aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "afa.aa"
جہاں زاد میں نے حسن کوزہ گر نےبیاباں بیاباں یہ درد رسالت سہا ہےہزاروں برس بعد یہ لوگریزوں کو چنتے ہوئےجان سکتے ہیں کیسےکہ میرے گل و خاک کے رنگ و روغنترے نازک اعضا کے رنگوں سے مل کرابد کی صدا بن گئے تھےمیں اپنے مساموں سے ہر پور سےتیری بانہوں کی پہنائیاںجذب کرتا رہا تھاکہ ہر آنے والے کی آنکھوں کے معبد پہ جا کر چڑھاؤںیہ ریزوں کی تہذیب پا لیں تو پا لیںحسن کوزہ گر کو کہاں لا سکیں گےیہ اس کے پسینے کے قطرے کہاں گن سکیں گےیہ فن کی تجلی کا سایہ کہاں پا سکیں گےجو بڑھتا گیا ہے زماں سے زماں تکخزاں سے خزاں تکجو ہر نوجواں کوزہ گر کی نئی ذات میںاور بڑھتا چلا جا رہا ہے!وہ فن کی تجلی کا سایہ کہ جس کی بدولتہمہ عشق ہیں ہمہمہ کوزہ گر ہمہمہ تن خبر ہمخدا کی طرح اپنے فن کے خدا سر بسر ہمآرزوئیں کبھی پایاب تو سریاب کبھیتیرنے لگتے ہیں بے ہوشی کی آنکھوں میں کئی چہرےجو دیکھے بھی نہ ہوںکبھی دیکھے ہوں کسی نے تو سراغ ان کاکہاں سے پائےکس سے ایفا ہوئے اندوہ کے آداب کبھیآرزوئیں کبھی پایاب تو سریاب کبھی
عہد گم گشتہ کی تصویر دکھاتی کیوں ہوایک آوارۂ منزل کو ستاتی کیوں ہووہ حسیں عہد جو شرمندہ ایفا نہ ہوااس حسیں عہد کا مفہوم جتاتی کیوں ہوزندگی شعلہ بے باک بنا لو اپنیخود کو خاکستر خاموش بناتی کیوں ہومیں تصوف کے مراحل کا نہیں ہوں قائلمیری تصویر پہ تم پھول چڑھاتی کیوں ہوکون کہتا ہے کہ آہیں ہیں مصائب کا علاججان کو اپنی عبث روگ لگاتی کیوں ہوایک سرکش سے محبت کی تمنا رکھ کرخود کو آئین کے پھندوں میں پھنساتی کیوں ہومیں سمجھتا ہوں تقدس کو تمدن کا فریبتم رسومات کو ایمان بناتی کیوں ہوجب تمہیں مجھ سے زیادہ ہے زمانے کا خیالپھر مری یاد میں یوں اشک بہاتی کیوں ہوتم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کر دوورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو
جنبش مژگاں میں غلطاں ساز غم کا زیر و بمخامشی میں پر فشاں ایفائے پیماں کی قسم
جیتے جی ہم تم رہے گر یک دل و یکجا تو کیاتا دم آخر بھرا گر دم محبت کا تو کیاعمر بھر پیماں رہا منت کش ایفا تو کیاعمر بھر کا تو نے پیمان وفا باندھا تو کیاعمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے
جیسے اک ٹوٹے ہوئے دانت سےیہ ساری چٹانیں اٹھیںجیسے اک بھولے ہوئے قہقہے سےسارے ستارے ابھرےجیسے اک دانۂ انگور سےافسانوں کا سیلاب اٹھاجیسے اک بوسے کے منشور سےدریا جاگےاور اک درد کی فریاد سےانساں پھیلےانہیں ان غنچوں کو امید تھیوہ پھول بھی ان کے مانندان کی خود فہمی کی جویائی سےپیدا ہوں گےان کے اس وعدۂ مبرم ہی کاایفا ہوں گے
پھر اپنا دوش ہی کیاایفا کے سورج پگھل جاتے ہیںوعدوں کی لالی میں گھل مل جاتے ہیںہنگام طلوع و غروب سے دوردن بڑھتا ہے نا رات گزرتی ہےبہتے ہیں اجالے شوخ رسیلےاور مدماتے دھندلکے جیسے بسنتوعدے ان گنت کھلا کرتے ہیں پھولوں میںچمکا کرتے ہیں ستاروں میںدھڑکنوں میں سانسوں میں
وہی ہوا ہے یہ جان جاناںبسنت رت کی سنہری پائلبجاتی کنگنوہ پگھلے سونے پہ لہریں لیتیبدلتی رت کا پیام لیتیجوانیوں کا سلام لیتیمری نگاہوں کو تیری پلکوں سے جذب کر کےوہ تیرے ہونٹوں کے جام مے گوں سےمیرے ہونٹوں کی تشنگی کو مگس کی مانند اپنے سپنے میں جا سموتیوہی ہوا ہے یہ جان جاناںکبھی درختوںکبھی چٹانوںکبھی کتابوں میں نام لکھتیہمارے دونوں کے نام کندہوفائے ایفائے عہد کے ہیںچمکتے روشن نشاں ہمارےابھی وہیں ہیںوہیں رہیں گےملال کیسا
سو اپنا اپنا راستہہنسی خوشی بدل دیاوہ اپنی راہ چل پڑیمیں اپنی راہ چل دیا
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
اور میں جس نے تجھے اپنا مسیحا سمجھاایک زخم اور بھی پہلے کی طرح سہ جاؤںجس پہ پہلے بھی کئی عہد وفا ٹوٹے ہیںاسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤں
پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیںراہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گاڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبارلڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغسو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزاراجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغگل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغاپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لواب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا
میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل مری کہانی ہےپل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل مری جوانی ہےمجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے اور آ کر چلے گئےکچھ آہیں بھر کر لوٹ گئے کچھ نغمے گا کر چلے گئےوہ بھی اک پل کا قصہ تھے میں بھی اک پل کا قصہ ہوںکل تم سے جدا ہو جاؤں گا گو آج تمہارا حصہ ہوںپل دو پل میں کچھ کہہ پایا اتنی ہی سعادت کافی ہےپل دو پل تم نے مجھ کو سنا اتنی ہی عنایت کافی ہےکل اور آئیں گے نغموں کی کھلتی کلیاں چننے والےمجھ سے بہتر کہنے والے تم سے بہتر سننے والےہر نسل اک فصل ہے دھرتی کی آج اگتی ہے کل کٹتی ہےجیون وہ مہنگی مدرا ہے جو قطرہ قطرہ بٹتی ہےساگر سے ابھری لہر ہوں میں ساگر میں پھر کھو جاؤں گامٹی کی روح کا سپنا ہوں مٹی میں پھر سو جاؤں گاکل کوئی مجھ کو یاد کرے کیوں کوئی مجھ کو یاد کرےمصروف زمانہ میرے لیے کیوں وقت اپنا برباد کرے
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاںچلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلےجو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلےنظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلےہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشادکہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
