aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "Dhake"
ہے دنیا جس کا ناؤں میاں یہ اور طرح کی بستی ہےجو مہنگوں کو یہ مہنگی ہے اور سستوں کو یہ سستی ہےیاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں ہر آن عدالت بستی ہےگر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کا مان رکھے تو اس کو بھی ارمان ملےجو پان کھلا دے پان ملے جو روٹی دے تو نان ملےنقصان کرے نقصان ملے احسان کرے احسان ملےجو جیسا جس کے ساتھ کرے پھر ویسا اس کو آن ملےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کی جاں بخشے تو اس کی بھی حق جان رکھےجو اور کسی کی آن رکھے تو اس کی بھی حق آن رکھےجو یاں کا رہنے والا ہے یہ دل میں اپنے جان رکھےیہ ترت پھرت کا نقشہ ہے اس نقشے کو پہچان رکھےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو پار اتارے اوروں کو اس کی بھی پار اترنی ہےجو غرق کرے پھر اس کو بھی ڈبکوں ڈبکوں کرنی ہےشمشیر تبر بندوق سناں اور نشتر تیر نہرنی ہےیاں جیسی جیسی کرنی ہے پھر ویسی ویسی بھرنی ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اوپر اونچا بول کرے تو اس کا بول بھی بالا ہےاور دے پٹکے تو اس کو بھی کوئی اور پٹکنے والا ہےبے ظلم و خطا جس ظالم نے مظلوم ذبح کر ڈالا ہےاس ظالم کے بھی لوہو کا پھر بہتا ندی نالا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو مصری اور کے منہ میں دے پھر وہ بھی شکر کھاتا ہےجو اور تئیں اب ٹکر دے پھر وہ بھی ٹکر کھاتا ہےجو اور کو ڈالے چکر میں پھر وہ بھی چکر کھاتا ہےجو اور کو ٹھوکر مار چلے پھر وہ بھی ٹھوکر کھاتا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کو ناحق میں کوئی جھوٹی بات لگاتا ہےاور کوئی غریب اور بیچارہ حق نا حق میں لٹ جاتا ہےوہ آپ بھی لوٹا جاتا ہے اور لاٹھی پاٹھی کھاتا ہےجو جیسا جیسا کرتا ہے پھر ویسا ویسا پاتا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کی پگڑی لے بھاگے اس کا بھی اور اچکا ہےجو اور پہ چوکی بٹھلاوے اس پر بھی دھونس دھڑکا ہےیاں پشتی میں تو پشتی ہے اور دھکے میں یاں دھکا ہےکیا زور مزے کا جمگھٹ ہے کیا زور یہ بھیڑ بھڑکا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےہے کھٹکا اس کے ہاتھ لگا جو اور کسی کو دے کھٹکااور غیب سے جھٹکا کھاتا ہے جو اور کسی کے دے جھٹکاچیرے کے بیچ میں چیرا ہے اور پٹکے بیچ جو ہے پٹکاکیا کہیے اور نظیرؔ آگے ہے زور تماشا جھٹ پٹکاکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے
اک پٹری پر سردی میں اپنی تقدیر کو روئےدوجا زلفوں کی چھاؤں میں سکھ کی سیج پہ سوئےراج سنگھاسن پر اک بیٹھا اور اک اس کا داسبھئے کبیر اداساونچے اونچے ایوانوں میں مورکھ حکم چلائیںقدم قدم پر اس نگری میں پنڈت دھکے کھائیںدھرتی پر بھگوان بنے ہیں دھن ہے جن کے پاسبھئے کبیر اداسگیت لکھائیں پیسے نا دیں فلم نگر کے لوگان کے گھر باجے شہنائی لیکھک کے گھر سوگگائک سر میں کیوں کر گائے کیوں نا کاٹے گھاسبھئے کبیر اداسکل تک تھا جو حال ہمارا حال وہی ہے آججالبؔ اپنے دیس میں سکھ کا کال وہی ہے آجپھر بھی موچی گیٹ پہ لیڈر روز کریں بکواسبھئے کبیر اداس
وہ سرد رات جبکہ سفر کر رہا تھا میںرنگینیوں سے ظرف نظر بھر رہا تھا میںتیزی سے جنگلوں میں اڑی جا رہی تھی ریلخوابیدہ کائنات کو چونکا رہی تھی ریلمڑتی اچھلتی کانپتی چنگھاڑتی ہوئیکہرے کی وہ دبیز ردا پھاڑتی ہوئیپہیوں کی گردشوں میں مچلتی تھی راگنیآہن سے آگ بن کے نکلتی تھی راگنیپہنچی جدھر زمیں کا کلیجہ ہلا دیادامن میں تیرگی کے گریباں بنا دیاجھونکے ہوا کے برف بچھاتے تھے راہ میںجلوے سما رہے تھے لرز کر نگاہ میںدھوکے سے چھو گئیں جو کہیں سرد انگلیاںبچھو سا ڈنک مارنے لگتی تھیں کھڑکیاںپچھلے پہر کا نرم دھندلکا تھا پر فشاںمایوسیوں میں جیسے امیدوں کا کارواںبے نور ہو کے ڈوبنے والا تھا ماہتابکہرے میں کھپ گئی تھی ستاروں کی آب و تابقبضہ سے تیرگی کے سحر چھوٹنے کو تھیمشرق کے حاشیے میں کرن پھوٹنے کو تھیکہرے میں تھا ڈھکے ہوئے باغوں کا یہ سماںجس طرح زیر آب جھلکتی ہوں بستیاںبھیگی ہوئی زمیں تھی نمی سی فضا میں تھیاک کشت برف تھی کہ معلق ہوا میں تھیجادو کے فرش سحر کے سب سقف و بام تھےدوش ہوا پہ پریوں کے سیمیں خیام تھےتھی ٹھنڈے ٹھنڈے نور میں کھوئی ہوئی نگاہڈھل کر فضا میں آئی تھی حوروں کی خواب گاہبن بن کے پھین سوئے فلک دیکھتا ہوادریا چلا تھا چھوڑ کے دامن زمین کااس شبنمی دھندلکے میں بگلے تھے یوں رواںموجوں پہ مست ہو کے چلیں جیسے مچھلیاںڈالا کبھی فضاؤں میں خط کھو گئے کبھیجھلکے کبھی افق میں نہاں ہو گئے کبھیانجن سے اڑ کے کانپتا پھرتا تھا یوں دھواںلیتا تھا لہر کھیت میں کہرے کے آسماںاس وقت کیا تھا روح پہ صدمہ نہ پوچھئےیاد آ رہا تھا کس سے بچھڑنا نہ پوچھئےدل میں کچھ ایسے گھاؤ تھے تیر ملال کےرو رو دیا تھا کھڑکی سے گردن نکال کے
ابھی ابھی تم کوکسی ہوئی بھیڑ کے آخری سرے پردیکھا ہے اچانکریلے پر ریلا، دھکے پر دھکاکہیں بھی کوئی شگاف نہیںانسانی جسموں کی اونچی دیوارتم تک کبھی بھیپہنچنے نہ دے گی
اور پھر اک دن میں اور تم ان اونچی نیچی دیواروں کے جھرمٹ میں اترےجن میں کبھی ہماری روحوں کو زندہ چن دیا گیا تھااس وقت آنگن آنگن میں ترچھی کرنوں نے دھوپ کے کنگرے سایوں کی قاشوں میں ٹانک دیے تھےدیکھا ہوا سا کوئی سماں پرانا اس دن ہم نے دیکھایوں لگتا تھا جیسے آسمانوں کی روشنیاں جھک جھک کر اس اک قریے کو دیکھ رہی تھیںاور ہمیں تب وہ دن یاد آئے جب موت ہماری زندگیوں سے گزر رہی تھی ایسی ہی صبحوں کی اوٹ میںہم ان زینہ بہ زینہ منڈیروں کے جھرمٹ میں تھےاور اس شہر کے لوگ اب بھی گلیوں میں خوانچے لگائے اپنی زندگیوں کو سج رہے تھےاور پھر ہم نے سوچاکون اچھا ہے ہم جو مردہ چہروں سے جینے کی خواہش پاتے ہیں یا وہ جوہم کو زندہ دیکھ کے ہماری موت کو مان لیتے ہیںابھی ابھی تو میرے ساتھ ساتھ تھے ہم اسے گزرے ہوئے زمانوں کے خیالو پھر کب لوٹو گےاک دن پھر بھی تمہارے ساتھ اس خاک کے تختے تک جاؤں گاجس سے ڈھکے ہوئے بے نور گڑھوں میںکچھ نادیدہ آنکھیں ہم کو دیکھ کے اب بھی ہنس ہنس اٹھتی نظر آتی ہیں
کالا حد سے بھی کالا تھااتنا کالا جتنی تیری سوچاتنا کالا جتنی تیرے دل کی کالککون تھا کالاکالا کالا سوچتا جاتاکھرچ کھرچ کر نوچتا جاتااپنا ہونا کھوجتا جاتاجملوں کی بدبو کے اندراپنی خوشبو سونگھتا جاتااپنی سگریٹ پھونکتا جاتاکالے کی سگریٹ بھی کالیکالے کا گردہ بھی کالاکالے کی کپی بھی کالیکالے کی چسکی بھی کالیکالے کا ہر کش بھی کالاہر ہر کش سے لال بھبھوکاکالے کی آنکھیں بھی کالیآنکھوں سے گرنے والے سب آنسو کالےاور کالی آنکھوں میں دکھنے والیمشکل کی دیوار بھی کالیکالے کی تو جیت بھی کالی ہار بھی کالیکالے کے سب بلب بھی کالےکالے کی سب وائرنگ کالیوائرنگ وہ جو اندر اندرسلگ سلگ کرکالے کی ساری سوچوں کواور خوابوں کوگلا چکی تھیجلا چکی تھیجب وہ چلتا تو لگتا وہ لہراتا ہےچلتے چلتے بل کھاتا ہےگر جاتا ہےکالا کیا تھاکلنگ کا ٹیکہزمیں کا دھبہکالا جس کی آگ میں جل کر راکھ ہوا تھاکالے کے اندر کی آگ تھییا تھی وہ باہر کی آگآگ بھی کالیدھواں بھی کالا راکھ بھی کالیآگ سے اٹھنے والا اک اک شعلہ کالاکالے کی بے بسی بھی کالیکالے کی کھجلی بھی کالیکالے کے سب پھوڑے پھنسی چھالے کالےکالے کو سب کالا کہنے والے کالےاک دن کالی سڑک کنارےبنگالی کے پان کے کیبن کی جالی کو تھامے کالاگھور رہا تھا آتے جاتےرنگ برنگے کرداروں کورکشا موٹر سائیکل اور کاروں کواک لمبی سی کالی گاڑیدھواں اڑاتیچیختی اور چلاتی گزریگہرے کالے بالوں والی گوری بچیایک گلی سے بھاگتی نکلیکالا بھاگااور گوری بچی کو پورے زور سے دھکا دے کرکالی گاڑی کے دھکے کو خود پر جھیلاکالا جاتے جاتے سب سے کیسا کھیلاگوری بچی بچ گئی لیکنکالا اپنی جاں دے بیٹھاپیلے لال گلابی چہرےکالے کی جانب جب لپکےسب نے دیکھاکالے کی آنکھوں میں چیخ رہا تھا ایک سوالکالے کے زخموں سے بہنے والا خون تھا لال
ہم دونوں آدم اور حواپل کے بہشت میں رہتے ہیںاور پھر تم وہی ڈری ڈری سیبسوں پہ چڑھنے والی، عام سی عورتاور میں دھکے کھاتا بوجھ اٹھاتاعام سا مرددونوں شہر کےچیختے دہاڑتے رستوں پرپل بھر رک کرپھر اس پل کا خواب بناتے رہتے ہیں
گھر سے جا کر روز سویرےمکتب آ کر روز سویرےجو نغمے گاتے ہو اکثرگا کر لہراتے ہو اکثرہے تو وہ بھی حمد خدا کیحمد خدائے ارض و سما کیلیکن وہ تعریف بھی کیا ہےصرف زباں پر جس کی صدا ہےمعنی ہیں یہ حمد خدا کےحمد خدائے ارض و سما کےرب کے نام میں ہے جو نیکیوہ ہم میں پیدا ہو نیکینام ہوں رب کے جس سے روشنکام ہوں رب کے جس سے روشنکرتا ہے وہ احساں سب پرکیا عاقل کیا ناداں سب پرہم بھی ڈالیں خوئے احساںہم میں بھی ہو بوئے احساںراجہ یا کنگال ہو کوئیگورا ہو یا لال ہو کوئیاس کی نظر میں سبھی برابراس کے گھر میں سبھی برابرہم بھی برابر جانیں سب کوہم بھی برابر مانیں سب کورعب نہ مانیں دھن دولت کافرق نہ جانیں دھن دولت کامظلوموں کا حامی ہے وہمعصوموں کا حامی ہے وہہم بھی لوگوں کے کام آئیںان کے ہر دکھ کو اپنائیںہندو مسلم سکھ عیسائیامی ابا بہنا بھائییہ تو ہیں سب نام ہمارےدیکھتا ہے وہ کام ہمارےاچھا کام ہے اس کو پیارانیک انجام ہے اس کو پیاراہم بھی سب کا رتبہ مانیںہم بھی سب کو اچھا جانیںجن لوگوں کے کام ہیں اچھےکاموں کے انجام ہیں اچھےبرے بھلے سے واقف ہے وہکھلے ڈھکے سے واقف ہے وہہم بھی اپنا علم بڑھائیںقدرت کے رازوں کو پائیںظالم سے ہے بیر خدا کوپرمیشور کو ان داتا کوبس پھر ہم پر فرض یہی ہےزیبؔ کی تم سے عرض یہی ہےاپنوں پر کیا بیگانوں پررحم کرو سب انسانوں پراچھے انساں بن کے دکھا دوحمد کے معنی سب کو بتا دو
فضائے ظلمت ماضی میں اے مرے ہمدمڈھکے ڈھکے سے مری کامرانیوں کے نشاںاداس اداس نگاہوں کی شمع سے نہ ٹٹولہر اک کے سینہ پہ بار شکست ہے اس وقت
سارے منظر ایک جیسےساری دنیا ایک سیناشپاتی کے درختوں سےکھجوروں کی گھنی شاخوں تلکدنیا اچانک ایک جیسی ہو گئی ہےمصر کے اہرام کی محزوں فضائیںدم بخود ہیں کوفہ و بغداد کے بازار میںکاظمین و مشہد اعراق سے نوحے نکل کرسرحد لبنان تک پہنچے ہوئے ہیںشہر دلی کے اندھیرےظلمت لاہور سے ملنے لگے ہیںشور کابل کا سنائی دیتا ہےبرطانیہ کی محفلوں میںخواہش نیویارک زندہ ہوتی ہےڈھاکے کی پرانی دل ربا گلیوں میںگویا ساری دنیا ایک جیسی ہو گئی ہےسارے منظر ایک سےاجڑی ہوئی آنکھوں میں سارے خوابیادوں کا فسوں امید کے سارے فسردہ آفتابایک ہو سکتے ہیںآؤ ان سے مل ملا کر اک جہان تازہ تر پیدا کریںان لہو کی بوندوں سےرستے سجائیںآنسوؤں کے رتجگوں سے آرزوئے چشم تر پیدا کریں
