aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aaftaab"
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
سلسلۂ روز و شب نقش گر حادثاتسلسلۂ روز و شب اصل حیات و مماتسلسلۂ روز و شب تار حریر دو رنگجس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفاتسلسلۂ روز و شب ساز ازل کی فغاںجس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکناتتجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہسلسلۂ روز و شب صیرفی کائناتتو ہو اگر کم عیار میں ہوں اگر کم عیارموت ہے تیری برات موت ہے میری براتتیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیاایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ راتآنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنرکار جہاں بے ثبات کار جہاں بے ثباتاول و آخر فنا باطن و ظاہر فنانقش کہن ہو کہ نو منزل آخر فناہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوامجس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے تماممرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغعشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرامتند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی روعشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھامعشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نامعشق دم جبرئیل عشق دل مصطفیعشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلامعشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناکعشق ہے صہبائے خام عشق ہے کاس الکرامعشق فقیہہ حرام عشق امیر جنودعشق ہے ابن السبیل اس کے ہزاروں مقامعشق کے مضراب سے نغمۂ تار حیاتعشق سے نور حیات عشق سے نار حیاتاے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجودعشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بودرنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صوتمعجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمودقطرۂ خون جگر سل کو بناتا ہے دلخون جگر سے صدا سوز و سرور و سرودتیری فضا دل فروز میری نوا سینہ سوزتجھ سے دلوں کا حضور مجھ سے دلوں کی کشودعرش معلی سے کم سینۂ آدم نہیںگرچہ کف خاک کی حد ہے سپہر کبودپیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیااس کو میسر نہیں سوز و گداز سجودکافر ہندی ہوں میں دیکھ مرا ذوق و شوقدل میں صلوٰۃ و درود لب پہ صلوٰۃ و درودشوق مری لے میں ہے شوق مری نے میں ہےنغمۂ اللہ ہو میرے رگ و پے میں ہےتیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیلوہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیلتیری بنا پائیدار تیرے ستوں بے شمارشام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیلتیرے در و بام پر وادی ایمن کا نورتیرا منار بلند جلوہ گہ جبرئیلمٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلماں کہ ہےاس کی اذانوں سے فاش سر کلیم و خلیلاس کی زمیں بے حدود اس کا افق بے ثغوراس کے سمندر کی موج دجلہ و دنیوب و نیلاس کے زمانے عجیب اس کے فسانے غریبعہد کہن کو دیا اس نے پیام رحیلساقی ارباب ذوق فارس میدان شوقبادہ ہے اس کا رحیق تیغ ہے اس کی اصیلمرد سپاہی ہے وہ اس کی زرہ لا الہسایۂ شمشیر میں اس کی پنہ لا الہتجھ سے ہوا آشکار بندۂ مومن کا رازاس کے دنوں کی تپش اس کی شبوں کا گدازاس کا مقام بلند اس کا خیال عظیماس کا سرور اس کا شوق اس کا نیاز اس کا نازہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھغالب و کار آفریں کار کشا کارسازخاکی و نوری نہاد بندۂ مولا صفاتہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیازاس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دل فریب اس کی نگہ دل نوازآج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزالاور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیںبوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہےرنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہےدیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں آسماںآہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاںکون سی وادی میں ہے کون سی منزل میں ہےعشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاںدیکھ چکا المنی شورش اصلاح دیںجس نے نہ چھوڑے کہیں نقش کہن کے نشاںحرف غلط بن گئی عصمت پیر کنشتاور ہوئی فکر کی کشتئ نازک رواںچشم فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلابجس سے دگر گوں ہوا مغربیوں کا جہاںملت رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیرلذت تجدیدہ سے وہ بھی ہوئی پھر جواںروح مسلماں میں ہے آج وہی اضطرابراز خدائی ہے یہ کہہ نہیں سکتی زباںنرم دم گفتگو گرم دم جستجورزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک بازنقطۂ پرکار حق مرد خدا کا یقیںاور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجازعقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمئ محفل ہے وہکعبۂ ارباب فن سطوت دین مبیںتجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیںہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری نظیرقلب مسلماں میں ہے اور نہیں ہے کہیںآہ وہ مردان حق وہ عربی شہسوارحامل خلق عظیم صاحب صدق و یقیںجن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریبسلطنت اہل دل فقر ہے شاہی نہیںجن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غربظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیںجن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسیخوش دل و گرم اختلاط سادہ و روشن جبیںدیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیاگنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیاوادی کہسار میں غرق شفق ہے سحابلعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتابسادہ و پرسوز ہے دختر دہقاں کا گیتکشتئ دل کے لیے سیل ہے عہد شبابآب روان کبیر تیرے کنارے کوئیدیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خوابعالم نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میںمیری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجابپردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سےلا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تابجس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگیروح امم کی حیات کشمکش انقلابصورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قومکرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حسابنقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیرنغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر
کیوں تعجب ہے مری صحرا نوردی پر تجھےیہ تگا پوئے دمادم زندگی کی ہے دلیلاے رہين خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہیںگونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگ رحیلریت کے ٹیلے پہ وہ آہو کا بے پروا خراموہ حضر بے برگ و ساماں وہ سفر بے سنگ و ميلوہ نمود اختر سیماب پا ہنگام صبحیا نمایاں بام گردوں سے جبین جبرئيلوہ سکوت شام صحرا میں غروب آفتابجس سے روشن تر ہوئی چشم جہاں بين خليلاور وہ پانی کے چشمے پر مقام کارواںاہل ایماں جس طرح جنت میں گرد سلسبيلتازہ ویرانے کی سودائے محبت کو تلاشاور آبادی میں تو زنجيري کشت و نخيلپختہ تر ہے گردش پیہم سے جام زندگیہے یہی اے بے خبر راز دوام زندگی
یہ تلخ تلخ راحتیں، جراحتیں لیے ہوئےیہ خونچکاں لطافتیں کثافتیں لیے ہوئےیہ تار تار پیرہن عروسۂ بہار کایہ خندہ زن صداقتیں قیامتیں لیے ہوئےزمین کی تہوں میں آفتاب ڈھونڈھتا ہوں میںجنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میںکہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماںچشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں!حسن ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجوددل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں!سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب!کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!گرد سے پاک ہے ہوا برگ نخیل دھل گئےریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاںآگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھرکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواںآئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہیاہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہیکس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیاتکہنہ ہے بزم کائنات تازہ ہیں میرے واردات!کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میںبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات!ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میںنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلاتقافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات!صدق خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق!معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق!آیۂ کائنات کا معنئ دیر یاب تو!نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو!جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوقجلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کدو!میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو!باد صبا کی موج سے نشو و نمائے خار و خس!میرے نفس کی موج سے نشو و نمائے آرزو!خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورشہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو!فرصت کشمکش میں ایں دل بے قرار رایک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تابدار رالوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب!گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب!شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا اماممیرا قیام بھی حجاب !میرا سجود بھی حجاب!تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب!تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے!طبع زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے!تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شبمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم تخیل بے رطب!تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا!عشق تمام مصطفی! عقل تمام بو لہب!گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب!عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھاگرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے ادب!گرمئ آرزو فراق! شورش ہائے و ہو فراق!موج کی جستجو فراق! قطرہ کی آبرو فراق!
ذرہ ذرہ دہر کا زندانیٔ تقدیر ہےپردۂ مجبوری و بے چارگی تدبیر ہےآسماں مجبور ہے شمس و قمر مجبور ہیںانجم سیماب پا رفتار پر مجبور ہیںہے شکست انجام غنچے کا سبو گلزار میںسبزہ و گل بھی ہیں مجبور نمو گلزار میںنغمۂ بلبل ہو یا آواز خاموش ضمیرہے اسی زنجیر عالمگیر میں ہر شے اسیرآنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سر مجبوری عیاںخشک ہو جاتا ہے دل میں اشک کا سیل رواںقلب انسانی میں رقص عیش و غم رہتا نہیںنغمہ رہ جاتا ہے لطف زیر و بم رہتا نہیںعلم و حکمت رہزن سامان اشک و آہ ہےیعنی اک الماس کا ٹکڑا دل آگاہ ہےگرچہ میرے باغ میں شبنم کی شادابی نہیںآنکھ میری مایہ دار اشک عنابی نہیںجانتا ہوں آہ میں آلام انسانی کا رازہے نوائے شکوہ سے خالی مری فطرت کا سازمیرے لب پر قصۂ نیرنگی دوراں نہیںدل مرا حیراں نہیں خندہ نہیں گریاں نہیںپر تری تصویر قاصد گریۂ پیہم کی ہےآہ یہ تردید میری حکمت محکم کی ہےگریۂ سرشار سے بنیاد جاں پایندہ ہےدرد کے عرفاں سے عقل سنگدل شرمندہ ہےموج دود آہ سے آئینہ ہے روشن مراگنج آب آورد سے معمور ہے دامن مراحیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز کارخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کارفتہ و حاضر کو گویا پا بہ پا اس نے کیاعہد طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کیاجب ترے دامن میں پلتی تھی وہ جان ناتواںبات سے اچھی طرح محرم نہ تھی جس کی زباںاور اب چرچے ہیں جس کی شوخئ گفتار کےبے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہر بار کےعلم کی سنجیدہ گفتاری بڑھاپے کا شعوردنیوی اعزاز کی شوکت جوانی کا غرورزندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہمصحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہمبے تکلف خندہ زن ہیں فکر سے آزاد ہیںپھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیںکس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظارکون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرارخاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گااب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گاتربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہواگھر مرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوادفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیاتتھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیاتعمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہیمیں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسیوہ جواں قامت میں ہے جو صورت سرو بلندتیری خدمت سے ہوا جو مجھ سے بڑھ کر بہرہ مندکاروبار زندگانی میں وہ ہم پہلو مراوہ محبت میں تری تصویر وہ بازو مراتجھ کو مثل طفلک بے دست و پا روتا ہے وہصبر سے نا آشنا صبح و مسا روتا ہے وہتخم جس کا تو ہماری کشت جاں میں بو گئیشرکت غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئیآہ یہ دنیا یہ ماتم خانۂ برنا و پیرآدمی ہے کس طلسم دوش و فردا میں اسیرکتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موتگلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موتزلزلے ہیں بجلیاں ہیں قحط ہیں آلام ہیںکیسی کیسی دختران مادر ایام ہیںکلبۂ افلاس میں دولت کے کاشانے میں موتدشت و در میں شہر میں گلشن میں ویرانے میں موتموت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میںڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میںنے مجال شکوہ ہے نے طاقت گفتار ہےزندگانی کیا ہے اک طوق گلو افشار ہےقافلے میں غیر فریاد درا کچھ بھی نہیںاک متاع دیدۂ تر کے سوا کچھ بھی نہیںختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھیہیں پس نہ پردۂ گردوں ابھی دور اور بھیسینہ چاک اس گلستاں میں لالہ و گل ہیں تو کیانالہ و فریاد پر مجبور بلبل ہیں تو کیاجھاڑیاں جن کے قفس میں قید ہے آہ خزاںسبز کر دے گی انہیں باد بہار جاوداںخفتہ خاک پے سپر میں ہے شرار اپنا تو کیاعارضی محمل ہے یہ مشت غبار اپنا تو کیازندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیںٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیںزندگی محبوب ایسی دیدۂ قدرت میں ہےذوق حفظ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہےموت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقش حیاتعام یوں اس کو نہ کر دیتا نظام کائناتہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیںجس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیںآہ غافل موت کا راز نہاں کچھ اور ہےنقش کی ناپائیداری سے عیاں کچھ اور ہےجنت نظارہ ہے نقش ہوا بالائے آبموج مضطر توڑ کر تعمیر کرتی ہے حبابموج کے دامن میں پھر اس کو چھپا دیتی ہے یہکتنی بے دردی سے نقش اپنا مٹا دیتی ہے یہپھر نہ کر سکتی حباب اپنا اگر پیدا ہواتوڑنے میں اس کے یوں ہوتی نہ بے پروا ہوااس روش کا کیا اثر ہے ہیئت تعمیر پریہ تو حجت ہے ہوا کی قوت تعمیر پرفطرت ہستی شہید آرزو رہتی نہ ہوخوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہوآہ سیماب پریشاں انجم گردوں فروزشوخ یہ چنگاریاں ممنون شب ہے جن کا سوزعقل جس سے سر بہ زانو ہے وہ مدت ان کی ہےسر گزشت نوع انساں ایک ساعت ان کی ہےپھر یہ انساں آں سوئے افلاک ہے جس کی نظرقدسیوں سے بھی مقاصد میں ہے جو پاکیزہ ترجو مثال شمع روشن محفل قدرت میں ہےآسماں اک نقطہ جس کی وسعت فطرت میں ہےجس کی نادانی صداقت کے لیے بیتاب ہےجس کا ناخن ساز ہستی کے لیے مضراب ہےشعلہ یہ کم تر ہے گردوں کے شراروں سے بھی کیاکم بہا ہے آفتاب اپنا ستاروں سے بھی کیاتخم گل کی آنکھ زیر خاک بھی بے خواب ہےکس قدر نشوونما کے واسطے بیتاب ہےزندگی کا شعلہ اس دانے میں جو مستور ہےخود نمائی خود فزائی کے لیے مجبور ہےسردی مرقد سے بھی افسردہ ہو سکتا نہیںخاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیںپھول بن کر اپنی تربت سے نکل آتا ہے یہموت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہہے لحد اس قوت آشفتہ کی شیرازہ بندڈالتی ہے گردن گردوں میں جو اپنی کمندموت تجدید مذاق زندگی کا نام ہےخواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہےخوگر پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیںموت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیںکہتے ہیں اہل جہاں درد اجل ہے لا دوازخم فرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفادل مگر غم مرنے والوں کا جہاں آباد ہےحلقۂ زنجیر صبح و شام سے آزاد ہےوقت کے افسوں سے تھمتا نالۂ ماتم نہیںوقت زخم تیغ فرقت کا کوئی مرہم نہیںسر پہ آ جاتی ہے جب کوئی مصیبت ناگہاںاشک پیہم دیدۂ انساں سے ہوتے ہیں رواںربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سےخون دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سےآدمی تاب شکیبائی سے گو محروم ہےاس کی فطرت میں یہ اک احساس نامعلوم ہےجوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیںآنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیںرخت ہستی خاک غم کی شعلہ افشانی سے ہےسرد یہ آگ اس لطیف احساس کے پانی سے ہےآہ یہ ضبط فغاں غفلت کی خاموشی نہیںآگہی ہے یہ دلاسائی فراموشی نہیںپردۂ مشرق سے جس دم جلوہ گر ہوتی ہے صبحداغ شب کا دامن آفاق سے دھوتی ہے صبحلالۂ افسردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہبے زباں طائر کو سرمست نوا کرتی ہے یہسینۂ بلبل کے زنداں سے سرود آزاد ہےسیکڑوں نغموں سے باد صبح دم آباد ہےخفتہ گان لالہ زار و کوہسار و رود بارہوتے ہیں آخر عروس زندگی سے ہمکناریہ اگر آئین ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبحمرقد انساں کی شب کا کیوں نہ ہو انجام صبحدام سیمین تخیل ہے مرا آفاق گیرکر لیا ہے جس سے تیری یاد کو میں نے اسیریاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہےجیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہےوہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیاتجلوہ گاہیں اس کی ہیں لاکھوں جہان بے ثباتمختلف ہر منزل ہستی کو رسم و راہ ہےآخرت بھی زندگی کی ایک جولاں گاہ ہےہے وہاں بے حاصلی کشت اجل کے واسطےسازگار آب و ہوا تخم عمل کے واسطےنور فطرت ظلمت پیکر کا زندانی نہیںتنگ ایسا حلقۂ افکار انسانی نہیںزندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ ترخوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفرمثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترانور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تراآسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرےسبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
اٹھو ہند کے باغبانو اٹھواٹھو انقلابی جوانو اٹھوکسانوں اٹھو کامگارو اٹھونئی زندگی کے شرارو اٹھواٹھو کھیلتے اپنی زنجیر سےاٹھو خاک بنگال و کشمیر سےاٹھو وادی و دشت و کہسار سےاٹھو سندھ و پنجاب و ملبار سےاٹھو مالوے اور میوات سےمہاراشٹر اور گجرات سےاودھ کے چمن سے چہکتے اٹھوگلوں کی طرح سے مہکتے اٹھواٹھو کھل گیا پرچم انقلابنکلتا ہے جس طرح سے آفتاباٹھو جیسے دریا میں اٹھتی ہے موجاٹھو جیسے آندھی کی بڑھتی ہے فوجاٹھو برق کی طرح ہنستے ہوئےکڑکتے گرجتے برستے ہوئےغلامی کی زنجیر کو توڑ دوزمانے کی رفتار کو موڑ دو
جھٹپٹے کا نرم رو دریا شفق کا اضطرابکھیتیاں میدان خاموشی غروب آفتاب
اے شمع جوشؔ و مشعل ایوان آرزواے مہر ناز و ماہ شبستان آرزواے جان درد مندی و ایمان آرزواے شمع طور و یوسف کنعان آرزوذرے کو آفتاب تو کانٹے کو پھول کراے روح شعر سجدۂ شاعر قبول کر
مگر میں آج بہت دور جانے والا ہوںبس اور چند نفس کو تمہارے پاس ہوں میںتمہیں جو پا کے خوشی ہے تم اس خوشی پہ نہ جاؤتمہیں یہ علم نہیں کس قدر اداس ہوں میںکیا تم کو خبر اس دنیا کی کیا تم کو پتہ اس دنیا کامعصوم دلوں کو دکھ دینا شیوہ ہے اس دنیا کاغم اپنا نہیں غم اس کا ہے کل جانے تمہارا کیا ہوگاپروان چڑھو گی تم کیسے جینے کا سہارا کیا ہوگاآؤ کہ ترستی بانہوں میں اک بار تو تم کو بھر لوں میںکل تم جو بڑی ہو جاؤ گی جب تم کو شعور آ جائے گاکتنے ہی سوالوں کا دھارا احساس سے ٹکرا جائے گاسوچو گی کہ دنیا طبقوں میں تقسیم ہے کیوں یہ پھیر ہے کیاانسان کا انساں بیری ہے یہ ظلم ہے کیا اندھیر ہے کیایہ نسل ہے کیا یہ ذات ہے کیا یہ نفرت کی تعلیم ہے کیوںدولت تو بہت ہے ملکوں میں دولت کی مگر تقسیم ہے کیوںتاریخ بتائے گی تم کو انساں سے کہاں پر بھول ہوئیسرمائے کے ہاتھوں لوگوں کی کس طرح محبت دھول ہوئیصدیوں سے برابر محنت کش حالات سے لڑتے آئے ہیںچھائی ہے جو اب تک دھرتی پر اس رات سے لڑتے آئے ہیںدنیا سے ابھی تک مٹ نہ سکا پر راج اجارہ داری کاغربت ہے وہی افلاس وہی رونا ہے وہی بیکاری کامحنت کی ابھی تک قدر نہیں محنت کا ابھی تک مول نہیںڈھونڈے نہیں ملتیں وہ آنکھیں جو آنکھیں ہو کشکول نہیںسوچا تھا کہ کل اس دھرتی پر اک رنگ نیا چھا جائے گاانسان ہزار برسوں کی محنت کا ثمر پا جائے گاجینے کا برابر حق سب کو جب ملتا وہ پل آ نہ سکاجس کل کی خاطر جیتے جی مرتے رہے وہ کل آ نہ سکالیکن یہ لڑائی ختم نہیں یہ جنگ نہ ہوگی بند کبھیسو زخم بھی کھا کر میداں سے ہٹتے نہیں جرأت مند کبھی
(۳)نئے زمانے میں اگر اداس خود کو پاؤں گایہ شام یاد کر کے اپنے غم کو بھول جاؤں گاعیادت حبیب سے وہ آج زندگی ملیخوشی بھی چونک چوک اٹھی غم کی آنکھ کھل گئیاگرچہ ڈاکٹر نے مجھ کو موت سے بچا لیاپر اس کے بعد اس نگاہ نے مجھے جلا لیانگاہ یار تجھ سے اپنی منزلیں میں پاؤں گاتجھے جو بھول جاؤں گا تو راہ بھول جاؤں گا(۴)قریب تر میں ہو چلا ہوں دکھ کی کائنات سےمیں اجنبی نہیں رہا حیات سے ممات سےوہ دکھ سہے کہ مجھ پہ کھل گیا ہے درد کائناتہے اپنے آنسوؤں سے مجھ پہ آئینہ غم حیاتیہ بے قصور جان دار درد جھیلتے ہوئےیہ خاک و خوں کے پتلے اپنی جاں پہ کھیلتے ہوئےوہ زیست کی کراہ جس سے بے قرار ہے فضاوہ زندگی کی آہ جس سے کانپ اٹھتی ہے فضاکفن ہے آنسوؤں کا دکھ کی ماری کائنات پرحیات کیا انہیں حقیقتوں سے ہونا بے خبرجو آنکھ جاگتی رہی ہے آدمی کی موت پروہ ابر رنگ رنگ کو بھی دیکھتی ہے سادہ ترسکھا گیا دکھ مرا پرانی پیر جاننانگاہ یار تھی جہاں بھی آج میری رہنمایہی نہیں کہ مجھ کو آج زندگی نئی ملیحقیقت حیات مجھ پہ سو طرح سے کھل گئیگواہ ہے یہ شام اور نگاہ یار ہے گواہخیال موت کو میں اپنے دل میں اب نہ دوں گا راہجیوں گا ہاں جیوں گا اے نگاہ آشنائے یارسدا سہاگ زندگی ہے اور جہاں سدا بہار(۵)ابھی تو کتنے ناشنیدہ نغمۂ حیات ہیںابھی نہاں دلوں سے کتنے راز کائنات ہیںابھی تو زندگی کے نا چشیدہ رس ہیں سیکڑوںابھی تو ہاتھ میں ہم اہل غم کے جس ہیں سیکڑوںابھی وہ لے رہی ہیں میری شاعری میں کروٹیںابھی چمکنے والی ہے چھپی ہوئی حقیقتیںابھی تو بحر و بر پہ سو رہی ہیں میری وہ صدائیںسمیٹ لوں انہیں تو پھر وہ کائنات کو جگائیںابھی تو روح بن کے ذرے ذرے میں سماؤں گاابھی تو صبح بن کے میں افق پہ تھرتھراؤں گاابھی تو میری شاعری حقیقتیں لٹائے گیابھی مری صدائے درد اک جہاں پہ چھائے گیابھی تو آدمی اسیر دام ہے غلام ہےابھی تو زندگی صد انقلاب کا پیام ہےابھی تمام زخم و داغ ہے تمدن جہاںابھی رخ بشر پہ ہیں بہمیت کی جھائیاںابھی مشیتوں پہ فتح پا نہیں سکا بشرابھی مقدروں کو بس میں لا نہیں سکا بشرابھی تو اس دکھی جہاں میں موت ہی کا دور ہےابھی تو جس کو زندگی کہیں وہ چیز اور ہےابھی تو خون تھوکتی ہے زندگی بہار میںابھی تو رونے کی صدا ہے نغمۂ ستار میںابھی تو اڑتی ہیں رخ بہار پر ہوائیاںابھی تو دیدنی ہیں ہر چمن کی بے فضائیاںابھی فضائے دہر لے گی کروٹوں پہ کروٹیںابھی تو سوتی ہیں ہواؤں کی وہ سنسناہٹیںکہ جس کو سنتے ہی حکومتوں کے رنگ رخ اڑیںچپیٹیں جن کی سرکشوں کی گردنیں مروڑ دیںابھی تو سینۂ بشر میں سوتے ہیں وہ زلزلےکہ جن کے جاگتے ہی موت کا بھی دل دہل اٹھےابھی تو بطن غیب میں ہے اس سوال کا جوابخدائے خیر و شر بھی لا نہیں سکا تھا جس کی تابابھی تو گود میں ہیں دیوتاؤں کی وہ ماہ و سالجو دیں گے بڑھ کے برق طور سے حیات کو جلالابھی رگ جہاں میں زندگی مچلنے والی ہےابھی حیات کی نئی شراب ڈھلنے والی ہےابھی چھری ستم کی ڈوب کر اچھلنے والی ہےابھی تو حسرت اک جہان کی نکلنے والی ہےابھی گھن گرج سنائی دے گی انقلاب کیابھی تو گوش بر صدا ہے بزم آفتاب کیابھی تو پونجی واد کو جہان سے مٹانا ہےابھی تو سامراجوں کو سزائے موت پانا ہےابھی تو دانت پیستی ہے موت شہریاروں کیابھی تو خوں اتر رہا ہے آنکھوں میں ستاروں کیابھی تو اشتراکیت کے جھنڈے گڑنے والے ہیںابھی تو جڑ سے کشت و خوں کے نظم اکھڑنے والے ہیںابھی کسان و کامگار راج ہونے والا ہےابھی بہت جہاں میں کام کاج ہونے والا ہےمگر ابھی تو زندگی مصیبتوں کا نام ہےابھی تو نیند موت کی مرے لئے حرام ہےیہ سب پیام اک نگاہ میں وہ آنکھ دے گئیبہ یک نظر کہاں کہاں مجھے وہ آنکھ لے گئی
اے علی گڑھ اے جواں قسمت دبستان کہنعقل کے فانوس سے روشن ہے تیری انجمنحشر کے دن تک پھلا پھولا رہے تیرا چمنتیرے پیمانوں میں لرزاں ہے شراب علم و فنروح سر سیدؔ سے روشن تیرا مے خانہ رہےرہتی دنیا تک ترا گردش میں پیمانہ رہےایک دن ہم بھی تری آنکھوں کے بیماروں میں تھےتیری زلف خم نجم کے نو گرفتاروں میں تھےتیری جنس علم پرور کے خریداروں میں تھےجان و دل سے تیرے جلووں کے پرستاروں میں تھےموج کوثر تھا ترا سیل ادا اپنے لئےآب حیواں تھی تیری آب و ہوا اپنے لئےعلم کا پہلا سبق تو نے پڑھایا تھا ہمیںکس طرح جیتے ہیں تو نے ہی بتایا تھا ہمیںخواب سے طفلی کے تو نے ہی جگایا تھا ہمیںناز سے پروان تو نے ہی چڑھایا تھا ہمیںموسم گل کی خبر تیری زبانی آئی تھیتیرے باغوں میں ہوا کھا کر جوانی آئی تھیلیکن اے علم و جسارت کے درخشاں آفتابکچھ بہ الفاظ دگر بھی تجھ سے کرنا ہے خطابگو یہ دھڑکا ہے کہ ہوں گا مورد قہر و عتابکہہ بھی دوں جو کچھ ہے دل میں تا کجا یہ پیچ و تاببن پڑے جو سعی اپنے سے وہ کرنا چاہئےمرد کو کہنے کے موقع پہ نہ ڈرنا چاہئےاے علی گڑھ اے ہلاک تابش وضع فرنگٹیمز ہے آغوش میں تیرے بجائے موج گنگوادیٔ مغرب میں گم ہے تیرے دل کی ہر امنگولولوں میں تیرے شاید عرصۂ مشرق ہے تنگکب ہے مغرب کعبۂ حاجت روا تیرے لئےآ کہ ہے بے چین روح ایشیا تیرے لئےکشتۂ مغرب نگار شرق کے ابرو بھی دیکھساز بے رنگی کے جویا سوز رنگ و بو بھی دیکھنرگس ارزق کے شیدا دیدۂ آہو بھی دیکھاے سنہری زلف کے قیدی سیہ گیسو بھی دیکھکر چکا سیر اصل مرکز پر تو آنا چاہئےاپنے گھر کی سمت بھی آنکھیں اٹھانا چاہئےپختہ کاری سیکھ یہ آئین خامی تا کجاجادۂ افرنگ پر یوں تیز گامی تا کجاسوچ تو جی میں یہ جھوٹی نیک نامی تا کجامغربی تہذیب کا طوق غلامی تا کجامرد اگر ہے غیر کی تقلید کرنا چھوڑ دےچھوڑ دے للہ بالاقساط مرنا چھوڑ دے
اس کی دانائی کا حاصل ناخن عقدہ کشاتابناکئ ضمیر و زیرکی کا آفتابچاہنے والوں کا اس کی ذکر ہی کیا کیجیےاس کے دشمن بھی سرہانے رکھتے ہیں اس کی کتابمادی تاریخ عالم جس کی تالیف عظیمتاس کیپٹال ہے یا زیست کا لب لبابپڑھ کے جس کے ہو گئیں ہشیار اقوام غلاماشتراکی فلسفہ کا کھل گیا ہر دل میں بابکتنے دوزخ اس کے اک منشور سے جنت بنےکتنے صحراؤں کو جس نے کر دیا شہر گلابمارکس نے سائنس و انساں کو کیا ہے ہمکنارذہن کو بخشا شعور زندگانی کا نصاباس کی بینش اس کی وجدانی نگاہ حق شناسکر گئی جو چہرۂ افلاس زر کو بے نقاب''غصب اجرت'' کو دیا ''سرمایہ'' کا جس نے لقببے حساب اس کی بصیرت اس کی منطق لا جوابآفتاب تازہ کی اس نے بشارت دی ہمیںاس کی ہر پشین گوئی ہے برافگندہ نقابکوئی قوت اس کی سد راہ بن سکتی نہیںوقت کا فرمان جب آتا ہے بن کر انقلاباہل دانش کا رجز اور سینۂ دہقاں کی ڈھاللشکر مزدور کے ہیں ہم صفیر و ہم رکابکاٹتی ہے سحر سلطانی کو جب موسیٰ کی ضربسطوت فرعون ہو جاتی ہے از خود غرق آبآج کی فرعونیت بھی کچھ اسی انداز سےرفتہ رفتہ ہوتی جائے گی شکار انقلابلڑ رہا ہے جنگ آخر کیسۂ سرمایہ دارجوہری ہتھیار سے کرتا نہیں جو اجتناباپنے مستقبل سے طاغوتی تمدن کو ہے یاسدیدنی ہے دشمن انسانیت کا اضطرابحضرت اقبالؔ کا ابلیس کوچک خوف سےلرزہ بر اندام یوں شیطاں سے کرتا ہے خطابپنڈت و ملا و راہب بے ضرر ٹھہرے مگرٹوٹنے والا ہے تجھ پر اک یہودی کا عتابوہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیبنیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب
تم مجھے پہن سکتے ہوکہ میں نے اپنے آپ کودھلے ہوئے کپڑے کی طرحکئی دفعہ نچوڑا ہےکئی دفعہ سکھایا ہےتم مجھے چبا سکتے ہوکہ میں چوسنے والی گولی کی طرحاپنی مٹھاس کی تہہ گھلا چکی ہوںتم مجھے رلا سکتے ہوکہ میں نے اپنے آپ کو قتل کر کےاپنے خون کو پانی پانی کر کےآنکھوں میں جھیل بنا لی ہےتم مجھے بھون سکتے ہوکہ میری بوٹی بوٹیتڑپ تڑپ کرزندگی کی ہر سانس کوالوداع کہہ چکی ہےتم مجھے مسل سکتے ہوکہ روٹی سوکھنے سے پہلےخستہ ہو کر بھربھری ہو جاتی ہےتم مجھے تعویذ کی طرحگھول کر پی جاؤتو میں کلیساؤں میں بجتی گھنٹیوں میںاسی طرح طلوع ہوتی رہوں گیجیسے گل آفتاب
علم ہے انساں کی تہذیب و تمدن کے لئےیہ نہیں انسانی قدروں کے تلون کے لئےعلم ہے آپس میں اخلاص و اخوت کے لئےیہ نہیں اوروں کے نقصان و ہلاکت کے لئےعلم ہے انسان کی بہبود و بقا کے واسطےیہ نہیں انسانیت کی ابتلا کے واسطےعلم ہے انسان کی خود آگہی کے واسطےاور انسانوں میں بھائی چارگی کے واسطےعلم سے روشن خیالی آتی ہے انسان میںپختگی اخلاق میں تو تازگی ایمان میںعلم بڑھتا ہے کوئی اس کو گھٹا سکتا نہیںیہ وہ دولت ہے جسے کوئی چرا سکتا نہیںعلم کو پھیلائیے اچھے مقاصد کے لئےتاکہ دنیا کی ترقی کا نشانہ بڑھ سکےعلم چڑھتا آفتاب اور علم ہے باد مرادعلم زندہ باد اس کی آگہی پایندہ باد
میں ایک پتھر سہی مگر ہر سوال کا بازگشت بن کر جواب دوں گامجھے پکارو مجھے صدا دومیں ایک صحرا سہی مگر مجھ پہ گھر کے برسومجھے مہکنے کا ولولہ دومیں اک سمندر سہی مگر، آفتاب کی طرح مجھ پہ چمکومجھے بلندی کی سمت اڑنے کا حوصلہ دو
چھوڑ دے مطرب بس اب للہ پیچھا چھوڑ دےکام کا یہ وقت ہے کچھ کام کرنے دے مجھےتیری تانوں میں ہے ظالم کس قیامت کا اثربجلیاں سی گر رہی ہیں خرمن ادراک پریہ خیال آتا ہے رہ رہ کر دل بے تاب میںبہہ نہ جاؤں پھر ترے نغمات کے سیلاب میںچھوڑ کر آیا ہوں کس مشکل سے میں جام و سبو!آہ کس دل سے کیا ہے میں نے خون آرزوپھر شبستان طرب کی راہ دکھلاتا ہے تومجھ کو کرنا چاہتا ہے پھر خراب رنگ و بومیں نے مانا وجد میں دنیا کو لا سکتا ہے تومیں نے یہ مانا غم ہستی مٹا سکتا ہے تومیں نے یہ مانا غم ہستی مٹا سکتا ہے تومیں نے مانا تیری موسیقی ہے اتنی پر اثرجھوم اٹھتے ہیں فرشتے تک ترے نغمات پرہاں یہ سچ ہے زمزمے تیرے مچاتے ہیں وہ دھومجھوم جاتے ہیں مناظر، رقص کرتے ہیں نجومتیرے ہی نغمے سے وابستہ نشاط زندگیتیرے ہی نغمے سے کیف و انبساط زندگیتیری صوت سرمدی باغ تصوف کی بہارتیرے ہی نغموں سے بے خود عابد شب زندہ داربلبلیں نغمہ سرا ہیں تیری ہی تقلید میںتیرے ہی نغموں سے دھومیں محفل ناہید میںمجھ کو تیرے سحر موسیقی سے کب انکار ہےمجھ کو تیرے لحن داؤدی سے کب انکار ہےبزم ہستی کا مگر کیا رنگ ہے یہ بھی تو دیکھہر زباں پر اب صلائے جنگ ہے یہ بھی تو دیکھفرش گیتی سے سکوں اب مائل پرواز ہےابر کے پردوں میں ساز جنگ کی آواز ہےپھینک دے اے دوست اب بھی پھینک دے اپنا رباباٹھنے ہی والا ہے کوئی دم میں شور انقلابآ رہے ہیں جنگ کے بادل وہ منڈلاتے ہوئےآگ دامن میں چھپائے خون برساتے ہوئےکوہ و صحرا میں زمیں سے خون ابلے گا ابھیرنگ کے بدلے گلوں سے خون ٹپکے گا ابھیبڑھ رہے ہیں دیکھ وہ مزدور دراتے ہوئےاک جنوں انگیز لے میں جانے کیا گاتے ہوئےسرکشی کی تند آندھی دم بہ دم چڑھتی ہوئیہر طرف یلغار کرتی ہر طرف بڑھتی ہوئیبھوک کے مارے ہوئے انساں کی فریادوں کے ساتھفاقہ مستوں کے جلو میں خانہ بربادوں کے ساتھختم ہو جائے گا یہ سرمایہ داری کا نظامرنگ لانے کو ہے مزدوروں کا جوش انتقامگر پڑیں گے خوف سے ایوان عشرت کے ستوںخون بن جائے گی شیشوں میں شراب لالہ گوںخون کی بو لے کے جنگل سے ہوائیں آئیں گیخوں ہی خوں ہوگا نگاہیں جس طرف بھی جائیں گیجھونپڑوں میں خوں، محل میں خوں، شبستانوں میں خوںدشت میں خوں، وادیوں میں خوں، بیابانوں میں خوںپر سکوں صحرا میں خوں، بیتاب دریاؤں میں خوںدیر میں خوں، مسجد میں خوں، کلیساؤں میں خوںخون کے دریا نظر آئیں گے ہر میدان میںڈوب جائیں گی چٹانیں خون کے طوفان میںخون کی رنگینیوں میں ڈوب جائے گی بہارریگ صحرا پر نظر آئیں گے لاکھوں لالہ زارخون سے رنگیں فضائے بوستاں ہو جائے گینرگس مخمور چشم خوں فشاں ہو جائے گیکوہساروں کی طرف سے ''سرخ آندھی'' آئے گیجا بجا آبادیوں میں آگ سی لگ جائے گیتوڑ کر بیڑی نکل آئیں گے زنداں سے اسیربھول جائیں گے عبادت خانقاہوں میں فقیرحشر در آغوش ہو جائے گی دنیا کی فضادوڑتا ہوگا ہر اک جانب فرشتہ موت کاسرخ ہوں گے خون کے چھینٹوں سے بام و در تمامغرق ہوں گے آتشیں ملبوس میں منظر تماماس طرح لے گا زمانہ جنگ کا خونیں سبقآسماں پر خاک ہوگی، فرق پر رنگ شفقاور اس رنگ شفق میں باہزاراں آب و تاب!جگمگائے گا وطن کی حریت کا آفتاب
سمندروں کے پانیوں سے نیل اب اتر چکاہوا کے جھونکے چھوتے ہیں تو کھردرے سے لگتے ہیںبجھے ہوئے بہت سے ٹکڑے آفتاب کےجو گرتے ہیں زمین کی طرف تو ایسا لگتا ہےکہ دانت گرنے لگ گئے ہیں بڈھے آسمان کے
سو اب ہمجو صدیوں کی لمبی مسافت سے لوٹے ہیںتو اپنے رنجور کوزوں میں جھوجھا ہوا ہےیہ تیرا قصور اور نہ میری خطا ہےکوئی کوزہ گر تو ہمارا بھی ہوگاسو یہ اس کی حکمتکہ اس نے ہمیں چاک پر ڈھالتے وقتلمحوں کا پھیر اس نزاکت سے رکھاکہ ہم اپنی اپنی جگہ صرف ششدر کھڑے تھےکئی دست چابک کے بے جان پتلےمرے اور ترے درمیاں سج گئے تھےسو یہ اس کی حکمتمگر وقت اس درجہ سفاک کیوں ہےیہ مشاطہ زندگی اتنی چالاک کیوں ہےمرے اور ترے درمیاں نو برس جس نے لا کر بچھائےیہ نو سال کس طور میں نے بتائےکہ ساحل سے کشتی تک آتے ہوئےجیسے تختے کے ہم راہ دل ڈگمگائےوہی نو برس جو مرے اور ترے درمیاںوقت کی کرچیاں ہیںزمانہ بھی کیسی عجب کہکشاں ہےیہ دنیائے سیارگاں ہے کہ جس میں ہزاروں کواکبمسلسل کسی چاک پر گھومتے ہیںیہ اجسام کے گرد اجسام کا رقص ہی زندگی ہے مری جاںمری جان تو چاک کے ساتھ مٹی کے رشتے کو پہچانتا تھاحسن تو نے مٹی کے بے جان پتلوں سےتخلیق کے جاں گسل مرحلوں میںسدا گفتگو سو طرح گفتگو کیذہانت کے پتلے محبت کے خالق فقط یہ بتا دےکہ تیرے عناصر کے اجزائے ترکیب میں واہمہ کیسے آیاحسن تو وہاں جھونپڑے میںاکیلا گلے مل کے رویا تھا کس سےلبیب اور تو اور میں اور حقیقت میں کوئی نہیں تھاطرح واہمہ میرے لب میرے گیسو سے لپٹا رہا تھالبیب ایک سایا جسے تو نے روگ اپنی جاں کا بنایایہ سایا کہیں گر حقیقت بھی ہوتاتو آخر کو تو اس حقیقت سے کیوں بے خبر تھاکہ ہر جسم کے ساتھ اک آفتاب اور مہتاب لازمیہ تثلیث قائم ہے قائم رہے گی
معصوم کس قدر تھیں وہ بے نام چاہتیںبچپن سے ہمکنار تھا عہد شباب بھییوں آتش بدن میں تھی شبنم گھلی ہوئیمہتاب سے زیادہ نہ تھا آفتاب بھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books