aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "baare"
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گیلوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گےیہ بھی پوچھیں گے کہ تم اتنی پریشاں کیوں ہوجگمگاتے ہوئے لمحوں سے گریزاں کیوں ہوانگلیاں اٹھیں گی سوکھے ہوئے بالوں کی طرفاک نظر دیکھیں گے گزرے ہوئے سالوں کی طرفچوڑیوں پر بھی کئی طنز کیے جائیں گےکانپتے ہاتھوں پہ بھی فقرے کسے جائیں گےپھر کہیں گے کہ ہنسی میں بھی خفا ہوتی ہیںاب تو روحیؔ کی نمازیں بھی قضا ہوتی ہیںلوگ ظالم ہیں ہر اک بات کا طعنہ دیں گےباتوں باتوں میں مرا ذکر بھی لے آئیں گےان کی باتوں کا ذرا سا بھی اثر مت لیناورنہ چہرے کے تأثر سے سمجھ جائیں گےچاہے کچھ بھی ہو سوالات نہ کرنا ان سےمیرے بارے میں کوئی بات نہ کرنا ان سےبات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی
تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سےنہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہو تموہ شوخیاں وہ تبسم وہ قہقہے نہ رہےہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھتی ہو تمچھپا چھپا کے خموشی میں اپنی بے چینیخود اپنے راز کی تشہیر بن گئی ہو تممیری امید اگر مٹ گئی تو مٹنے دوامید کیا ہے بس اک پیش و پس ہے کچھ بھی نہیںمری حیات کی غمگینیوں کا غم نہ کروغم حیات غم یک نفس ہے کچھ بھی نہیںتم اپنے حسن کی رعنائیوں پہ رحم کرووفا فریب ہے طول ہوس ہے کچھ بھی نہیںمجھے تمہارے تغافل سے کیوں شکایت ہومری فنا مرے احساس کا تقاضا ہےمیں جانتا ہوں کہ دنیا کا خوف ہے تم کومجھے خبر ہے یہ دنیا عجیب دنیا ہےیہاں حیات کے پردے میں موت پلتی ہےشکست ساز کی آواز روح نغمہ ہےمجھے تمہاری جدائی کا کوئی رنج نہیںمرے خیال کی دنیا میں میرے پاس ہو تمیہ تم نے ٹھیک کہا ہے تمہیں ملا نہ کروںمگر مجھے یہ بتا دو کہ کیوں اداس ہو تمخفا نہ ہونا مری جرأت تخاطب پرتمہیں خبر ہے مری زندگی کی آس ہو تممرا تو کچھ بھی نہیں ہے میں رو کے جی لوں گامگر خدا کے لیے تم اسیر غم نہ رہوہوا ہی کیا جو زمانے نے تم کو چھین لیایہاں پہ کون ہوا ہے کسی کا سوچو تومجھے قسم ہے مری دکھ بھری جوانی کیمیں خوش ہوں میری محبت کے پھول ٹھکرا دومیں اپنی روح کی ہر اک خوشی مٹا لوں گامگر تمہاری مسرت مٹا نہیں سکتامیں خود کو موت کے ہاتھوں میں سونپ سکتا ہوںمگر یہ بار مصائب اٹھا نہیں سکتاتمہارے غم کے سوا اور بھی تو غم ہیں مجھےنجات جن سے میں اک لحظہ پا نہیں سکتایہ اونچے اونچے مکانوں کی ڈیوڑھیوں کے تلےہر ایک گام پہ بھوکے بھکاریوں کی صداہر ایک گھر میں ہے افلاس اور بھوک کا شورہر ایک سمت یہ انسانیت کی آہ و بکایہ کارخانوں میں لوہے کا شور و غل جس میںہے دفن لاکھوں غریبوں کی روح کا نغمہیہ شاہراہوں پہ رنگین ساڑیوں کی جھلکیہ جھونپڑوں میں غریبوں کے بے کفن لاشےیہ مال روڈ پہ کاروں کی ریل پیل کا شوریہ پٹریوں پہ غریبوں کے زرد رو بچےگلی گلی میں یہ بکتے ہوئے جواں چہرےحسین آنکھوں میں افسردگی سی چھائی ہوئییہ جنگ اور یہ میرے وطن کے شوخ جواںخریدی جاتی ہیں اٹھتی جوانیاں جن کییہ بات بات پہ قانون و ضابطے کی گرفتیہ ذلتیں یہ غلامی یہ دور مجبورییہ غم بہت ہیں مری زندگی مٹانے کواداس رہ کے مرے دل کو اور رنج نہ دو
ادھر سے آج اک کسی کے غم کیکہانی کا کارواں جو گزرایتیم آنسو نے جیسے جاناکہ اس کہانی کی سر پرستی ملےتو ممکن ہےراہ پاناتو اک کہانی کی انگلی تھامےاسی کے غم کو رومال کرتااسی کے بارے میںجھوٹے سچے سوال کرتایہ میری پلکوں تک آ گیا ہے
معیشت دوسروں کے ہاتھ میں ہے میرے قبضہ میںجز اک ذہن رسا کچھ بھی نہیں پھر بھی مگر مجھ کوخروش عمر کے اتمام تک اک بار اٹھانا ہےعناصر منتشر ہو جانے نبضیں ڈوب جانے تکنوائے صبح ہو یا نالۂ شب کچھ بھی گانا ہےظفر مندوں کے آگے رزق کی تحصیل کی خاطرکبھی اپنا ہی نغمہ ان کا کہہ کر مسکرانا ہےوہ خامہ سوزی شب بیداریوں کا جو نتیجہ ہواسے اک کھوٹے سکے کی طرح سب کو دکھانا ہےکبھی جب سوچتا ہوں اپنے بارے میں تو کہتا ہوںکہ تو اک آبلہ ہے جس کو آخر پھوٹ جانا ہےغرض گرداں ہوں باد صبح گاہی کی طرح لیکنسحر کی آرزو میں شب کا دامن تھامتا ہوں جبیہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہویہ لڑکا پوچھتا ہے جب تو میں جھلا کے کہتا ہوںوہ آشفتہ مزاج اندوہ پرور اضطراب آساجسے تم پوچھتے رہتے ہو کب کا مر چکا ظالماسے خود اپنے ہاتھوں سے کفن دے کر فریبوں کااسی کی آرزوؤں کی لحد میں پھینک آیا ہوںمیں اس لڑکے سے کہتا ہوں وہ شعلہ مر چکا جس نےکبھی چاہا تھا اک خاشاک عالم پھونک ڈالے گایہ لڑکا مسکراتا ہے یہ آہستہ سے کہتا ہےیہ کذب و افترا ہے جھوٹ ہے دیکھو میں زندہ ہوں
وہ ایک طرز سخن کی خوشبووہ ایک مہکا ہوا تکلملبوں سے جیسے گلوں کی بارشکہ جیسے جھرنا سا گر رہا ہوکہ جیسے خوشبو بکھر رہی ہوکہ جیسے ریشم الجھ رہا ہوعجب بلاغت تھی گفتگو میںرواں تھا دریا فصاحتوں کاوہ ایک مکتب تھا آگہی کاوہ علم و دانش کا مے کدہ تھاوہ قلب اور ذہن کا تصادمجو گفتگو میں رواں دواں تھاوہ اس کے الفاظ کی روانیوہ اس کا رک رک کے بات کرناوہ شعلۂ لفظ اور معانیکہیں لپکنا کہیں ٹھہرناٹھہر کے پھر وہ کلام کرنابہت سے جذبوں کی پردہ داریبہت سے جذبوں کو عام کرناجو میں نے پوچھاگزشتہ شب کے مشاعرے میں بہت سے شیدائی منتظر تھےمجھے بھی یہ ہی پتہ چلا تھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیںمگر ہوا کیاذرا توقف کے بعد بولے نہیں گیا میںنہ جا سکا میںسنو ہوا کیامیں خود کو مائل ہی کر نہ پایایہ میری حالت میری طبیعتپھر اس پہ میری یہ بد مزاجی و بد حواسییہ وحشت دلمیاں حقیقت ہے یہ بھی سن لو کہ اب ہمارے مشاعرے بھینہیں ہیں ان وحشتوں کے حاملجو میری تقدیر بن چکی ہیںجو میری تصویر بن چکی ہیںجو میری تقصیر بن چکی ہیںپھر اک توقفکہ جس توقف کی کیفیت پر گراں سماعت گزر رہی تھیاس ایک ساعت کا ہاتھ تھامے یہ اک وضاحت گزر رہی تھیادب فروشوں نے جاہلوں نے مشاعرے کو بھی اک تماشہ بنا دیا ہےغزل کی تقدیس لوٹ لی ہے ادب کو مجرا بنا