بیسویں صدی کا انسان

احمد ندیم قاسمی

بیسویں صدی کا انسان

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    مجھے سمیٹو

    میں ریزہ ریزہ بکھر رہا ہوں

    نہ جانے میں بڑھ رہا ہوں

    یا اپنے ہی غبار سفر میں ہر پل اتر رہا ہوں

    نہ جانے میں جی رہا ہوں

    یا اپنے ہی تراشے ہوئے نئے راستوں کی تنہائیوں میں ہر لحظہ مر رہا ہوں

    میں ایک پتھر سہی مگر ہر سوال کا بازگشت بن کر جواب دوں گا

    مجھے پکارو مجھے صدا دو

    میں ایک صحرا سہی مگر مجھ پہ گھر کے برسو

    مجھے مہکنے کا ولولہ دو

    میں اک سمندر سہی مگر، آفتاب کی طرح مجھ پہ چمکو

    مجھے بلندی کی سمت اڑنے کا حوصلہ دو

    مجھے نہ توڑو کہ میں گل تر سہی

    مگر اوس کے بجائے لہو میں تر ہوں

    مجھے نہ مارو

    میں زندگی کے جمال اور گہماگہمیوں کا پیامبر ہوں

    مجھے بچاؤ کہ میں زمیں ہوں

    کروڑوں کروڑوں کی کائنات بسیط میں صرف میں ہی ہوں

    جو خدا کا گھر ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    بیسویں صدی کا انسان نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY