aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "andoh-e-gam"
کوئی دیکھے یہ مجبوریاں دوریاںایک ہی شہر میں ہم کہاں تم کہاںدوستوں نے بھی چھوڑی ہیں دال داریاںآج وقف غم الفت رائیگاںہم جو پھرتے ہیں وحشت زدہ سرگراںتھے کبھی صاحب آبرو شہر میںلوگ طعنوں سے کیا کیا جتاتے نہیںایسے راہی تو منزل کو پاتے نہیںجی سے اک دوسرے کو بھلاتے نہیںسامنے بھی مگر آتے جاتے نہیںاور جائیں تو آنکھیں ملاتے نہیںہائے کیا کیا نہیں گفتگو شہر میں
دل پیت کی آگ میں جلتا ہے ہاں جلتا ہے اسے جلنے دواس آگ سے تم تو دور رہو ٹھنڈی نہ کرو پنکھا نہ جھلوہر محفل میں ہم دونوں کی کیا کیا نہیں باتیں ہوتی ہیںان باتوں کا مفہوم ہے کیا تم کیا سمجھو تم کیا جانودل چل کے لبوں تک آ نہ سکا لب کھل نہ سکے غم جا نہ سکااپنا تو بس اتنا قصہ تھا تم اپنی سناؤ اپنی کہووہ شام کہاں وہ رات کہاں وہ وقت کہاں وہ بات کہاںجب مرتے تھے مرنے نہ دیا اب جیتے ہیں اب جینے دو
چاند کب سے ہے سر شاخ صنوبر اٹکاگھاس شبنم میں شرابور ہے شب ہے آدھیبام سونا ہے، کہاں ڈھونڈیں کسی کا چہرا(لوگ سمجھیں گے کہ بے ربط ہیں باتیں اپنی)شعر اگتے ہیں دکھی ذہن سے کونپل کونپلکون موسم ہے کہ بھرپور ہیں غم کی بیلیںدور پہنچے ہیں سرکتے ہوئے اودے بادلچاند تنہا ہے (اگر اس کی بلائیں لے لیں؟)دوستو جی کا عجب حال ہے، لینا بڑھناچاندنی رات ہے کاتک کا مہینہ ہوگامیر مغفور کے اشعار نہ پیہم پڑھناجینے والوں کو ابھی اور بھی جینا ہوگاچاند ٹھٹھکا ہے سر شاخ صنوبر کب سےکون سا چاند ہے کس رت کی ہیں راتیں لوگودھند اڑنے لگی بننے لگی کیا کیا چہرےاچھی لگتی ہیں دوانوں کی سی باتیں لوگوبھیگتی رات میں دبکا ہوا جھینگر بولاکسمساتی کسی جھاڑی میں سے خوشبو لپکیکوئی کاکل کوئی دامن، کوئی آنچل ہوگاایک دنیا تھی مگر ہم سے سمیٹی نہ گئی
اگر اس گلشن ہستی میں ہونا ہی مقدر تھاتو میں غنچوں کی مٹھی میں دل بلبل ہوا ہوتاگناہوں میں ضرر ہوتا، دعاؤں میں اثر ہوتامحبت کی نظر ہوتا، حسینوں کی ادا ہوتافروغ چہرۂ محنت، غبار دامن دولتنم پیشانیٔ غیرت، خم زلف رسا ہوتاہوا ہوتا کسی دستار کج پر پھول کی طرحاور اس دستار کج کی تمکنت پر ہنس رہا ہوتاکسی مغرور کی گردن پہ ہوتا بوجھ احساں کاکسی ظالم کے دل میں درد ہو کر لا دوا ہوتاکسی منعم کے چہرہ پر خوشی حاجت روائی کیکسی نادار کی نظروں میں شرم التجا ہوتاکسی بھٹکے ہوئے راہی کو دیتا دعوت منزلبیاباں کی اندھیری شب میں جوگی کا دیا ہوتاکسی کے کلبۂ احزاں میں شمع مضمحل بن کرکسی بیمار مفلس کے سرہانے رو رہا ہوتاشرر بن کر کسی نادار گھر کے سرد چولھے میں''بصد امید فردا'' زیر خاکستر دبا ہوتایتیم بے نوا