aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "antar"
بارش دیکھتی ہے کہ اسے کہاں برسنا ہےاور دھوپ جانتی ہے کہ اسے کہاں نہیں جانامگر وہ جاتی ہے اور شکار ہوتی ہےاور کانٹوں میں پھنس کر بٹ جاتی ہےاور ریت کے ذروں کی طرحزمین سے اٹھائی نہیں جاتیرات سمجھتی ہے اور سمجھ کر خاموش رہتی ہےصرف اپنے کونوں پر گرہیں لگاتی رہتی ہےاور کہتی ہےآ مل ڈھولن یار کدیکیدارے کے تانے بانے میںدیکھ تو میں نے کیا بنا ہےایک پھولبن! ایک راس بناور ابدھارے دھارے چلی جاتی ہوں میںبن بیچ اتروں، کانٹے رنگ دوں؟دھارے دھارے بہی جاتی ہوںاور بھید نہیں پاتی ہوںنہ پل چھن کانہ یگوں یگوں کے انتر کاتم سندر گیانی شانت ہوئےموہے اپنی سیت کرو سوامیسب چڑیاں اک سنگ بولتی ہیںموہے اپنی سیت کرو سوامی اور دور کہیں اڑ جاتی ہیںمیں اپنے ہر اک کونے پر چالیس گرہیں لگواتی ہوںتن جونک جونک ڈسواتی ہوںاور دھوپ کو یہ معلوم نہیںکب مجھ پر سایہ کرنا ہے! کب مجھ کو روشن کرنا ہےکب میری خاک اڑانی ہےکب میرے انگ انگ بھرنا ہےمیں گٹھری گیلے کپڑوں کیکس گھاٹ مجھے اب دھرنا ہے!
بندر چوہا اور خرگوشہنستے ہنستے تھے بے ہوشپاس تھی ایک گلہری بھیتھی چوہے سے موٹی بھیاور کتا تھا منہ کھولےٹانگوں میں تھا نیکر پہنےسب سے بڑی تھی لومڑیتھی اس کی موٹی کھوپڑییہ سب ہی پیار سے رہتے تھےسب ناچتے گاتے ہنستے تھےاک دن وہ بولے خوش ہو کےہم آنکھ مچولی کھیلیں گےجو پکڑا جائے چور بنےاس کی آنکھوں پہ پٹی بندھےجو بھی پکڑا نہ جائے گاآخر راجہ کہلائے گاپہلے کتے کی باری تھیاس کی سب سے ہی یار تھیاس نے سوچا کس کو پکڑوںآخر میں کس کو چور کہوںاتنے میں بولا بندر بھیآئے ہیں میاں چھچھوندر بھیکہتے ہیں میں بھی کھیلوں گامیں آخر سب کو پکڑوں گاکتے نے کہا آنے دو اسےہاں چور ذرا بننے دو اسےیہ سن کے شیخی میں آ کےخود آپ چھچھوندر نے بڑھ کےکتے سے کہا مجھ کو پکڑومیرے منہ پہ پٹی باندھومیں ہر ایک کو پکڑوں گاآخر راجہ کہلاؤں گااحمق تھے میاں چھچھوندر بھیپڑھتے تھے انتر منتر بھیکوئی بھی ہاتھ نہ آتا تھاکوئی بھی چور نہ بنتا تھاتھک تھک کے حال خراب ہوالیکن نہ کوئی کسی کو ہاتھ لگااچھا نہیں شیخی میں آنااچھا نہیں ہوتا اترانا
کھائیں چقندر چھو منترلال ٹماٹر چھو منترانتر منتر چھو منترکال کلنتر چھو منترتجھ میں مجھ میںکیا ہے انتر چھو منتربول قلندر چھو منتربول رے کچھ تو منہ سے بولبات میں تیری زہر کا گھولاندر باہر خول ہی خولبیٹھ کے سنیے دور کے ڈھولاندر باہر چھو منتربند ہے مٹھی میرے یاراس کا کھلنا ہے دشوارہو جاؤ تم بھی تیارکھیلیں مل کر کھیل ہزارسات سمندر چھو منترانتر منتر چھو منتر
گھور اندھ کار تھا اگیان کا جاری ہر سوگیان اگیان کے انتر کو مٹاتا آیا
ہر روز کی طرح دنآج بھیسورج کی گواہی لے کرآخر اندھیری گلیوں میں گھس آیااور ہماپنے اپنے گھر کے نیایے دھیشسورج کی گواہی کے عادی ہو چکے ہیںسچ مان لیتے ہیں اور یوںکہیں نہ کہیں اپنے ہی بکھراؤ میںساجھی ہو چکے ہیںہمیں اس سورج کی گواہی نہیں چاہیےجو کسی پیشے ور گواہ کی طرحدن کی پرتیت کرانےپیلے چہروں پرکچے گھروں کے آنگن میںکرونا کا بیج بن اگنا چاہتا ہےنہیں چاہئے ہمیںاس سورج کی گواہی جو ہر بارنیا سوانگ بھرصبح سے شام تک ٹوکرے ڈھونے والےجیونت چہروں کا مکھوٹا لگا کراوڑھی ہوئی ناگرکتا میں نہا کروہ سورج اب ٹھنڈا پڑ چکا ہےاور ابہمارے ہی انتر سے سلگنا چاہتا ہےہم سورج کواپنے لال توے کے اوپرپکتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیںسورج نہیں ہے کسی کی بپوتیہر بستی کی امید ہے وہگویا ہر ہاتھ کی روٹی
نہ میرے پاؤں کی انگلی انگوٹھے سے بڑی ہےنہ میرے ہاتھ کی وہ لکیرکہیں سے بھی کٹی ہوئی ہےپھر تم کیوں میرے ساتھ نہیں ہوتم میں اور مجھ میںیہ انتر ایسا کیوں ہےمیں جو کہتی ہوں وہ غلط ہےتم جو کرتے ہو وہ سچ ہے
کون تھا وہ سادھو اور آج کہاں غائب ہےوہ پھل کیا ہے جو ہر روز ملے ہم کو لیکن ہم اس کاانتر دیکھ نہ پائیں اس کی قدر نہ جانیںظاہر کے سادھارن روپ میں اندر کا چمکیلا ہیراجس نے بھی پہچانا اپنے آپ کو جانا
بڑھ کے اس اندر سبھا کا ساز و ساماں پھونک دوںاس کا گلشن پھونک دوں اس کا شبستاں پھونک دوںتخت سلطاں کیا میں سارا قصر سلطاں پھونک دوںاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاجب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیاتلتی ہے کہیں دیناروں میں بکتی ہے کہیں بازاروں میںننگی نچوائی جاتی ہے عیاشوں کے درباروں میںیہ وہ بے عزت چیز ہے جو بٹ جاتی ہے عزت داروں میںعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیامردوں کے لئے ہر ظلم روا عورت کے لیے رونا بھی خطامردوں کے لئے ہر عیش کا حق عورت کے لیے جینا بھی سزامردوں کے لئے لاکھوں سیجیں، عورت کے لیے بس ایک چتاعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاجن سینوں نے ان کو دودھ دیا ان سینوں کو بیوپار کیاجس کوکھ میں ان کا جسم ڈھلا اس کوکھ کا کاروبار کیاجس تن سے اگے کونپل بن کر اس تن کو ذلیل و خوار کیاسنسار کی ہر اک بے شرمی غربت کی گود میں پلتی ہےچکلوں ہی میں آ کر رکتی ہے فاقوں سے جو راہ نکلتی ہےمردوں کی ہوس ہے جو اکثر عورت کے پاپ میں ڈھلتی ہےعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاعورت سنسار کی قسمت ہے پھر بھی تقدیر کی ہیٹی ہےاوتار پیمبر جنتی ہے پھر بھی شیطان کی بیٹی ہےیہ وہ بد قسمت ماں ہے جو بیٹوں کی سیج پہ لیٹی ہےعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
حسنؔ نامی ہمارے گھر میں اک سقراطؔ گزرا ہےوہ اپنی نفی سے اثبات تک معشر کے پہنچا ہےکہ خون رایگاں کے امر میں پڑنا نہیں ہم کووہ سود حال سے یکسر زیاں کارانہ گزرا ہےطلب تھی خون کی قے کی اسے اور بے نہایت تھیسو فوراً بنت اشعت کا پلایا پی گیا ہوگاوہ اک لمحے کے اندر سرمدیت جی گیا ہوگا
میں نے مانا کہ تم اک پیکر رعنائی ہوچمن دہر میں روح چمن آرائی ہوطلعت مہر ہو فردوس کی برنائی ہوبنت مہتاب ہو گردوں سے اتر آئی ہو
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوںکہ چلتی گاڑی سے پیڑ دیکھوتو ایسا لگتا ہےدوسری سمت جا رہے ہیںمگر حقیقت میںپیڑ اپنی جگہ کھڑے ہیںتو کیا یہ ممکن ہےساری صدیاںقطار اندر قطار اپنی جگہ کھڑی ہوںیہ وقت ساکت ہواور ہم ہی گزر رہے ہوںاس ایک لمحے میںسارے لمحےتمام صدیاں چھپی ہوئی ہوںنہ کوئی آئندہنہ گزشتہجو ہو چکا ہےجو ہو رہا ہےجو ہونے والا ہےہو رہا ہےمیں سوچتا ہوںکہ کیا یہ ممکن ہےسچ یہ ہوکہ سفر میں ہم ہیںگزرتے ہم ہیںجسے سمجھتے ہیں ہمگزرتا ہےوہ تھما ہےگزرتا ہے یا تھما ہوا ہےاکائی ہے یا بٹا ہوا ہےہے منجمدیا پگھل رہا ہےکسے خبر ہےکسے پتا ہےیہ وقت کیا ہے
خیر اس بات کو تو چھوڑ بتا کیسی ہےتو نے چاہا تھا جسے وہ ترے نزدیک تو ہےکون سے غم نے تجھے چاٹ لیا اندر سےآج کل پھر سے تو چپ رہتی ہے سب ٹھیک تو ہے
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
جبرئیلہمدم دیرینہ کیسا ہے جہان رنگ و بوابلیسسوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزوجبرئیلہر گھڑی افلاک پر رہتی ہے تیری گفتگوکیا نہیں ممکن کہ تیرا چاک دامن ہو رفوابلیسآہ اے جبریل تو واقف نہیں اس راز سےکر گیا سرمست مجھ کو ٹوٹ کر میرا سبواب یہاں میری گزر ممکن نہیں ممکن نہیںکس قدر خاموش ہے یہ عالم بے کاخ و کوجس کی نومیدی سے ہو سوز درون کائناتاس کے حق میں تقنطو اچھا ہے یا لاتقنطواجبرئیلکھو دیئے انکار سے تو نے مقامات بلندچشم یزداں میں فرشتوں کی رہی کیا آبروابلیسہے مری جرأت سے مشت خاک میں ذوق نمومیرے فتنے جامۂ عقل و خرد کا تار و پودیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزم خیر و شرکون طوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے میں کہ توخضر بھی بے دست و پا الیاس بھی بے دست و پامیرے طوفاں یم بہ یم دریا بہ دریا جو بہ جوگر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سےقصۂ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہومیں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرحتو فقط اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو
محبتیں شوق کی چٹانوںسے گھاٹیوں میں اتر گئی ہیں
یہ تین کوٹ ہیں پتلون ہیں یہ ٹائیاں ہیںبندھی ہوئی ہیں یہ سب تم کو کچھ نہیں کرنایہ ویلیمؔ ہے اونٹلؔ ہے اور ٹرپٹیؔ نالتم ان کے ساتھ مری جاں ڈرنک سے ڈرنا
جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگےیہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسفکی دکان پر میں نے دیکھاتو تیری نگاہوں میں وہ تابناکیتھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوںجہاں زاد نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!یہ وہ دور تھا جس میں میں نےکبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانبپلٹ کر نہ دیکھاوہ کوزے مرے دست چابک کے پتلےگل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاںوہ سر گوشیوں میں یہ کہتےحسن کوزہ گر اب کہاں ہے؟وہ ہم سے خود اپنے عمل سےخدا وند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزراکہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرےتغاروں میں مٹیکبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میںسنگ بستہ پڑی تھیصراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداںمری ہیچ مایہ معیشت کے اظہار فن کے سہارےشکستہ پڑے تھےمیں خود میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہسر چاک ژولیدہ مو سر بہ زانوکسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کےگل و لا سے خوابوں کے سیال کوزے بناتا رہا تھاجہاں زاد نو سال پہلےتو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھیکہ میں نے حسن کوزہ گر نےتری قاف کی سی افق تاب آنکھوںمیں دیکھی ہے وہ تابناکیکہ جس سے مرے جسم و جاں ابر و مہتاب کارہگزر بن گئے تھےجہاں زاد بغداد کی خواب گوں راتوہ رود دجلہ کا ساحلوہ کشتی وہ ملاح کی بند آنکھیںکسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیےایک ہی رات وہ کہربا تھیکہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجوداس کی جاں اس کا پیکرمگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلاحسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!
یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا،مزا گھلتا ہے لفظوں کا زباں پرکہ جیسے پان میں مہنگا قمام گھلتا ہےیہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا۔۔۔۔نشہ آتا ہے اردو بولنے میںگلوری کی طرح ہیں منہ لگی سب اصطلاحیںلطف دیتی ہے، حلق چھوتی ہے اردو تو، حلق سے جیسے مے کا گھونٹ اترتا ہےبڑی ارسٹوکریسی ہے زباں میںفقیری میں نوابی کا مزا دیتی ہے اردواگرچہ معنی کم ہوتے ہے اردو میںالفاظ کی افراط ہوتی ہےمگر پھر بھی، بلند آواز پڑھیے تو بہت ہی معتبر لگتی ہیں باتیںکہیں کچھ دور سے کانوں میں پڑتی ہے اگر اردوتو لگتا ہے کہ دن جاڑوں کے ہیں کھڑکی کھلی ہے، دھوپ اندر آ رہی ہےعجب ہے یہ زباں، اردوکبھی کہیں سفر کرتے اگر کوئی مسافر شعر پڑھ دے میرؔ، غالبؔ کاوہ چاہے اجنبی ہو، یہی لگتا ہے وہ میرے وطن کا ہےبڑی شائستہ لہجے میں کسی سے اردو سن کرکیا نہیں لگتا کہ ایک تہذیب کی آواز ہے, اردو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books