aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "asbaab"
حسنؔ نامی ہمارے گھر میں اک سقراطؔ گزرا ہےوہ اپنی نفی سے اثبات تک معشر کے پہنچا ہے
اسباب غم عشق بہم کرتے رہیں گےویرانی دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے
دولت بڑھی تو ملک میں افلاس کیوں بڑھاخوشحالئ عوام کے اسباب کیا ہوئے
بدل جائے گا انداز طبائع دور گردوں سےنئی صورت کی خوشیاں اور نئے اسباب غم ہوں گے
اسباب ظاہری میں نہ ان پر کرو نظرکیا جانے کیا ہے پردۂ قدرت میں جلوہ گر
گھر سے لایا تھا جو کچھ طبع رواں ذہن رساساتھ اس کے رہے اسباب تباہی بن کر
مطلق الحکم ہے شیرازۂ اسباب ابھیساغر ناب میں آنسو بھی ڈھلک جاتے ہیں
وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سےدیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے
ہو گیا ہوں اس لیے بد نام میں اصحاب میںآؤٹ کر ڈالا ہے پیپر عالم اسباب میں
باقی ہیں نہ وہ باغ نہ وہ قصر نہ ایواںآرام کے اسباب نہ وہ عیش کے ساماں
ہر ایک جسم کو آسودگی کی خواہش تھیہر ایک آنکھ میں اسباب کی پرستش تھی
آ رہی ہیں آسماں سے یہ صدائیں دم بہ دمدیکھ اسباب ہلاکت پر نہ پڑ جائے قدم
تو میں اپنے سفر کواپنے اسباب کے ساتھ
ارباب بزم بھر تو وہ شاہ اپنے لے کرسب ہم نشین حسب دل خواہ اپنے لے کر
شاعری ہی نہیں کچھ باعث عزت مجھ کواور بہت کچھ حسد و رشک کے اسباب میں ہے
میں لوٹ کے اب جو آئی ہوںاسباب بہت سے لائی ہوں
ڈرو اس وقت سے جب ایسا خوفجس کے اسباب نہیں ملتے ہیں
سن کے یہ فرزند سے ہوتی ہے حیرانی مجھے''لکھ دیا منجملۂ اسباب ویرانی مجھے''
اسے اسباب سے بھری ہوئی دنیا سےکچھ میسر آیا
تجھے یہ لگتا ہے اسباب وصل کچھ بھی نہیںبدن اداسی پہ چلمن نما قبائیں ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books