aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".urff"
مجھے اس شام ہے اپنے لبوں پر اک سخن لاناعلیؔ درویش تھا تم اس کو اپنا جد نہ بتلاناوہ سبطین محمد، جن کو جانے کیوں بہت ارفعتم ان کی دور کی نسبت سے بھی یکسر مکر جاناکہ اس نسبت سے زہر و زخم کو سہنا ضروری ہےعجب غیرت سے غلطیدہ بخوں رہنا ضروری ہے
ترے صوفے ہیں افرنگی ترے قالیں ہیں ایرانیلہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانیامارت کیا شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصلنہ زور حیدری تجھ میں نہ استغنائے سلمانینہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میںکہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانیعقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میںنظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میںنہ ہو نومید نومیدی زوال علم و عرفاں ہےامید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میںنہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پرتو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم دوست کہتے ہیںنہ کوئی خون کا رشتہ نہ کوئی ساتھ صدیوں کامگر احساس اپنوں سا وہ انجانے دلاتے ہیںوہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم دوست کہتے ہیںخفا جب زندگی ہو تو وہ آ کے تھام لیتے ہیںرلا دیتی ہے جب دنیا تو آ کر مسکراتے ہیںوہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم دوست کہتے ہیںاکیلے راستے پہ جب میں کھو جاؤں تو ملتے ہیںسفر مشکل ہو کتنا بھی مگر وہ ساتھ جاتے ہیںوہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم دوست کہتے ہیںنظر کے پاس ہوں نہ ہوں مگر پھر بھی تسلی ہےوہی مہمان خوابوں کے جو دل کے پاس رہتے ہیںوہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم دوست کہتے ہیںمجھے مسرور کرتے ہیں وہ لمحے آج بھی عرفانؔکہ جن میں دوستوں کے ساتھ کے پل یاد آتے ہیںوہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم دوست کہتے ہیں
ذرہ ذرہ دہر کا زندانیٔ تقدیر ہےپردۂ مجبوری و بے چارگی تدبیر ہےآسماں مجبور ہے شمس و قمر مجبور ہیںانجم سیماب پا رفتار پر مجبور ہیںہے شکست انجام غنچے کا سبو گلزار میںسبزہ و گل بھی ہیں مجبور نمو گلزار میںنغمۂ بلبل ہو یا آواز خاموش ضمیرہے اسی زنجیر عالمگیر میں ہر شے اسیرآنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سر مجبوری عیاںخشک ہو جاتا ہے دل میں اشک کا سیل رواںقلب انسانی میں رقص عیش و غم رہتا نہیںنغمہ رہ جاتا ہے لطف زیر و بم رہتا نہیںعلم و حکمت رہزن سامان اشک و آہ ہےیعنی اک الماس کا ٹکڑا دل آگاہ ہےگرچہ میرے باغ میں شبنم کی شادابی نہیںآنکھ میری مایہ دار اشک عنابی نہیںجانتا ہوں آہ میں آلام انسانی کا رازہے نوائے شکوہ سے خالی مری فطرت کا سازمیرے لب پر قصۂ نیرنگی دوراں نہیںدل مرا حیراں نہیں خندہ نہیں گریاں نہیںپر تری تصویر قاصد گریۂ پیہم کی ہےآہ یہ تردید میری حکمت محکم کی ہےگریۂ سرشار سے بنیاد جاں پایندہ ہےدرد کے عرفاں سے عقل سنگدل شرمندہ ہےموج دود آہ سے آئینہ ہے روشن مراگنج آب آورد سے معمور ہے دامن مراحیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز کارخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کارفتہ و حاضر کو گویا پا بہ پا اس نے کیاعہد طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کیاجب ترے دامن میں پلتی تھی وہ جان ناتواںبات سے اچھی طرح محرم نہ تھی جس کی زباںاور اب چرچے ہیں جس کی شوخئ گفتار کےبے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہر بار کےعلم کی سنجیدہ گفتاری بڑھاپے کا شعوردنیوی اعزاز کی شوکت جوانی کا غرورزندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہمصحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہمبے تکلف خندہ زن ہیں فکر سے آزاد ہیںپھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیںکس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظارکون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرارخاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گااب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گاتربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہواگھر مرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوادفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیاتتھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیاتعمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہیمیں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسیوہ جواں قامت میں ہے جو صورت سرو بلندتیری خدمت سے ہوا جو مجھ سے بڑھ کر بہرہ مندکاروبار زندگانی میں وہ ہم پہلو مراوہ محبت میں تری تصویر وہ بازو مراتجھ کو مثل طفلک بے دست و پا روتا ہے وہصبر سے نا آشنا صبح و مسا روتا ہے وہتخم جس کا تو ہماری کشت جاں میں بو گئیشرکت غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئیآہ یہ دنیا یہ ماتم خانۂ برنا و پیرآدمی ہے کس طلسم دوش و فردا میں اسیرکتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موتگلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موتزلزلے ہیں بجلیاں ہیں قحط ہیں آلام ہیںکیسی کیسی دختران مادر ایام ہیںکلبۂ افلاس میں دولت کے کاشانے میں موتدشت و در میں شہر میں گلشن میں ویرانے میں موتموت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میںڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میںنے مجال شکوہ ہے نے طاقت گفتار ہےزندگانی کیا ہے اک طوق گلو افشار ہےقافلے میں غیر فریاد درا کچھ بھی نہیںاک متاع دیدۂ تر کے سوا کچھ بھی نہیںختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھیہیں پس نہ پردۂ گردوں ابھی دور اور بھیسینہ چاک اس گلستاں میں لالہ و گل ہیں تو کیانالہ و فریاد پر مجبور بلبل ہیں تو کیاجھاڑیاں جن کے قفس میں قید ہے آہ خزاںسبز کر دے گی انہیں باد بہار جاوداںخفتہ خاک پے سپر میں ہے شرار اپنا تو کیاعارضی محمل ہے یہ مشت غبار اپنا تو کیازندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیںٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیںزندگی محبوب ایسی دیدۂ قدرت میں ہےذوق حفظ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہےموت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقش حیاتعام یوں اس کو نہ کر دیتا نظام کائناتہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیںجس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیںآہ غافل موت کا راز نہاں کچھ اور ہےنقش کی ناپائیداری سے عیاں کچھ اور ہےجنت نظارہ ہے نقش ہوا بالائے آبموج مضطر توڑ کر تعمیر کرتی ہے حبابموج کے دامن میں پھر اس کو چھپا دیتی ہے یہکتنی بے دردی سے نقش اپنا مٹا دیتی ہے یہپھر نہ کر سکتی حباب اپنا اگر پیدا ہواتوڑنے میں اس کے یوں ہوتی نہ بے پروا ہوااس روش کا کیا اثر ہے ہیئت تعمیر پریہ تو حجت ہے ہوا کی قوت تعمیر پرفطرت ہستی شہید آرزو رہتی نہ ہوخوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہوآہ سیماب پریشاں انجم گردوں فروزشوخ یہ چنگاریاں ممنون شب ہے جن کا سوزعقل جس سے سر بہ زانو ہے وہ مدت ان کی ہےسر گزشت نوع انساں ایک ساعت ان کی ہےپھر یہ انساں آں سوئے افلاک ہے جس کی نظرقدسیوں سے بھی مقاصد میں ہے جو پاکیزہ ترجو مثال شمع روشن محفل قدرت میں ہےآسماں اک نقطہ جس کی وسعت فطرت میں ہےجس کی نادانی صداقت کے لیے بیتاب ہےجس کا ناخن ساز ہستی کے لیے مضراب ہےشعلہ یہ کم تر ہے گردوں کے شراروں سے بھی کیاکم بہا ہے آفتاب اپنا ستاروں سے بھی کیاتخم گل کی آنکھ زیر خاک بھی بے خواب ہےکس قدر نشوونما کے واسطے بیتاب ہےزندگی کا شعلہ اس دانے میں جو مستور ہےخود نمائی خود فزائی کے لیے مجبور ہےسردی مرقد سے بھی افسردہ ہو سکتا نہیںخاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیںپھول بن کر اپنی تربت سے نکل آتا ہے یہموت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہہے لحد اس قوت آشفتہ کی شیرازہ بندڈالتی ہے گردن گردوں میں جو اپنی کمندموت تجدید مذاق زندگی کا نام ہےخواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہےخوگر پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیںموت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیںکہتے ہیں اہل جہاں درد اجل ہے لا دوازخم فرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفادل مگر غم مرنے والوں کا جہاں آباد ہےحلقۂ زنجیر صبح و شام سے آزاد ہےوقت کے افسوں سے تھمتا نالۂ ماتم نہیںوقت زخم تیغ فرقت کا کوئی مرہم نہیںسر پہ آ جاتی ہے جب کوئی مصیبت ناگہاںاشک پیہم دیدۂ انساں سے ہوتے ہیں رواںربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سےخون دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سےآدمی تاب شکیبائی سے گو محروم ہےاس کی فطرت میں یہ اک احساس نامعلوم ہےجوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیںآنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیںرخت ہستی خاک غم کی شعلہ افشانی سے ہےسرد یہ آگ اس لطیف احساس کے پانی سے ہےآہ یہ ضبط فغاں غفلت کی خاموشی نہیںآگہی ہے یہ دلاسائی فراموشی نہیںپردۂ مشرق سے جس دم جلوہ گر ہوتی ہے صبحداغ شب کا دامن آفاق سے دھوتی ہے صبحلالۂ افسردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہبے زباں طائر کو سرمست نوا کرتی ہے یہسینۂ بلبل کے زنداں سے سرود آزاد ہےسیکڑوں نغموں سے باد صبح دم آباد ہےخفتہ گان لالہ زار و کوہسار و رود بارہوتے ہیں آخر عروس زندگی سے ہمکناریہ اگر آئین ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبحمرقد انساں کی شب کا کیوں نہ ہو انجام صبحدام سیمین تخیل ہے مرا آفاق گیرکر لیا ہے جس سے تیری یاد کو میں نے اسیریاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہےجیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہےوہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیاتجلوہ گاہیں اس کی ہیں لاکھوں جہان بے ثباتمختلف ہر منزل ہستی کو رسم و راہ ہےآخرت بھی زندگی کی ایک جولاں گاہ ہےہے وہاں بے حاصلی کشت اجل کے واسطےسازگار آب و ہوا تخم عمل کے واسطےنور فطرت ظلمت پیکر کا زندانی نہیںتنگ ایسا حلقۂ افکار انسانی نہیںزندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ ترخوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفرمثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترانور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تراآسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرےسبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
عمر بھر کا یہ رشتہچھوٹ بھی تو سکتا ہےآخری وسل کے ساتھڈوب جانے والا دلٹوٹ بھی تو سکتا ہےتم بھی افتخار عارفبارہویں کھلاڑی ہوانتظار کرتے ہوایک ایسے لمحے کاایک ایسی ساعت کاجس میں حادثہ ہو جائےجس میں سانحہ ہو جائےتم بھی افتخار عارفتم بھی ڈوب جاؤ گےتم بھی ٹوٹ جاؤ گے
ابھی کچھ دن لگیں گے
نیٹ ایجاد ہوا ہجر کے ماروں کے لیےسرچ انجن ہے بڑی چیز کنواروں کے لیے
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاںپھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاںآنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاںسینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاںجتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھراکرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جادیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیاٹھٹھا ہنسی شراب صنم ساقی اس سواسو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاںجس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہےخالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہےچولھے کے آگے آنچ جو چلتی حضور ہےجتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہےاس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاںآوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نامیا چکی چولھے کے جہاں گل زار ہوں تمامواں سر جھکا کے کیجے ڈنڈوت اور سلاماس واسطے کہ خاص یہ روٹی کے ہیں مقامپہلے انہیں مکانوں میں آتی ہیں روٹیاںان روٹیوں کے نور سے سب دل ہیں بور بورآٹا نہیں ہے چھلنی سے چھن چھن گرے ہے نورپیڑا ہر ایک اس کا ہے برفی و موتی چورہرگز کسی طرح نہ بجھے پیٹ کا تنوراس آگ کو مگر یہ بجھاتی ہیں روٹیاںپوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سےیہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کےوہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دےہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتےبابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاںپھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیااس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیاوہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیاکشف القلوب اور یہ کشف القبور کیاجتنے ہیں کشف سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئےگلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئےدو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈھل گئےچودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئےیہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہومیلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہوبھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہوسچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہواللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاںاب آگے جس کے مال پوے بھر کے تھال ہیںپورے بھگت انہیں کہو صاحب کے لال ہیںاور جن کے آگے روغنی اور شیرمال ہیںعارف وہی ہیں اور وہی صاحب کمال ہیںپکی پکائی اب جنہیں آتی ہیں روٹیاںکپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطےلمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطےباندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطےسب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطےجتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے ناچے پیادہ قواعد دکھا دکھااسوار ناچے گھوڑے کو کاوہ لگا لگاگھنگھرو کو باندھے پیک بھی پھرتا ہے ناچتااور اس سوا جو غور سے دیکھا تو جا بہ جاسو سو طرح کے ناچ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی کے ناچ تو ہیں سبھی خلق میں پڑےکچھ بھانڈ بھیگتے یہ نہیں پھرتے ناچتےیہ رنڈیاں جو ناچے ہیں گھونگھٹ کو منہ پہ لےگھونگھٹ نہ جانو دوستو تم زینہار اسےاس پردے میں یہ اپنے کماتی ہیں روٹیاںاشرافوں نے جو اپنی یہ ذاتیں چھپائی ہیںسچ پوچھئے تو اپنی یہ شانیں بڑھائی ہیںکہئے انہوں کی روٹیاں کس کس نے کھائی ہیںاشراف سب میں کہئے تو اب نان بائی ہیںجن کی دکاں سے ہر کہیں جاتی ہیں روٹیاںدنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہےیا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہےکوئی کسی کا اور کسی کا نہ کوئی ہےسب کوئی ہے اسی کا کہ جس ہاتھ ڈوئی ہےنوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاںروٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیرروکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیریا پتلی ہووے موٹی خمیری ہو یا فطیرگیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیرؔہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں
مری زندگی میں بس اک کتاب ہے اک چراغ ہےایک خواب ہے اور تم ہویہ کتاب و خواب کے درمیان جو منزلیں ہیں میں چاہتا تھاتمھارے ساتھ بسر کروںیہی کل اثاثۂ زندگی ہے اسی کو زاد سفر کروںکسی اور سمت نظر کروں تو مری دعا میں اثر نہ ہومرے دل کے جادۂ خوش خبر پہ بجز تمھارے کبھی کسی کا گزر نہ ہومگر اس طرح کہ تمہیں بھی اس کی خبر نہ ہو
جس روز ہمارا کوچ ہوگاپھولوں کی دکانیں بند ہوں گیشیریں سخنوں کے حرف دشنامبے مہر زبانیں بند ہوں گی
تمہیں پیار ہے، تو یقین دو،مجھے نہ کہو، تمہیں پیار ہے، مجھے دیکھنے کی نہ ضد کرو،تمہیں فکر ہو، مرے حال کی،کوئی گفتگو ہو ملال کی،جو خیال ہو، نہ کیا کرو،نہ کہا کرو مری فکر ہےمیں عزیز تر ہوں جہان سےیا ایمان سے، نہ کہا کرو،نہ لکھا کرو مجھے ورق پر، کسی فرش پر،نہ اداس ہو، نہ ہی خوش رہومجھے سوچ کر، یا کھروچ کر، میری یاد کو نہ آواز دو،مجھے خط میں لکھ کے خداؤں کا نہ دو واسطہتمہیں پیار میں نہ قرار ہے، مجھے اس زباں کا یقین نہیںکچھ اور ہو، جو سنا نہ ہو، جو کہا نہ ہو، جو لکھا نہ ہوتو یقین ہو!رکو اور تھوڑا سا ضبط لو، مجھے سوچ لینے کو وقت دو،چلو یوں کرو مرے واسطے کہ بلند و بالا عمارتوں کا لو جائزہجو فلک کو بوسہ لگا رہی ہوں عمارتیں،جو تمہارے پیار سے لے رہی ہوں مشابہتیںجو ہو سب سے زیادہ بلند و بالا الگ تھلگاسے سر کرو،اسے چھت تلک، ہاں یہیں رکو، یہ وہ ہی ہے چھت،ذرا سانس لینے کو قیام لو، مرا نام لو،تو سفر کی ساری تھکن یہیں پہ اتار لو،اب! مرے تمہارے جو درمیاں میں ہے فاصلہ، وہ ذرا سا ہے،وہ مٹا سکو، تو غرور ڈھاتی بلندیوں کو پھلانگ دو!تمہیں پیار ہے تو یقین دو!!
عجب گھڑی تھیکتاب کیچڑ میں گر پڑی تھیچمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسو بلا رہے تھےمگر مجھے ہوش ہی کہاں تھانظر میں اک اور ہی جہاں تھانئے نئے منظروں کی خواہش میں اپنے منظر سے کٹ گیا ہوںنئے نئے دائروں کی گردش میں اپنے محور سے ہٹ گیا ہوںصلہ جزا خوف ناامیدیامید امکان بے یقینیہزار خانوں میں بٹ گیا ہوںاب اس سے پہلے کہ رات اپنی کمند ڈالے یہ چاہتا ہوں کہ لوٹ جاؤںعجب نہیں وہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ہوعجب نہیں آج بھی مری راہ دیکھتی ہوچمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسوعجب نہیں میرے لفظ مجھ کو معاف کر دیںہوا و حرص و ہوس کی سب گرد صاف کر دیںعجب گھڑی تھیکتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی
مری بیٹی مری جاناںتمہیں سب یاد تو ہوگابہت پہلے بہت پہلےجوانی کا تھا جب عالممرے بازو میں طاقت تھیمرے سینے میں ہمت تھیانہیں ایام میں اک دنمری آغوش الفت میںکسی نے لا کے رکھا تھاتمہارا پھول سا چہرہبدن بے انتہا نازکمرے ان سخت ہاتھوں میںعجب نرمی سی آئی تھیمری اس آنکھ نے بو سے لئے تھے اور روئی تھیمجھے تو یاد ہے سب کچھتمہیں بھی یاد تو ہوگانئے کپڑے کھلونے دودھ کی بوتل خریدی تھیبہت بے چین ہوتا تھا جو تم راتوں کو روتی تھیںچلی تھیں اپنے پیروں پر جو تم پہلے پہل بیٹامجھے ایسا لگا تھا چل پڑی دل کی مرے دھڑکنقدم دو چار لے کر تم جو اک دم لڑکھڑائی تھیںمری سانسیں مرے سینے کے اندر تھرتھرائی تھیںمری گودی میں رفتہ رفتہ دن گزرا کئے اور تمنہ جانے سوتے سوتے میرے سینے پر جوانی تکمری جاں آج آئی ہوتمہیں مجھ سے شکایت ہےکہ میں نے سختیاں کی ہیںمری وہ سختیاں تم کو بہت رنجور کرتی تھیںمجھے بھی رنج ہوتا تھامگر تھی تربیت لازمتمہیں سانچے میں ڈھلنا تھاطبیعت کو بدلنا تھاتمہیں سب یاد تو ہوگامری بیٹی مرے بازو میں وہ قوت نہیں باقیتمہاری ہر خوشی کی ہیں ضمانت دھڑکنیں میریمگر اک مشورہ سن لوکہ اب سب بھول جاؤ تمنئے رشتے بناؤ تمہمارا ساتھ چھوٹے گانئے رشتوں کے میری جاں مسائل کم نہیں ہو گےمگر تب ہم نہیں ہوں گےاکیلی جان ہوگی تمفقط وہ تربیت ہوگیجو میں نے سختیاں کر کےتمہارے دل میں ڈالی ہےوہ تم کو یاد تو ہوگیسبق سب یاد تو ہوگا
عجیب لوگ ہیںہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیںجو رات جاگنے کی تھی وہ ساری راتخواب دیکھ دیکھ کر گزارتے رہےجو نام بھولنے کا تھا اس ایک نام کوگلی گلی پکارتے رہےجو کھیل جیتنے کا تھا وہ کھیل ہارتے رہےعجیب لوگ ہیںہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیںکسی سے بھی تو قرض آبرو ادا نہیں ہوالہو لہان ساعتوں کا فیصلہ نہیں ہوابرس گزر گئے ہیں کوئی معجزہ نہیں ہواوہ جل بجھا کہ آگ جس کے شعلۂ نفس میں تھیوہ تیر کھا گیا کمان جس کی دسترس میں تھیسپاہ مہر کا فصیل شب کو انتظار ہےکب آئے گا وہ شخص جس کا سب کو انتظار ہےہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیںعجیب لوگ ہیںہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیں
گرمی کی تپش بجھانے والیسردی کا پیام لانے والیقدرت کے عجائبات کی کاںعارف کے لیے کتاب عرفاںوہ شاخ و درخت کی جوانیوہ مور و ملخ کی زندگانیوہ سارے برس کی جان برساتوہ کون خدا کی شان برساتآئی ہے بہت دعاؤں کے بعدوہ سیکڑوں التجاؤں کے بعدوہ آئی تو آئی جان میں جاںسب تھے کوئی دن کے ورنہ مہماںگرمی سے تڑپ رہے تھے جان داراور دھوپ میں تپ رہے تھے کہساربھوبل سے سوا تھا ریگ صحرااور کھول رہا تھا آب دریاسانڈے تھے بلوں میں منہ چھپائےاور ہانپ رہے تھے چارپائےتھیں لومڑیاں زباں نکالےاور لو سے ہرن ہوئے تھے کالےچیتوں کو نہ تھی شکار کی سدھہرنوں کو نہ تھی قطار کی سدھتھے شیر پڑے کچھار میں سستگھڑیال تھے رود بار میں سستڈھوروں کا ہوا تھا حال پتلابیلوں نے دیا تھا ڈال کندھابھینسوں کے لہو نہ تھا بدن میںاور دودھ نہ تھا گئو کے تھن میںگھوڑوں کا چھٹا تھا گھاس دانہتھا پیاس کا ان پہ تازیانہگرمی کا لگا ہوا تھا بھبکااور انس نکل رہا تھا سب کاطوفان تھے آندھیوں کے برپااٹھتا تھا بگولے پر بگولاآرے تھے بدن پہ لو کے چلتےشعلے تھے زمین سے نکلتےتھی آگ کا دے رہی ہوا کامتھا آگ کا نام مفت بد نامرستوں میں سوار اور پیدلسب دھوپ کے ہاتھ سے تھے بے کلگھوڑوں کے نہ آگے اٹھتے تھے پاؤںملتی تھی کہیں جو روکھ کی چھاؤںتھی سب کی نگاہ سوئے افلاکپانی کی جگہ برستی تھی خاک
تم نے جو پھول مجھے رخصت ہوتے وقت دیا تھاوہ نظم میں نے تمہاری یادوں کے ساتھ لفافے میں بند کر کے رکھ دی تھیآج دنوں بعد بہت اکیلے میں اسے کھول کر دیکھا ہےپھول کی نو پنکھڑیاں ہیںنظم کے نو مصرعےیادیں بھی کیسی عجیب ہوتی ہیںپہلی پنکھڑی یاد دلاتی ہے اس لمحے کی جب میں نےپہلی بار تمہیں بھری محفل میں اپنی طرف مسلسل تکتے ہوئے دیکھ لیا تھادوسری پنکھڑی جب ہم پہلی بار ایک دوسرے کو کچھ کہے بغیربس یوں ہی جان بوجھ کر نظر بچاتے ہوئے ایک راہداری سے گزر گئے تھےپھر تیسری بار جب ہم اچانک ایک موڑ پر کہیں ملےاور ہم نے بہت ساری باتیں کیں اور بہت سارے برسایک ساتھ پل میں گزار دئےاور چوتھی باراب میں بھولنے لگا ہوںبہت دنوں سے ٹھہری ہوئی اداسی کی وجہ سے شایدکچھ لوگ کہتے ہیں اداسی تنہائی کی کوکھ سے جنم لیتی ہےممکن ہے ٹھیک کہتے ہوںکچھ لوگ کہتے ہیں بہت تنہا رہنا بھی اداسی کا سبب بن جاتا ہےممکن ہے یہ بھی ٹھیک ہوممکن ہے تم آؤ تو بھولی ہوئی ساری باتیں پھر سے یاد آ جائیںممکن ہے تم آؤ تو وہ باتیں بھی میں بھول چکا ہوں جو ابھی مجھے یاد ہیںیادوں کے بارے میں اور اداسی کے بارے میں اور تنہائی کے بارے میںکوئی بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی
کیوں گنہ گار بنوں ویزا فراموش رہوںکب تلک خوف زدہ صورت خرگوش رہوںوقت کا یہ بھی تقاضہ ہے کہ خاموش رہوںہم نوا! میں کوئی مجرم ہوں کہ روپوش رہوں
جبین وقت پر لکھی ہوئی سچائیاں روشن رہی ہیںتا ابد روشن رہیں گیخدا شاہد ہے اور وہ ذات شاہد ہے کہ جو وجہ اساس انفس و آفاق ہےاور خیر کی تاریخ کا وہ باب اول ہےابد تک جس کا فیضان کرم جاری رہے گایقیں کے آگہی کے روشنی کے قافلے ہر دور میں آتے رہے ہیںتا ابد آتے رہیں گےابوطالب کے بیٹے حفظ ناموس رسالت کی روایت کے امیں تھےجان دینا جانتے تھےوہ مسلم ہوں کہ وہ عباس ہوں عون و محمد ہوں علی اکبر ہوں قاسم ہوں علی اصغر ہوںحق پہچانتے تھےلشکر باطل کو کب گردانتے تھےابوطالب کے بیٹے سر بریدہ ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیںابوطالب کے بیٹے پا بجولاں ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیںابوطالب کے بیٹے صرف زنداں ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیںمدینہ ہو نجف ہو کربلا ہو کاظمین و سامرہ ہو مشہد و بغداد ہوآل ابوطالب کے قدموں کے نشاںانسانیت کو اس کی منزل کا پتہ دیتے رہے ہیں تا ابد دیتے رہیں گےابوطالب کے بیٹوں اور غلامان علی ابن ابی طالب میں اک نسبت رہی ہےمحبت کی یہ نسبت عمر بھر قائم رہے گیتا ابد قائم رہے گی
مہر صدیوں سے چمکتا ہی رہا افلاک پررات ہی طاری رہی انسان کے ادراک پرعقل کے میدان میں ظلمت کا ڈیرا ہی رہادل میں تاریکی دماغوں میں اندھیرا ہی رہااک نہ اک مذہب کی سعیٔ خام بھی ہوتی رہیاہل دل پر بارش الہام بھی ہوتی رہیآسمانوں سے فرشتے بھی اترتے ہی رہےنیک بندے بھی خدا کا کام کرتے ہی رہےابن مریم بھی اٹھے موسی عمراں بھی اٹھےرام و گوتم بھی اٹھے فرعون و ہاماں بھی اٹھےاہل سیف اٹھتے رہے اہل کتاب آتے رہےایں جناب اٹھتے اور آنجناب آتے رہےحکمراں دل پر رہے صدیوں تلک اصنام بھیابر رحمت بن کے چھایا دہر پر اسلام بھیمسجدوں میں مولوی خطبے سناتے ہی رہےمندروں میں برہمن اشلوک گاتے ہی رہےآدمی منت کش ارباب عرفاں ہی رہادرد انسانی مگر محروم درماں ہی رہااک نہ اک در پر جبین شوق گھستی ہی رہیآدمیت ظلم کی چکی میں پستی ہی رہیرہبری جاری رہی پیغمبری جاری رہیدین کے پردے میں جنگ زرگری جاری رہیاہل باطن علم سے سینوں کو گرماتے رہےجہل کے تاریک سائے ہاتھ پھیلاتے رہےیہ مسلسل آفتیں یہ یورشیں یہ قتل عامآدمی کب تک رہے اوہام باطل کا غلامذہن انسانی نے اب اوہام کے ظلمات میںزندگی کی سخت طوفانی اندھیری رات میںکچھ نہیں تو کم سے کم خواب سحر دیکھا تو ہےجس طرف دیکھا نہ تھا اب تک ادھر دیکھا تو ہے
جینے کا سلیقہ بھی ہمیں ان سے ملا ہےاحساس عمل فکر بھی ان ہی کی عطا ہےان ہی کی ہے تعلیم جو عرفان خدا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books