آنسوؤں کے رتجگوں سے

عین تابش

آنسوؤں کے رتجگوں سے

عین تابش

MORE BYعین تابش

    سارے منظر ایک جیسے

    ساری دنیا ایک سی

    ناشپاتی کے درختوں سے

    کھجوروں کی گھنی شاخوں تلک

    دنیا اچانک ایک جیسی ہو گئی ہے

    مصر کے اہرام کی محزوں فضائیں

    دم بخود ہیں کوفہ و بغداد کے بازار میں

    کاظمین و مشہد اعراق سے نوحے نکل کر

    سرحد لبنان تک پہنچے ہوئے ہیں

    شہر دلی کے اندھیرے

    ظلمت لاہور سے ملنے لگے ہیں

    شور کابل کا سنائی دیتا ہے

    برطانیہ کی محفلوں میں

    خواہش نیویارک زندہ ہوتی ہے

    ڈھاکے کی پرانی دل ربا گلیوں میں

    گویا ساری دنیا ایک جیسی ہو گئی ہے

    سارے منظر ایک سے

    اجڑی ہوئی آنکھوں میں سارے خواب

    یادوں کا فسوں امید کے سارے فسردہ آفتاب

    ایک ہو سکتے ہیں

    آؤ ان سے مل ملا کر اک جہان تازہ تر پیدا کریں

    ان لہو کی بوندوں سے

    رستے سجائیں

    آنسوؤں کے رتجگوں سے آرزوئے چشم تر پیدا کریں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عین تابش

    عین تابش

    RECITATIONS

    عین تابش

    عین تابش

    عین تابش

    آنسوؤں کے رتجگوں سے عین تابش

    مأخذ :
    • کتاب : dasht ajab hairanii ka shayar (Pg. 10)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY