نیا سال

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    رات کی اڑتی ہوئی راکھ سے بوجھل ہے نسیم

    یوں عصا ٹیک کے چلتی ہے کہ رحم آتا ہے

    سانس لیتی ہے درختوں کا سہارا لے کر

    اور جب اس کے لبادے سے لپٹ کر کوئی

    پتہ گرتا ہے تو پتھر سا لڑھک جاتا ہے

    شاخیں ہاتھوں میں لیے کتنی ادھوری کلیاں

    مانگتی ہیں فقط اک نرم سی جنبش کی دعا

    ایسا چپ چاپ ہے سنولائی ہوئی صبح میں شہر

    جیسے معبد کسی مرجھائے ہوئے مذہب کا

    سر پہ اپنی ہی شکستوں کو اٹھائے ہوئے لوگ

    اک دوراہے پہ گروہوں میں کھڑے ہیں تنہا

    یک بیک فاصلے تانبے کی طرح بجنے لگے

    قدم اٹھتے ہیں تو ذرے بھی صدا دینے لگے

    درد کے پیرہن چاک سے جھانکو تو ذرا

    مردہ سورج پہ لٹکتے ہوئے میلے بادل

    کسی طوفان کی آمد کا پتا دیتے ہیں!

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e-ahmad nadiim qaasmii (Pg. 243)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY