aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "arab"
چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارامسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہماراتوحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارےآساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارادنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کاہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہماراتیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیںخنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارامغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماریتھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہماراباطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہمسو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارااے گلستان اندلس وہ دن ہیں یاد تجھ کوتھا تیری ڈالیوں میں جب آشیاں ہمارااے موج دجلہ تو بھی پہچانتی ہے ہم کواب تک ہے تیرا دریا افسانہ خواں ہمارااے ارض پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہمہے خوں تری رگوں میں اب تک رواں ہماراسالار کارواں ہے میر حجاز اپنااس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارااقبالؔ کا ترانہ بانگ درا ہے گویاہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا
چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایانانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایاتاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایاجس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایامیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہےیونانیوں کو جس نے حیران کر دیا تھاسارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھامٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھاترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھامیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہےٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سےپھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سےوحدت کی لے سنی تھی دنیا نے جس مکاں سےمیر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سےمیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہےبندے کلیم جس کے پربت جہاں کے سینانوح نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینارفعت ہے جس زمیں کی بام فلک کا زیناجنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینامیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
(اندلس کے میدان جنگ میں)یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندےجنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائیدو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریاسمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائیدو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کوعجب چیز ہے لذت آشنائیشہادت ہے مطلوب و مقصود مومننہ مال غنیمت نہ کشور کشائیخیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سےقبا چاہیئے اس کو خون عرب سےکیا تو نے صحرا نشینوں کو یکتاخبر میں نظر میں اذان سحر میںطلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کووہ سوز اس نے پایا انہیں کے جگر میںکشاد در دل سمجھتے ہیں اس کوہلاکت نہیں موت ان کی نظر میںدل مرد مومن میں پھر زندہ کر دےوہ بجلی کہ تھی نعرۂ لا تذر میںعزائم کو سینوں میں بیدار کر دےنگاہ مسلماں کو تلوار کر دے
کیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاںمجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و سازلے گئے تثلیث کے فرزند ميراث خليلخشت بنیاد کلیسا بن گئی خاک حجازہو گئی رسوا زمانے میں کلاہ لالہ رنگجو سراپا ناز تھے ہیں آج مجبور نيازلے رہا ہے مے فروشان فرنگستاں سے پارسوہ مے سرکش حرارت جس کی ہے مينا گدازحکمت مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئیٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گازہو گیا مانند آب ارزاں مسلماں کا لہومضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے رازگفت رومی ہر بنائے کہنہ کآباداں کنندمی نداني اول آں بنیاد را ویراں کنندملک ہاتھوں سے گیا ملت کی آنکھیں کھل گئیںحق ترا چشمے عطا کر دست غافل در نگرمومیائی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکستمور بے پر حاجتے پیش سلیمانے مبرربط و ضبط ملت بيضا ہے مشرق کی نجاتایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبرپھر سیاست چھوڑ کر داخل حصار ديں میں ہوملک و دولت ہے فقط حفظ حرم کا اک ثمرایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئےنیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغرجو کرے گا امتياز رنگ و خوں مٹ جائے گاترک خرگاہی ہو یا اعرابیٔ والا گہرنسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہو گئیاڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزرتا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوارلا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگراے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باشاے گرفتار ابوبکر و علي ہشيار باشعشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چکیاب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھتو نے دیکھا سطوت رفتار دريا کا عروجموج مضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجیر دیکھعام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نےاے مسلماں آج تو اس خواب کی تعبیر دیکھاپنی خاکستر سمندر کو ہے سامان وجودمر کے پھر ہوتا ہے پیدا یہ جہان پیر دیکھکھول کر آنکھیں مرے آئينۂ گفتار میںآنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھآزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردوں کے پاسسامنے تقدیر کے رسوائی تدبير دیکھمسلم استی سینہ را از آرزو آباد دارہر زماں پیش نظر لایخلف المیعاد دار
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماںچشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں!حسن ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجوددل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں!سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب!کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!گرد سے پاک ہے ہوا برگ نخیل دھل گئےریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاںآگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھرکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواںآئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہیاہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہیکس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیاتکہنہ ہے بزم کائنات تازہ ہیں میرے واردات!کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میںبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات!ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میںنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلاتقافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات!صدق خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق!معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق!آیۂ کائنات کا معنئ دیر یاب تو!نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو!جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوقجلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کدو!میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو!باد صبا کی موج سے نشو و نمائے خار و خس!میرے نفس کی موج سے نشو و نمائے آرزو!خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورشہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو!فرصت کشمکش میں ایں دل بے قرار رایک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تابدار رالوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب!گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب!شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا اماممیرا قیام بھی حجاب !میرا سجود بھی حجاب!تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب!تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے!طبع زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے!تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شبمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم تخیل بے رطب!تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا!عشق تمام مصطفی! عقل تمام بو لہب!گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب!عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھاگرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے ادب!گرمئ آرزو فراق! شورش ہائے و ہو فراق!موج کی جستجو فراق! قطرہ کی آبرو فراق!
اردو کا غم مرگ سبک بھی ہے گراں بھیہے شامل ارباب عزا شاہ جہاں بھیمٹنے کو ہے اسلاف کی عظمت کا نشاں بھییہ میت غم دہلی مرحوم سے نکلےاردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
اس خاک دل نشیں سے چشمے ہوئے وہ جاریچین و عرب میں جن سے ہوتی تھی آبیاری
زمانہ اب بھي نہيں جس کے سوز سے فارغميں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود ميں ہےتري دوا نہ جنيوا ميں ہے ، نہ لندن ميںفرنگ کي رگ جاں پنجہ يہود ميں ہےسنا ہے ميں نے ، غلامي سے امتوں کي نجاتخودي کي پرورش و لذت نمود ميں ہے
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
نیک بچے دل سے کرتے ہیں ادب استاد کاباپ کی الفت سے بہتر ہے غضب استاد کاعام لوگوں کی جہالت دور کرنے کے لیےحق تعالی نے بنایا ہے سبب استاد کااس کی برکت سے جہاں میں پھیلتی ہیں نیکیاںکیوں نہ پھر استاد سے راضی ہو رب استاد کاکچھ نہ کچھ عمدہ سبق دیتی ہے اس کی زندگیخلق سے خالی نہیں ہے کوئی ڈھب استاد کاجس گھڑی نادان بچوں کو سکھاتا ہے وہ علمچوم لیتے ہیں فرشتے آ کے لب استاد کابس اسے پڑھنے پڑھانے سے ہمیشہ کام ہےکتنا اچھا مشغلہ ہے روز و شب استاد کاخواہ ساری عمر اس کے پاؤں دھو دھو کر پئےآدمی سے حق ادا ہوتا ہے کب استاد کاامتحاں میں حل نہ ہو جس دم کوئی مشکل سوالخود پسندوں کو پتا چلتا ہے تب استاد کاشکر کے جذبات سے گردن جھکا لیتا ہوں میںیاد آتا ہے مجھے احسان جب استاد کاکل زمانے کی نگاہوں میں وہ عزت پائے گامرتبہ پہچان جائے گا جو اب استاد کااس کی عالمگیر حیثیت ہے شاہوں کی طرحکل عجم استاد کا ہے کل عرب استاد کاچل رہے ہیں آج دنیا میں ہزاروں محکمےسچ اگر پوچھو تو ہے یہ فیضؔ سب استاد کا
یا رب رہے سلامت اردو زباں ہماریہر لفظ پر ہے جس کے قربان جاں ہماریمصری سی تولتا ہے شکر سی گھولتا ہےجو کوئی بولتا ہے میٹھی زباں ہماریہندو ہو پارسی ہو عیسائی ہو کہ مسلمہر ایک کی زباں ہے اردو زباں ہماریدنیا کی بولیوں سے مطلب نہیں ہمیں کچھاردو ہے دل ہمارا اردو ہے جاں ہماریدنیا کی کل زبانیں بوڑھی سی ہو چکی ہیںلیکن ابھی جواں ہے اردو زباں ہماریاپنی زبان سے ہے عزت جہاں میں اپنیگر ہو زباں نہ اپنی عزت کہاں ہماریاردو کی گود میں ہم پل کر بڑے ہوئے ہیںسو جاں سے ہم کو پیاری اردو زباں ہماریآزادؔ و میرؔ و غالبؔ آئیں گے یاد برسوںکرتی ہے ناز جن پر اردو زباں ہماریایفریقا ہو عرب ہو امریکہ ہو کہ یورپپہنچی کہاں نہیں ہے اردو زباں ہماریمٹ جائیں گے ہم مٹنے نہ دیں گے اس کوہے جان و دل سے پیاری ہم کو زباں ہماری
اے فلسفہ گو،کہاں وہ رویائے آسمانی؟کہاں یہ نمرود کی خدائی!تو جال بنتا رہا ہے، جن کے شکستہ تاروں سے اپنے موہوم فلسفے کےہم اس یقیں سے' ہم اس عمل سے' ہم اس محبت سے'آج مایوس ہو چکے ہیں!کوئی یہ کس سے کہے کہ آخرگواہ کس عدل بے بہا کے تھے عہد تاتار کے خرابے؟عجم، وہ مرز طلسم و رنگ و خیال و نغمہعرب، وہ اقلیم شیر و شہد و شراب و خرمافقط نواسنج تھے در و بام کے زیاں کے،جو ان پہ گزری تھیاس سے بد تر دنوں کے ہم صید ناتواں ہیں!کوئی یہ کس سے کہے:در و بام،آہن و چوب و سنگ و سیماں کےحسن پیوند کا فسوں تھےبکھر گیا وہ فسوں تو کیا غم؟اور ایسے پیوند سے امید وفا کسے تھی!
دیکھتا ہے کون صحرا کے بگولوں کی طرفجو نظر اٹھتی ہے بس جاتی ہے پھولوں کی طرفعیش میں رہ کر ہمیں کچھ بھی خیال غم نہیںمسکراہٹ لب پہ ہے آنکھیں مگر پر نم نہیںدیکھتا اس کے کرشمے کس کو اتنا ہوش تھاپتی پتی دم بخود تھی گل چمن خاموش تھامحو نظارہ تھیں آنکھیں دل میں طاری بے خودیمجھ کو دیوانہ کئے دیتی تھی پھولوں کی ہنسیدیکھتی تھی میں بھی یہ حسن چمن رنگ بہارناگہاں آئی صدائے دل کہ غافل ہوشیارکھول آنکھیں دیکھ اپنے مسلموں کا حال زاران کو تو ان کافر یہودوں نے بنایا ہے شکاران مظالم پر بھی تو سرشار ہے مدہوش ہےمسجدوں میں جانور بندھتے ہیں تو خاموش ہیںنام کو باقی نہیں اسلام کا عز و وقارتیری آنکھوں سے مگر جاتا نہیں اب تک خمارہم ہیں حالانکہ بہت یہ ہو چکا ہے انقلابسن رہے ہیں داستان غم مگر کیا دیں جوابہو کے پابند حکومت کس قدر مجبور ہیںیعنی کوسوں ہم عرب کی منزلوں سے دور ہیںہوک اٹھتی ہے یہ سن میرے دل ناکام میںپلٹنیں کفار کی ہوں خانۂ اسلام میں
راتیں آنکھوں میں جادو کا کاجل لگائے ہوئےشامیں نیلی ہوا کی نمی میں نہائی ہوئیصبحیں شبنم کے باریک ملبوس پہنے ہوئےخواب آلود کہسار کے سلسلےجنگلوں کے گھنے سائےمٹی کی خوشبومہکتی ہوئی کونپلیںپتھروں کی چٹانیںاپنی بانہوں کو بحر عرب میں سمیٹے ہوئے
خطیب اعظم عرب کا نغمہ عجم کی لے میں سنا رہا ہےسر چمن چہچہا رہا ہے سر وغا مسکرا رہا ہےحدیث سرو و سمن نچھاور زبان شمشیر اس پہ قرباںمسیلمہ ایسے جعل سازوں کی بیخ و بنیاد ڈھا رہا ہےقرون اولی کی رزم گاہوں سے مرتضیٰ کا جلال لے کردبیز نیندیں جھنجھوڑتا ہے مجاہدوں کو جگا رہا ہےہیں اس کی للکار سے ہراساں محمد مصطفی کے باغیوفا کے جھنڈے گڑے ہوئے ہیں غنیم پر دندنا رہا ہےمیں اس کے چہرے کی مسکراہٹ سے ایسا محسوس کر رہا ہوںکہ جیسے کوثر پہ شام ہوتے کوئی دیا جھلملا رہا ہےوہ مرد درویش جس کو حق نے دئیے ہیں انداز خسروانہاسی کی صورت کو تک رہا ہے سفر سے لوٹا ہوا زمانہ
کرے يہ کافر ہندي بھي جرات گفتاراگر نہ ہو امرائے عرب کي بے ادبي!يہ نکتہ پہلے سکھايا گيا کس امت کو؟وصال مصطفوي ، افتراق بولہبي!نہيں وجود حدود و ثغور سے اس کامحمد عربي سے ہے عالم عربي
باہر یہ چاہے جیسی ہو گھر میں تو ادب سے آتی ہےجب آدھی رات گزر جائے پروین کلب سے آتی ہے
تماشا گہہ لالہ زار''تیاتر'' پہ میری نگاہیں جمی تھیںمرے کان ''میوزک'' کے زیر و بم پر لگے تھےمگر میرا دل پھر بھی کرتا رہا تھاعرب اور عجم کے غموں کا شمارتماشا گہہ لالہ زار!
منگول' شک کشان دراوڑ کہ ہون ہوںوہ آریہ عرب ہوں کہ اہل فنون ہوں
پہلے زمانہ اور تھا مے اور تھی دور اور تھاوہ بولیاں ہی اور تھیں وہ ٹولیاں ہی اور تھیں، وہ ہولیاں ہی اور تھیںلیکن مرے پیر مغاںکل تو نیا انداز تھااک دور کا تھا خاتمہ اک دور کا آغاز تھاتیرے وفاداروں نے جب کھیلیں گلابی ہولیاںنکلے بنا کر ٹولیاںہنستے چلے گاتے چلےاپنے گلابی رنگ سے دنیا کو نہلاتے چلےمسجد سے منہ موڑے ہوئےمندر کا سنگ آستاں چھوڑے ہوئےگرجا سے کترائے ہوئےجیسے کہ ہوں روحانیت کی زندگانی ہی سے گھبرائے ہوئےدور وفاداری کا یہ انجام تھافکر گنہ گاری کا تازہ دل ربا پیغام تھاتیرے ہی کوچے میں یہ سب عہد وفا توڑے گئےرشتے نئے جوڑے گئےاور پھر گنہ گاروں نے کیا رندانہ ہنگامے کیےاس وقت ان کو یاد تھا بس ایک ترسانا ترامفلسوں ناداروں کو للچانا تراجب میکدے کی گود میںتیرے جفا تیری سزا کے نام پر ساغر چلےسوکھے ہوئے کاسے لبالب بھر چلےسب اپنے لب تر کر چلےپھر توڑ دیں وہ پیالیاں جن میں سدا پی آئے تھےشیشے چھنا چھن چھن چھنا چھن ٹوٹتےاور رند لذت لوٹتےٹوٹے ہوئے شیشوں کا اک انبار تھاشیشوں کے اس انبار میں اک وہ بھی کہنہ جام تھاجس کو سکندر کے قوی ہیکل جواںبھاگے تھے پورس کی زمیں کو چھوڑ کران میں وہ کاسے بھی تو ہیں جن کو عرب لے آئے تھےاپنی عبا سے ڈھانپ کرپینے سے پہلے دیکھتے تھے محتسب کو جھانک کرلیکن کبھیپینے سے باز آتے نہ تھے فاتح جو تھےان میں ہیں ایسے جام بھیجن پر پٹھانوں کے قوی ہاتھوں کے دھندلے سے نشاںکچھ آج بھی موجود ہیںاور ان نشانوں میں ہے خوں مفتوح ہندستان کااور ان میں ہیں وہ جام بھی جن کو مغل لے آئے تھےتاتار سے قندھار سے کابل سے رکنا باد سےمفتوح ہندستان میںجن کو وہ اپنے قصر عالیشاں میں چھلکاتے رہےتیغوں سے کھنکاتے رہےاور وہ حسیں نازک سبک ہلکی صراحی کس کی ہےپیرس کے مے خانوں میں یہ مشہور تھیلایا تھا اک تاجر اسے جو بعد میں فاتح بنایہ ہلکے شیشوں کے گلاس اور یہ نئے ہلکے سے پیگجن پر لکھا ہے یہ بنے تھے ملک انگلستان میںاور حال کی صدیوں میں چلتے رہےپینے کو مل جاتی تھی پی لیتے تھے ہملیکن تہی دستی کا یہ عالم تھا دل جلتے رہےہم آج گھبرا ہی گئےاور ان سبھی شیشوں کو چکناچور کر ڈالا وفور جوش میںچھن چھن چھنا چھن توڑ کرجیسے کہ بربادی کی دیوی چھم چھما چھم ناچتیہولی منانے کے لیے مے خانے میں آ ہی گئےٹوٹے ہوئے شیشوں کے اس انبار پرہم نے جلائی آگ یوںزردشت کا پاکیزہ دل سچائیوں پر ہنس دیاجیسے کہ یہ کہنے لگاجلنے دو جلنے دو یوں ہی شیشے پگھلنے دو یوں ہیتیرے وفاداروں نے یوں پیر مغاںشب بھر جلائیں ہولیاںنعرے وہ مستانے لگے اس جوش میںدل گر پڑے احساس کی آغوش میںاور بول اٹھے تسلیم اے پیر مغاں جاتے ہیں ہمکل پھر پلٹ کر آئیں گےاس وقت اس مے خانے میں سامان ہوں گے دوسرےتیرے پرانے ذہن کے معیار توڑے جائیں گےتعمیر نو کی جائے گیلیکن ہمارے سال خوردہ مہرباں پیر مغاںتجھ کو برا لگتا ہے کیوںغیروں کا کیا تیرا بھی کیایہ مے کدہ ہم سب کا ہے پنچایتیتو کیا ہے تیرا خوف کیاکہہ تو دیا پیر مغاں کل پلٹ کر آئیں گےہرگز نہ ہم باز آئیں گےکس کو ڈراتا ہے کہ تم اس کی سزا پا جاؤ گےگاتے تھے ہم گاتے ہیں ہم گائیں گے ہمہرگز نہ باز آئیں گے ہمجھیلیں گے جیتے جائیں گےپیروں میں ہے زنجیر لیکن ٹوٹ بھی سکتی ہے یہہاں آج ہستی قید ہے کل چھوٹ بھی سکتی ہے یہگانے دے گانے دے ہمیںدھومیں مچانے دے ہمیںشیشے کو شیشے سے لڑانے دے ہمیںچھن چھن چھنا چھن کی صدابڑھنے دے بڑھنے دے ابھیہم مست و بے خود ناچتے گاتے جلاتے توڑتےہنستے رہیں چلتے رہیںاور تو بھی خود پیر مغاںہولی کے نغمے سن ذرا اور دیکھ اپنی آنکھ سےتیرے وفاداروں نے کیا کھیلیں گلابی ہولیاںمنہ مے کدے سے موڑ کر ہولی کی یہ ٹولی چلیگل زار میںسبزے لچکتی ڈالیاں گنجان، سندر جھاڑیاںپانی کی سینچی کیاریاں، کانٹوں میں چبھتی پتیاںیہ سب سہی لیکن یہاں وہ شے کہاںجس کے لیے مشہور ہے انگور نابہاں کیا کہا پیر مغاںتلووں کے نیچے پھول ہیں ان میں سے دو اک چن بھی لوںخالی ہیں گلدستے ترےتجھ کو نہیں معلوم ابھیخالی یہ گلدستے ترے خالی ہی رہ جائیں گے ابپھولوں نے ٹھانی ہے کہ شاخوں ہی پہ مر جائیں گے اباور تیرے کمروں میں وہ نہ آئیں گے ابمنہ بند کلیاں اب کہاںجو اپنی سندر موہنی مسکان کر دیں رائیگاںاور اپنا گلشن چھوڑ دیں سینے میں خوشبوئیں لیےاور اجنبی ماحول میںطاق نظر کی کانپتی زینت بنیںکلیوں کے منہ اب کھل چکے منہ بند کلیاں اب کہاںکلیاں کہاں یہ پھول ہیںخاک چمن کی گود میں آرام جاں یہ پھول ہیںآتش زباں یہ پھول ہیںاور دیکھ تو یہ پھول کتنے شوخ ہیںجو ٹوٹ کر شاخوں سے گر جاتے ہیں تیری راہ میںاے دلکش پیر مغاںیہ چاہتے ہیں روک دیں گل زار میں راہیں تریتیرے لیے چارہ ہی کیا اب رہ گیاان بے حیا پھولوں کی آنکھوں کا تو پانی بہہ گیااب ہیں یہ ان کی جرأتیں روکیں گے تیرے راستےتو بھی خدا کے واسطےان کو کچل دے پیس دےورنہ خدا نخواستہیہ روک ہی لیں راستہکلیاں نہیں کانٹے ہیں یہکانٹوں سے بھی بد تر ہیں یہ نشتر ہیں یہ خنجر ہیں یہگل زار میں تیرے قدم کچھ آج تو آئے نہیںتو نے انہیں سبزوں پہ کی ہے مے کشیصدیوں سے تیرا دور ہےگل زار پر ہے حق تراتو ڈر گیا پیر مغاںکتنا بھیانک خواب تھاتعبیر کچھ بھی ہو مگرتیرے وفاداروں نے کلکس آن سے کس بان سے کس شان سےکھیلیں گلابی ہولیاں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books