aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aarif"
عمر بھر کا یہ رشتہچھوٹ بھی تو سکتا ہےآخری وسل کے ساتھڈوب جانے والا دلٹوٹ بھی تو سکتا ہےتم بھی افتخار عارفبارہویں کھلاڑی ہوانتظار کرتے ہوایک ایسے لمحے کاایک ایسی ساعت کاجس میں حادثہ ہو جائےجس میں سانحہ ہو جائےتم بھی افتخار عارفتم بھی ڈوب جاؤ گےتم بھی ٹوٹ جاؤ گے
ابھی کچھ دن لگیں گے
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاںپھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاںآنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاںسینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاںجتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھراکرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جادیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیاٹھٹھا ہنسی شراب صنم ساقی اس سواسو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاںجس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہےخالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہےچولھے کے آگے آنچ جو چلتی حضور ہےجتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہےاس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاںآوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نامیا چکی چولھے کے جہاں گل زار ہوں تمامواں سر جھکا کے کیجے ڈنڈوت اور سلاماس واسطے کہ خاص یہ روٹی کے ہیں مقامپہلے انہیں مکانوں میں آتی ہیں روٹیاںان روٹیوں کے نور سے سب دل ہیں بور بورآٹا نہیں ہے چھلنی سے چھن چھن گرے ہے نورپیڑا ہر ایک اس کا ہے برفی و موتی چورہرگز کسی طرح نہ بجھے پیٹ کا تنوراس آگ کو مگر یہ بجھاتی ہیں روٹیاںپوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سےیہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کےوہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دےہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتےبابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاںپھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیااس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیاوہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیاکشف القلوب اور یہ کشف القبور کیاجتنے ہیں کشف سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئےگلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئےدو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈھل گئےچودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئےیہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہومیلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہوبھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہوسچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہواللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاںاب آگے جس کے مال پوے بھر کے تھال ہیںپورے بھگت انہیں کہو صاحب کے لال ہیںاور جن کے آگے روغنی اور شیرمال ہیںعارف وہی ہیں اور وہی صاحب کمال ہیںپکی پکائی اب جنہیں آتی ہیں روٹیاںکپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطےلمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطےباندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطےسب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطےجتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے ناچے پیادہ قواعد دکھا دکھااسوار ناچے گھوڑے کو کاوہ لگا لگاگھنگھرو کو باندھے پیک بھی پھرتا ہے ناچتااور اس سوا جو غور سے دیکھا تو جا بہ جاسو سو طرح کے ناچ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی کے ناچ تو ہیں سبھی خلق میں پڑےکچھ بھانڈ بھیگتے یہ نہیں پھرتے ناچتےیہ رنڈیاں جو ناچے ہیں گھونگھٹ کو منہ پہ لےگھونگھٹ نہ جانو دوستو تم زینہار اسےاس پردے میں یہ اپنے کماتی ہیں روٹیاںاشرافوں نے جو اپنی یہ ذاتیں چھپائی ہیںسچ پوچھئے تو اپنی یہ شانیں بڑھائی ہیںکہئے انہوں کی روٹیاں کس کس نے کھائی ہیںاشراف سب میں کہئے تو اب نان بائی ہیںجن کی دکاں سے ہر کہیں جاتی ہیں روٹیاںدنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہےیا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہےکوئی کسی کا اور کسی کا نہ کوئی ہےسب کوئی ہے اسی کا کہ جس ہاتھ ڈوئی ہےنوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاںروٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیرروکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیریا پتلی ہووے موٹی خمیری ہو یا فطیرگیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیرؔہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں
مری زندگی میں بس اک کتاب ہے اک چراغ ہےایک خواب ہے اور تم ہویہ کتاب و خواب کے درمیان جو منزلیں ہیں میں چاہتا تھاتمھارے ساتھ بسر کروںیہی کل اثاثۂ زندگی ہے اسی کو زاد سفر کروںکسی اور سمت نظر کروں تو مری دعا میں اثر نہ ہومرے دل کے جادۂ خوش خبر پہ بجز تمھارے کبھی کسی کا گزر نہ ہومگر اس طرح کہ تمہیں بھی اس کی خبر نہ ہو
جس روز ہمارا کوچ ہوگاپھولوں کی دکانیں بند ہوں گیشیریں سخنوں کے حرف دشنامبے مہر زبانیں بند ہوں گی
تمہیں پیار ہے، تو یقین دو،مجھے نہ کہو، تمہیں پیار ہے، مجھے دیکھنے کی نہ ضد کرو،تمہیں فکر ہو، مرے حال کی،کوئی گفتگو ہو ملال کی،جو خیال ہو، نہ کیا کرو،نہ کہا کرو مری فکر ہےمیں عزیز تر ہوں جہان سےیا ایمان سے، نہ کہا کرو،نہ لکھا کرو مجھے ورق پر، کسی فرش پر،نہ اداس ہو، نہ ہی خوش رہومجھے سوچ کر، یا کھروچ کر، میری یاد کو نہ آواز دو،مجھے خط میں لکھ کے خداؤں کا نہ دو واسطہتمہیں پیار میں نہ قرار ہے، مجھے اس زباں کا یقین نہیںکچھ اور ہو، جو سنا نہ ہو، جو کہا نہ ہو، جو لکھا نہ ہوتو یقین ہو!رکو اور تھوڑا سا ضبط لو، مجھے سوچ لینے کو وقت دو،چلو یوں کرو مرے واسطے کہ بلند و بالا عمارتوں کا لو جائزہجو فلک کو بوسہ لگا رہی ہوں عمارتیں،جو تمہارے پیار سے لے رہی ہوں مشابہتیںجو ہو سب سے زیادہ بلند و بالا الگ تھلگاسے سر کرو،اسے چھت تلک، ہاں یہیں رکو، یہ وہ ہی ہے چھت،ذرا سانس لینے کو قیام لو، مرا نام لو،تو سفر کی ساری تھکن یہیں پہ اتار لو،اب! مرے تمہارے جو درمیاں میں ہے فاصلہ، وہ ذرا سا ہے،وہ مٹا سکو، تو غرور ڈھاتی بلندیوں کو پھلانگ دو!تمہیں پیار ہے تو یقین دو!!
عجب گھڑی تھیکتاب کیچڑ میں گر پڑی تھیچمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسو بلا رہے تھےمگر مجھے ہوش ہی کہاں تھانظر میں اک اور ہی جہاں تھانئے نئے منظروں کی خواہش میں اپنے منظر سے کٹ گیا ہوںنئے نئے دائروں کی گردش میں اپنے محور سے ہٹ گیا ہوںصلہ جزا خوف ناامیدیامید امکان بے یقینیہزار خانوں میں بٹ گیا ہوںاب اس سے پہلے کہ رات اپنی کمند ڈالے یہ چاہتا ہوں کہ لوٹ جاؤںعجب نہیں وہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ہوعجب نہیں آج بھی مری راہ دیکھتی ہوچمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسوعجب نہیں میرے لفظ مجھ کو معاف کر دیںہوا و حرص و ہوس کی سب گرد صاف کر دیںعجب گھڑی تھیکتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی
عجیب لوگ ہیںہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیںجو رات جاگنے کی تھی وہ ساری راتخواب دیکھ دیکھ کر گزارتے رہےجو نام بھولنے کا تھا اس ایک نام کوگلی گلی پکارتے رہےجو کھیل جیتنے کا تھا وہ کھیل ہارتے رہےعجیب لوگ ہیںہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیںکسی سے بھی تو قرض آبرو ادا نہیں ہوالہو لہان ساعتوں کا فیصلہ نہیں ہوابرس گزر گئے ہیں کوئی معجزہ نہیں ہواوہ جل بجھا کہ آگ جس کے شعلۂ نفس میں تھیوہ تیر کھا گیا کمان جس کی دسترس میں تھیسپاہ مہر کا فصیل شب کو انتظار ہےکب آئے گا وہ شخص جس کا سب کو انتظار ہےہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیںعجیب لوگ ہیںہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیں
گرمی کی تپش بجھانے والیسردی کا پیام لانے والیقدرت کے عجائبات کی کاںعارف کے لیے کتاب عرفاںوہ شاخ و درخت کی جوانیوہ مور و ملخ کی زندگانیوہ سارے برس کی جان برساتوہ کون خدا کی شان برساتآئی ہے بہت دعاؤں کے بعدوہ سیکڑوں التجاؤں کے بعدوہ آئی تو آئی جان میں جاںسب تھے کوئی دن کے ورنہ مہماںگرمی سے تڑپ رہے تھے جان داراور دھوپ میں تپ رہے تھے کہساربھوبل سے سوا تھا ریگ صحرااور کھول رہا تھا آب دریاسانڈے تھے بلوں میں منہ چھپائےاور ہانپ رہے تھے چارپائےتھیں لومڑیاں زباں نکالےاور لو سے ہرن ہوئے تھے کالےچیتوں کو نہ تھی شکار کی سدھہرنوں کو نہ تھی قطار کی سدھتھے شیر پڑے کچھار میں سستگھڑیال تھے رود بار میں سستڈھوروں کا ہوا تھا حال پتلابیلوں نے دیا تھا ڈال کندھابھینسوں کے لہو نہ تھا بدن میںاور دودھ نہ تھا گئو کے تھن میںگھوڑوں کا چھٹا تھا گھاس دانہتھا پیاس کا ان پہ تازیانہگرمی کا لگا ہوا تھا بھبکااور انس نکل رہا تھا سب کاطوفان تھے آندھیوں کے برپااٹھتا تھا بگولے پر بگولاآرے تھے بدن پہ لو کے چلتےشعلے تھے زمین سے نکلتےتھی آگ کا دے رہی ہوا کامتھا آگ کا نام مفت بد نامرستوں میں سوار اور پیدلسب دھوپ کے ہاتھ سے تھے بے کلگھوڑوں کے نہ آگے اٹھتے تھے پاؤںملتی تھی کہیں جو روکھ کی چھاؤںتھی سب کی نگاہ سوئے افلاکپانی کی جگہ برستی تھی خاک
تم نے جو پھول مجھے رخصت ہوتے وقت دیا تھاوہ نظم میں نے تمہاری یادوں کے ساتھ لفافے میں بند کر کے رکھ دی تھیآج دنوں بعد بہت اکیلے میں اسے کھول کر دیکھا ہےپھول کی نو پنکھڑیاں ہیںنظم کے نو مصرعےیادیں بھی کیسی عجیب ہوتی ہیںپہلی پنکھڑی یاد دلاتی ہے اس لمحے کی جب میں نےپہلی بار تمہیں بھری محفل میں اپنی طرف مسلسل تکتے ہوئے دیکھ لیا تھادوسری پنکھڑی جب ہم پہلی بار ایک دوسرے کو کچھ کہے بغیربس یوں ہی جان بوجھ کر نظر بچاتے ہوئے ایک راہداری سے گزر گئے تھےپھر تیسری بار جب ہم اچانک ایک موڑ پر کہیں ملےاور ہم نے بہت ساری باتیں کیں اور بہت سارے برسایک ساتھ پل میں گزار دئےاور چوتھی باراب میں بھولنے لگا ہوںبہت دنوں سے ٹھہری ہوئی اداسی کی وجہ سے شایدکچھ لوگ کہتے ہیں اداسی تنہائی کی کوکھ سے جنم لیتی ہےممکن ہے ٹھیک کہتے ہوںکچھ لوگ کہتے ہیں بہت تنہا رہنا بھی اداسی کا سبب بن جاتا ہےممکن ہے یہ بھی ٹھیک ہوممکن ہے تم آؤ تو بھولی ہوئی ساری باتیں پھر سے یاد آ جائیںممکن ہے تم آؤ تو وہ باتیں بھی میں بھول چکا ہوں جو ابھی مجھے یاد ہیںیادوں کے بارے میں اور اداسی کے بارے میں اور تنہائی کے بارے میںکوئی بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی
جبین وقت پر لکھی ہوئی سچائیاں روشن رہی ہیںتا ابد روشن رہیں گیخدا شاہد ہے اور وہ ذات شاہد ہے کہ جو وجہ اساس انفس و آفاق ہےاور خیر کی تاریخ کا وہ باب اول ہےابد تک جس کا فیضان کرم جاری رہے گایقیں کے آگہی کے روشنی کے قافلے ہر دور میں آتے رہے ہیںتا ابد آتے رہیں گےابوطالب کے بیٹے حفظ ناموس رسالت کی روایت کے امیں تھےجان دینا جانتے تھےوہ مسلم ہوں کہ وہ عباس ہوں عون و محمد ہوں علی اکبر ہوں قاسم ہوں علی اصغر ہوںحق پہچانتے تھےلشکر باطل کو کب گردانتے تھےابوطالب کے بیٹے سر بریدہ ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیںابوطالب کے بیٹے پا بجولاں ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیںابوطالب کے بیٹے صرف زنداں ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیںمدینہ ہو نجف ہو کربلا ہو کاظمین و سامرہ ہو مشہد و بغداد ہوآل ابوطالب کے قدموں کے نشاںانسانیت کو اس کی منزل کا پتہ دیتے رہے ہیں تا ابد دیتے رہیں گےابوطالب کے بیٹوں اور غلامان علی ابن ابی طالب میں اک نسبت رہی ہےمحبت کی یہ نسبت عمر بھر قائم رہے گیتا ابد قائم رہے گی
کبھی کبھی دل یہ سوچتا ہےنہ جانے ہم بے یقین لوگوں کو نام حیدر سے ربط کیوں ہےحکیم جانے وہ کیسی حکمت سے آشنا تھاشجیع جانے کہ بدر و خیبر کی فتح مندی کا راز کیا تھاعلیم جانے وہ علم کے کون سے سفینوں کا نا خدا تھامجھے تو بس صرف یہ خبر ہےوہ میرے مولا کی خوشبوؤں میں رچا بسا تھاوہ ان کے دامان عاطفت میں پلا بڑھا تھااور اس کے دن رات میرے آقا کے چشم و ابرو و جنبش لب کے منتظر تھےوہ رات کو دشمنوں کے نرغے میں سو رہا تھا تو ان کی خاطرجدال میں سر سے پاؤں تک سرخ ہو رہا تھا تو ان کی خاطرسو اس کو محبوب جانتا ہوںسو اس کو مقصود مانتا ہوںسعادتیں اس کے نام سے ہیںمحبتیں اس کے نام سے ہیںمحبتوں کے سبھی گھرانوں کی نسبتیں اس کے نام سے ہیں
اک خواہش تھیکبھی ایسا ہوکبھی ایسا ہو کہ اندھیرے میں(جب دل وحشت کرتا ہو بہتجب غم شدت کرتا ہو بہت)کوئی تیر چلےکوئی تیر چلے جو ترازو ہو مرے سینے میںاک خواہش تھیکبھی ایسا ہوکبھی ایسا ہو کہ اندھیرے میں(جب نیندیں کم ہوتی ہوں بہتجب آنکھیں نم ہوتی ہوں بہت)سر آئینہ کوئی شمع جلےکوئی شمع جلے اور بجھ جائے مگر عکس رہے آئینے میںاک خواہش تھیوہ خواہش پوری ہو بھی چکیدل جیسے دیرینہ دشمن کی سازش پوری ہو بھی چکیاور اب یوں ہےجینے اور جیتے رہنے کے بیچ ایک خواب کیدوری ہےوہ دوری ختم نہیں ہوتیاور یہ دوری سب خواب دیکھنے والوں کی مجبوری ہےمجبوری ختم نہیں ہوتی
سویرے سویرے جگاتی ہیں امیمرے ہاتھ منہ پھر دھلاتی ہیں امی
وہ فرات کے ساحل پر ہوں یا کسی اور کنارے پرسارے لشکر ایک طرح کے ہوتے ہیںسارے خنجر ایک طرح کے ہوتے ہیںگھوڑوں کی ٹاپوں میں روندی ہوئی روشنیدریا سے مقتل تک پھیلی ہوئی روشنیسارے منظر ایک طرح کے ہوتے ہیںایسے ہر منظر کے بعد اک سناٹا چھا جاتا ہےیہ سناٹا طبل و علم کی دہشت کو کھا جاتا ہےسناٹا فریاد کی لے ہے احتجاج کا لہجہ ہےیہ کوئی آج کی بات نہیں ہے بہت پرانا قصہ ہےہر قصے میں صبر کے تیور ایک طرح کے ہوتے ہیںوہ فرات کے ساحل پر ہوں یا کسی اور کنارے پرسارے لشکر ایک طرح کے ہوتے ہیں
میں جن کو چھوڑ آیا تھا شناسائی کی بستی کے وہ سارے راستے آواز دیتے ہیںنہیں معلوم اب کس واسطے آواز دیتے ہیںلہو میں خاک اڑتی ہےبدن خواہش بہ خواہش ڈھ رہا ہےاور نفس کی آمد و شد دل کی نا ہمواریوں پر بین کرتی ہےوہ سارے خواب ایک اک کر کے رخصت ہو چکے ہیں جن سے آنکھیں جاگتی تھیںاور امیدوں کے روزن شہر آیندہ میں کھلتے تھےبہت آہستہ آہستہاندھیرا دل میں، آنکھوں میں، لہو میں، بہتے بہتے جم گیا ہےوقت جیسے تھم گیا ہے
عجب دن تھےعجب نامہرباں دن تھے بہت نامہرباں دن تھےزمانے مجھ سے کہتے تھے زمینیں مجھ سے کہتی تھیںمیں اک بے بس قبیلے کا بہت تنہا مسافر ہوںوہ بے منزل مسافر ہوں جسے اک گھر نہیں ملتامیں اس رستے کا راہی ہوں جسے رہبر نہیں ملتامگر کوئی مسلسل دل پہ اک دستک دیے جاتا تھا کہتا تھا مسافر!اس قدر نا مطمئن رہنے سے کیا ہوگاملال ایسا بھی کیا جو ذہن کو ہر خواب سے محروم کر دےجمال باغ آئندہ کے ہر امکان کو معدوم کر دےگل فردا کو فصل رنگ میں مسموم کر دےدلاسے کی اسی آواز سے ساری تھکن کم ہو گئی تھی اوردل کو پھر قرار آنے لگا تھاسفر زاد سفر شوق سفر پر اعتبار آنے لگا تھامیں خوش قسمت تھاکیسی ساعت خوش رنگ و خوش آثار میں مجھ کومرے بے بس بہت تنہا قبیلے کو نیا گھر مل گیا تھاایک رہبر مل گیا تھاایک منزل مل گئی تھی اور امکانوں بھرا خوابوں سے امیدوں سے روشنایک منظر مل گیا تھا
کسے خبر تھیایک مسافر مستقبل زنجیر کرے گا اور سفر کے سب آداب بدل جائیں گےکسے یقیں تھاوقت کی رو جس دن مٹھی میں بند ہو گئی ساری آنکھیں سارے خواب بدل جائیں گےہمیں خبر تھیہمیں یقیں تھاتبھی تو ہم نے توڑ دیا تھا رشتۂ شہرت عامتبھی تو ہم نے چھوڑ دیا تھا شہر نمود و ناملیکن اب مرے اندر کا کمزور آدمی شام سویرے مجھے ڈرانے آ جاتا ہےنئے سفر میں کیا کھویا ہے کیا پایا ہے سب سمجھانے آ جاتا ہے
اب کے بار پھرموج بہار نےفرش سبز پرساعت مہر میںہار سنگھار سےہم دونوں کے نام لکھے ہیںاور دعا مانگی ہے کہ ''اے راتوں کو جگنو دینے والے!سوکھی ہوئی مٹی کو خوشبو دینے والے!شکر گزار آنکھوں کو آنسو دینے والے!ان دونوں کا ساتھ نہ چھوٹے''اور سنا یہ ہے کہ ہوائیںاب کے بار بھی تیز بہت ہیںشہر وصال سے آنے والے موسم ہجر انگیز بہت ہیں
مرا ذہن دل کا رفیق ہےمرا دل رفیق ہے جسم کامرا جسم ہے مری آنکھ میںمری آنکھ اس کے بدن میں ہےوہ بدن کہ بوسۂ آتشیں میں جلا بھی پھر بھی ہرا رہاوہ بدن کہ لمس کی بارشوں میں دھلا بھی پھر بھی نیا رہاوہ بدن کی وصل کے فاصلے پہ رہا بھی پھر بھی مرا رہامجھے اعتراف! مرے وجود پہ ایک چراغ کا ایک خواب کا ایک امید کا قرض ہےمجھے اعتراف! کہ میرے ناخن بے ہنر پہ ہزار طرح کے قرض ہیںمرا ذہن مجھ کو رہا کرے تو میں سارے قرض اتار دوںمری آنکھ مجھ سے وفا کرے تو میں جسم و جان پہ وار دوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books