26 جنوری

MORE BYساحر لدھیانوی

    آؤ کہ آج غور کریں اس سوال پر

    دیکھے تھے ہم نے جو وہ حسیں خواب کیا ہوئے

    دولت بڑھی تو ملک میں افلاس کیوں بڑھا

    خوشحالئ عوام کے اسباب کیا ہوئے

    جو اپنے ساتھ ساتھ چلے کوئے دار تک

    وہ دوست وہ رفیق وہ احباب کیا ہوئے

    کیا مول لگ رہا ہے شہیدوں کے خون کا

    مرتے تھے جن پہ ہم وہ سزا یاب کیا ہوئے

    بے کس برہنگی کو کفن تک نہیں نصیب

    وہ وعدہ ہائے اطلس و کمخواب کیا ہوئے

    جمہوریت نواز بشر دوست امن خواہ

    خود کو جو خود دیے تھے وہ القاب کیا ہوئے

    مذہب کا روگ آج بھی کیوں لا علاج ہے

    وہ نسخہ ہائے نادر و نایاب کیا ہوئے

    ہر کوچہ شعلہ زار ہے ہر شہر قتل گاہ

    یکجہتئ حیات کے آداب کیا ہوئے

    صحرائے تیرگی میں بھٹکتی ہے زندگی

    ابھرے تھے جو افق پہ وہ مہتاب کیا ہوئے

    مجرم ہوں میں اگر تو گنہ گار تم بھی ہو

    اے رہبران قوم خطا کار تم بھی ہو

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    26 January - Sahir Ludhianvi نعمان شوق

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Sahir (Pg. 216)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY