aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "baGlo.n"
منزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے
میری بغلوں کے بالوں سے الجھتی ہوئیمیرے جسم کے کونے کھدروں میں
اور بغلوں میں چھریاںعام ہونے لگی تھیں
جھپٹتی ہیں مردار پر خود ہی چیلیںسہانی ہیں بگلوں کی ہلچل سی جھیلیں
یہ سنتے ہی بغلوں میں بستے لئےاور اک صف میں سیدھے کھڑے ہو گئے
اپنی اپنی بغلوں میں دبائے کھڑے ہیںاور ہر بار ان بتوں کو سجدہ کرتے ہوئے
''وہ جھک کے زمیں پربغلوں میں دے کر ہاتھ ہماری
میں زرد کنارے کا پتھرمرا بدن ببولوں کی ڈالی
بحری قزاقوں کے دل میں گہرے نیلے پانی کا تو خوف نہیںلیکن وہ بھوکے بگلوں سے ڈرتے ہیں
دور سطح آب پر وہ ایک بگلوں کی قطاریہ سمندر کے رشی گیانی
چہرے پر بے ہنگم داڑھیبغلوں میں بالوں کے گچھے
تمہارا جسم ہر اک لہر کے جھکولے سےمری کھلی ہوئی باہوں میں جھول جاتا ہے
باغبان چارہ فرما سے یہ کہتی ہے بہارزخم گل کے واسطے تدبیر مرہم کب تلک
کہیں ایسا نہ ہو پاؤں مرے تھرا جائیںاور تری مرمریں بانہوں کا سہارا نہ ملے
جب سے کالے باغوں نےآدمی کو گھیرا ہے
اغیار کی بانہوں میںدل دار گئے آخر
اور خوابوں کی تربتیں ہیںجہاں محبت کے اجڑے باغوں میں
شہر سے دور کسی گاؤں میں رہ جانے کاکھیت کھلیانوں میں باغوں میں کہیں گانے کا
بانہوں کی چھنکیہ میل ہمارا جھوٹ نہ سچ
دیار شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پرکبھی آموں کے باغوں میں کبھی کھیتوں کی مینڈوں پر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books