد گماںسمجھ نہ مجھ کو ناتواںخیال زہد ابھی کہاںابھی تو میں جوان ہوںعبادتوں کا ذکر ہےنجات کی بھی فکر ہےجنون ہے ثواب کاخیال ہے عذاب کامگر سنو تو شیخ جیعجیب شے ہیں آپ بھیبھلا شباب و عاشقیالگ ہوئے بھی ہیں کبھیحسین جلوہ ریز ہوںادائیں فتنہ خیز ہوںہوائیں عطر بیز ہوںتو شوق کیوں نہ تیز ہوںنگار ہائے فتنہ گرکوئی ادھر کوئی ادھرابھارتے ہوں عیش پرتو کیا کرے کوئی بشرچلو جی قصہ مختصرتمہارا نقطۂ نظردرست ہے تو ہو مگرابھی تو میں جوان ہوںیہ گشت کوہسار کییہ سیر جوئے بار کییہ بلبلوں کے چہچہےیہ گل رخوں کے قہقہےکسی سے میل ہو گیاتو رنج و فکر کھو گیاکبھی جو بخت سو گیایہ ہنس گیا وہ رو گیایہ عشق کی کہانیاںیہ رس بھری جوانیاںادھر سے مہربانیاںادھر سے لن ترانیاںیہ آسمان یہ زمیںنظارہ ہائے دل نشیںانہیں حیات آفریںبھلا میں چھوڑ دوں یہیںہے موت اس قدر قریںمجھے نہ آئے گا یقیںنہیں نہیں ابھی نہیںابھی تو میں جوان ہوںنہ غم کشود و بست کابلند کا نہ پست کانہ بود کا نہ ہست کانہ وعدۂ الست کاامید اور یاس گمحواس گم قیاس گمنظر سے آس پاس گمہمہ بجز گلاس گمنہ مے میں کچھ کمی رہےقدح سے ہمدمی رہےنشست یہ جمی رہےیہی ہما ہمی رہےوہ راگ چھیڑ مطرباطرب فزا، الم ربااثر صدائے ساز کاجگر میں آگ دے لگاہر ایک لب پہ ہو صدانہ ہاتھ روک ساقیاپلائے جا پلائے جاابھی تو میں جوان ہوں
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
تم بالکل ہم جیسے نکلےاب تک کہاں چھپے تھے بھائیوہ مورکھتا وہ گھامڑ پنجس میں ہم نے صدی گنوائیآخر پہنچی دوار توہارےارے بدھائی بہت بدھائیپریت دھرم کا ناچ رہا ہےقائم ہندو راج کرو گےسارے الٹے کاج کرو گےاپنا چمن تاراج کرو گےتم بھی بیٹھے کرو گے سوچاپوری ہے ویسی تیاریکون ہے ہندو کون نہیں ہےتم بھی کرو گے فتویٰ جاریہوگا کٹھن یہاں بھی جینادانتوں آ جائے گا پسیناجیسی تیسی کٹا کرے گییہاں بھی سب کی سانس گھٹے گیبھاڑ میں جائے شکشا وکشااب جاہل پن کے گن گاناآگے گڑھا ہے یہ مت دیکھوواپس لاؤ گیا زمانہمشق کرو تم آ جائے گاالٹے پاؤں چلتے جانادھیان نہ دوجا من میں آئےبس پیچھے ہی نظر جماناایک جاپ سا کرتے جاؤبارم بار یہی دہراؤکیسا ویر مہان تھا بھارتکتنا عالی شان تھا بھارتپھر تم لوگ پہنچ جاؤ گےبس پرلوک پہنچ جاؤ گےہم تو ہیں پہلے سے وہاں پرتم بھی سمے نکالتے رہنااب جس نرک میں جاؤ وہاں سےچٹھی وٹھی ڈالتے رہنا
دیکھ کے اپنا حال ہوا پھر اس کو بہت ملالارے میں بڑھیا ہو جاؤں گی آیا نہ تھا خیالاس نے سوچاگر پھر سے مل جائے جوانیجس کو لکھتے ہیں دیوانیاور مستانیجس میں اس نے انقلاب لانے کی ٹھانیوہی جوانیاب کی بار نہیں دوں گی کوئی قربانیبس لاحول پڑھوں گی اور نہیں دوں گی کوئی قربانیدل نے کہاکس سوچ میں ہے اے پاگل بڑھیاکہاں جوانییعنی اس کو گزرے اب تک کافی عرصہ بیت چکا ہےیہ خیال بھی دیر سے آیابس اب گھر جا
