aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "KHauf-e-sharar"
میرے لہو کی بوند میں غلطاں تھیں بجلیاںخاک دکن کو میں نے شرر آشنا کیا
وہ کشت دل کہ جسے آنسوؤں نے سینچا تھاحریف چشمک و برق و شرار ہے اب بھی
برق بے تاب کو خبر نہ ہوئیکہ ہے عمر دم شرر کتنی
کوئی صورت نہیں آرام نشیمن کی نصیبکامراں سلسلۂ برق و شرر ہے اے دوست
شعلۂ برق و شرر پھول بنا کس کے لئےبیچ آیا ہے کوئی اس کی گلی میں ایماں
لے کے نام اللہ کا طوفاں میں کشتی ڈال دےخوف بے پایانیٔ دریائے موج افزا نہ کر
خوف مجبوری و ناکامی و رسوائی سےعشق ہے لرزہ بر اندام کہاں ہے آ جا
یاں جنس تغیر سستی ہےیاں خوف بلند و پستی ہے
طلسم سایۂ خوف و ہراس توڑیں گےقدم بڑھائیں گے زنجیر یاس توڑیں گے
آہن و سنگ و شرر برسائیںآؤ اشجار کی بنیادوں پر
اپنی سرحد پہ جو اغیار چلے آتے ہیںشعلہ افشاں و شرر بار چلے آتے ہیں
آہ ناپائیدار تھے کتنےجیسے ظلمت میں ہوں نمود شرار
قفس میں قطاروں کی لمبی فصیلیںفصیلوں کے خوف جنوں خیز میں اب
گھورے گا چلائے گاخوف خود فراموشی سے تم ڈرتے تھے لیکن اب
خاموش نگاہوں میں امنڈتے ہوئے جذباتجذبات میں طوفان شرر دیکھ رہا ہوں
بوٹے بوٹے پہ اب کوئی بھونرا نہیںبوٹے بوٹے پہ رقص شرر عام ہے
کریں گے رقص یہ مثل شرر ہواؤں میںلگے گی آگ اٹھے گا دھواں خلاؤں میں
کھڑا ہے کون یہ پیراہن شرر پہنےبدن ہے چور تو ماتھے سے خون جاری ہے
سر بہ آسماں جن کی چوٹیاں چمکتی ہیںچشمک شرر بن کر
خوف خزاں سےشاخ نہالاں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books