aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aamad"
زندگی سے ڈرتے ہو؟!زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں!زندگی سے ڈرتے ہو؟آدمی سے ڈرتے ہو؟آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیںآدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہےاس سے تم نہیں ڈرتے!حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہآدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہاس سے تم نہیں ڈرتے''ان کہی'' سے ڈرتے ہوجو ابھی نہیں آئی اس گھڑی سے ڈرتے ہواس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستگر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکنتری آنکھوں کی اداسی تیرے سینے کی جلنمیری دل جوئی مرے پیار سے مٹ جائے گیگر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سےجی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغتیری پیشانی سے ڈھل جائیں یہ تذلیل کے داغتیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائےگر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستروز و شب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوںمیں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریںآبشاروں کے بہاروں کے چمن زاروں کے گیتآمد صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیتتجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوںکیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسمگرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیںکیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوشدیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیںکس طرح عارض محبوب کا شفاف بلوریک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہےکیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخ گلابکس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہےیونہی گاتا رہوں گاتا رہوں تیری خاطرگیت بنتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطرپر مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیںنغمہ جراح نہیں مونس و غم خوار سہیگیت نشتر تو نہیں مرہم آزار سہیتیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوااور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیںاس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیںہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
تیری آمد سے گھٹی عمر جہاں سے سب کیفیضؔ نے لکھی ہے یہ نظم نرالے ڈھب کی
جلال آتش و برق و سحاب پیدا کراجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کرترے خرام میں ہے زلزلوں کا راز نہاںہر ایک گام پر اک انقلاب پیدا کرصدائے تیشۂ مزدور ہے ترا نغمہتو سنگ و خشت سے چنگ و رباب پیدا کربہت لطیف ہے اے دوست تیغ کا بوسہیہی ہے جان جہاں اس میں آب پیدا کرترے قدم پہ نظر آئے محفل انجموہ بانکپن وہ اچھوتا شباب پیدا کرترا شباب امانت ہے ساری دنیا کیتو خار زار جہاں میں گلاب پیدا کرسکون خواب ہے بے دست و پا ضعیفی کاتو اضطراب ہے خود اضطراب پیدا کرنہ دیکھ زہد کی تو عصمت گنہ آلودگنہ میں فطرت عصمت مآب پیدا کرترے جلو میں نئی جنتیں نئے دوزخنئی جزائیں انوکھے عذاب پیدا کرشراب کھینچی ہے سب نے غریب کے خوں سےتو اب امیر کے خوں سے شراب پیدا کرگرا دے قصر تمدن کہ اک فریب ہے یہاٹھا دے رسم محبت عذاب پیدا کرجو ہو سکے ہمیں پامال کر کے آگے بڑھجو ہو سکے تو ہمارا جواب پیدا کربہے زمیں پہ جو میرا لہو تو غم مت کراسی زمیں سے مہکتے گلاب پیدا کرتو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کرجو ہو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر
آیا ہمارے دیس میں اک خوش نوا فقیرآیا اور اپنی دھن میں غزلخواں گزر گیاسنسان راہیں خلق سے آباد ہو گئیںویران مے کدوں کا نصیبہ سنور گیاتھیں چند ہی نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیںپر اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیااب دور جا چکا ہے وہ شاہ گدانمااور پھر سے اپنے دیس کی راہیں اداس ہیںچند اک کو یاد ہے کوئی اس کی ادائے خاصدو اک نگاہیں چند عزیزوں کے پاس ہیںپر اس کا گیت سب کے دلوں میں مقیم ہےاور اس کے لے سے سیکڑوں لذت شناس ہیں
مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کوابھی تک دل میں تیرے عشق کی قندیل روشن ہےترے جلووں سے بزم زندگی جنت بدامن ہےمری روح اب بھی تنہائی میں تجھ کو یاد کرتی ہےہر اک تار نفس میں آرزو بیدار ہے اب بھیہر اک بے رنگ ساعت منتظر ہے تیری آمد کینگاہیں بچھ رہی ہیں راستہ زر کار ہے اب بھیمگر جان حزیں صدمے سہے گی آخرش کب تکتری بے مہریوں پر جان دے گی آخرش کب تکتری آواز میں سوئی ہوئی شیرینیاں آخرمرے دل کی فسردہ خلوتوں میں جا نہ پائیں گییہ اشکوں کی فراوانی سے دھندلائی ہوئی آنکھیںتری رعنائیوں کی تمکنت کو بھول جائیں گیپکاریں گے تجھے تو لب کوئی لذت نہ پائیں گےگلو میں تیری الفت کے ترانے سوکھ جائیں گےمبادا یاد ہائے عہد ماضی محو ہو جائیںیہ پارینہ فسانے موج ہائے غم میں کھو جائیںمرے دل کی تہوں سے تیری صورت دھل کے بہہ جائےحریم عشق کی شمع درخشاں بجھ کے رہ جائےمبادا اجنبی دنیا کی ظلمت گھیر لے تجھ کومری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو
اک پرندہ کسی اک پیڑ کی ٹہنی پہ چہکتا ہے کہیںایک گاتا ہوا یوں جاتا ہے دھرتی سے فلک کی جانبپوری قوت سے کوئی گیند اچھالے جیسےاک پھدکتا ہے سر شاخ پہ جس طرح کوئیآمد فصل بہاری کی خوشی میں ناچےگوندنی بوجھ سے اپنے ہی جھکی پڑتی ہےنازنیں جیسے ہے کوئی یہ بھری محفل میںاور کل ہاتھ ہوئے ہیں پیلےکوئلیں کوکتی ہیںجامنیں پکی ہیں، آموں پہ بہار آئی ہےارغنوں بجتا ہے یکجائی کانیم کے پیڑوں میں جھولے ہیں جدھر دیکھو ادھرساونی گاتی ہیں سب لڑکیاں آواز ملا کر ہر سواور اس آواز سے گونج اٹھی ہے بستی ساریمیں کبھی ایک کبھی دوسرے جھولے کے قریں جاتا ہوںایک ہی کم ہے، وہی چہرہ نہیںآخرش پوچھ ہی لیتا ہوں کسی سے بڑھ کرکیوں حبیبہ نہیں آئی اب تک؟کھلکھلا پڑتی ہیں سب لڑکیاں سن کر یہ ناملو یہ سپنے میں ہیں، اک کہتی ہےباؤلی سپنا نہیں، شہر سے آئے ہیں ابھیدوسری ٹوکتی ہےبات سے بات نکل چلتی ہےٹھاٹ کی آئی تھی بارات، چنبیلی نے کہابینڈ باجا بھی تھا، دیپا بولیاور دلہن پہ ہوا کتنا بکھیرکچھ نہ کچھ کہتی رہیں سب ہی مگر میں نے صرفاتنا پوچھا وہ ندی بہتی ہے اب بھی، کہ نہیںجس سے وابستہ ہیں ہم اور یہ بستی ساری؟کیوں نہیں بہتی، چنبیلی نے کہااور وہ برگد کا گھنا پیڑ کنارے اس کے؟وہ بھی قائم ہے ابھی تک یونہیوعدہ کر کے جو حبیبہؔ نہیں آتی تھی کبھیآنکھیں دھوتا تھا ندی میں جاکراور برگد کی گھنی چھاؤں میں سو جاتا تھا
دور برگد کی گھنی چھاؤں میں خاموش و ملولجس جگہ رات کے تاریک کفن کے نیچےماضی و حال گنہ گار نمازی کی طرحاپنے اعمال پہ رو لیتے ہیں چپکے چپکے
آٹھ ہی بلین عمر زمیں کی ہوگی شایدایسا ہی اندازہ ہے کچھ سائنس کاچار اعشاریہ بلین سالوں کی عمر تو بیت چکی ہےکتنی دیر لگا دی تم نے آنے میںاور اب مل کرکس دنیا کی دنیا داری سوچ رہی ہوکس مذہب اور ذات اور پات کی فکر لگی ہےآؤ چلیں ابتین ہی بلین سال بچے ہیں
تمہارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہےاسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہغنیم نور کا حملہ کہو اندھیروں پردیار درد میں آمد کہو مسیحا کیرواں دواں ہوئے خوشبو کے قافلے ہر سوخلائے صبح میں گونجی سحر کی شہنائییہ ایک کہرا سا، یہ دھند سی جو چھائی ہےاس التہاب میں، اس سرمگیں اجالے میںسوا تمہارے مجھے کچھ نظر نہیں آتاحیات نام ہے یادوں کا، تلخ اور شیریںبھلا کسی نے کبھی رنگ و بو کو پکڑا ہےشفق کو قید میں رکھا صبا کو بند کیاہر ایک لمحہ گریزاں ہے، جیسے دشمن ہےنہ تم ملو گی نہ میں، ہم بھی دونوں لمحے ہیںوہ لمحے جا کے جو واپس کبھی نہیں آتے!
اگر جو گہری سی سانس لے گیتو یوں لگے گا گلاب مہکےاگر وہ پلکیں ذرا سی کھولےتو یوں لگے گا کہ خواب مہکےاگر وہ چھو لے گی شاخ کوئیخزاں کی رت میں بہار اترےامڈ کے آئے گی کوئی بارشجو ہو کے اس پر نثار اترے
دل خوشامد سے ہر اک شخص کا کیا راضی ہےآدمی جن پری و بھوت بلا راضی ہےبھائی فرزند بھی خوش باپ چچا راضی ہےشاد مسرور غنی شاہ و گدا راضی ہےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےاپنا مطلب ہو تو مطلب کی خوشامد کیجےاور نہ ہو کام تو اس ڈھب کی خوشامد کیجےاولیا انبیا اور رب کی خوشامد کیجےاپنے مقدور غرض سب کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کی خوشامد سے خدا راضی ہےچار دن جس کو کیا جھک کے خوشامد سے سلاموہ بھی خوش ہو گیا اپنا بھی ہوا کام میں کامبڑے عاقل بڑے دانا نے نکالا ہے یہ دامخوب دیکھا تو خوشامد ہی کی آمد ہے تمامجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےبد بخیل اور سخی کی بھی خوشامد کیجےاور جو شیطان ہو تو اس کی بھی خوشامد کیجےگر ولی ہو تو ولی کی بھی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےپیار سے جوڑ دئیے جس کی طرف ہاتھ جو آہوہیں خوش ہو گیا کرتے ہی وہ ہاتھوں پہ نگاہغور سے ہم نے جو اس بات کو دیکھا واللہکچھ خوشامد ہی بڑی چیز ہے اللہ اللہجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضیپینے اور پہننے کھانے کی خوشامد کیجےہیجڑے بھانڈ زنانے کی خوشامد کیجےمست و ہشیار دوانے کی خوشامد کیجےبھولے نادان سیانے کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےعیش کرتے ہیں وہی جن کا خوشامد کا مزاججو نہیں کرتے وہ رہتے ہیں ہمیشہ محتاجہاتھ آتا ہے خوشامد سے مکاں ملک اور تاجکیا ہی تاثیر کی اس نسخے نے پائی ہے رواججو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےگر بھلا ہو تو بھلے کی بھی خوشامد کیجےاور برا ہو تو برے کی بھی خوشامد کیجےپاک ناپاک سڑے کی بھی خوشامد کیجےکتے بلی و گدھے کی بھی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےخوب دیکھا تو خوشامد کی بڑی کھیتی ہےغیر کی اپنے ہی گھر بیچ یہ سکھ دیتی ہےماں خوشامد کے سبب چھاتی لگا لیتی ہےنانی دادی بھی خوشامد سے دعا دیتی ہےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےبی بی کہتی ہے میاں آ ترے صدقے جاؤںساس بولے کہیں مت جا ترے صدقے جاؤںخالہ کہتی ہے کہ کچھ کھا ترے صدقے جاؤںسالی کہتی ہے کہ بھیا ترے صدقے جاؤںجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےآ پڑا ہے جو خوشامد سے سروکار اسےڈھونڈتے پھرتے ہیں الفت کے خریدار اسےآشنا ملتے ہیں اور چاہے ہیں سب یار اسےاپنے بیگانے غرض کرتے ہیں سب پیار اسےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےروکھی اور روغنی آبی کو خوشامد کیجےنان بائی و کبابی کی خوشامد کیجےساقی و جام شرابی کی خوشامد کیجےپارسا رند خرابی کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا اراضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےجو کہ کرتے ہیں خوشامد وہ بڑے ہیں انساںجو نہیں کرتے وہ رہتے ہیں ہمیشہ حیراںہاتھ آتے ہیں خوشامد سے ہزاروں ساماںجس نے یہ بات نکالی ہے میں اس کے قرباںجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےکوڑی پیسے و ٹکے زر کی خوشامد کیجےلعل و نیلم در و گوہر کی خوشامد کیجےاور جو پتھر ہو تو پتھر کی خوشامد کیجےنیک و بد جتنے ہیں یک سر کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےہم نے ہر دل کی خوشامد کی محبت دیکھیپیار اخلاص و کرم مہر مروت دیکھیدلبروں میں بھی خوشامد ہی کی الفت دیکھیعاشقوں میں بھی خوشامد ہی کی چاہت دیکھیجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےپارسا پیر ہے زاہد ہے منا جاتی ہےجواریا چور دغاباز خراباتی ہےماہ سے ماہی تلک چیونٹی ہے یا ہاتھی ہےیہ خوشامد تو میاں سب کے تئیں بھاتی ہےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےگر نہ میٹھی ہو تو کڑوی بھی خوشامد کیجےکچھ نہ ہو پاس تو خالی بھی خوشامد کیجےجانی دشمن ہو تو اس کی خوشامد کیجےسچ اگر پوچھو تو جھوٹی بھی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےمرد و زن طفل و جواں خورد و کلاں پیر و فقیرجتنے عالم میں ہیں محتاج و گدا شاہ وزیرسب کے دل ہوتے ہیں پھندے میں خوشامد کے اسیرتو بھی واللہ بڑی بات یہ کہتا ہے نظیرؔجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں پیداکسی کے حسن میں شمشیر آفتاب کا حسننگاہ جس سے ملاؤ تو آنکھ دکھنے لگےکسی ادا میں ادائے خرام بادصباجسے خیال میں لاؤ تو دل سلگنے لگےنہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں باقیجہاں میں بزم گہ حسن و عشق کا میلہبنائے لطف و محبت، رواج مہر و وفایہ کس دیار عدم میں مقیم ہیں ہم تمجہاں پہ مژدۂ دیدار حسن یار تو کیانوید آمد روز جزا نہیں آتییہ کس خمار کدے میں ندیم ہیں ہم تمجہاں پہ شورش رندان مے گسار تو کیاشکست شیشۂ دل کی صدا نہیں آتی
میں جن کو چھوڑ آیا تھا شناسائی کی بستی کے وہ سارے راستے آواز دیتے ہیںنہیں معلوم اب کس واسطے آواز دیتے ہیںلہو میں خاک اڑتی ہےبدن خواہش بہ خواہش ڈھ رہا ہےاور نفس کی آمد و شد دل کی نا ہمواریوں پر بین کرتی ہےوہ سارے خواب ایک اک کر کے رخصت ہو چکے ہیں جن سے آنکھیں جاگتی تھیںاور امیدوں کے روزن شہر آیندہ میں کھلتے تھےبہت آہستہ آہستہاندھیرا دل میں، آنکھوں میں، لہو میں، بہتے بہتے جم گیا ہےوقت جیسے تھم گیا ہے
درد کے پیرہن چاک سے جھانکو تو ذرامردہ سورج پہ لٹکتے ہوئے میلے بادلکسی طوفان کی آمد کا پتا دیتے ہیں!
تمام لفظوں میں روشن ہر اک باب میں ماںجنوں کے شیلف میں ہے عشق کی کتاب میں ماںاے ماں تو خوشبو کا نایاب استعارہ ہےاے ماں تو عود میں عنبر میں تو گلاب میں ماںخود اپنی ممتا میں ہی نور کا سمندر ہےنہیں ہے اور کسی روشنی کی تاب میں ماںوہ جسم کھو کے بدل سی گئی ہے کچھ مجھ میںتھی پہلے صرف سوال اب ہے ہر جواب میں ماںمرے سوالوں کے سارے جواب لے آئیچلی گئی تھی مگر لوٹی پھر سے خواب میں ماںمیں جب بھی ذبح ہوئی زندگی کے خنجر سےدکھی ہے خوابوں میں اک دشت اضطراب میں ماںگنوا کے جسم وہ فرصت سے آئی میرے پاسسسک سسک کے سنایا تھی کس عذاب میں ماںمیں ماں کی زندہ نگاہوں کو خود میں جیتی ہوںہر انقلاب میں ہر دم ہر آب و تاب میں ماںمرے عروج کا وہ سلسلہ انعام و سزامرے زوال میں ہر زندہ انقلاب میں ماںتجھے لبھانے کو میں سترنگی بنی تھی ماںیہ جا چھپی ہے تو کس پردۂ غیاب میں ماںبندھی ہیں آنکھیں مری اب بھی موت کے پل سےہے ہر سکوت میں خاموش اضطراب میں ماںامڈ رہے ہیں ہر اک پل سے موت کے ٹھٹھےوہ جا رہی ہے مری پنجۂ عقاب میں ماںوہ جسم ہار گئی موت سے مگر مجھ میںوہ جی کے گویا ہے پھر موت سے جواب میں ماں
افق پہ صبح بہاراں کی آمد آمد ہےفضا میں سرخ پھریروں کے پھول کھلتے ہیں
دئے ابھی نہیں جلےدرخت بڑھتی تیرگی میں چھپ چلےپرند قافلوں میں ڈھل کے اڑ چلےہوا ہزار مرگ آرزو کا ایک غم لیےچلی پہاڑیوں کی سمت رخ کیےکھلے سمندروں پہ کشتیوں کے بادباں کھلےسواد شہر کے کھنڈرگئے دنوں کی خوشبوؤں سے بھر گئےاکیلی خواب گاہ میںکسی حسیں نگاہ میںالم میں لپٹی چاہتیں ورود شب سے جاگ اٹھیںہے دل کو بیکلی سیاہ رات آئے گیجلو میں دکھ کی لاگ کو لیے ہوئےنگر نگر پہ چھائے گی
اب خون کے ساگر کھولیں گےانسان کے جوہر کھولیں گےچڑھ جائے گی تپ صحراؤں کواٹھے گی امڈ کر لال آندھیپی جائے گی دریاؤں کوباندھے گا تند ہواؤں کواب خوب ہنسے گا دیوانہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books