aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "adad"
وہ اک مسافر تھا جا چکا ہےبتا گیا تھا کہ بے یقینوں کی بستیوں میں کبھی نہ رہناکبھی نہ رہنا کہ ان پہ اتنے عذاب اتریں گے جن کی گنتی عدد سے باہروہ اپنے مردے تمہارے کاندھوں پہ رکھ کے تم کو جدا کریں گےتم ان جنازوں کو قریہ قریہ لیے پھروگےفلک بھی جن سے نا آشنا ہے جنہیں زمینیں بھی رد کریں گیوہ کہہ گیا تھا ہمیشہ ذلت سے دور رہناکہ بد نصیبوں کا رزق اول انہیں زمینوں سے پیدا ہوتا ہےجن زمینوں پہ بھوری گدھوں کی نوچی ہڈی کے ریزے بکھریںتم اپنی رائے کو استقامت کی آب دیناجسے پہاڑوں کی خشک سنگیں بلندیوں سے خراج بھیجیںغلام ذہنوں پہ ایسی لعنت کی رسم رکھناجو تیری نسلوں پھر ان کی نسلوں پھر ان کی نسلوں تلک بھی جائےتمہیں خبر ہو شریف لوگوں کی اونچی گردن لچک سے ایسے ہی بے خبر ہےسواد غربت میں خیمہ گاہوں کی جیسے گاڑی ہوں خشک چوبیںکبھی نہ شانے جھکا کے چلناکہ پست قامت تمہارے قدموں سے اپنے قدموں کو جوڑ دیں گےوہی نحوست تمہیں خرابوں کی پاسبانی عطا کرے گیسراب آنکھوں کے راستوں سے تمہارے گردوں میں ریت پھینکیں گے اور سینے کو کاٹ دیں گےوہ کہہ گیا تھا یہی وہ علت کے مارے وحشی ہیں جن کی اپنی زباں نہیں ہےیہ جھاگ اڑاتے ہیں اپنے جبڑوں سے لجلجے کا تو گڑگڑاہٹ کا شور اٹھتا ہےاور بدبو بکھیرتا ہےیہی وہ بد بخت بے ہنر اور بے یقیں ہیں کہ جن کی دیت نہ خوں بہا ہےسو ان کی قربت سے دور رہنا نجات دل کا سبب بنے گاوہ اک مسافر تھا کہہ گیا ہے
کمپیوٹر کا ہے یہ دوراب جینے کا بدلا طوردفتر دفتر گھر گھر آجدیکھ لو کمپیوٹر کا راجقدم قدم پر صبح و شامکمپیوٹر ہی آئے کاماس سے ہم کیوں ہوں محرومجب کمپیوٹر کی ہے دھومدور ہمارا ہے کچھ اورکمپیوٹر سیکھو فی الفورچیز بنی حیرت انگیزاس کی میموری ہے تیزحرف سبھی اور سب اعدادکمپیوٹر رکھتا ہے یادعلم و فن سے ہے آباداچھا خاصا ہے استادہر بھاشا کر لو تحریراور بنا لو ہر تصویراس پر کر لو ہیڈ اور ٹیلپھر کھیلو من چاہے کھیلنئی چلائی اس نے ریتاس پر بھی بجتے ہیں گیتسیکھ کے کمپیوٹر بچواپنے خواب کو سچ کر لو
دائرے قوسین سن تاریخ اعداد و شمارنقطہ و زیر و زبر تشدید و مد
دق تجھ سے کتابیں ہیں بہت کرم کتابیتو دشمن دزدیدہ ہے خاکی ہو کہ آبیالفاظ کی کھیتی ہے فقط تیری چراگاہمعنی کی زمیں تیرے سب سایوں نے دابیہونے کو تری اصل ہے صیاد مکیں گاہکہنے کو فقط تیری حقیقت ہے سرابیتو نے تو ہر اک سمت لگائی ہیں سرنگیںپارینہ ہو فرمان کتابیں ہوں نصابیبادامی ہو کاغذ تو مزا اور ہی کچھ ہےلقمہ ہوا تحریر کا ہر مغز شتابیگھن ساتھ ہی گیہوں کے ہے پستہ ہوا دیکھابرگشتہ ورق لا نہ سکا تجھ پہ خرابیکیا خوب ہے یہ مجلس اوراق کہن بھیویران کتب خانوں کی دیمک تری لابیفردوسی و خلدوں کی کتابیں ہیں ہراساںوہ قلعہ معنی تیرا حملہ ہے جوابیپردہ ہے خموشی تری آہنگ فنا کیبھونرا ہے فقط کنج گلستاں کا ربابیتو چاٹ گیا دانش کہنہ کی فصیلیںبنیاد عمارت کو ہے ڈھانا تری ہابیاعداد کے قالب میں ہے تو صفر کی طاقتصفحات کے سوراخ کا بے نام حسابیتاریخ کے اس سیل میں انسان نے پائیایک آدھ کوئی موج نفس وہ بھی حبابیبکتے سر بازار ہیں مانند زغال آججو تازہ نفس خواب تغیر تھے شہابیکھا جاتی ہے اک دن اسے سب گرد زمانہمٹی کی وہ صحنک ہو کہ چینی کی رکابیبدلی ہوئی دنیا میں تغیر کا عمل ہےتو کرم کتابی نہیں اک کرم خلل ہے
ٹوٹی پھوٹی موری میں اک مچھر صاحب رہتے ہیںشاید وہ گھر میں بھی اپنے مچھر ہی کہلاتے ہیںبیویاں ان کی چار عدد ہیں مچھرانی کہلاتی ہیںموری والے گھر میں ہی جی چاروں سے بہلاتے ہیںاک دن وہ گھر سے نکلے تو واپس آنا بھول گئےمیں تو جانوں اسی طرح سے روز کہیں اڑ جاتے ہیںبیویاں ان کی چپ بیٹھی تھیں لیکن فکر تھی سب کو ہیچاروں آپس میں کہتی تھیں اب آتے اب آتے ہیںپہلی بولی سچ کہتی ہوں میں عادت سے واقف ہوںآڑے ترچھے اڑتے وہ اب بین بجاتے آتے ہیںدوسری بولی سچ کہتی ہوں میں عادت سے واقف ہوںلال کھٹولا ہرے بھرے تکیے ان پر لوٹ لگاتے ہیںتیسری بولی سچ کہتی ہوں میں عادت سے واقف ہوںکوڑا گھر کے خمیر کے اوپر رہ رہ کر منڈلاتے ہیںچوتھی بولی سچ کہتی ہوں میں عادت سے واقف ہوںباسی باسی پھلوں کے رس میں خوش ہو ہو کے نہاتے ہیں
میں اپنے آپ کو بہت یاد کر رہا ہوںکاش میں اپنے پاس ہوتا اپنے ساتھاپنے کندھے سے ہاتھ لٹکائےخود کو دلاسوں کا ایک تحفہ دیتازندگی ٹیبل پر میرے ساتھ بیٹھیمجھے دیکھ کر مسکرا رہی ہےوہ مجھ سے بھی ایک عدد مسکراہٹکی خواہش رکھتی ہےلیکن شاید وہ نہیں جانتیمسکراہٹ اور میں دو برس پہلےالگ ہو چکے ہیںاب میں اپنی پرانی تصویروں سےنفرت کرتا ہوں کیوں کہان میں موجود شخص مسکرا رہا ہےذہن پر زور دینے سے بھی وہ وجہیاد نہیں آتی جو مجھےماضی میں مسکراہٹ سے نوازتی تھیہاں اتنا یاد ہے کہ وہ محبت نہیں تھیتم جانتے ہو محبت کیا ہےمحبت ایک جوڑے کی پہلی اولاد ہےجو پروان چڑھتے ہی اپنوں کےکیے احسان بھول جاتی ہےمحبت گلیشئر ہے جو تھوڑی سیگرمی سے پگھل جاتا ہےمحبت ایک بیوہ کی اداسی ہےمحبت بانجھ عورت کیاولاد کی خواہش ہےویرانے میں اپنے گال پر بوسہدینا محبت ہےمحبت بنجر چہرے پر مسکراہٹ کیفصل اگنے کی خواہش ہےمگر میرا محبت مسکراہٹاور خواہشوں سے کوئی تعلق نہیںمیں خود کو ڈھونڈ رہا ہوںمیں دو برس پہلے محبت نامیایک دوشیزہ کے ہم راہ گم گیا تھامیں آج بھی خود کو بہت یاد کرتا ہوں
مجھے سانپ سیڑھی کےاس کھیل سےآج گھن آ رہی ہےمرے دل کے پانسے پہ کھودے گئےیہ عددمجھ کو محدود کرنے لگے ہیںبساط زیاں پرمرے خواب کا ریشمی اژدہاچال کے پیرہن کو نگلنے لگا ہےمیری جست کی سیڑھیاںسوختہ ہڈیوں کی طرحبھربھری ہو کےجھڑنے لگی ہیںکھیل ہی کھیل میںسبز چوکور خانےکسی قبر کی چار دیوار بن کرمرا دم نگلنے لگے ہیںسو اے وقت!میرے مقابل کھلاڑیآج سے تو بھی آزاد ہےمیں بھی آزاد ہوں
یہ اعداد کی قوس کب سیدھی ہوگیہمیں کیا خبر بسخدا کو خبر ہےنقابوں کی قوسیں تھیں ذمے ہمارےجو چہروں پہ سیدھے کیے ہیںکواڑوں کی قوسیں تھیں ذمے ہمارےجو کھلتے نہیں ہیںہماری بھنووں کی کمانیںدعا میں اٹھے ہاتھسجدوں رکوعوں کی قوسیںاکڑنے لگی ہیںبدن قوس تھے جو بدلنے لگے ہیںدہن قوس ہوتے نہیں ہیںخدا تیری قوس قزح کب کھلے گی
اعداد و الفاظ کی بھیڑ میںکس قدر میں اکیلا ہوںتجھ کو خبر ہے
مرے نفس کی وادیوں میں یہاں سے نکل چلنے جیسی ہوا چل رہی ہےافق تا افق اک مہکتا دھواں ہےصدا ذائقے رنگ اور لمس خوشبو میں تحلیل ہونے لگے ہیںمہ و سال رفتہ شب و روز آئندہ لمحے میں تبدیل ہونے لگے ہیںزماں ایک سکتہمکاں ایک نقطہلکیریں عدد حرف سارےنم آلود کاغذ کی ترکیب میں گھل رہے ہیںقبائے بدن سرسراتی ہے اسرار جاں زیر بند قبا کھل رہے ہیںکوئی سرمدی لو سی اٹھی ہے جس سے فضا جل رہی ہےہوا چل رہی ہے
وہ کیا سلسلہ تھاجو اک گود سے گور تک ریشمی تار سا تن گیاجس پہ چلتے زمانےخدا وند اعلیٰ کے احکام رحمت اٹھائے ہوئےرقص کرتے گزرتےتو مٹی پہ نقش و نگاران غم مسکراتےتجھے یاد آتےتجھے یاد کرتے ہوئےیوں گزرےکہ جیسے کسی بھید بھاؤ بھری چاندنی رات سےچاند کا بانکپنبادلوں کے لڑکپن کے گالے اڑاتے ہوئےخواب لبریز پریوں سےچھپ چھپ کے گزرےیہ دکھنے دکھانے کی ساری مشیعتیہ چھپنے چھپانے کی ساری اذیتکوئی جھیلتا ہےجو تو نے اکیلے میں جھیلیمیں کتنے دنوں بعد آیا ترے پاؤں چھونےحساب اس خجالت کا کرتے ہوئےکتنے آنسو گرےمیں نہیں گن سکابھیگتے پھیلتے لفظ اعداد جب بھی سمندر بناتےترے نام کی ناؤ مجھ کو کنارے لگاتیمگر یہ کنارہ کوئی کہکشاں تو نہیں تھاکہ میں تیرے لا وقت ساحل پہخود اپنے پاؤں کے مٹتے نشاں دیکھ کر مسکراتاوہ گنتی کا معکوسی زینہ تھاتحت الثری تک رواں رینگتی آبنائے تھیآنکھوں کا کاریز تھیتیری محبت کی وہ داستاںجس کو لکھنے کی کوشش میں لاکھوں ورقمیں نے کالے کیےمگر ایک لمحہ بھی میرے قلم پروہ خوش رنگ الہام بن کر نہ اتراجسے تیرے ہونٹوں کی تصدیق ملتی
گھر سے آفس جاتے ہوئےمیں روز سڑک کے دائیں بائیںدرختوں کو گنتا ہوا چلتا ہوںہمیشہ گنے ہوئے درختوں کی تعداد مختلف ہوتی ہےکبھی دو سو بیسکبھی تین سو گیارہکبھی کبھی تو درختوں کی تعداد اتنی بڑھ جاتی ہےکہ مجھے گزشتہ دن کے اعداد و شمار پرشک ہونے لگتا ہےپر ایک دن پتا چلاراستے کے درخت آدھے بھی نہیں رہےکیا آدھے درخت کاٹ دئیے گئے ہیںلیکن اگلے روز درختوں کی تعداد اتنی تھیکہ میرا خود پر سے اعتماد اٹھ گیامجھے یوں لگاجیسے کچھ درخت مجھے دیکھ کرادھر ادھر ہو جاتے ہیںکچھ دوسرے درختوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیںکچھ درخت راتوں رات اس لیے اگ آتے ہیںکہ مجھے حیران کر دیںاور کچھ اس لیے غائب ہو جاتے ہیںکہ میرا خود پر سے اعتماد ہی جاتا رہے
ایک انداز سے دیکھوں تو ہمایوں تم ہواور اک طرز کی بابر میں ہوںروز و شب درد کے پھیروں میں رہیںبار غم خود پہ اٹھانے کی دعاؤں کے سوامستجابی کا کوئی ڈھنگ نہ ہوتندرستی بھی کوئی طاق عدد ہو جیسےدو پہ تقسیم نہیں ہو سکتیمیرے آزار میں جتنا بھی اضافہ ہوگااس قدر تم کو شفا پہنچے گی
مشتہر موت کی آرزو نے اسےمضطرب کر دیا اس قدر ایک دنوہ صلیبوں کے اعداد پر روز و شبغور کرنے لگاامتحاں کے لیے دشت کو چل دیااپنے حصے کی جب منتخب کر چکااس نے تاریخ کے زرد اور ایک پرنام اپنا خوشی سے رقم کر دیا
ہیچری میں آدمی اک دن ڈھلیں گے دیکھناپہلے اک سانچہ بنے گا اس کو پرکھا جائے گانسل دیکھی جائے گی رنگت نکھاری جائے گیقد و قامت دیکھ کر اعضا تراشے جائیں گےآدمی آدم بنائے گا نیا بالکل نیاپھر اسی آدم کی تخلیق مکرر سلسلہ در سلسلہسارے سانچے توڑ دیں گے اس نئے پیکر کے بعدایک رنگت اک قد و قامت زبان و نسل ایکگنتیاں ہوں گی عدد ہوں گے بجائے نسب و نامبے خبر ماضی سے مستقبل سے نا آگاہ سبحال میں جیتے رہیں گے حال میں مر جائیں گےآدمیت دوستی انصاف امن و آشتییعنی فرسودہ لغات علمتعلیم و تلمذ ایک ساتھسب سے گہری کھائی میں تاریخ کیدفن کر کے ان سے فرصت پائیں گےپھر ستاروں کا جہاں ہوگاوہیں اڑ جائیں گے
مادی دور کے جوانوں نےعہد حاضر کے پاسبانوں نےگنتیوں کا بنا کے اک لشکرکر لیا قبضہ ساری دنیا پرہندسے ہو گئے خرد کے نقیبضرب و تقسیم سے بنی تہذیبدہر کی رہنما ہوئی تعدادکچھ نہ باقی رہا بجز اعدادآدمیت کا غم مٹا ڈالااسم کو بھی عدد بنا ڈالا
عدد ریاضی کاخوف و دہشت کا زائیدہ بن کےخونی پنجے نکالے اپنالہو کا پیاساچہار جانب سے وار کرتامحبتوں کو کھرچ رہا ہےیہ کھیل کیسا کہ سارے جھگڑےیہ ضرب و تقسیم جمع و تفریقبپا ہوئے نفرت و محبت کے درمیاں جوشکست انسانیت کے حصے میں آ گئی کیوںیہ رت جگوں کا شکار آنکھیںلبادۂ خوف میں لپٹ کربھٹک رہی ہیںخیال کی پیچ دار گلیوں میںسوچتی ہیںیہ خواب دیکھیںیا آگہی کا عذاب پلکوں کے نام لکھ کرپرند خوش رنگ خواب کے سباڑا دیں اپنی منڈیر سے ہم