تمہیں معلوم ہے کیسے تمہارے بن رہا ہوں میںمیں شب بھر جاگتا اور چاند سے باتیں کیا کرتاکہیں جب بات آتی تھی تمہارے حسن کی تو میںالجھ پڑتا تھا اس سے بھیتمہارے حسن کے حق میں دلیلیں میری سن سن کرستارے ہنسنے لگتے تھےتمہاری واپسی کے خواب مجھ کو دن میں آتے تھے
مری صدا ہے گل شمع شام آزادیسنا رہا ہوں دلوں کو پیام آزادیلہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہےاچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادیمجھے بقا کی ضرورت نہیں کہ فانی ہوںمری فنا سے ہے پیدا دوام آزادیجو راج کرتے ہیں جمہوریت کے پردے میںانہیں بھی ہے سر و سودائے خام آزادیبنائیں گے نئی دنیا کسان اور مزدوریہی سجائیں گے دیوان عام آزادیفضا میں جلتے دلوں سے دھواں سا اٹھتا ہےارے یہ صبح غلامی یہ شام آزادییہ مہر و ماہ یہ تارے یہ بام ہفت افلاکبہت بلند ہے ان سے مقام آزادیفضائے شام و سحر میں شفق جھلکتی ہےکہ جام میں ہے مئے لالہ فام آزادیسیاہ خانۂ دنیا کی ظلمتیں ہیں دو رنگنہاں ہے صبح اسیری میں شام آزادیسکوں کا نام نہ لے ہے وہ قید بے میعادہے پے بہ پے حرکت میں قیام آزادییہ کاروان ہیں پسماندگان منزل کےکہ رہروؤں میں یہی ہیں امام آزادیدلوں میں اہل زمیں کے ہے نیو اس کی مگرقصور خلد سے اونچا ہے بام آزادیوہاں بھی خاک نشینوں نے جھنڈے گاڑ دیئےملا نہ اہل دول کو مقام آزادیہمارے زور سے زنجیر تیرگی ٹوٹیہمارا سوز ہے ماہ تمام آزادیترنم سحری دے رہا ہے جو چھپ کرحریف صبح وطن ہے یہ شام آزادیہمارے سینے میں شعلے بھڑک رہے ہیں فراقؔہماری سانس سے روشن ہے نام آزادی
اے دل بے خبرجو ہوا جا چکی اب نہیں آئے گیجو شجر ٹوٹ جاتا ہے پھلتا نہیںواپسی موسموں کا مقدر تو ہےجو سماں بیت جائے پلٹتا نہیںجانے والے نہیں لوٹتے عمر بھراب کسے ڈھونڈھتا ہے سر رہ گزراے دل کم نظر اے مرے بے خبر اے مرے ہم سفروہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکاچاندنی تھا ہوا صرف رنگ قمرخواب تھا آنکھ کھلتے ہی اوجھل ہواپیڑ تھا رت بدلتے ہوا بے ثمراے دل بے اثر اے مرے چارہ گریہ ہے کس کو خبر!کب ہوائے سفر کا اشارہ ملے!کب کھلیں ساحلوں پر سفینوں کے پرکون جانے کہاں منزل موج ہے!کس جزیرے پہ ہے شاہ زادی کا گھر اے مرے چارہ گراے دل بے خبر کم نظر معتبرتو کہ مدت سے ہے زیر بار سفربے قرار سفرریل کی بے ہنر پٹریوں کی طرحآس کے بے ثمر موسموں کی طرحبے جہت منزلوں کی مسافت میں ہےرستہ بھولے ہوئے رہرووں کی طرحچوب نار سفراعتبار نظر کس گماں پر کریںاے دل بے بصریہ تو ساحل پہ بھی دیکھتی ہے بھنورریت میں کشت کرتی ہے آب بقاکھولتی ہے ہواؤں میں باب اثرتجھ کو رکھتی ہے یہ زیب دار سفر بے قرار سفراے دل بے ہنرگرم سانسوں کی وہ خوشبوئیں بھول جاوہ چہکتی ہوئی دھڑکنیں بھول جابھول جا نرم ہونٹوں کی شادابیاںحرف اقرار کی لذتیں بھول جابھول جا وہ ہوا بھول جا وہ نگرکون جانے کہاں روشنی کھو گئیلٹ گیا ہے کہاں کاروان سحراب کہاں گیسوؤں کے وہ سائے کہاںاس کی آہٹ سے چمکے ہوئے بام و در اے دل بے بصررنگ آسودگی کے تماشے کہاںجھٹپٹا ہے یہاں رہ گزر رہ گزروہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکااب کسے ڈھونڈھتا ہے ارے بے خبرجانے والے نہیں لوٹتے عمر بھراے دل کم نظر اے مرے چارہ گر اے مرے ہم سفر
گرمی کی تپش بجھانے والیسردی کا پیام لانے والیقدرت کے عجائبات کی کاںعارف کے لیے کتاب عرفاںوہ شاخ و درخت کی جوانیوہ مور و ملخ کی زندگانیوہ سارے برس کی جان برساتوہ کون خدا کی شان برساتآئی ہے بہت دعاؤں کے بعدوہ سیکڑوں التجاؤں کے بعدوہ آئی تو آئی جان میں جاںسب تھے کوئی دن کے ورنہ مہماںگرمی سے تڑپ رہے تھے جان داراور دھوپ میں تپ رہے تھے کہساربھوبل سے سوا تھا ریگ صحرااور کھول رہا تھا آب دریاسانڈے تھے بلوں میں منہ چھپائےاور ہانپ رہے تھے چارپائےتھیں لومڑیاں زباں نکالےاور لو سے ہرن ہوئے تھے کالےچیتوں کو نہ تھی شکار کی سدھہرنوں کو نہ تھی قطار کی سدھتھے شیر پڑے کچھار میں سستگھڑیال تھے رود بار میں سستڈھوروں کا ہوا تھا حال پتلابیلوں نے دیا تھا ڈال کندھابھینسوں کے لہو نہ تھا بدن میںاور دودھ نہ تھا گئو کے تھن میںگھوڑوں کا چھٹا تھا گھاس دانہتھا پیاس کا ان پہ تازیانہگرمی کا لگا ہوا تھا بھبکااور انس نکل رہا تھا سب کاطوفان تھے آندھیوں کے برپااٹھتا تھا بگولے پر بگولاآرے تھے بدن پہ لو کے چلتےشعلے تھے زمین سے نکلتےتھی آگ کا دے رہی ہوا کامتھا آگ کا نام مفت بد نامرستوں میں سوار اور پیدلسب دھوپ کے ہاتھ سے تھے بے کلگھوڑوں کے نہ آگے اٹھتے تھے پاؤںملتی تھی کہیں جو روکھ کی چھاؤںتھی سب کی نگاہ سوئے افلاکپانی کی جگہ برستی تھی خاک
شفق نزع میں لے رہی تھی سنبھالااندھیرے کا غم کھا رہا تھا اجالاستاروں کے رخ سے نقاب اٹھ رہی تھیفضاؤں سے موج شباب اٹھ رہی تھیمئے زندگی جام مے نوش میں تھیوہ کیف مسرت، وہ لمحات رنگیںوہ احساس مستی وہ جذبات رنگیںوہ پر کیف عالم وہ دل کش نظارےوہ جلووں کے بہتے ہوئے خشک دھارےوہ نمکین آغاز شب اللہ اللہنمائش کی وہ تاب و تب اللہ اللہوہ باب مزمل پہ جشن چراغاںفلک پر ہوں جیسے ستارے درخشاںفضاؤں میں گونجے ہوئے وہ ترانےوہ جاں بخش نغمے وہ پر لطف گانےوہ ہر سمت حسن و لطافت کی جانیںوہ آراستہ صاف ستھری دکانیںکہیں پر ہے نظارہ کاری گری کاکہیں گرم ہوٹل ہے پیشاوری کابہ قدر سکوں وہ دلوں کا بہلناامیروں غریبوں کا یکجا ٹہلنانمایاں نمایاں وہ یاران کالجوہ عشرت بہ داماں جوانان کالجکوئی تیز دستی و چستی پہ نازاںکوئی صحت و تندرستی پہ نازاںکوئی حسن کی جلوہ ریزی پہ مائلکوئی شوخ نظروں کی تیزی پہ مائلادھر چشم حیراں کی نظارہ سازیادھر حسن والو کی جلوہ طرازیخراماں خراماں وہ ہمجولیوں میںنکلتی ہوئی مختلف ٹولیوں میںنقابوں میں وہ بے نقابی کا عالمجو لاتا ہے دل پر خرابی کا عالمکسی کا وہ چہرے سے آنچل اٹھاناکسی کا کسی سے نگاہیں چراناکبھی یک بیک چلتے چلتے ٹھہرنانگاہوں سے جلووں کی اصلاح کرناکبھی اک توجہ دکانوں کی جانبکبھی اک نظر نوجوانوں کی جانبتماشا غرض کامیاب آ رہا تھانمائش پہ گویا شباب آ رہا تھاادھر ہم بھی بزم تخیل سجا کرکھڑے ہو گئے ایک دکاں پہ آ کرنظر مل گئی دفعتاً اک نظر سےدھڑکنے لگا دل محبت کے ڈر سےادھر تو نظر سے جبیں سائیاں تھیںادھر سے بھی کچھ ہمت افزائیاں تھیںخلش دل کی دونوں کو تڑپا گئی تھیمحبت کی منزل قریب آ گئی تھیخیالات میں اس طرف اک تلاطملبوں پر ادھر ہلکا ہلکا تبسمنگاہوں سے عہد وفا ہو رہا تھااشاروں سے مطلب ادا ہو رہا تھاادھر عشق کے بام و در سج رہے تھےگھڑی میں جو دیکھا تو نو بج رہے تھےیکایک جواں کچھ مرے پاس آئےجو تھے آستینوں پہ بلے لگائےکہا اتنی تکلیف فرمائیے گانمائش سے تشریف لے جائیے گاغرض چل دئے گھر کو مجبور ہو کرمحبت کے جلووں سے معمور ہو کرہوئی جاری رہی تھی عجب حالت دلکوئی چھین لے جیسے پڑھتے میں ناولہم اس طرح باب مزمل سے نکلےلہو جیسے ٹوٹے ہوئے دل سے نکلےبہر حال اب بھی وہی ہے نمائشنوید طرب دے رہی ہے نمائشوہی جشن ہے اور وہی زندگی ہےمگر جیسے ہر شے میں کوئی کمی ہےارے او نگاہوں پہ چھا جانے والیمرے دل کو رہ رہ کے یاد آنے والیتری طرح جلوہ نما ہے نمائشترے حسن کا آئنا ہے نمائشنمائش میں تیری لطافت ہے پنہاںنمائش میں تیری نزاکت ہے پنہاںنگاہوں کو ناحق تری جستجو ہےیقیناً نمائش کے پردے میں تو ہے
میری پہلی محبت جو سچی بھی تھیاور سچی بھی تھیجب کسی نے اسے مسترد کر دیامیرے سینے میں یک دم گھٹن بھر گئیسانس رکنے لگیمیں نہیں رو سکا
اپنے ٹیچر کو نچائیں تو مزہ آ جائےان کی عینک کو چرائیں تو مزہ آ جائےان کے ڈنڈے کو چھپائیں تو مزہ آ جائےآج جی بھر کے ستائیں تو مزہ آ جائےکون سا دن ہے جو ٹیچر نے نہیں مارا ہےہم نے ہر کام کیا پھر بھی تو پھٹکارا ہےان کا غصہ ہے کہ دہکا ہوا انگارا ہےآگ میں آگ لگائیں تو مزہ آ جائےمنہ پہ چانٹے بھی دئے ہم نے بنایا مرغاہم نے اسکول سے ہر روز یہ تمغہ پایاکتنے جلاد ہیں ٹیچر ارے اللہ اللہہم بھی منہ ان کا چڑھائیں تو مزہ آ جائےوہ پڑھاتے ہیں تو اوسان خطا ہوتے ہیںحق پڑھائی کے یہ دشوار ادا ہوتے ہیںہم اگر روتے ہیں پھر اور خفا ہوتے ہیںآج ان کو بھی رلائیں تو مزہ آ جائےان کی کرسی پہ چلو آؤ پٹاخے باندھیںجب وہ آئیں تو پٹاخوں کا تڑپنا دیکھیںہم بھی شاگرد ستم گار ہیں اتنا مانیںپیچھے پیچھے ہی بھگائیں تو مزا آ جائےان کی جو چیز ہے چپکے سے چھپا دیں آؤپان بیڑی کی جو ڈبیا ہے اڑا دیں آؤہم شرارت کے نئے جال بچھا دیں آؤوہ کسی جال میں آئیں تو مزا آ جائےوہ اگر سامنے آ جائیں تو مل کر چیخیںوہ کہیں چپ رہو ہم اور بھی ہنس کر چیخیںاور وہ آنکھیں دکھائیں تو اکڑ کر چیخیںان کو دیوانہ بنائیں تو مزہ آ جائے
یہ طوق بندگی وہ پھول سی گردن معاذ اللہوہ شہد آلود لب اور تلخئ شیون معاذ اللہکمال حسن اور یہ انکسار عشق ارے توبہوہ نازک ہاتھ میرا گوشۂ دامن معاذ اللہجھٹک کر گوشۂ دامن چھڑاؤں کس طرح کیفیؔ
سناؤں تمہیں بات اک رات کیکہ وہ رات اندھیری تھی برسات کیچمکنے سے جگنو کے تھا اک سماںہوا پر اڑیں جیسے چنگاریاںپڑی ایک بچہ کی ان پہ نظرپکڑ ہی لیا ایک کو دوڑ کرچمکدار کیڑا جو بھایا اسےتو ٹوپی میں جھٹ پٹ چھپایا اسےوہ جھم جھم چمکتا ادھر سے ادھرپھرا کوئی رستہ نہ پایا مگرتو غمگین قیدی نے کی التجاجگنواے چھوٹے شکاری مجھے کر رہاخدا کے لئے تو مجھے چھوڑ دےمیری قید کے جال کو توڑ دےبچہکروں گا نہ آزاد اس وقت تککہ میں دیکھ لوں دن میں تیری چمکجگنوچمک میری دن میں نہ دیکھو گے تماجالے میں ہو جائے گی وہ تو گمبچہارے چھوٹے کیڑے نہ دے دم مجھےکہ ہے واقفیت ابھی کم تجھےاجالے میں دن کے کھلے گا کمالکہ اتنے سے کیڑے میں کیا ہے کمالدھواں ہے نہ شعلہ نہ گرمی نہ آنچچمکنے کی تیرے کروں گا میں جانچجگنویہ قدرت کی کاریگری ہے جنابکہ ذرہ کو چمکائے جوں آفتابمجھے دی ہے اس واسطے یہ چمککہ تم دیکھ کر مجھ کو جاؤ ٹھٹکنہ الھڑ پنے سے کرو پائمالسنبھل کر چلو آدمی کی سی چال
کیا میرے قدموں کے نیچے بھی جنت ہےپوچھتی ہوں اپنے بچوں سےمیرے سوال پر وہ مجھے حیرت سے دیکھتے ہیںماں یہ جنت کیا ہوتی ہےارے یہ میں نے تم کو نہیں بتایاچلو سنوکہتے ہیں جو ماں اپنے بچوں کو اپنے دل کے قریب رکھتی ہےاسے جنت ملتی ہےماں ہم کیا جانے تمہارے دل میں کیا ہےہم کیا جانے جنت کیا ہےہم تو یہ جانتے ہیںتم ہمارے دل کے قریب ہمیشہ گھومتی ہوکبھی ہنستے ہوئےکبھی ہماری پریشانیوں پر روتے ہوئےتم نے ہمیشہ ہمارے لیےہماری خوشیوں کی جنت بنائیماں بتاؤیہ جنت کیا ہے
راحت بندۂ بے دام کہاں ہے آ جاپیکر حسن سر بام کہاں ہے آ جارونق بزم ہے او جام کہاں ہے آ جازینت جلوہ گہ عام کہاں ہے آ جااے امید دل نا کام کہاں ہے آ جاتیری فرقت خلل انداز سکون پیہمتیری فرقت دل مایوس پہ اک طرفہ ستمتیری فرقت سبب کاوش و بیداریٔ غمتو نہیں ہے تو پھر آرام کہاں ہے آ جاشاہد دور سیہ بخت و شب تار ہوں میںخوگر نالۂ لذت کش آواز ہوں میںدام طوفان حوادث میں گرفتار ہوں میںروز و شب منتظر دید رخ یار ہوں میںدل ہے وقف غم آلام کہاں ہے آ جاشعلۂ بر کف گل داغ جگر تیرے بغیرخار بردوش ہے دامان نظر تیرے بغیرخوں فشاں ہے شب غم دیدۂ تر تیرے بغیرچلن آتا ہی نہیں شام و سحر تیرے بغیرمنتظر ہوں سحر و شام کہاں ہے آ جادور تاریکیٔ غم سے شب تنہائی سےدم بدم جوش جنوں کی ستم آرائی سےکعبہ و دیر و کلیسا کی جبیں سائی سےخوف مجبوری و ناکامی و رسوائی سےعشق ہے لرزہ بر اندام کہاں ہے آ جامنتشر ہونے لگی انجمن ناز حیاتبن گیا خواب ہر اک منظر آغاز حیاتدم شکستہ سا نظر آنے لگا ساز حیاتاب کوئی دم میں ہوا جاتا ہے وا راز حیاتآ گیا نزع کا ہنگام کہاں ہے آ جا
اتنے بڑے نظام میں صرف اک میری ہی نیکی سے کیا ہوتا ہےمیں تو اس سے زیادہ کر ہی کیا سکتا ہوںمیز پر اپنی ساری دنیاکاغذ اور قلم اور ٹوٹی پھوٹی نظمیںساری چیزیں بڑے قرینے سے رکھ دی ہیںدل میں بھری ہوئی ہیں اتنی اچھی اچھی باتیںان باتوں کا دھیان آتا ہے تو یہ سانس بڑی ہی بیش بہا لگتی ہےمجھ کو بھی تو کیسی کیسی باتوں سے راحت ملتی ہےمجھ کو اس راحت میں صادق پا کرسارے جھوٹ مری تصدیق کو آ جاتے ہیںایک اگر میں سچا ہوتامیری اس دنیا میں جتنے قرینے سجے ہوئے ہیںان کی جگہ بے ترتیبی سے پڑے ہوئے کچھ ٹکڑے ہوتےمیرے جسم کے ٹکڑے کالے جھوٹ کے اس چلتے آرے کے نیچے
مشرقی یوپی کرفیو میںیہ دھرتی کتنی سندر ہےیہ سندر اور دکھی دھرتییہ دھانی آنچل پورب کاتیز رفتار ریل کے ساتھہوا میں اڑتا جاتا ہےپڑا جھل مل لہراتا ہےدور تک ہرے کھیت کھلیانیہ دھرتی عورت کوئی کسانسنبھالے سر پر بھاری بوجھچلی ہے کھیت سے گھر کی اوروہی گھر جس کی چھت پر آجکرودھ کا گدھ منڈراتا ہےجھپٹ کر پر پھیلاتا ہےاوس سے گیلا ہے سبزہکہ گیلے ہیں میرے دو نینپڑے ماٹی پتھر کے ڈھیروہی مسجد مندر کے پھیرتنے لوگوں کے تیور دیکھاسی دھرتی پر سویا پوتجاگ کر تمہیں مناتا ہےکبیراؔ کچھ سمجھاتا ہےجہاں ہوں نفرت کے گھمساننہیں رہتے اس جا بھگواننہیں کرتا ہے نظر رحیمنہیں کرتے ہیں پھیرا رامتمہاری منت کرتا ہےخاک پر سیس جھکاتا ہےکبیراؔ کچھ سمجھاتا ہےاسی سرجو ندیا کے پارکمل کنجوں پر جہاں بہارکھڑے ہیں ہرے بانس کے جھنڈگڑا ہے گوتم کا سندیشکھلے ہیں جہاں بسنتی پھولکھدا ہے پتھر پر اپدیشاڑے جب دو فرقوں کی آنتلے ہوں دے دینے پر جانہے اصلی جیت کی بس یہ ریتکہ دونوں جائیں برابر جیتنتیجہ خیز یہی انجامنہ سمجھو ورنہ جنگ تمامہوئی جس یدھ میں اک کی ہاروہ ہوتا رہے گا بارم بارنہ دونوں جب تک مٹ جائیںنہ دونوں جائیں برابر ہاریہی ٹکراؤ کا ہے قانونیہی گوتم کا اتم گیانکہ جس کے آگے ایک جہانادب سے سیس جھکاتا ہےتمہی تو وارث تھے اس کےتمہیں کیوں بسرا جاتا ہےسجے رہنما کے سر دستارپڑیں پانڈوں کے گلے میں ہارجلے ہیں جن کے چولھے روزبھرے ہیں جن کے سدا بھنڈارارے تو مورکھ کیوں ہر بارجان کر دھوکا کھاتا ہےلہو میں آپ نہاتا ہے
اب زرد یہ چیرا جو ترے سر پہ جما ہےاور اس پہ یہ طرہ جو زری کا بھی دھرا ہےنیما بھی ترا رنگ سے کیسر کے بھرا ہےپوشاک پہ تیری گل صد برگ فدا ہےنرگس تری آنکھوں پہ ہے قربان ادھر دیکھ
ایک کچھوے کے آ گئی جی میںکیجئے سیر و گشت خشکی کیجا رہا تھا چلا ہوا خاموشاس سے ناحق الجھ پڑا خرگوشمیاں کچھوے! تمہاری چال ہے یہیا کوئی شامت اور وبال ہے یہیوں قدم پھونک پھونک دھرتے ہوگویا اتو زمیں پہ دھرتے ہوکیوں ہوئے چل کے مفت میں بد نامبے چلے کیا اٹک رہا تھا کامتم کو یہ حوصلہ نہ کرنا تھاچلو پانی میں ڈوب مرنا تھایہ تن و توش اور یہ رفتارایسی رفتار پر خدا کی ماربولا کچھوا کہ ہوں خفا نہ حضورمیں تو ہوں آپ معترف بہ قصوراگر آہستگی ہے جرم و گناہتو میں خود اپنے جرم کا ہوں گواہمجھ کو جو سخت سست فرمایاآپ نے سب درست فرمایامجھ کو غافل مگر نہ جانئے گابندہ پرور برا نہ مانئے گایوں زبانی جواب تو کیا دوںشرط بد کر چلو تو دکھلا دوںتم تو ہو آفتاب میں ذرہپر مٹا دوں گا آپ کا غرہسن کے خرگوش نے یہ تلخ جوابکہا کچھوے سے یوں زروئے عتابتو کرے میری ہم سری کا خیالتیری یہ تاب یہ سکت یہ مجالچیونٹی کے جو پر نکل آئےتو یقیں ہے کہ اب اجل آئےارے بے باک! بد زباں منہ پھٹتو نے دیکھی کہاں ہے دوڑ جھپٹجب میں تیزی سے جست کرتا ہوںشہسواروں کو پست کرتا ہوںگرد کو میری باد پا نہ لگےلاکھ دوڑے مرا پتہ نہ لگےریل ہوں برق ہوں چھلاوا ہوںمیں چھلاوے کا بلکہ باوا ہوںتیری میری نبھے گی صحبت کیاآسماں کو زمیں سے نسبت کیاجس نے بھگتے ہوں ترکی و تازیایسے مریل سے کیا بدے بازیبات کو اب زیادہ کیا دوں طولخیر کرتا ہوں تیری شرط قبولہے مناسب کہ امتحاں ہو جائےتاکہ عیب و ہنر عیاں ہو جائےالغرض اک مقام ٹھہرا کرہوئے دونوں حریف گرم سفربسکہ زوروں پہ تھا چڑھا خرگوشتیزی پھرتی سے یوں بڑھا خرگوشجس طرح جائے توپ کا گولایا گرے آسمان سے اولاایک دو کھیت چوکڑی بھر کےاپنی چستی پہ آفریں کر کےکسی گوشہ میں سو گیا جا کرفکر ''کیا ہے چلیں گے سستا کر''اور کچھوا غریب آہستہچلا سینہ کو خاک پر گھستاسوئی گھنٹے کی جیسے چلتی ہےیا بہ تدریج چھاؤں ڈھلتی ہےیوں ہی چلتا رہا بہ استقلالنہ کیا کچھ ادھر ادھر کا خیالکام کرتا رہا جو پے در پےکر گیا رفتہ رفتہ منزل طےحیف خرگوش رہ گیا سوتاثمرہ غفلت کا اور کیا ہوتاجب کھلی آنکھ تو سویرا تھاسخت شرمندگی نے گھیرا تھاصبر و محبت میں ہے سرافرازیسست کچھوے نے جیت لی بازینہیں قصہ یہ دل لگی کے لیےبلکہ عبرت ہے آدمی کے لیےہے سخن اس حجاب میں روپوشورنہ کچھوا کہاں کہاں خرگوش
بڑے ناز سے آج ابھرا ہے سورجہمالہ کے اونچے کلس جگمگائےپہاڑوں کے چشموں کو سونا بنایانئے بل نئے زور ان کو سکھائےلباس زری آبشاروں نے پایانشیبی زمینوں پہ چھینٹے اڑائےگھنے اونچے اونچے درختوں کا منظریہ ہیں آج سب آب زر میں نہائے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books