میں گھاس ہوںہری بھری گھاسپانی ملے تو ہری بھری نہ ملے تو گھاس پھوستھوڑی نرگسیت کی اجازت دیجیےارے جب اگتی ہوں تو کیا جوبن ہوتا ہے مجھ پرنئی نئی گھاس پر سورج کی کرنیں پڑتی ہیں تواندھوں کی آنکھوں میں بھی طراوت اتر آتی ہے جناباور ہائے وہ تازہ تازہ گھاس کی خوشبوپر افسوس جب دیر تک بارش نہ ہو تو پیلی پڑ جاتی ہوںمگر دھوپ پہلے مجھے سونا اور پھر کندن بنا دیتی ہےزمین پر ایستادہ ہزاروں پہاڑیوں پر میرا ہی رنگ چڑھا ہوتا ہےآنکھ رکھنے والے کہتے ہیںسبزے سے ڈھکی پہاڑیاں کتنی بھی حسین ہوںسونے سے ڈھکی پہاڑیوں کی بات ہی الگ ہےلیکن یہ میں کیا بڑ ہانکنے بیٹھ گئیآمدن برسر مطلب میں سانپوں کے بارے میں کچھ کہنا چاہتی ہوںسانپ جو گھاس میں چھپ کردار کرتے ہیںگھاس سے ڈھکے لان باغ اور پارککروڑوں انسانوں کو تسکین دیتے ہیںبچے گھاس پر بھاگتے دوڑتے اچھلتے کودتے اور لوٹ پوٹ ہوتے ہیںجوان مجھ پر چلتے ہوئے محبتوں کا اظہار اور اقرار کرتے ہیںعمر رسیدہ لوگ دور دور تک پھیلے سبزے کو دیکھ کردل کی گھٹن اور احساس زیاں بھول جاتے ہیںمیں خوش ہوتی ہوں کہ کسی کے کام آ ہی ہوںلیکن میری خوشی دکھ اور شرمندگی میں بدل جاتی ہےجب میرے اندر چھپے ہوئے سانپ انسانوں کو ڈس لیتے ہیںسوچتی ہوں ان سانپوں کا کیا علاج کروںسوچتی ہوں ان سانپوں کا کوئی علاج ہے بھی یا نہیںسوچتی ہوں سانپ مجھی میں تو نہیں چھپےوہ تو زمین کے کونے کونے میں موجود ہیںاس کے اندر بھی اس کے باہر بھیسوچتی ہوں جس تیزی سے سانپوں کی تعداد بڑھ رہی ہےکل یہ ساری زمین پر نہ چھا جائیںسوچتی ہوں کوئی سیلاب ہی آ جائے جو انہیں بہا لے جائےپھر خیال آتا ہے یہ بہہ کر جائیں گے کہاںآخر ایک نہ ایک دن پانی اترے گا اور یہ دوبارہ خشکی پر چڑھ آئیں گےاور میرے ہی دامن میں پناہ لے لیں گےسوچتی ہوں خدا نے مجھے بنایا تھا تو انہیں کیوں بنایااور اگر بنایا ہی تھا تو ان کے اندر زہر کیوں بھر دیاکیوں ہو گئے یہ انسان کے دشمنمگر سارے سانپ تو زہریلے نہیں ہوتےاور کیا انسانوں کے اندر بھی زہر نہیں بھرتا جا رہا ہے ابسوچتی ہوں انسان سانپ سے ڈرتا ہے توسانپ بھی انسان سے ڈرتا ہےانسان نے سانپ میں شیطان کی شکل دیکھی تھیجس نے اسے جنت سے نکلوا دیا تھاانسان کے اندر شیطان سے برابر اترنے کی طلب رکھ دی گئی ہےجہاں کہیں سانپ کو دیکھتا ہے اسے مارنے کی کوشش کرتا ہےسانپ کو بھی انسان کے اس ازلی و ابدی ارادے کی خبر ہےاسی لیے تو انسان کی آہٹ یا بو پاتے ہی بھاگ کھڑا ہوتا ہےخرابی تو میری وجہ سے ہوتی ہےگھاس میں چھپا سانپ انسان کو دیکھ کر بھاگتا ہےلیکن انسان اسے دیکھ نہیں پاتا اور نا دانستہ اس کا پاؤں سانپ پر پڑ جاتا ہےاور سانپ اپنی جان بچانے کے لیے اسے ڈس لیتا ہےیوں میں ذریعہ بن جاتی ہوں انسان کی موت کامجھے اپنا یہ کردار ہرگز پسند نہیںسوچتی ہوں انسانوں اور سانپوں نے آپس میں لڑنا ہی ہے تومیری آڑ میں نہ لڑیںسڑکوں پر لڑیں گھروں کے اندر لڑیںچٹیل میدانوں میں لڑیں صحراؤں میں لڑیںپھر خیال آتا ہے ان جگہوں پر تو پہلے ہی گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہےانسان انسان سے لڑ رہا ہےاور اس نے طرح طرح کےمہلک کیمیائی جوہری اور نفسیاتی ہتھیار ایجاد کر لیے ہیںایک دوسرے کو دکھ دینے اور مارنے کے لیے
جب لفظ چلنا چاہتے ہیںچلتے ہیں اور دوسرے لفظوں کےپیچھے چلنا شروع کر دیتے ہیںایک کے پیچھے ایکلفظ چلتے رہتے ہیںلفظ ایک دوسرے کے پیچھےپاگلوں کی طرح نہیں دوڑتےلفظ آہستہ آہستہ چلتے ہیںاپنے چلنے کے دوران لفظایک دوسرے پر مٹی نہیں اچھالتےایک دوسرے پر پانی نہیں پھینکتےلفظ دوسرے لفظوں کو کیچڑ میں نہیں گراتےلفظدوسرے چھوٹے چھوٹے لفظوں کودھکے نہیں دیتےآگے جانے والے لفظپیچھے آنے والے لفظوں کاراستہ نہیں روکتےخالی ہاتھلفظ چلتے چلے جاتے ہیںان کے پاس اخروٹ کی لکڑی سے بنیلوہے کے دستے والی کوئی چھڑی نہیں ہوتینہ ہی کوئی بندوقلفظ لفظوں کوبہت زیادہ ڈراتے نہیںلفظ دوسرے لفظوں کو سہارا دیتے ہیںزندہ رکھتے ہیںلفظ کسی لفظ کوآدمی کی طرحاندھیرے میں لے جا کراس کا گلا نہیں گھونٹتےوہ ایک دوسرے کو روشنی میں رکھ کرہمیشہ اپنی اپنی آواز بلند کرتے ہوئےآگے بڑھتے رہتے ہیںچلتے رہی رہتے ہیں
درپیش اچانک جو ہوئی ایک ضرورتواہیؔ سے ہوئی ریل پہ چڑھنے کی حماقتآ دھمکی ذرا وقت سے پہلے ہی وہ گاڑیواہیؔ نے گھڑی دیکھی تو لاحق ہوئی حیرتحیرت تھی کہ تعجیل کی کیا وجہ ہے آخرتاخیر تو ہے ریل کی دیرینہ روایتالقصہ ٹکٹ منزل مقصود کا لے کراسباب لئے دوڑ کے پہنچا وہ بہ عجلتآگے سے بھی پیچھے سے بھی کھاتا ہوا دھکےداخل ہوا اک چھوٹے سے ڈبے میں بہ دقتڈبہ تھا کہ اک گنج شہیداں کا نمونہتھوڑی سی جگہ تنگ تر از گوشۂ تربتتربت میں مگر پاؤں تو پھیلاتے ہیں مردےزندوں کو نہیں ریل میں اس کی بھی سہولتاسباب پہ بیٹھا تھا کوئی ٹانگ اڑائےکھڑکی پہ کھڑا تھا کوئی دیوار کی صورتاس بھیڑ میں گنجائش الفاظ کہاں تھیالفاظ بھی ہونٹوں سے نکلتے تھے بہ دقتتھا دم بخود اک گوشے میں سمٹا ہوا واہیؔکم بخت کو تھی سانس کے لینے کی ضرورتاور سانس کے لینے کا نہ تھا کوئی بھی امکاںتھی بند ہوا آکسیجن کی تھی یہ قلتتھے ایک بزرگ اس کے مقابل میں جو بیٹھےدیکھی نہ گئی ان سے جو واہیؔ کی یہ حالتفرمانے لگے آپ کہاں جاؤ گے بھیابرداشت بھی کر پاؤ گے رستے کی صعوبتیہ ریل نہیں حضرت سوداؔ کی ہے گھوڑیدور زمیں طے کرتی ہے اک دن کی مسافتکل اس کو پہنچنا تھا جہاں آج ہے پہنچیچوبیس پہر لیٹ ہے اللہ رے سرعتمیں اپنی تباہی کا بیاں کیا کروں بھیاپٹنہ میں تھی کل میرے مقدمے کی سماعتپٹنہ ہے مگر آج بھی دلی کی طرح دورروتی ہے مری شامت اعمال کو قسمتیہ سنتے ہی کان اس کے کھڑے ہو گئے فوراًکی عرض کہ یہ آپ نے کیا کہہ دیا حضرتمیں نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہے وقت پہ آئیچوبیس پہر لیٹ قیامت ہے قیامتبولے وہ بزرگ آپ بڑے سادہ ہیں بھیاہم لوگ کسی کام میں کرتے نہیں عجلتمعلوم نہیں آپ کو یہ نکتۂ تاریخجو قوم کی خصلت ہے نہ ہی ریل کی خصلتوہ ریل کی رفتار ہو یا وقت کی رفتاراس ملک میں دونوں کو تساہل کی ہے عادتپابندئ اوقات میں ہے شان غلامیآزاد ہوا ہند تو کیا اس کی ضرورت