دل میں اک شعلہ بھڑک اٹھا ہے آخر کیا کروںمیرا پیمانہ چھلک اٹھا ہے آخر کیا کروںزخم سینے کا مہک اٹھا ہے آخر کیا کروںاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجحوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آجآبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آجحسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آججس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہارتیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدارتیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردارتا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصارکوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو کہ بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہےتپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہےپاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہےبن کے سیماب ہر اک ظرف میں ڈھل جاتی ہےزیست کے آہنی سانچے میں بھی ڈھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےزندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیںنبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیںاڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیںجنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیںاس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےگوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیےفرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیےقہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیےزہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیےرت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیںتجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیںتو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیںتیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیںاپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکلضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکلنفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکلقید بن جائے محبت تو محبت سے نکلراہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑتیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑطوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑتوڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویںتیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیںہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیںمیں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیںلڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
جب گھلی تیری راہوں میں شام ستمہم چلے آئے لائے جہاں تک قدملب پہ حرف غزل دل میں قندیل غماپنا غم تھا گواہی ترے حسن کیدیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہمہم جو تاریک راہوں پہ مارے گئے
نہیں ہو تم مرے اور میرا فردا بھی نہیں میراسو میں نے ساحت دیروز میں ڈالا ہے اب ڈیرامرے دیروز میں زہر ہلاہل تیغ قاتل ہےمرے گھر کا وہی سرنام تر ہے جو بھی بسمل ہےگزشت وقت سے پیمان ہے اپنا عجب سا کچھسو اک معمول ہے عمران کے گھر کا عجب سا کچھ
کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہےوہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہےیہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہےیہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہےاک ذرا ہاتھ بڑھا دیں تو پکڑ لیں دامنان کے سینے میں سما جائے ہماری دھڑکناتنی قربت ہے تو پھر فاصلہ اتنا کیوں ہےدل برباد سے نکلا نہیں اب تک کوئیاس لٹے گھر پہ دیا کرتا ہے دستک کوئیآس جو ٹوٹ گئی پھر سے بندھاتا کیوں ہےتم مسرت کا کہو یا اسے غم کا رشتہکہتے ہیں پیار کا رشتہ ہے جنم کا رشتہہے جنم کا جو یہ رشتہ تو بدلتا کیوں ہے
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہماراہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہماراغربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میںسمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہماراپربت وہ سب سے اونچا ہم سایہ آسماں کاوہ سنتری ہمارا وہ پاسباں ہماراگودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاںگلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارااے آب رود گنگا وہ دن ہے یاد تجھ کواترا ترے کنارے جب کارواں ہمارامذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھناہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارایونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سےاب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہماراکچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماریصدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارااقبالؔ کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میںمعلوم کیا کسی کو درد نہاں ہمارا
اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہےمہتاب نہ سورج، نہ اندھیرا نہ سویراآنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمناور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیراممکن ہے کوئی وہم تھا، ممکن ہے سنا ہوگلیوں میں کسی چاپ کا اک آخری پھیراشاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شایداب آ کے کرے گا نہ کوئی خواب بسیرااک بَیر، نہ اک مہر، نہ اک ربط نہ رشتہتیرا کوئی اپنا، نہ پرایا کوئی میرا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books