aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "adaakaar"
اک اداکار ہوں میںمیں اداکار ہوں ناںجینی پڑتی ہیں کئی زندگیاں ایک حیاتی میں مجھےمیرا کردار بدل جاتا ہے ہر روز نئی سیٹ پرمیرے حالات بدل جاتے ہیںمیرا چہرہ بھی بدل جاتا ہے افسانہ و منظر کے مطابقمیری عادات بدل جاتی ہیںاور پھر داغ نہیں چھوٹتے پہنی ہوئی پوشاکوں کےخستہ کرداروں کا کچھ چورا سا رہ جاتا ہے تہ میںکوئی نوکیلا سا کردار گزرتا ہے رگوں سے تو خراشوںکے نشاں دیر تلک رہتے ہیں دل پرزندگی سے یہ اٹھائے ہوئے کردار خیالی بھی نہیں ہیں کہ اترجائیں وہ پنکھے کی ہوا سےسیاہی رہ جاتی ہے سینے میں ادیبوں کے لکھے جملوں کیسیمیں پردے پہ لکھیسانس لیتی ہوئی تحریر نظر آتا ہوںمیں اداکار ہوں لیکنصرف اداکار نہیںوقت کی تصویر بھی ہوں
میں بھی اس ہال میں بیٹھا تھاجہاں پردے پہ اک فلم کے کردارزندہ جاوید نظر آتے تھےان کی ہر بات بڑی، سوچ بڑی، کرم بڑےان کا ہر ایک عملایک تمثیل تھی بس دیکھنے والوں کے لئےمیں اداکار تھا اس میںتم اداکارہ تھیںاپنے محبوب کا جب ہاتھ پکڑ کر تم نےزندگی ایک نظر میں بھر کےاس کے سینے پہ بس اک آنسو سے لکھ کر دے دی
یہ مانا کہ اونچے اداکار ہیںغریبوں کے دکھ سے خبردار ہیں
شام کو پھر سے چراغاں کروں ہمت ہی نہیںقصے وہ پھر سے سناؤں تجھے قوت ہی نہیںجو دریا بہہ گیا وہ پھر نہ لوٹ کر آتاہوں اداکار اداکاری نہیں کر پاتا
مرے ڈی این اے میںاداکار لمحوں کا پیوند ہےمرا فن مسلسلہدایات ہی کا تو پابند ہے
یہاں ہر طرف ہیں اداکار چہرےمیں روداد دل کی کسے کیا بتاؤںجو خواب مسلسل ہی ارماں ہے مراوہی خواب ٹوٹا وہی پیار روٹھامناظر نے رنگ اپنے سب کھو دئے ہیںوہ جب سے خفا ہے کسے کیا بتاؤںزباں چپ ہے لیکن سراپا بیاں ہوںیہ دل کی لگی ہے کسے کیا بتاؤں
نادار آدمی کوئی زردار آدمیخرکار آدمی کوئی بیگار آدمیہے طرفہ اک تماشا پس آدمی سداپردے پہ زندگی کے اداکار آدمی
ہدف ہوں گے تمہارا کون تم کس کے ہدف ہوگےنہ جانے وقت کی پیکار میں تم کس طرف ہوگےہے رن یہ زندگی اک رن جو برپا لمحہ لمحہ ہےہمیں اس رن میں کچھ بھی ہو کسی جانب تو ہونا ہےسو ہم بھی اس نفس تک ہیں سپاہی ایک لشکر کےہزاروں سال سے جیتے چلے آئے ہیں مر مر کےشہود اک فن ہے اور میری عداوت بے فنوں سے ہےمری پیکار ازل سےیہ خسروؔ میرؔ غالبؔ کا خرابہ بیچتا کیا ہےہمارا غالبؔ اعظم تھا چور آقائے بیدلؔ کاسو رزق فخر اب ہم کھا رہے ہیں میرؔ بسمل کاسدھارت بھی تھا شرمندہ کہ دو آبے کا باسی تھاتمہیں معلوم ہے اردو جو ہے پالی سے نکلی ہےوہ گویا اس کی ہی اک پر نمو ڈالی سے نکلی ہے
تمام صوفی و سالک سبھی شیوخ و امامامید لطف پہ ایوان کج کلاہ میں ہیںمعززین عدالت بھی حلف اٹھانے کومثال سائل مبرم نشستہ راہ میں ہیں
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
تجھ سے بچھڑ کر بھی زندہ تھامر مر کر یہ زہر پیا ہےچپ رہنا آسان نہیں تھابرسوں دل کا خون کیا ہےجو کچھ گزری جیسی گزریتجھ کو کب الزام دیا ہےاپنے حال پہ خود رویا ہوںخود ہی اپنا چاک سیا ہےکتنی جانکاہی سے میں نےتجھ کو دل سے محو کیا ہےسناٹے کی جھیل میں تو نےپھر کیوں پتھر پھینک دیا ہے
جب درخت خاموش تھےاور بادل شور کر رہے تھےمیں تمہیں یاد کر رہا تھاجب عورتیں آگ روشن کر رہی تھیںمیں تمہیں یاد کر رہا تھاجب میدان سے ایک بچے کا جنازہ گزر رہا تھامیں تمہیں یاد کر رہا تھاجب قیدیوں کی گاڑی عدالت کے سامنے کھڑی تھیمیں تمہیں یاد کر رہا تھاجب لوگ عبادت گاہوں کی طرف جا رہے تھےمیں تمہیں یاد کر رہا تھاجب دنیا میں ہر شخص کے پاس ایک نہ ایک کام تھامیں تمہیں یاد کر رہا تھا
چلو چھوڑومحبت جھوٹ ہےعہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کاطلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہےخلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہےخمار وصل تپتی دھوپ کے سینے پہ اڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش!غبار ہجر صحرا میں سرابوں سے اٹے موسم کا خمیازہچلو چھوڑوکہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہچاہت کی بنا رکھ کر سفر کرتا رہا ہوں گامجھے احساس ہی کب تھاکہ تم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے رنگ بدلو گیچلو چھوڑووہ سارے خواب کچی بھربھری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھےوہ سارے ذائقے میری زباں پر زخم بن کر جم گئے ہوں گےتمہاری انگلیوں کی نرم پوریں پتھروں پر نام لکھتی تھیں مرا لیکنتمہاری انگلیاں تو عادتاً یہ جرم کرتی تھیںچلو چھوڑوسفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سرزد ہوا کرتے ہیں صدیوں سےچلو چھوڑومرا ہونا نہ ہونا اک برابر ہےتم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے دوتم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اک نیا موسم اترنے دومرے خوابوں کو مرنے دونئی تصویر دیکھوپھر نیا مکتوب لکھوپھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑومرے ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھومری یادوں سے کچے رابطے توڑوچلو چھوڑومحبت جھوٹ ہےعہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا
ہاتھ میں ہاتھ لیے سارا جہاں ساتھ لیےتحفۂ درد لیے پیار کی سوغات لیےریگزاروں سے عداوت کے گزر جائیں گےخوں کے دریاؤں سے ہم پار اتر جائیں گے
کمال حسن کہوں عیب کو جہالت کوکبھی جگاؤں نہ سوئی ہوئی عدالت کو
اس طرح کے منظر میںامتحان گاہوں میں دیکھتا ہی رہتا تھانقل کرنے والوں کےنت نئے طریقوں سےآپ لطف لیتا تھا دوستوں سے کہتا تھاکس طرف سے جانے یہآج دل کے آنگن میں اک خیال آیا ہےسیکڑوں سوالوں سا اک سوال لایا ہےوقت کی عدالت میںزندگی کی صورت میںیہ جو تیرے ہاتھوں میں اک سوال نامہ ہےکس نے یہ بنایا ہےکس لئے بنایا ہےکچھ سمجھ میں آیا ہے
۱یہ شام اک آئینۂ نیلگوں یہ نم یہ مہکیہ منظروں کی جھلک کھیت باغ دریا گاؤںوہ کچھ سلگتے ہوئے کچھ سلگنے والے الاؤسیاہیوں کا دبے پاؤں آسماں سے نزوللٹوں کو کھول دے جس طرح شام کی دیویپرانے وقت کے برگد کی یہ اداس جٹائیںقریب و دور یہ گو دھول کی ابھرتی گھٹائیںیہ کائنات کا ٹھہراؤ یہ اتھاہ سکوتیہ نیم تیرہ فضا روز گرم کا تابوتدھواں دھواں سی زمیں ہے گھلا گھلا سا فلک۲یہ چاندنی یہ ہوائیں یہ شاخ گل کی لچکیہ دور بادہ یہ ساز خموش فطرت کےسنائی دینے لگی جگمگاتے سینوں میںدلوں کے نازک و شفاف آبگینوں میںترے خیال کی پڑتی ہوئی کرن کی کھنک۳یہ رات چھنتی ہواؤں کی سوندھی سوندھی مہکیہ کھیت کرتی ہوئی چاندنی کی نرم دمکسگندھ رات کی رانی کی جب مچلتی ہےفضا میں روح طرب کروٹیں بدلتی ہےیہ روپ سر سے قدم تک حسین جیسے گناہیہ عارضوں کی دمک یہ فسون چشم سیاہیہ دھج نہ دے جو اجنتا کی صنعتوں کو پناہیہ سینہ پڑ ہی گئی دیو لوک کی بھی نگاہیہ سر زمین سے آکاش کی پرستش گاہاتارتے ہیں تری آرتی ستارہ و ماہسجل بدن کی بیاں کس طرح ہو کیفیتسرسوتی کے بجاتے ہوئے ستار کی گتجمال یار ترے گلستاں کی رہ رہ کےجبین ناز تری کہکشاں کی رہ رہ کےدلوں میں آئینہ در آئینہ سہانی جھلک۴یہ چھب یہ روپ یہ جوبن یہ سج یہ دھج یہ لہکچمکتے تاروں کی کرنوں کی نرم نرم پھواریہ رسمساتے بدن کا اٹھان اور یہ ابھارفضا کے آئینہ میں جیسے لہلہائے بہاریہ بے قرار یہ بے اختیار جوش نمودکہ جیسے نور کا فوارہ ہو شفق آلودیہ جلوے پیکر شب-تاب کے یہ بزم شہودیہ مستیاں کہ مئے صاف و درد سب بے بودخجل ہو لعل یمن عضو عضو کی وہ ڈلک۵بس اک ستارۂ شنگرف کی جبیں پہ جھمکوہ چال جس سے لبالب گلابیاں چھلکیںسکوں نما خم ابرو یہ ادھ کھلیں پلکیںہر اک نگاہ سے ایمن کی بجلیاں لپکیںیہ آنکھ جس میں کئی آسماں دکھائی پڑیںاڑا دیں ہوش وہ کانوں کی سادہ سادہ لویںگھٹائیں وجد میں آئیں یہ گیسوؤں کی لٹک۶یہ کیف و رنگ نظارہ یہ بجلیوں کی لپککہ جیسے کرشن سے رادھا کی آنکھ اشارے کرےوہ شوخ اشارے کہ ربانیت بھی جائے جھپکجمال سر سے قدم تک تمام شعلہ ہےسکون جنبش و رم تک تمام شعلہ ہےمگر وہ شعلہ کہ آنکھوں میں ڈال دے ٹھنڈک۷یہ رات نیند میں ڈوبے ہوئے سے ہیں دیپکفضا میں بجھ گئے اڑ اڑ کے جگنوؤں کے شرارکچھ اور تاروں کی آنکھوں کا بڑھ چلا ہے خمارفسردہ چھٹکی ہوئی چاندنی کا دھندلا غباریہ بھیگی بھیگی اداہٹ یہ بھیگا بھیگا نورکہ جیسے چشمۂ ظلمات میں جلے کافوریہ ڈھلتی رات ستاروں کے قلب کا یہ گدازخنک فضا میں ترا شبنمی تبسم نازجھلک جمال کی تعبیر خواب آئینہ سازجہاں سے جسم کو دیکھیں تمام ناز و نیازجہاں نگاہ ٹھہر جائے راز اندر رازسکوت نیم شبی لہلہے بدن کا نکھارکہ جیسے نیند کی وادی میں جاگتا سنسارہے بزم ماہ کہ پرچھائیوں کی بستی ہےفضا کی اوٹ سے وہ خامشی برستی ہےکہ بوند بوند سے پیدا ہو گوش و دل میں کھنک۸کسی خیال میں ہے غرق چاندنی کی چمکہوائیں نیند کے کھیتوں سے جیسے آتی ہوںحیات و موت میں سرگوشیاں سی ہوتی ہیںکروڑوں سال کے جاگے ستارے نم دیدہسیاہ گیسوؤں کے سانپ نیم خوابیدہیہ پچھلی رات یہ رگ رگ میں نرم نرم کسک
آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیاکتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیںموسم وصل کی کرنوں کا وہ انبوہ رواںجس کے ہم راہ کسی زہرہ جبیں کی ڈولیایسے اتری تھی کہ جیسے کوئی آیت اترےہجر کی شام کے بکھرے ہوئے کاجل کی لکیرجس نے آنکھوں کے گلابوں پہ شفق چھڑکی تھیجیسے خوشبو کسی جنگل میں برہنہ ٹھہرےخلقت شہر کی جانب سے ملامت کا عذابجس نے اکثر مجھے ہونے کا یقیں بخشا تھادست اعدائیں وہ کھنچتی ہوئی تہمت کی کماںبارش سنگ میں کھلتی ہوئی تیروں کی دکاںمہرباں دوست رفاقت کا بھرم رکھتے ہوئےاجنبی لوگ دل و جاں میں قدم رکھتے ہوئےآج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیاکتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیںاب نہ پندار وفا ہے نہ محبت کی جزادست اعداء کی کشش ہے نہ رفیقوں کی سزاتختۂ دار نہ منصب نہ عدالت کی خلشاب تو اک چیخ سی ہونٹوں میں دبی رہتی ہےراس آئے گا کسے دشت بلا میرے بعدکون مانگے گا اجڑنے کی دعا میرے بعدآج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
مگر یہ عید کا دن بھی تو اک حقیقت ہےکہ وجہ عید سمجھنا بھی اک عبادت ہےچلو کہ روتے ہوؤں کو ہنسا کے عید منائیںکسی کے درد کو اپنا بنا کے عید منائیںدلوں سے اپنے عداوت مٹا کے عید منائیںکسی کے لب پہ تبسم سجا کے عید منائیں
ہے دنیا جس کا ناؤں میاں یہ اور طرح کی بستی ہےجو مہنگوں کو یہ مہنگی ہے اور سستوں کو یہ سستی ہےیاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں ہر آن عدالت بستی ہےگر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کا مان رکھے تو اس کو بھی ارمان ملےجو پان کھلا دے پان ملے جو روٹی دے تو نان ملےنقصان کرے نقصان ملے احسان کرے احسان ملےجو جیسا جس کے ساتھ کرے پھر ویسا اس کو آن ملےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کی جاں بخشے تو اس کی بھی حق جان رکھےجو اور کسی کی آن رکھے تو اس کی بھی حق آن رکھےجو یاں کا رہنے والا ہے یہ دل میں اپنے جان رکھےیہ ترت پھرت کا نقشہ ہے اس نقشے کو پہچان رکھےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو پار اتارے اوروں کو اس کی بھی پار اترنی ہےجو غرق کرے پھر اس کو بھی ڈبکوں ڈبکوں کرنی ہےشمشیر تبر بندوق سناں اور نشتر تیر نہرنی ہےیاں جیسی جیسی کرنی ہے پھر ویسی ویسی بھرنی ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اوپر اونچا بول کرے تو اس کا بول بھی بالا ہےاور دے پٹکے تو اس کو بھی کوئی اور پٹکنے والا ہےبے ظلم و خطا جس ظالم نے مظلوم ذبح کر ڈالا ہےاس ظالم کے بھی لوہو کا پھر بہتا ندی نالا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو مصری اور کے منہ میں دے پھر وہ بھی شکر کھاتا ہےجو اور تئیں اب ٹکر دے پھر وہ بھی ٹکر کھاتا ہےجو اور کو ڈالے چکر میں پھر وہ بھی چکر کھاتا ہےجو اور کو ٹھوکر مار چلے پھر وہ بھی ٹھوکر کھاتا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کو ناحق میں کوئی جھوٹی بات لگاتا ہےاور کوئی غریب اور بیچارہ حق نا حق میں لٹ جاتا ہےوہ آپ بھی لوٹا جاتا ہے اور لاٹھی پاٹھی کھاتا ہےجو جیسا جیسا کرتا ہے پھر ویسا ویسا پاتا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کی پگڑی لے بھاگے اس کا بھی اور اچکا ہےجو اور پہ چوکی بٹھلاوے اس پر بھی دھونس دھڑکا ہےیاں پشتی میں تو پشتی ہے اور دھکے میں یاں دھکا ہےکیا زور مزے کا جمگھٹ ہے کیا زور یہ بھیڑ بھڑکا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےہے کھٹکا اس کے ہاتھ لگا جو اور کسی کو دے کھٹکااور غیب سے جھٹکا کھاتا ہے جو اور کسی کے دے جھٹکاچیرے کے بیچ میں چیرا ہے اور پٹکے بیچ جو ہے پٹکاکیا کہیے اور نظیرؔ آگے ہے زور تماشا جھٹ پٹکاکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books