میں نے دجلہ و فرات کے مشرق میںایک قدیم اور روشن پیڑ کے نیچےسجدوں کا خراج وصول کیااور پھل دار درختوں سے ڈھکےباغ میں مقیم ہواجسے میرے اور اس عورت کے لیےآراستہ کیا گیا تھاجس کی جنم بھومیمیری دائیں پسلی تھی
اکثر سوچتی ہوںوہ''میں'' کے وجود کی کھوکھلاہٹ تھیجس میں''تو'' کی آواز گونجتی تھیمیں اور توگم گشتہ ذاتپربات ''میں'' اور ''تو'' کی کہاںمیری اور تیری ہےمیںجو میری کچھ نہیں لگتیاکثر سوچتی ہوںشایدتمہارا ''تو'' بھیتمہارا نہ تھانہ جانے کتنے سجدوں کی تابانیچوکھٹ چوکھٹبانٹ چکا تھااور خاموشی کی چادرڈھکےمجھ کوتک رہا تھامیں اکثر سوچتی ہوںتو وہ نہ تھاجسے میں نے سوچا تھاتو نے یا پھر شاید تقدیر نےتجھے سر تا پا ڈھک رکھا تھا
اے مرے خوابہنر خیز روایت کے امیںانکشافات کی دریوزہ گری چھوڑ بھی دےگرد ہنگام میں ترتیب سے رکھآنکھ کی خستہ فصیلوں سے گرے خشت مزاجان چنے زرد گلوں سے ڈھکے کچھ سوختہ پلسمت کا کوئی تعین تو نظر میں ٹھہرے
سلطنت کے زنگ خوردہ آہنی محبس میں اک خلقت چھپی ہےبیڑیوں اور بیڑیوں سے ایڑیوں پر پڑنے والے زخم کی عادییہ اک بیمار خلقتآہنی کنٹوپ سے سر کو ڈھکےمحبس کی دیواروں پہ اپنے ناخنوں سےآڑی ٹیڑھی ترچھی لکیریں کھرچتیشاہ کی توصیف میں غلطاںرضا رغبت سے شد و مد سے مصروف عمل ہےاور اگر تازہ ہوا کا کوئی جھونکاجب کبھی محبس میں در آئےتو یہ خلقت بلکتی سرسراتی سی مری آواز میںسرگوشیوں میںمخبری کرتی ہے ان تازہ ہواؤں کیپس زنداں سپاہیزنگ خوردہ آہنی محبس کی دیواروں سےاپنے کان جوڑے مخبری کے منتظرتازہ ہوا کے نرم جھونکے کی گرفتاری رقم کرنے کو بس تیار بیٹھے ہیں
سارا منظر پانی میں ڈوبا ہواایک چھوٹی سی نہر بن گیا ہےسب لوگ کہرے سے ڈھکےاور دھوپ کے بستر سے بندھےمنتظر ہیںکہ کوئی آواز اوپر سے اترےاور انہیں ثبت کر دےایک ایسی سمت کے منظر میںکہ اگر وہ اپنے گھروں کو ڈوبتے دیکھیںتو دیر تک ہنستے رہیںرو بھی سکیںلیکن سکون کی پد چاپیںاپنے عصا میں ساری سمتوں کو پروئےدھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھ رہی ہیںگھر پانی سے ابھی تلک بھرا ہوا ہے
ابھی ابھی کوئی بوسیدہ شہر گزرے گاٹرینکالے اندھیرے کی شاخ سے لپٹیپرانی بجھتی ہوئی لالٹین دیکھے گیتمام چہرہ حویلی ہےہاتھ اور پاؤںڈھکے ہوئے ہیں لبادوں سےکوئی ہنستا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books