آہ افسوسمیں نے کیا کچھ نہیں سہا مگر پھر بھیمیری قسمت حاملہ ہو کر ایکحقیقی خوشی کو جنم نہ دے سکیوہ بگڑتا ذہنی توازناسکول کے بنچ پر اکیلے بیٹھنے کا دکھمردہ خانے سے اپنی لاش نہ ملنے کا غمہائے وہ دوستوں کے بدلے رویےوہ چند امیدوں کے جنازے جنہیں میں نےخود سے چھپا کر ہی خود میں دفن کر دیاوہ خوابوں کے ٹوٹے ہوئے چند ٹکڑےجنہیں میں نے کسی اداس نغمے کے حوالے کر دیامیرا ہر خواب سگنل پہ سویا رہااور لوگ اپنی گاڑیوں سے انہیں کچل کر چل دئےمیں یونانی قدیم شہروں کے اونچے ملبوں پہکاغذ کی چڑیا جیسے اڑ کر ایسے گراجیسے مجھ پر صدیوں کے صدموں کا بوجھ تھاابھی بھی تم پوچھتے ہو یار ہوا کیا ہےمیں نے کتنے جھوٹے دلاسوں کے پیگ بنائےاور ایسے نوش کیے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھایہ سب حادثےمیرے دل پہ کسی ریل گاڑی کی طرح چلتے رہےاور اس کے ٹکڑے خلاؤں میں بکھر گئےوہی دل جس میںامیدیں ارمان چند خواب اور ایک عدد میرا پسندیدہ شخص بستا تھامیں اپنی بربادی پہ رویا تو میرے آنسوؤں سےمیری قسمت میں لکھی ساری خوشیاںکسی انجان دریا میں بہہ گئیںمیں اپنی بے بسی پہ ہنستاسگنل پہ اپنے خوابوں کو گالیاں بکتا رہاخود کشیاں کرنے والےخوابوں میں مجھے صبر کا درس دیتے رہےاور میں اپنی پامالی پہ اداسیکی کوکھ سے نظمیں جنتا رہاایک کے بعد ایک حادثہ میری زندگی کے کینوس سےرنگ نہیں مسکراہٹیں چھین لے گیامگر مونس جاں ایسے بھی کیامیرے کندھے تیرے دلاسے کی تھپکی کے لیے ترستے رہےاور تو یونانی خداؤں کی موجودگی پہمشکوک بحث میں گم رہامیں نے کیا کچھ نہیں سہا مونس جاںکوئٹہ کیفے کی چھت پہ بیٹھےحادثوں کا مارا ایک لڑکا رو رو کے اپنے دوستوں کو بتاتا رہاکہ ہاں میں نے یہ سب سہا ہےاس کا بنجر چہرہ چیخ چیخ کر اس کی بے بسی بیاں کر رہا تھااور اس کی دہلیز پر ایک نیا حادثہ اس کے انتظار میں تھا
میں اگر ایسا نہ کر سکاتو میرے کتبے پر لکھوا دینایہاں ایک ایسا شخص دفن ہےجس کے نام کے پہلے ہی حرف کے اعدادسب سے زیادہ تھےیعنی پورے ایک ہزارلیکن وہایک بھی نہ تھا
مرے صندوق میں اک آئنہ تھاجو مجھے چہرے دکھاتاسات درزوں پر جو پردے تھےانہیں آہستہ آہستہ ہٹاتازیست کے ننگے بدن کی داستاں مجھ کو سناتا مسکراتامجھے آئینہ گنتی بھی سکھاتانو عدد تک روک دیتا تھامجھے معلوم تھانو کے عدد میں اسم اعظم ہےحیات نو اسی نو کے عدد کا راز سر بستہیہ نو دن اور نو راتوں کا اک رنگیں ڈراما ہےپھر اس کے بعدخالی صفر تک کچھ ہونے والا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books