aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "asbaab"
حسنؔ نامی ہمارے گھر میں اک سقراطؔ گزرا ہےوہ اپنی نفی سے اثبات تک معشر کے پہنچا ہےکہ خون رایگاں کے امر میں پڑنا نہیں ہم کووہ سود حال سے یکسر زیاں کارانہ گزرا ہےطلب تھی خون کی قے کی اسے اور بے نہایت تھیسو فوراً بنت اشعت کا پلایا پی گیا ہوگاوہ اک لمحے کے اندر سرمدیت جی گیا ہوگا
اسباب غم عشق بہم کرتے رہیں گےویرانی دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے
آؤ کہ آج غور کریں اس سوال پردیکھے تھے ہم نے جو وہ حسیں خواب کیا ہوئےدولت بڑھی تو ملک میں افلاس کیوں بڑھاخوشحالئ عوام کے اسباب کیا ہوئےجو اپنے ساتھ ساتھ چلے کوئے دار تکوہ دوست وہ رفیق وہ احباب کیا ہوئےکیا مول لگ رہا ہے شہیدوں کے خون کامرتے تھے جن پہ ہم وہ سزا یاب کیا ہوئےبے کس برہنگی کو کفن تک نہیں نصیبوہ وعدہ ہائے اطلس و کمخواب کیا ہوئےجمہوریت نواز بشر دوست امن خواہخود کو جو خود دیے تھے وہ القاب کیا ہوئےمذہب کا روگ آج بھی کیوں لا علاج ہےوہ نسخہ ہائے نادر و نایاب کیا ہوئےہر کوچہ شعلہ زار ہے ہر شہر قتل گاہیکجہتئ حیات کے آداب کیا ہوئےصحرائے تیرگی میں بھٹکتی ہے زندگیابھرے تھے جو افق پہ وہ مہتاب کیا ہوئےمجرم ہوں میں اگر تو گنہ گار تم بھی ہواے رہبران قوم خطا کار تم بھی ہو
بدل جائے گا انداز طبائع دور گردوں سےنئی صورت کی خوشیاں اور نئے اسباب غم ہوں گے
رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نامراہ وفا کی منزل اول ہوئی تماممنظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظامدامن سے اشک پونچھ کے دل سے کیا کلاماظہار بے کسی سے ستم ہوگا اور بھیدیکھا ہمیں اداس تو غم ہوگا اور بھیدل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نونہالخاموش ماں کے پاس گیا صورت خیالدیکھا تو ایک در میں ہے بیٹھی وہ خستہ حالسکتا سا ہو گیا ہے یہ ہے شدت ملالتن میں لہو کا نام نہیں زرد رنگ ہےگویا بشر نہیں کوئی تصویر سنگ ہےکیا جانے کس خیال میں گم تھی وہ بے گناہنور نظر یہ دیدۂ حسرت سے کی نگاہجنبش ہوئی لبوں کو بھری ایک سرد آہلی گوشہ ہائے چشم سے اشکوں نے رخ کی راہچہرہ کا رنگ حالت دل کھولنے لگاہر موئے تن زباں کی طرح بولنے لگاآخر اسیر یاس کا قفل دہن کھلاافسانۂ شدائد رنج و محن کھلااک دفتر مظالم چرخ کہن کھلاوا تھا دہان زخم کہ باب سخن کھلادرد دل غریب جو صرف بیاں ہواخون جگر کا رنگ سخن سے عیاں ہوارو کر کہا خموش کھڑے کیوں ہو میری جاںمیں جانتی ہوں جس لیے آئے ہو تم یہاںسب کی خوشی یہی ہے تو صحرا کو ہو رواںلیکن میں اپنے منہ سے نہ ہرگز کہوں گی ہاںکس طرح بن میں آنکھوں کے تارے کو بھیج دوںجوگی بنا کے راج دلارے کو بھیج دوںدنیا کا ہو گیا ہے یہ کیسا لہو سپیداندھا کیے ہوئے ہے زر و مال کی امیدانجام کیا ہو کوئی نہیں جانتا یہ بھیدسوچے بشر تو جسم ہو لرزاں مثال بیدلکھی ہے کیا حیات ابد ان کے واسطےپھیلا رہے ہیں جال یہ کس دن کے واسطےلیتی کسی فقیر کے گھر میں اگر جنمہوتے نہ میری جان کو سامان یہ بہمڈستا نہ سانپ بن کے مجھے شوکت و حشمتم میرے لال تھے مجھے کس سلطنت سے کممیں خوش ہوں پھونک دے کوئی اس تخت و تاج کوتم ہی نہیں تو آگ لگا دوں گی راج کوکن کن ریاضتوں سے گزارے ہیں ماہ و سالدیکھی تمہاری شکل جب اے میرے نونہالپورا ہوا جو بیاہ کا ارمان تھا کمالآفت یہ آئی مجھ پہ ہوئے جب سفید بالچھٹتی ہوں ان سے جوگ لیا جن کے واسطےکیا سب کیا تھا میں نے اسی دن کے واسطےایسے بھی نامراد بہت آئیں گے نظرگھر جن کے بے چراغ رہے آہ عمر بھررہتا مرا بھی نخل تمنا جو بے ثمریہ جائے صبر تھی کہ دعا میں نہیں اثرلیکن یہاں تو بن کے مقدر بگڑ گیاپھل پھول لا کے باغ تمنا اجڑ گیاسرزد ہوئے تھے مجھ سے خدا جانے کیا گناہمنجدھار میں جو یوں مری کشتی ہوئی تباہآتی نظر نہیں کوئی امن و اماں کی راہاب یاں سے کوچ ہو تو عدم میں ملے پناہتقصیر میری خالق عالم بہل کرےآسان مجھ غریب کی مشکل اجل کرےسن کر زباں سے ماں کی یہ فریاد درد خیزاس خستہ جاں کے دل پہ چلی غم کی تیغ تیزعالم یہ تھا قریب کہ آنکھیں ہوں اشک ریزلیکن ہزار ضبط سے رونے سے کی گریزسوچا یہی کہ جان سے بیکس گزر نہ جائےناشاد ہم کو دیکھ کے ماں اور مر نہ جائےپھر عرض کی یہ مادر ناشاد کے حضورمایوس کیوں ہیں آپ الم کا ہے کیوں وفورصدمہ یہ شاق عالم پیری میں ہے ضرورلیکن نہ دل سے کیجیے صبر و قرار دورشاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کیکچھ مصلحت اسی میں ہو پروردگار کییہ جعل یہ فریب یہ سازش یہ شور و شرہونا جو ہے سب اس کے بہانے ہیں سر بسراسباب ظاہری میں نہ ان پر کرو نظرکیا جانے کیا ہے پردۂ قدرت میں جلوہ گرخاص اس کی مصلحت کوئی پہچانتا نہیںمنظور کیا اسے ہے کوئی جانتا نہیںراحت ہو یا کہ رنج خوشی ہو کہ انتشارواجب ہر ایک رنگ میں ہے شکر کرد گارتم ہی نہیں ہو کشتہ نیرنگ روزگارماتم کدے میں دہر کے لاکھوں ہیں سوگوارسختی سہی نہیں کہ اٹھائی کڑی نہیںدنیا میں کیا کسی پہ مصیبت پڑی نہیں
میں کہ خود اپنی ہی آواز کے شعلوں کا اسیرمیں کہ خود اپنی ہی زنجیر کا زندانی ہوںکون سمجھے گا جہاں میں مرے زخموں کا حسابکس کو خوش آئے گا اس دہر میں روحوں کا عذابکون آ کر مرے مٹنے کا تماشا دیکھےکس کو فرصت کہ اجڑتی ہوئی دنیا دیکھےکون بھڑکی ہوئی اس آگ کو اپنائے گاجو بھی آئے گا مرے ساتھ ہی جل جائے گاوہ گھڑی کون تھی جب مجھ کو ملا تھا بن باسایک جھونکا بھی ہوا کا نہ وطن سے آیانے کوئی نکہت گل اور نہ کوئی موج نسیمپھر کوئی ڈھونڈنے مجھ کو نہ چمن سے آیامیں وہ اک لعل ہوں جو بک گیا بازاروں میںپھر کوئی پوچھنے مجھ کو نہ یمن سے آیایاد کرتے ہوئے اک یوسف گم گشتہ کوکچھ دنوں روئی تو ہوگی مرے گھر کی دیوارکچھ دنوں گاؤں کی گلیوں میں اداسی ہوگیکچھ دنوں کھل نہ سکے ہوں گے ترے ہار سنگھارکچھ دنوں کے لیے سنسان سا لگتا ہوگاآم کے باغ میں بے چین پھری ہوگی بہارمیں نے اک پیڑ پہ جو نام لکھا تھا اپناکچھ دنوں زخم کے مانند وہ تازہ ہوگامیرے سب دوست اسے دیکھ کے کہتے ہوں گےجانے کس دیس میں بیچارہ بھٹکتا ہوگاعمر بھر کون کسے یاد کیا کرتا ہےایک اک کر کے مجھے سب نے بھلایا ہوگاہائے ان کو بھی خبر کیا کہ وہ اک زخم نصیبزندگی کے لیے نکلا تھا جو راہی بن کرآج تک پا نہ سکا چشمۂ آب حیواںاس کو سورج بھی ملے ہیں تو سیاہی بن کرگھر سے لایا تھا جو کچھ طبع رواں ذہن رساساتھ اس کے رہے اسباب تباہی بن کرمیرا یہ جرم کہ میں صاحب ادراک و شعورمیرا یہ عیب کہ اک شاعر و فن کار ہوں میںمجھ کو یہ ضد ہے کہ میں سر نہ جھکاؤں گا کبھیمجھ کو اصرار کہ جینے کا سزا وار ہوں میںمجھ کو یہ فخر کہ میں حق و صداقت کا امیںمجھ کو یہ زعم خود آگاہ ہوں خوددار ہوں میںایک اک موڑ پہ آلام و مصائب کے پہاڑایک اک گام پہ آفات سے ٹکرایا ہوںایک اک زہر کو ہنس ہنس کے پیا ہے میں نےایک اک زخم کو چن چن کے اٹھا لایا ہوںایک اک لمحے کی زنجیر سے میں الجھا ہوںایک اک سانس پہ خود آپ سے شرمایا ہوںیوں تو کہنے کی نہیں بات مگر کہتا ہوںپیار کا نام کتابوں میں لکھا دیکھا ہےجب کبھی ہاتھ بڑھایا ہے کسی کی جانبفاصلہ اور بھی کچھ بڑھتا ہوا دیکھا ہےبوند بھر دے نہ سکا کوئی محبت کی شرابیوں تو مے خانہ کا مے خانہ لٹا دیکھا ہے
تیرگی ہے کہ امنڈتی ہی چلی آتی ہےشب کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو جیسےچل رہی ہے کچھ اس انداز سے نبض ہستیدونوں عالم کا نشہ ٹوٹ رہا ہو جیسےرات کا گرم لہو اور بھی بہہ جانے دویہی تاریکی تو ہے غازۂ رخسار سحرصبح ہونے ہی کو ہے اے دل بے تاب ٹھہرابھی زنجیر چھنکتی ہے پس پردۂ سازمطلق الحکم ہے شیرازۂ اسباب ابھیساغر ناب میں آنسو بھی ڈھلک جاتے ہیںلغزش پا میں ہے پابندیٔ آداب ابھیاپنے دیوانوں کو دیوانہ تو بن لینے دواپنے مے خانوں کو مے خانہ تو بن لینے دوجلد یہ سطوت اسباب بھی اٹھ جائے گییہ گراں بارئ آداب بھی اٹھ جائے گیخواہ زنجیر چھنکتی ہی چھنکتی ہی رہے
اے کہ تیرا مرغ جاں تار نفس میں ہے اسیراے کہ تیری روح کا طائر قفس میں ہے اسیراس چمن کے نغمہ پیراؤں کی آزادی تو دیکھشہر جو اجڑا ہوا تھا اس کی آبادی تو دیکھفکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے یہیصبر و استقلال کی کھیتی کا حاصل ہے یہیسنگ تربت ہے مرا گرویدۂ تقریر دیکھچشم باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھمدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیم دیںترک دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیںوا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباںچھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامۂ محشر یہاںوصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سےدیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سےمحفل نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑرنگ پر جو اب نہ آئیں ان فسانوں کو نہ چھیڑتو اگر کوئی مدبر ہے تو سن میری صداہے دلیری دست ارباب سیاست کا عصاعرض مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھےنیک ہے نیت اگر تیری تو کیا پروا تجھےبندۂ مومن کا دل بيم و ريا سے پاک ہےقوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہےہو اگر ہاتھوں میں تیرے خامہ معجز رقمشیشۂ دل ہو اگر تیرا مثال جام جمپاک رکھ اپنی زباں تلمیذ رحمانی ہے توہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبروسونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سےخرمن باطل جلا دے شعلۂ آواز سے
جو سوال امپارٹینٹ آتا ہے ہر اک باب میںغور سے دیکھا ہے اس کو دن دہاڑے خواب میںہو گیا ہوں اس لیے بد نام میں اصحاب میںآؤٹ کر ڈالا ہے پیپر عالم اسباب میںکچھ تو ہے آخر جو گیس پیپر میں آیا یاد تھاجس نے پیپر سیٹ کیا ہے وہ مرا استاد تھا
دنیا کا یہ انجام ہے دیکھ اے دل ناداںہاں بھول نہ جائے تجھے یہ مدفن ویراںباقی ہیں نہ وہ باغ نہ وہ قصر نہ ایواںآرام کے اسباب نہ وہ عیش کے ساماں
مری جھکی ہوئی آنکھیں تلاش کرتی رہیںکوئی ضمیر کا لہجہ کوئی اصول کی باتگزر گئی مری پلکوں پہ جاگتی ہوئی راتندامتوں کا پسینہ جبیں پہ پھوٹ گیامری زباں پہ ترا نام آ کے ٹوٹ گیاقبول کر یہ ندامت کہ اس پسینے کیہر ایک بوند میں چنگاریوں کے سانچے ہیںقبول کر مرے چہرے کی جھریاں جن میںکہیں جنوں کہیں تہذیب کے طمانچے ہیںسنبھال میرا سبک ہدیۂ غم ادراکجو مجھ کو سات سمندر کا زہر پی کے ملاثقافتوں کے ہر آتش فشاں میں جی کے ملاطلب کیا مجھے یونان کے خداؤں نےجنم لیا مرے سینے میں دیوتاؤں نےفریب و حرص کے ہر راستے سے موڑ دیااور اس کے بعد سپر مارکٹ پہ چھوڑ دیاجہاں بس ایک ہی معیار آدمیت تھاہجوم مرد و زناں محو سیر و وحشت تھاگھڑی کا حسن نئے ریڈیو کی زیبائیپلاسٹک کے کنول نائلان کی ٹائیاطالیہ کے نئے بوٹ ہانگ کانگ کے ہارکرائسلر کی نئی رینج، ٹوکیو کے سنگارہر ایک جسم کو آسودگی کی خواہش تھیہر ایک آنکھ میں اسباب کی پرستش تھییہ انہماک قیادت میں بھی نہیں ملتایہ سوئے نفس عبادت میں بھی نہیں ملتا
آ رہی ہیں آسماں سے یہ صدائیں دم بہ دمدیکھ اسباب ہلاکت پر نہ پڑ جائے قدم
اگر مجھے ایک زندگیاور مل جائےتو میں اپنے سفر کواپنے اسباب کے ساتھباندھ کر رکھوں
ارباب بزم بھر تو وہ شاہ اپنے لے کرسب ہم نشین حسب دل خواہ اپنے لے کرچالاک چست کافر گمراہ اپنے لے کردس بیس گل رخوں کو ہم راہ اپنے لے کریوں ہیں بھگونے مجھ کو وہ خوش جمال آیا
شاعری ہی نہیں کچھ باعث عزت مجھ کواور بہت کچھ حسد و رشک کے اسباب میں ہےمجھ کو حاصل ہے وہ معیار شب و روز کہ جواس کے محبوب کے ہاتوں میں نہیں خواب میں ہے
جو عرصہ پہلے ٹوٹ گیاکچھ یادیں ان میں باقی ہیںفریادیں بھی کچھ باقی ہیںشہنائی کا ہے کوئی مدھم سران دیواروں میں گونج رہاآؤ چلیں اس کھنڈر میںجو عرصہ پہلے ٹوٹ گیاکچھ سائے ہمارے بچپن کےکچھ یاد ہمارے لوگوں کیاس کھنڈر سے وابستہ ہیںتھی نقش بہت سی تصویریںاس کھنڈر کی دیواروں پرتم جانتے ہو وہ کس کی تھیںکچھ بچوں کی کچھ بوڑھوں کیکچھ میرے اپنے بچپن کیآؤ چلیں اس کھنڈر میںجو عرصہ پہلے ٹوٹ گیااورساتھ بہت کچھ لوٹ گیاوہ دیکھ رہے ہو بنجر تلاس کھنڈر کا وہ حصہ تھاتب صحن اسے ہم کہتے تھےسب مل کے اس میں روتے تھےشام کی اکثر چائے ہماس جا پر بیٹھ کے پیتے تھےآؤ چلیں اس حصے میںجہاں بیٹھ کے ہم سب پڑھتے تھےشور مچایا کرتے تھےاور سب کو ہنسایا کرتے تھےکبھی لڑتے تھے کبھی روتے تھےیہ دیکھو یہ جو مٹی ہےہم اس میں کھیلا کرتے تھےاور گھنٹوں کھیلا کرتے تھےوہ دیکھو وہ ٹوٹی ڈیوڑھیمیرے گھر کی چوکھٹ ہےہر سال نیا سا رنگ کوئیہم لوگ چڑھاتے تھے اس پرجانتے ہو یہ کھنڈر کبھیآباد بھی تھا شاداب بھی تھاہم لوگ اسی میں رہتے تھےیہ گھر تھا ہمارا پیارا سااور پیارے پیارے لوگ بہت سےساتھ ہمارے رہتے تھےہم جشن منایا کرتے تھےان چاہنے والے لوگوں کےلہجے کی لہک آنکھوں کی چمکقدموں کی دھمکاس گھر کی فضا میں گونج رہیتم غور کرو آہستہ چلویہ کھنڈر نہیں ہے گھر ہے مرااس گردش دوراں نے جس کویوں لوٹ لیا برباد کیامیں لوٹ کے اب جو آئی ہوںاسباب بہت سے لائی ہوںپر سننے والا کوئی نہیںنایاب ہوئے وہ لوگ سبھیوہ آنکھیں تھک کے مند بھی گئیجو رات کو جاگا کرتی تھیںاب یہ تو بس اک کھنڈر ہےآؤ چلیں اس کھنڈر میں
ڈرو اس وقت سے جب ایسا خوفجس کے اسباب نہیں ملتے ہیںزندگانی میں چلا آتا ہے
مجھ سے ملنے کو شریف انسان آ سکتے نہیںبار غم یاران دیرینہ اٹھا سکتے نہیںدرد دل سنتے نہیں مجھ کو سنا سکتے نہیںبیوی اور بچے بھی کھانا ساتھ کھا سکتے نہیںسن کے یہ فرزند سے ہوتی ہے حیرانی مجھے''لکھ دیا منجملۂ اسباب ویرانی مجھے''
اس کے لہجے میں شام ہو رہی تھیاور راستے راستوں کو چھوڑتے ہوئےکسی اور راستے پر جا رہے تھےاس کا بدن خود سے الگ ہونے کے لئےاپنے ہی بدن سے پوچھ رہا تھاکنوارے رہنے کی تپسیا اکارت گئیکسی چاہنے والے کواس نے ایک بوسہ بھی نہیں دیااس کی مٹی نے کسی اور مٹی کو چھوا ہی نہیںشریعت کی آمریت کوخود اس نے ہی دعوت دی تھیورنہ خدا سے کسی غلط کوغلط چھونے کی بات تو کبھی ہوئی ہی نہیں تھیاور کوئی ہم سے بھول کےہماری آخری خواہش بھی نہ پوچھےایسا تو کبھی ہوا ہی نہیںڈوبتے ہوئے جہاز میں بھاگنے والےآخری چوہے کو بھی توکسی نے بھی نہیں دیکھاسوائے اس کے کہڈبونے والے پانی نےخود کو دیکھایا ڈوبنے والے کو دیکھامحبت جن رنگوں سےبنی ہوئی کہانی تھیاس کے کسی بھی کردار کواس نے کبھی بھولے سے بھی پاس نہ آنے دیاایک ٹھنڈی جامد بساط پر دوڑتی ہوئیمایوسی کوپرندہ بننے کی خواہش تو ضرور رہی ہوگیمگر کیا کوئی یہ دیکھ سکتا ہے کہکسی بوتل سے کاگ ارنے کے منظر میںبوتل کے باطن پر کیا گزرتی ہےکسی غلط منہ سے نکلے ہوئے لفظ سےزندگی کی آب و ہوا پر کیا گزرتی ہےدنیا میں ہونے والے کسی بھی ظلم نےبس مثال ہی تو قائم کیایک تاریخ ہی تو بنائیہاتھ میں اٹھائے ہوئے ایک پتھر سےان گنت ہتھیاروں تکدرمیان میںزمانے تو ان گنت رہے ہوں گےیا تاریخ تو ایک ہی تھیکسی غلط کو سہی میں بدلنے کی خواہشدنیا کا نظام بدل سکتی توآج تک ہم غلط خوابنہ دیکھ رہے ہوتےپھر یہ عذاب کیا ہے کہہم ایک پوری زندگیغلط خوابوں کے حوالے کرتے ہوئےخود خواب ہو جائیںیہ اور بات کہپر اسرار غیب میںیقین نہ رکھنے والے کو بھیکسی بھی غیب سےکچھ پانے یا مدد لینے کیخواہش تو ہوتی ہےاور خواہش کا کیا ہےخواہش اگر زمین پر رینگنے والیچیونٹی بھی ہو تووہ ہاتھی کو ہلاک کر سکتی ہےایک چیونٹی ہاتھی کواس لئے ہلاک کر دیتی ہے کہاسے اس کے سر تکپہننے کی راہ کا گیانآدمی سے کہیں زیادہ ہوتا ہےافسوس کہ چیونٹی سے زیادہگیان والا آدمی توزمین پر پیدا ہی نہیں ہواافسوس پہاڑ کی چڑھائی چڑھنےاور اونچی چوٹیوں کوسر کرنے والوں میں سےکوئی ایک بھی ایسا نہیں ہواجو پہلے زندگی نام کے ہاتھی کے سرکیچڑھائی چڑھتا یا اس کے سر کوسر کر چکا ہوتاآدمی نے گھر بنایااس میں رہنے کے لئےمگر وہ اس میں کبھی رہا اس لئے نہیں کہروئے زمین پرکسی بھی گھر کا باطن نہیں بن سکاایک پوری دنیا کا ظاہر توہماری نظر میں رکھ دیا گیامگر باطن سے بنی ہوئیکوئی دنیا تو بنی ہی نہیںتو ہم کیا دیکھتےیا دکھانے والوں سے ہم کیا کہتےیا اس سے کیا کہتےجس کے لہجہ میں شام ہونے سے پہلےدن کی روشنی کیکوئی بساط تو رہی ہوگیپلٹ کے کچھ دیکھنے کی ادا بھینہیں معلوم تھیورنہ کوئی کہہ سکتا ہے کہاسے اسباب سے بھری ہوئی دنیا سےکچھ میسر آیانہیں کچھ بھی تو نہیںیا جو دنیااسباب سے بھری ہوئی دکھائی گئیوہ خود اپنی جگہ تھی بھی یا نہیںاور اس کی کوئی بھی شےاپنی جگہ تھی بھی یا نہیں
تجھے یہ لگتا ہے اسباب وصل کچھ بھی نہیںبدن اداسی پہ چلمن نما قبائیں ہیںمیں جن کو سن کے بہت بے قرار رہتا ہوںوہ میرے دل کی نہیں جسم کی صدائیں ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books