aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".tjs"
یہ بات عجیب سناتے ہو وہ دنیا سے بے آس ہوئےاک نام سنا اور غش کھایا اک ذکر پہ آپ اداس ہوئےوہ علم میں افلاطون سنے وہ شعر میں تلسی داس ہوئےوہ تیس برس کے ہوتے ہیں وہ بی اے ایم اے پاس ہوئےیہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ لوگوں نے پھیلائی ہیںتم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیں
درد کی ٹیس تو اٹھتی تھی پر اتنی بھی بھرپور کبھیآج سے پہلے کب اترا تھا دل میں اتنا گہرا چاند
نیٹ پہ لوگ جو نوے سے پلس ہوتے ہیںبیٹھے رہتے ہیں وہ ٹس ہوتے ہیں نہ مس ہوتے ہیں
یہ عقل و فہم بڑی چیز ہیں مجھے تسلیممگر لگا نہیں سکتے ہم اس کا اندازہکہ آدمی کو یہ پڑتی ہیں کس قدر مہنگیاک ایک کر کے وہ طفلی کے ہر خیال کی موتبلوغ سن میں وہ صدمے نئے خیالوں کےنئے خیال کا دھچکا نئے خیال کی ٹیسنئے تصوروں کا کرب، الاماں کہ حیاتتمام زخم نہاں ہے تمام نشتر ہےیہ چوٹ کھا کے سنبھلنا محال ہوتا ہے
اس کی دانائی کا حاصل ناخن عقدہ کشاتابناکئ ضمیر و زیرکی کا آفتابچاہنے والوں کا اس کی ذکر ہی کیا کیجیےاس کے دشمن بھی سرہانے رکھتے ہیں اس کی کتابمادی تاریخ عالم جس کی تالیف عظیمتاس کیپٹال ہے یا زیست کا لب لبابپڑھ کے جس کے ہو گئیں ہشیار اقوام غلاماشتراکی فلسفہ کا کھل گیا ہر دل میں بابکتنے دوزخ اس کے اک منشور سے جنت بنےکتنے صحراؤں کو جس نے کر دیا شہر گلابمارکس نے سائنس و انساں کو کیا ہے ہمکنارذہن کو بخشا شعور زندگانی کا نصاباس کی بینش اس کی وجدانی نگاہ حق شناسکر گئی جو چہرۂ افلاس زر کو بے نقاب''غصب اجرت'' کو دیا ''سرمایہ'' کا جس نے لقببے حساب اس کی بصیرت اس کی منطق لا جوابآفتاب تازہ کی اس نے بشارت دی ہمیںاس کی ہر پشین گوئی ہے برافگندہ نقابکوئی قوت اس کی سد راہ بن سکتی نہیںوقت کا فرمان جب آتا ہے بن کر انقلاباہل دانش کا رجز اور سینۂ دہقاں کی ڈھاللشکر مزدور کے ہیں ہم صفیر و ہم رکابکاٹتی ہے سحر سلطانی کو جب موسیٰ کی ضربسطوت فرعون ہو جاتی ہے از خود غرق آبآج کی فرعونیت بھی کچھ اسی انداز سےرفتہ رفتہ ہوتی جائے گی شکار انقلابلڑ رہا ہے جنگ آخر کیسۂ سرمایہ دارجوہری ہتھیار سے کرتا نہیں جو اجتناباپنے مستقبل سے طاغوتی تمدن کو ہے یاسدیدنی ہے دشمن انسانیت کا اضطرابحضرت اقبالؔ کا ابلیس کوچک خوف سےلرزہ بر اندام یوں شیطاں سے کرتا ہے خطابپنڈت و ملا و راہب بے ضرر ٹھہرے مگرٹوٹنے والا ہے تجھ پر اک یہودی کا عتابوہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیبنیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب
جب ماہ اگھن کا ڈھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیاور ہنس ہنس پوس سنبھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیدن جلدی جلدی چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیاور پالا برف پگھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیچلا غم ٹھونک اچھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیتن ٹھوکر مار پچھاڑا ہو اور دل سے ہوتی ہو کشتی سیتھر تھر کا زور اکھاڑا ہو بجتی ہو سب کی بتیسیہو شور پھپو ہو ہو کا اور دھوم ہو سی سی سی سی کیکلے پہ کلا لگ لگ کر چلتی ہو منہ میں چکی سیہر دانت چنے سے دلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر ایک مکاں میں سردی نے آ باندھ دیا ہو یہ چکرجو ہر دم کپ کپ ہوتی ہو ہر آن کڑاکڑ اور تھر تھرپیٹھی ہو سردی رگ رگ میں اور برف پگھلتا ہو پتھرجھڑ باندھ مہاوٹ پڑتی ہو اور تس پر لہریں لے لے کرسناٹا باؤ کا چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر چار طرف سے سردی ہو اور صحن کھلا ہو کوٹھے کااور تن میں نیمہ شبنم کا ہو جس میں خس کا عطر لگاچھڑکاؤ ہوا ہو پانی کا اور خوب پلنگ بھی ہو بھیگاہاتھوں میں پیالہ شربت کا ہو آگے اک فراش کھڑافراش بھی پنکھا جھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیجب ایسی سردی ہو اے دل تب روز مزے کی گھاتیں ہوںکچھ نرم بچھونے مخمل کے کچھ عیش کی لمبی راتیں ہوںمحبوب گلے سے لپٹا ہو اور کہنی، چٹکی، لاتیں ہوںکچھ بوسے ملتے جاتے ہوں کچھ میٹھی میٹھی باتیں ہوںدل عیش وطرب میں پلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہو فرش بچھا غالیچوں کا اور پردے چھوٹے ہوں آ کراک گرم انگیٹھی جلتی ہو اور شمع ہو روشن اور تس پروہ دلبر، شوخ، پری، چنچل، ہے دھوم مچی جس کی گھر گھرریشم کی نرم نہالی پر سو ناز و ادا سے ہنس ہنس کرپہلو کے بیچ مچلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیترکیب بنی ہو مجلس کی اور کافر ناچنے والے ہوںمنہ ان کے چاند کے ٹکڑے ہوں تن ان کے روئی کے گالے ہوںپوشاکیں نازک رنگوں کی اور اوڑھے شال دو شالے ہوںکچھ ناچ اور رنگ کی دھومیں ہوں عیش میں ہم متوالے ہوںپیالے پر پیالہ چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر ایک مکاں ہو خلوت کا اور عیش کی سب تیاری ہووہ جان کہ جس سے جی غش ہو سو ناز سے آ جھنکاری ہودل دیکھ نظیرؔ اس کی چھب کو ہر آن ادا پر واری ہوسب عیش مہیا ہو آ کر جس جس ارمان کی باری ہوجب سب ارمان نکلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
شجر حجر پہ ہیں غم کی گھٹائیں چھائی ہوئیسبک خرام ہواؤں کو نیند آئی ہوئیرگیں زمیں کے مناظر کی پڑ چلیں ڈھیلییہ خستہ حالی یہ درماندگی یہ سناٹافضائے نیم شبی بھی ہے سنسنائی ہوئیدھواں دھواں سے مناظر ہیں شبنمستاں کےسیارہ رات کی زلفیں ہیں رسمسائی ہوئییہ رنگ تاروں بھری رات کے تنفس کاکہ بوئے درد میں ہر سانس ہے بسائی ہوئیخنک اداس فضاؤں کی آنکھوں میں آنسوترے فراق کی یہ ٹیس ہے اٹھائی ہوئیسکوت نیم شبی گہرا ہوتا جاتا ہےرگیں ہیں سینۂ ہستی کی تلملائی ہوئیہے آج ساز نوا ہائے خونچکاں اے دوستحیات تیری جدائی کی چوٹ کھائی ہوئیمری ان آنکھوں سے اب نیند پردہ کرتی ہےجو تیرے پنجۂ رنگیں کی تھیں جگائی ہوئیسرشک پالے ہوئے تیرے نرم دامن کےنشاط تیرے تبسم سے جگمگائی ہوئیلٹک وہ گیسوؤں کی جیسے پیچ و تاب کمندلچک بھوؤں کی وہ جیسے کماں جھکائی ہوئیسحر کا جیسے تبسم دمک وہ ماتھے کیکرن سہاگ کی بندی کی لہلہائی ہوئیوہ انکھڑیوں کا فسوں روپ کی وہ دیوئیتوہ سینہ روح نمو جس میں کنمنائی ہوئیوہ سیج سانس کی خوشبو کو جس پہ نیند آئےوہ قد گلاب کی اک شاخ لہلہائی ہوئیوہ جھلملاتے ستارے ترے پسینے کےجبین شام جوانی تھی جگمگائی ہوئیہو جیسے بت کدہ آذر کا بول اٹھنے کووہ کوئی بات سی گویا لبوں تک آئی ہوئیوہ دھج وہ دلبری وہ کام روپ آنکھوں کاسجل اداؤں میں وہ راگنی رچائی ہوئیہو خواب گاہ میں شعلوں کی کروٹیں دم صبحوہ بھیرویں تری بیداریوں کی گائی ہوئیوہ مسکراتی ہوئی لطف دید کی صبحیںتری نظر کی شعاعوں کی گدگدائی ہوئیلگی جو تیرے تصور کے نرم شعلوں سےحیات عشق سے اس آنچ کی تپائی ہوئیہنوز وقت کے کانوں میں چہچہاہٹ ہےوہ چاپ تیرے قدم کی سنی سنائی ہوئیہنوز سینۂ ماضی میں جگمگاہٹ ہےدمکتے روپ کی دیپاولی جلائی ہوئیلہو میں ڈوبی امنگوں کی موت روک ذراحریم دل میں چلی آتی ہے ڈھٹائی ہوئیرہے گی یاد جواں بیوگی محبت کیسہاگ رات کی وہ چوڑیاں بڑھائی ہوئییہ میری پہلی محبت نہ تھی مگر اے دوستابھر گئی ہیں وہ چوٹیں دبی دبائی ہوئیسپردگی و خلوص نہاں کے پردے میںجو تیری نرم نگاہی کی تھیں بٹھائی ہوئیاٹھا چکا ہوں میں پہلے بھی ہجر کے صدمےوہ سانس دکھتی ہوئی آنکھ ڈبڈبائی ہوئییہ حادثہ ہے عجب تجھ کو پا کے کھو دینایہ سانحہ ہے غضب تیری یاد آئی ہوئیعجیب درد سے کوئی پکارتا ہے تجھےگلا رندھا ہوا آواز تھر تھرائی ہوئیکہاں ہے آج تو اے رنگ و نور کی دیویاندھیری ہے مری دنیا لٹی لٹائی ہوئیپہنچ سکے گی بھی تجھ تک مری نوائے فراقجو کائنات کے اشکوں میں ہے نہائی ہوئی
لو تیسواں سال بھی بیت گیالو بال روپہلی ہونے لگےلو کاسۂ چشم ہوا خالیلو دل میں نہیں اب درد کوئییہ تیس برس کیسے کاٹےیہ تیس برس کیسے گزرےآسان سوال ہے کتنا یہ!
اندھاری رات کے آنگن میں یہ صبح کے قدموں کی آہٹیہ بھیگی بھیگی سرد ہوا یہ ہلکی ہلکی دھندلاہٹگاڑی میں ہوں تنہا محو سفر اور نیند نہیں ہے آنکھوں میںبھولے بسرے ارمانوں کے خوابوں کی زمیں ہے آنکھوں میںاگلے دن ہاتھ ہلاتے ہیں پچھلی پیتیں یاد آتی ہیںگم گشتہ خوشیاں آنکھوں میں آنسو بن کر لہراتی ہیںسینے کے ویراں گوشوں میں اک ٹیس سی کروٹ لیتی ہےناکام امنگیں روتی ہیں امید سہارے دیتی ہےوہ راہیں ذہن میں گھومتی ہیں جن راہوں سے آج آیا ہوںکتنی امید سے پہنچا تھا کتنی مایوسی لایا ہوں
لگا کے چوک سے اور چار سو تلک دیکھاکہ جاگہ ایک بھی تل دھرنے کی نہیں ہے ذراتمام بھیڑ سے ہر طرف بند ہے رستاتس اوپر رنگ کا بادل ہے اس قدر برساکہ ہر گلی میں بہا ڈھولی کھال ہولی میں
بستر میں لیٹے لیٹےاس نے سوچا''میں موٹا ہوتا جاتا ہوںکل میں اپنے نیلے سوٹ کوآلٹر کرنےدرزی کے ہاں دے آؤں گانیا سوٹ دو چار مہینے بعد سہی!درزی کی دوکان سے لگ کرجو ہوٹل ہےاس ہوٹل کیمچھلی ٹیسٹی ہوتی ہےکل کھاؤں گالیکن مچھلی کی بو سالیہاتھوں میں بس جاتی ہےکل صابن بھی لانا ہےگھر آتےلیتا آؤں گااب کے ''یارڈلی'' لاؤں گاآفس میں کل کام بہت ہےباس اگر ناراض ہوا تودو دن کی چھٹی لے لوں گااور اگر موڈ ہوا توچھ کے شو میں''رام اور شیام'' بھی دیکھ آؤں گاپکچر اچھی ہے سالینو سے بارہکلب رمیدو دن سے لک اچھا ہےکل بھی ساٹھ روپے جیتا تھاآج بھی تیس روپے جیتا ہوںاور امید ہےکل بھی جیت کے آؤں گابس اب نیند آئے تو اچھاکل بھیجیت کےنیند آئے تواکا دکی نہلہ دہلہاینٹ کی بیگممچھلی کی بوتاش کے پتےجوکر جوکرسوٹ پہن کرموٹا تگڑا جوکر....اتنا بہت سا سوچ کے وہسویا تھا مگرپھر نہ اٹھا!!دوسرے دن جباس کا جنازہدرزی کی دوکان کے پاس سے گزرا توہوٹل سے مچھلی کی بودور دور تک آئی تھی!!!
ترغیب:پھر میں کام میں لگ جاؤں گا آ فرصت ہے پیار کریںناگن سی بل کھاتی اٹھ اور میری گود میں آن مچلبھید بھاؤ کی بستی میں کوئی بھید بھاؤ کا نام نہ لےہستی پر یوں چھا جا بڑھ کر شرمندہ ہو جائے اجلچھوڑ یہ لاج کا گھونگٹ کب تک رہے گا ان آنکھوں کے ساتھچڑھتی رات ہے ڈھلتا سورج کھڑی کھڑی مت پاؤں ملپھر یہ جادو سو جائے گا سمے جو بیتا گہری نیندجو کچھ ہے انمول ہے اب تک ایک اک لمحہ ایک اک پلبن چھوئی مٹی کی خوشبو اس کا سوندھا سوندھا پنسب کچھ چھن جائے گا اک دن اب بھی وقت ہے دیکھ سنبھلنرم رگوں میں میٹھی میٹھی ٹیس جو یہ اٹھتی ہے آجبڑھتی موج کا ریلا ہے اک، ٹیس نہ اٹھے گی کلمست رسیلی آنکھوں سے یہ چھلکی چھلکی سی اک شےجس نے آج اپنایا اس کو سمجھو اس کے کار سپھلمیں تیرے شعلوں سے کھیلوں تو بھی میری آگ سے کھیلمیں بھی تیری نیند چراؤں تو بھی میری نیندیں چھلنرم ہوا کے جھونکوں ہی سے کھلتی ہے پھولوں کی آنکھورنہ برسوں ساتھ رہے ہیں ٹھہرا پانی بند کنول!
صبح سویرےوہ بستر سے سائے جیسی اٹھتی ہےپھر چولھے میں رات کی ٹھنڈی آگ کوروشن کرتی ہےاتنے میں دن چڑھ جاتا ہےجلدی جلدی چائے بنا کر شوہر کو رخصت کرتی ہےسیارے گردش کرتے ہیںشہر میں صحرا صحراؤں میں چٹیل میداںکہساروں کے نشیب و فراز بنا کرتے ہیںسارے گھر کو دھوتی ہےکپڑے تولیے ٹوتھ برش بستر کی چادرکوئی کتاب اٹھاتی ہے رکھ دیتی ہےریڈیو آن کیا پھر روکا آن کیاپھر کوئی پرانا خط پڑھتی ہے(گھنٹی بجی)''مریم! آ جاؤ''''تم کیسی؟ ہو وہ کیسے ہیں''''کیا اس کا کوئی خط آیا؟''(تھوڑی خاموشی کا وقفہ)''تم کیسی ہو''''تم سے مطلب؟ سچ کہہ دوں تو کیا کر لو گی''دیکھو سب کی سب بیٹھی ہوں''اچھا''''اچھا''(دروازہ پھر بند ہو گیا)''اب کیا کرنا!گھر تو بالکل صاف پڑا ہےکوئی شکن بستر پہ نہیں ہےدیوار و در دھلے دھلائےکوئی دھبہ یا مکڑی کا جالا تنکاکہیں کچھ نہیںکیا کرنا ہے!اف! وہ کلنڈرکتنے برس ہو گئے پھر بھیآئیں تو ان سے کہتی ہوںبالکل نیا کلنڈر لائیںکچھ بھوک نہیںاب کیا کرنا ہےلیٹ رہوں؟ لیکن کیا لیٹوںجانے کتنا لیٹ چکی ہوںکھڑی رہوںہاں کھڑی رہوںپر میں تو کب سے کھڑی ہوئی ہوںکھڑکی کا پردہ ہی کھولوںدھوپ کہاں تک آ پہنچی ہےلاؤ اپنا البم دیکھوںنیر شبنم شفق صبوحی اختر جوہیکیسے ہوں گےآں! یہ میں ہوںاتی پیاری پیاری تھی میںمیں بالکل ہی بھول گئی تھیسب کتنا اچھا لگتا تھاابا، اماں، بھیا، اپیسب زندہ تھےسایہ نانی گلشن آپاہاں اور وہ گوریا باباآنسو نغمے شور ٹھہاکے سارے اک سر میں ہوتے تھےساری دنیا گھر لگتی تھیاماں ادھر بلایا کرتیںابا ادھر پکارا کرتےبھیا ڈانٹتےاپی ڈھیروں پیار جتاتیںکھانا، پینا، سونا، جاگنا، ہنسنا، روٹھنا، منناڈور بندھی تھیایک میں ایک پرویا ہوا تھاکل نمو کے گھر شادی ہےپاس ہی کوئی موت ہوئی ہےکالج کی چھٹی کب ہوگیعید پھر اب کی تیس کی ہوگیہم بھی لیل قدر جاگیں گےشہلا کی منگنی کیوں ٹوٹی؟کیا اقبال کوئی شاعر تھا؟چپ بڑکے ابا سن لیں گےسائے دوڑ رہے ہیں گھر میںہر گوشے میں اوپر نیچے اندر باہر دوڑ رہے ہیںلمبے چھوٹے سبز و زرد ہزاروں سائےباہر شہر میں کوئی نہیں ہےدھوپ سیہ پڑتی جاتی ہےقد آدم آئینے میںاس کا ننگا جسم کھڑا ہےجسم کے اندر سورج کا غنچہ مہکا ہےسیارے گردش کرتے ہیںسب انجانے سیاروں میں بھولے بسرے گھر روشن ہیںکس لمحے کا ہے یہ تماشہہست و بود کے سناٹے میںلا موجود کی تاریکی میںصرف یہی آئینہ روشنصرف اک عکس گزشتہ روشنبچھڑے گھر کا سایہ روشن
اور جب کھلیں آنکھیںحیرتی تھا آئینہمنہ تکا ہی کرتا تھابس خموش جس تس کا
صبح دم جو دیکھا تھاکیا ہرا بھرا گھر تھاڈانٹتی ہوئی بیویبھاگتے ہوئے بچےرسیوں کی بانہوں میںجھولتے ہوئے کپڑےبولتے ہوئے برتنجاگتے ہوئے چولھےاک طرف کو گڑیا کاادھ بنا گھروندا تھادور ایک کونے میںسائیکل کا پہیا تھامرغیوں کے ڈربے تھےکابکیں تھیں، پنجرا تھاتیس گز کے آنگن میںسب ہی کچھ تو رکھا تھا
بہت سے لوگ مجھ میں مر چکے ہیں۔۔۔۔کسی کی موت کو واقع ہوئے بارہ برس بیتےکچھ ایسے ہیں کہ تیس اک سال ہونے آئے ہیں اب جن کی رحلت کوادھر کچھ سانحے تازہ بھی ہیں ہفتوں مہینوں کے
کہہ نہیں سکتا کہاں سے آئے ہو، تم کون ہوایسا لگتا ہے کہ یہ صورت ہے پہچانی ہوئیخاک میں روندا ہوا چہرہ مگر اک دل کشیآنکھ میں ہلکا تبسم، دل میں کوئی ٹیس سیپاؤں سے لپٹی ہوئی بیتے ہوئے لمحوں کی گردپیرہن کے چاک میں گہرے غموں کی تازگیپرسش غم پر بھی کہہ سکنا نہ اپنے جی کا حالکچھ کہا تو بس یہی کہ تم پہ کچھ بیتی نہیںراہ میں چلتے ہوئے ٹھوکر لگی اور گر پڑےیوں ہی کانٹے چبھ گئے ہیں، پھٹ گئی ہے آستیںیاد آتا ہے کہ تم مجھ سے ملے تھے پہلی باراک کہانی میں نہ جانے کس کی تھی لکھی ہوئیاور میں نے اس طرح کے آدمی کو دیکھ کردل میں سوچا تھا کہ اس سے آج کر لوں دوستی!
آنکھ جھپکتے ایک سیکنڈایک منٹ میں ساٹھ سیکنڈساٹھ منٹ کا اک گھنٹہاک دن میں چوبیس گھنٹہسات دنوں کا اک ہفتہایک ماہ ہے تیس دن کابارہ مہینے کا اک سال۳۶۵ دن کا اک سالجنوری میں دن ہیں اکتیسفروری میں ہیں اٹھائیسچار سے سن تقسیم جو پورافروری اس میں انتیس دن کامارچ اکتیس اپریل تیسمئی اکتیس جون میں تیسمئی جون میں گرمی زیادہاس میں سب کو آئے پسینہاکتیس جولائی اکتیس اگستبرکھا رت میں رہنا مستتیس ستمبر اکتیس دسمبرسردی میں سب کانپیں تھر تھرماضی گزرا اب ہے حالایک صدی میں ہیں سو سال
لیکن پرویز کے دورے کیایک اور وجہ بھی تھیتیس برس تکدو روحوں کے شب خانوں میںعجب طرح کی پاگل نفرت پلتی رہیاور اپنا زہر اگلتی رہیوہ بدلے کی آگ میں جلتےانگاروں پر چلتے رہےاسی لیے کوئی دس دن پہلےاس سازش نے جنم لیا تھااور ممتاز نے کسی پرانےکاروباری ''ساتھی'' سےخون کا سودا کر ڈالا تھاآج اسی کا سندیسا آنے والا تھا
راہیں دھڑکیں شاخیں کڑکیں اک اک ٹیس اٹلکتنی تیز چلی ہے اب کے دھول بھری ہوا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books