کی رہگزر پر اشرفی بن کرلئیم فاقہ کش کی جیب ممسک سے گرا ہوتانیستاں سے نکل کر حسرت آباد تمدن میںگدائے پیر و نا بینا کے ہاتھوں کا عصا ہوتاشکستہ جھونپڑے میں بانسریٔ دہقاں کی سر بن کرسکوت نیم شب میں راز ہستی کہہ رہا ہوتاغرض اس حسرت و اندوہ و یاس و غم کی بستی میںکہیں دور آفریں ہوتا، کہیں درد آشنا ہوتا''ڈبویا مجھ کو ہونے نے'' بقول غالب دانا''نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا''
زندگی وہم ہے حقیقت ہےشجر درد سایۂ غم ہے
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیںموت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
قلب پیوندئ غم تو ہوگیشہر میں کوئی دھڑکتا ہوا دل۔۔۔دل کی کوئی تازہ قلم تو ہوگی
سوز و گداز غم کا ہوں افسانۂ خموشسمجھو برنگ ساز سراپا سخن مجھے
کیوں داد غم ہمیں نے طلب کی برا کیاہم سے جہاں میں کشتۂ غم اور کیا نہ تھے
مجھے رونے دو رونے دواسی پیپل کے سائے میںجہاں اک درد کی تاثیر کا مارابتاتا تھا کہ راز درد و غم کیا ہےمداوائے الم کیا ہے
جشن بہاراں میں آجقصیدۂ گل چھیڑیںمحفل میں رنگ بھر دیںاور عنایت گل کا پھربہار کو احسان مند کر دیںکہ جیسے سعادت غم سےگراں بار دل زخم زخم گل سےبہار جاں فزا کا سزاواراک الگ طرح سےپھر اس گل پیرہن کو آجدل سوزیٔ جاں کا قرض اٹھائےسپاس نامۂ بہار غم میںمرحبا مرحبا کہہ دیں
خار زار غم کو پیروں سے کچلنا ہے ہمیںجادۂ منزل میں گرنا ہے سنبھلنا ہے ہمیں
کسی نے جب بھی کوئی بات مجھ سے پوچھی ہےدروغ مصلحت آمیز سے لیا ہے کامکہا ہے اشک کو شبنم تو داغ کو لالہکبھی سواد شب غم کو نور کا ہالہ
پتھروں کو زباں تو ملی پر تکلم نہیںپتھروں کو خد و خال انساں ملے دولت درد و غم کب ملی
میں آج تم سے مخاطب ہوں میرے ہم وطنوکہ طبع شکوۂ غم آج کچھ زیادہ ہےمزاج اپنا تنک ظرف تو نہیں لیکنوطن میں زور و ستم آج کچھ زیادہ ہے
نہ جانے میرے دل کی خود فریبی کیوں نہیں جاتیتخیل سے حسیں خوابوں کے منظر گم نہیں ہوتےمری جاں سے فسون سوز و غم چھن کیوں نہیں جاتانہ جانے میرے دل کی خود فریبی کیوں نہیں جاتی
آج بھی خار زار غم خلد بریں مرے لیےآج بھی رہ گزار عشق میرے لیے ہے کہکشاں
بہہ گئے آنسوؤں میں خواب مرےمیرے ہمراز و غم گسار و جلیس
اپنے بس کا نہیں بار سنگ ستمبار سنگ ستم، بار کہسار غمجس کو چھو کر سبھی اک طرف ہو گئےبات کی بات میں ذی شرف ہو گئے
نگار شام غم میں تجھ سے رخصت ہونے آیا ہوںگلے مل لے کہ یوں ملنے کی نوبت پھر نہ آئے گیسر راہے جو ہم دونوں کہیں مل بھی گئے تو کیایہ لمحے پھر نہ لوٹیں گے یہ ساعت پھر نہ آئے گی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books