دیا ہےسخن وروں نے بھی جانے کیا کیا ہمارے حصے میں رکھ دیا ہےستم تو یہ ہے کہ چیخ کو بھی سخن کے زمرے میں رکھ دیا ہےالٰہی توبہسماعتوں میں خراشیں آنے لگی ہیں اب اور شگاف ذہنوں میں پڑ گئے ہیںمیاں ہمارے قدم تو کب کے زمیں میں خفت سے گڑ گئے ہیںخموشیوں کے دبیز کہرے سے چند لمحوں کا پھر گزرناوہ جیسے خود کو اداسیوں کے سمندروں میں تلاش کرناوہ جیسے پھر سرمئی افق پر ستارے الفاظ کے ابھرنایہ زندگی سے جو بے نیازی ہے کس لیے ہےیہ روز و شب کی جو بد حواسی ہے کس لیے ہےبس اتنا سمجھوکہ خود کو برباد کر چکا ہوںسخن تو آباد خیر کیا ہومگر جہاں دل دھڑک رہے ہوں وہ شہر آباد کر چکا ہوںبچا ہی کیا ہےتھا جس کے آنے کا خوف مجھ کو وہ ایک ساعت گزر چکی ہےوہ ایک صفحہ کہ جس پے لکھا تھا زندگی کو وہ کھو چکا ہےکتاب ہستی بکھر چکی ہےپڑھا تھا میں نے بھی زندگی کومگر تسلسل نہیں تھا اس میںادھر ادھر سے یہاں وہاں سے عجب کہانی گڑھی گئی تھیسمجھ میں آئی نہ اس لیے بھی کے درمیاں سے پڑھی گئی تھیسمجھتا کیسےنہ فلسفی میں نہ کوئی عالمعقوبتوں کے سفر پہ نکلا میں اک ستارہ ہوں آگہی کااجل کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اک استعارہ ہوں زندگی کاعتاب نازل ہوا ہے جس پر میں وہ ہی معتوب آدمی ہوںستم گروں کو طلب ہے جس کی میں وہ ہی مطلوب آدمی ہوںکبھی محبت نے یہ کہا تھا میں ایک محبوب آدمی ہوںمگر وہ ضرب جفا پڑی ہے کہ ایک مضروب آدمی ہوںمیں ایک بیکل سا آدمی ہوں بہت ہی بوجھل سا آدمی ہوںسمجھ رہی ہے یہ دنیا مجھ کو میں ایک پاگل سا آدمی ہوںمگر یہ پاگل یہ نیم وحشی خرد کے ماروں سے مختلف ہےجو کہنا چاہا تھا کہہ نہ پایاکہا گیا جو اسے یہ دنیا سمجھ نہ پائینہ بات اب تک کہی گئی ہےنہ بات اب تک سنی گئی ہےشراب و شعر و شعور کا جو اک تعلق ہے اس کے بارے میں رائے کیا ہےسنا ہے ہم نے کہ آپ پر بھی بہت سے فتوے لگے ہیں لیکنشراب نوشی حرام ہے تویہ مسئلہ بھی بڑا عجب ہےمیں ایک میکش ہوں یہ تو سچ ہےمگر یہ میکش کبھی کسی کے لہو سے سیراب کب ہوا ہےہمیشہ آنسو پیے ہیں اس نے ہمیشہ اپنا لہو پیا ہےیہ بحث چھوڑو حرام کیا ہے حلال کیا ہے عذاب کیا ہے ثواب کیا ہےشراب کیا ہےاذیتوں سے نجات ہے یہ حیات ہے یہشراب و شب اور شاعری نے بڑا سہارا دیا ہے مجھ کوسنبھال رکھا شراب نے اور رہی ہے محسن یہ رات میریاسی نے مجھ کو دئے دلاسے سنی ہے اس نے ہی بات میریہمیشہ میرے ہی ساتھ جاگی ہمیشہ میرے ہی ساتھ سوئیمیں خوش ہوا تو یہ مسکرائی میں رو دیا تو یہ ساتھ روئییہ شعر گوئی ہے خود کلامی کا اک ذریعہاسی ذریعہ اسی وسیلہ سے میں نے خود سے وہ باتیں کی ہیںجو دوسروں سے میں کہہ نہ پایاحرام کیا ہے حلال کیا ہے یہ سب تماشے ہیں مفتیوں کےیہ سارے فتنے ہیں مولوی کےحرام کر دی تھی خود کشی بھی کہ اپنی مرضی سے مر نہ پائےیہ مے کشی بھی حرام ٹھہری کہ ہم کو اپنا لہو بھی پینے کا حق نہیں ہےکہ اپنی مرضی سے ہم کو جینے کا حق نہیں ہےکسے بتائیںضمیر و ظرف بشر پہ موقوف ہیں مسائلسمندروں میں انڈیل جتنی شراب چاہےنہ حرف پانی پہ آئے گا اور نہ اوس کی تقدیس ختم ہوگیتو مے کشی کو حرام کہنے سے پہلے دیکھوکہ پینے والے کا ظرف کیا ہے ہیں کس کے ہاتھوں میں جام و مینایہ نکتہ سنجی یہ نکتہ دانی جو مولوی کی سمجھ میں آتی تو بات بنتینہ دین و مذہب کو جس نے سمجھا نہ جس نے سمجھا ہے زندگی کوطہورا پینے کی بات کر کے حرام کہتا ہے مے کشی کوجو دین و مذہب کا ذکر آیا تو میں نے پوچھاکہ اس حوالے سے رائے کیا ہےیہ خود پرستی خدا پرستی کے درمیاں کا جو فاصلہ ہےجو اک خلا ہے یہ کیا بلا ہےیہ دین و مذہب فقط کتابیںبجز کتابوں کے اور کیا ہےکتابیں ایسی جنہیں سمجھنے کی کوششیں کم ہیں اور زیادہ پڑھا گیا ہےکتابیں ایسی کہ عام انساں کو ان کے پڑھنے کا حق ہے لیکنانہیں سمجھنے کا حق نہ ہرگز دیا گیا ہےکہ ان کتابوں پہ دین و مذہب کے ٹھیکیدار اجارہ داروں کی دسترس ہےاسی لیے تو یہ دین و مذہب فساد د فتنہ بنے ہوئے ہیںیہ دین و مذہبجو علم و حکمت کے ساتھ ہو تو سکون ہوگاجو دسترس میں ہو جاہلوں کی جنون ہوگایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ زندگی کا جواز کیا ہےیہ تم ہو جی جی کے مر رہے ہو یہ میں ہوں مر مر کے جی رہا ہوںیہ راز کیا ہےہے کیا حقیقت مجاز کیا ہےسوائے خوابوں کے کچھ نہیں ہےبجز سرابوں کے کچھ نہیں ہےیہ اک سفر ہے تباہیوں کا اداسیوں کی یہ رہ گزر ہےنہ اس کو دنیا کا علم کوئی نہ اس کو اپنی کوئی خبر ہےکبھی کہیں پر نظر نہ آئے کبھی ہر اک شے میں جلوہ گر ہےکبھی زیاں ہے کبھی ضرر ہےنہ خوف اس کو نہ کچھ خطر ہےکبھی خدا ہے کبھی بشر ہےہوا حقیقت سے آشنا تو یہ سوئے دار و رسن گیا ہےکبھی ہنسا ہے یہ زیر خنجر کبھی یہ سولی پہ ہنس دیا ہےکبھی یہ گل نار ہو گیا ہے سناں پہ گفتار ہو گیا ہےکبھی ہوا ہے یہ غرق دریاکبھی یہ تقدیر دشت و صحرارقم ہوا ہے یہ آنسوؤں میںکبھی لہو نے ہے اس کو لکھاحکایت دل حکایت جاں حکایت زندگی یہی ہےاگر سلیقے سے لکھی جائے عبارت زندگی یہی ہےیہ حسن ہے اس دھنک کی صورتکہ جس کے رنگوں کا فلسفہ ہی کبھی کسی پر نہیں کھلا ہےیہ فلسفہ جو فریب پیہم کا سلسلہ ہےکہ اس کے رنگوں میں اک اشارہ ہے بے رخی کااک استعارہ ہے زندگی کاکبھی علامت ہے شوخیوں کیکبھی کنایہ ہے سادگی کابدلتے موسم کی کیفیت کے ہیں رنگ پنہاں اسی دھنک میںکشش شرارت و جاذبیت کے شوخ رنگوں نے اس دھنک کو عجیب پیکر عطا کیا ہے اک ایسا منظر عطا کیا ہےکہ جس کے سحر و اثر میں آ کرلہو بہت آنکھیں رو چکی ہیں بہت تو بینائی کھو چکی ہیںبصارتیں کیا بصیرتیں بھی تو عقل و دانائی کھو چکی ہیںنہ جانے کتنے ہی رنگ مخفی ہیں اس دھنک میںبس ایک رنگ وفا نہیں ہیںاس ایک رنگت کی آرزو نے لہو رلایا ہے آدمی کویہی بتایا ہے آگہی کویہ اک چھلاوا ہے زندگی کاحسین دھوکہ ہے زندگی کامگر مقدر ہے آدمی کافریب گندم سمجھ میں آیا تو میں نے جانایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ ایک لغزش ہے جس کے دم سے حیات نو کا بھرم کھلا ہے
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گیلوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گےیہ بھی پوچھیں گے کہ تم اتنی پریشاں کیوں ہوانگلیاں اٹھیں گی سوکھے ہوئے بالوں کی طرفاک نظر دیکھیں گے گزرے ہوئے سالوں کی طرفچوڑیوں پر بھی کئی طنز کئے جائیں گےکانپتے ہاتھوں پہ فقرے بھی کسے جائیں گےلوگ ظالم ہیں ہر اک بات کا طعنہ دیں گےباتوں باتوں میں مرا ذکر بھی لے آئیں گےان کی باتوں کا ذرا سا بھی اثر مت لیناورنہ چہرے کے تأثر سے سمجھ جائیں گےچاہے کچھ بھی ہو سوالات نہ کرنا ان سےمیرے بارے میں کوئی بات نہ کرنا ان سےبات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی
اے دل بے خبرجو ہوا جا چکی اب نہیں آئے گیجو شجر ٹوٹ جاتا ہے پھلتا نہیںواپسی موسموں کا مقدر تو ہےجو سماں بیت جائے پلٹتا نہیںجانے والے نہیں لوٹتے عمر بھراب کسے ڈھونڈھتا ہے سر رہ گزراے دل کم نظر اے مرے بے خبر اے مرے ہم سفروہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکاچاندنی تھا ہوا صرف رنگ قمرخواب تھا آنکھ کھلتے ہی اوجھل ہواپیڑ تھا رت بدلتے ہوا بے ثمراے دل بے اثر اے مرے چارہ گریہ ہے کس کو خبر!کب ہوائے سفر کا اشارہ ملے!کب کھلیں ساحلوں پر سفینوں کے پرکون جانے کہاں منزل موج ہے!کس جزیرے پہ ہے شاہ زادی کا گھر اے مرے چارہ گراے دل بے خبر کم نظر معتبرتو کہ مدت سے ہے زیر بار سفربے قرار سفرریل کی بے ہنر پٹریوں کی طرحآس کے بے ثمر موسموں کی طرحبے جہت منزلوں کی مسافت میں ہےرستہ بھولے ہوئے رہرووں کی طرحچوب نار سفراعتبار نظر کس گماں پر کریںاے دل بے بصریہ تو ساحل پہ بھی دیکھتی ہے بھنورریت میں کشت کرتی ہے آب بقاکھولتی ہے ہواؤں میں باب اثرتجھ کو رکھتی ہے یہ زیب دار سفر بے قرار سفراے دل بے ہنرگرم سانسوں کی وہ خوشبوئیں بھول جاوہ چہکتی ہوئی دھڑکنیں بھول جابھول جا نرم ہونٹوں کی شادابیاںحرف اقرار کی لذتیں بھول جابھول جا وہ ہوا بھول جا وہ نگرکون جانے کہاں روشنی کھو گئیلٹ گیا ہے کہاں کاروان سحراب کہاں گیسوؤں کے وہ سائے کہاںاس کی آہٹ سے چمکے ہوئے بام و در اے دل بے بصررنگ آسودگی کے تماشے کہاںجھٹپٹا ہے یہاں رہ گزر رہ گزروہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکااب کسے ڈھونڈھتا ہے ارے بے خبرجانے والے نہیں لوٹتے عمر بھراے دل کم نظر اے مرے چارہ گر اے مرے ہم سفر
تیری پیشانیٔ رنگیں میں جھلکتی ہے جو آگتیرے رخسار کے پھولوں میں دمکتی ہے جو آگتیرے سینے میں جوانی کی دہکتی ہے جو آگزندگی کی یہ حسیں آگ مجھے بھی دے دےتیری آنکھوں میں فروزاں ہیں جوانی کے شرارلب گل رنگ پہ رقصاں ہیں جوانی کے شرارتیری ہر سانس میں غلطاں ہیں جوانی کے شرارزندگی کی یہ حسیں آگ مجھے بھی دے دےہر ادا میں ہے جواں آتش جذبات کی رویہ مچلتے ہوئے شعلے یہ تڑپتی ہوئی لوآ مری روح پہ بھی ڈال دے اپنا پرتوزندگی کی یہ حسیں آگ مجھے بھی دے دےکتنی محروم نگاہیں ہیں تجھے کیا معلومکتنی ترسی ہوئی باہیں ہیں تجھے کیا معلومکیسی دھندلی مری راہیں ہیں تجھے کیا معلومزندگی کی یہ حسیں آگ مجھے بھی دے دےآ کہ ظلمت میں کوئی نور کا ساماں کر لوںاپنے تاریک شبستاں کو شبستاں کر لوںاس اندھیرے میں کوئی شمع فروزاں کر لوںزندگی کی یہ حسیں آگ مجھے بھی دے دےبار ظلمات سے سینے کی فضا ہے بوجھلنہ کوئی ساز تمنا نہ کوئی سوز عملآ کہ مشعل سے تری میں بھی جلا لوں مشعلزندگی کی یہ حسیں آگ مجھے بھی دے دے
خواب تھے اک دن اوج زمیں سے کاہکشاں کو چھو لیں گےکھلیں گے گل رنگ شفق سے قوس قزح میں جھولیں گےباد بہاری بن کے چلیں گے سرسوں بن کر پھولیں گےخوشیوں کے رنگیں جھرمٹ میں رنج و محن سب بھولیں گےداغ گل و غنچہ کے بدلے مہکی ہوئی خوشبو لیں گےملی خلش پر زخم جگر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
اپنے بس کا نہیں بار سنگ ستمبار سنگ ستم، بار کہسار غمجس کو چھو کر سبھی اک طرف ہو گئےبات کی بات میں ذی شرف ہو گئے
آبلہ آبلہ تھی جاں پھر بھیبار ہستی کو عمر بھر ڈھویا
ترے پورے بدن پر اک مقدس آگ کا پہرہ ہےجو تیری طرف بڑھتے ہوئے ہاتھوں کے ناخن روک لیتا ہےترے ہونٹوں سے نکلے سانس کی خوشبودر و دیوار سے رستہ بنا کر سارے بر اعظموں میں پھیل سکتی ہےتری بانہیں ابد کو جانے والی شاہراہیں ہیںتری دائیں ہتھیلی کی لکیریں دوسری دنیاؤں کے نقشے ہیں جو ان منشیوں کے بس سے باہر ہیںتری آنکھیں نہیں یہ دیوتاؤں کی پنہ گاہیں ہیںجن میں وقت جیسے زہر کا تریاق ہےتری زلفوں کی وسعت اس جہاں کی انتہاؤں سے پرے تک ہےتری گردن کسی جنت کے پاکیزہ درختوں کے تنے کو دیکھ کر ترشی گئی ہےہمارے جسم پر سے تیری پرچھائی گزر جائےتو ممکن ہے کہ ہم اس موت جیسے خوف سے آزاد ہو جائیںہمارے پاس ایسا کیا ہے جو تجھ کو بتا کر ہم تجھے قائل کریںبس اتنا ہے کہ اپنے لفظ برسا کر تری چھتری پہ بارش پھینک دیں گےیا ترے چہرے پہ اپنی نظم کی اک سطر سے چھاؤں کریں گےدھوپ دے دیں گےمگر کیا فائدہ اس کا کہ موسم خود ترے جوتوں کے تسموں سے بندھے ہیںترے ہم راہ چلنے کی کوئی خواہش اگر دل میں کبھی تھی بھیتو ہم نے ترک کر دی ہےہم اس لائق نہیں ہیںہمیں معلوم ہے کہ اگلے وقتوں میں یہ لوگترے پیروں کے سانچوں سے نئی سمتوں کے اندازے لگائیں گے
لیکن ان ماؤں کا سوچوجن کے بیٹےچاند تلک اک دن جائیں گےجا کے وہاں پر بس جائیں گےایسے میںجب رات آئے گیچاند زمیں پر نکلا ہوگاچاند میں ان کا چہرہ ہوگالیکن ان کے گھر کا آنگنکتنا سونا سونا ہوگادروازوں پر خاموشی کا پہرہ ہوگاآنکھوں میں ویرانی ہوگیدل میں بھی سناٹا ہوگارات آئے گیاور آنکھوں سےنیند کی پریاں روٹھی ہوں گیوہ بس چاند کو دیکھتی ہوں گیجاگتی ہوں گیان ماؤں کے بارے میں بھیکچھ تو سوچوشاید تم کو نیند آ جائےمیں تو اتنی دور نہیں ہوںمیں تو یہیں پر ہی بستا ہوںسانس یہیں پر ہی لیتا ہوںمیں تو زمیں پر ہی رہتا ہوں
اپنی پندار کی کرچیاںچن سکوں گیشکستہ اڑانوں کے ٹوٹے ہوئے پر سمیٹوں گیتجھ کو بدن کی اجازت سے رخصت کروں گیکبھی اپنے بارے میں اتنی خبر ہی نہ رکھی تھیورنہ بچھڑنے کی یہ رسم کب کی ادا ہو چکی ہوتیمرا حوصلہاپنے دل پر بہت قبل ہی منکشف ہو گیا ہوتالیکن یہاںخود سے ملنے کی فرصت کسے تھی!
تم نے جو پھول مجھے رخصت ہوتے وقت دیا تھاوہ نظم میں نے تمہاری یادوں کے ساتھ لفافے میں بند کر کے رکھ دی تھیآج دنوں بعد بہت اکیلے میں اسے کھول کر دیکھا ہےپھول کی نو پنکھڑیاں ہیںنظم کے نو مصرعےیادیں بھی کیسی عجیب ہوتی ہیںپہلی پنکھڑی یاد دلاتی ہے اس لمحے کی جب میں نےپہلی بار تمہیں بھری محفل میں اپنی طرف مسلسل تکتے ہوئے دیکھ لیا تھادوسری پنکھڑی جب ہم پہلی بار ایک دوسرے کو کچھ کہے بغیربس یوں ہی جان بوجھ کر نظر بچاتے ہوئے ایک راہداری سے گزر گئے تھےپھر تیسری بار جب ہم اچانک ایک موڑ پر کہیں ملےاور ہم نے بہت ساری باتیں کیں اور بہت سارے برسایک ساتھ پل میں گزار دئےاور چوتھی باراب میں بھولنے لگا ہوںبہت دنوں سے ٹھہری ہوئی اداسی کی وجہ سے شایدکچھ لوگ کہتے ہیں اداسی تنہائی کی کوکھ سے جنم لیتی ہےممکن ہے ٹھیک کہتے ہوںکچھ لوگ کہتے ہیں بہت تنہا رہنا بھی اداسی کا سبب بن جاتا ہےممکن ہے یہ بھی ٹھیک ہوممکن ہے تم آؤ تو بھولی ہوئی ساری باتیں پھر سے یاد آ جائیںممکن ہے تم آؤ تو وہ باتیں بھی میں بھول چکا ہوں جو ابھی مجھے یاد ہیںیادوں کے بارے میں اور اداسی کے بارے میں اور تنہائی کے بارے میںکوئی بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی
آسماں بادل کا پہنے خرقۂ دیرینہ ہےکچھ مکدر سا جبین ماہ کا آئینہ ہےچاندنی پھیکی ہے اس نظارۂ خاموش میںصبح صادق سو رہی ہے رات کی آغوش میںکس قدر اشجار کی حیرت فزا ہے خامشیبربط قدرت کی دھیمی سی نوا ہے خامشیباطن ہر ذرۂ عالم سراپا درد ہےاور خاموشی لب ہستی پہ آہ سرد ہےآہ جولاں گاہ عالمگیر یعنی وہ حصاردوش پر اپنے اٹھائے سیکڑوں صدیوں کا بارزندگی سے تھا کبھی معمور اب سنسان ہےیہ خموشی اس کے ہنگاموں کا گورستان ہےاپنے سکان کہن کی خاک کا دل دادہ ہےکوہ کے سر پر مثال پاسباں استادہ ہےابر کے روزن سے وہ بالائے بام آسماںناظر عالم ہے نجم سبز فام آسماںخاک بازی وسعت دنیا کا ہے منظر اسےداستاں ناکامئ انساں کی ہے ازبر اسےہے ازل سے یہ مسافر سوئے منزل جا رہاآسماں سے انقلابوں کا تماشا دیکھتاگو سکوں ممکن نہیں عالم میں اختر کے لیےفاتحہ خوانی کو یہ ٹھہرا ہے دم بھر کے لیےرنگ و آب زندگی سے گل بدامن ہے زمیںسیکڑوں خوں گشتہ تہذیبوں کا مدفن ہے زمیںخواب گہ شاہوں کی ہے یہ منزل حسرت فزادیدۂ عبرت خراج اشک گلگوں کر اداہے تو گورستاں مگر یہ خاک گردوں پایہ ہےآہ اک برگشتہ قسمت قوم کا سرمایہ ہےمقبروں کی شان حیرت آفریں ہے اس قدرجنبش مژگاں سے ہے چشم تماشا کو حذرکیفیت ایسی ہے ناکامی کی اس تصویر میںجو اتر سکتی نہیں آئینۂ تحریر میںسوتے ہیں خاموش آبادی کے ہنگاموں سے دورمضطرب رکھتی تھی جن کو آرزوئے ناصبورقبر کی ظلمت میں ہے ان آفتابوں کی چمکجن کے دروازوں پہ رہتا ہے جبیں گستر فلککیا یہی ہے ان شہنشاہوں کی عظمت کا مآلجن کی تدبیر جہانبانی سے ڈرتا تھا زوالرعب فغفوری ہو دنیا میں کہ شان قیصریٹل نہیں سکتی غنیم موت کی یورش کبھیبادشاہوں کی بھی کشت عمر کا حاصل ہے گورجادۂ عظمت کی گویا آخری منزل ہے گورشورش بزم طرب کیا عود کی تقریر کیادردمندان جہاں کا نالۂ شب گیر کیاعرصۂ پیکار میں ہنگامۂ شمشیر کیاخون کو گرمانے والا نعرۂ تکبیر کیااب کوئی آواز سوتوں کو جگا سکتی نہیںسینۂ ویراں میں جان رفتہ آ سکتی نہیںروح مشت خاک میں زحمت کش بیداد ہےکوچہ گرد نے ہوا جس دم نفس فریاد ہےزندگی انساں کی ہے مانند مرغ خوش نواشاخ پر بیٹھا کوئی دم چہچہایا اڑ گیاآہ کیا آئے ریاض دہر میں ہم کیا گئےزندگی کی شاخ سے پھوٹے کھلے مرجھا گئےموت ہر شاہ و گدا کے خواب کی تعبیر ہےاس ستم گر کا ستم انصاف کی تصویر ہےسلسلہ ہستی کا ہے اک بحر نا پیدا کناراور اس دریائے بے پایاں کی موجیں ہیں مزاراے ہوس خوں رو کہ ہے یہ زندگی بے اعتباریہ شرارے کا تبسم یہ خس آتش سوارچاند جو صورت گر ہستی کا اک اعجاز ہےپہنے سیمابی قبا محو خرام ناز ہےچرخ بے انجم کی دہشت ناک وسعت میں مگربیکسی اس کی کوئی دیکھے ذرا وقت سحراک ذرا سا ابر کا ٹکڑا ہے جو مہتاب تھاآخری آنسو ٹپک جانے میں ہو جس کی فنازندگی اقوام کی بھی ہے یوں ہی بے اعتباررنگ ہائے رفتہ کی تصویر ہے ان کی بہاراس زیاں خانے میں کوئی ملت گردوں وقاررہ نہیں سکتی ابد تک بار دوش روزگاراس قدر قوموں کی بربادی سے ہے خوگر جہاںدیکھتا بے اعتنائی سے ہے یہ منظر جہاںایک صورت پر نہیں رہتا کسی شے کو قرارذوق جدت سے ہے ترکیب مزاج روزگارہے نگین دہر کی زینت ہمیشہ نام نومادر گیتی رہی آبستن اقوام نوہے ہزاروں قافلوں سے آشنا یہ رہ گزرچشم کوہ نور نے دیکھے ہیں کتنے تاجورمصر و بابل مٹ گئے باقی نشاں تک بھی نہیںدفتر ہستی میں ان کی داستاں تک بھی نہیںآ دبایا مہر ایراں کو اجل کی شام نےعظمت یونان و روما لوٹ لی ایام نےآہ مسلم بھی زمانے سے یوں ہی رخصت ہواآسماں سے ابر آزاری اٹھا برسا گیاہے رگ گل صبح کے اشکوں سے موتی کی لڑیکوئی سورج کی کرن شبنم میں ہے الجھی ہوئیسینۂ دریا شعاعوں کے لیے گہوارہ ہےکس قدر پیارا لب جو مہر کا نظارہ ہےمحو زینت ہے صنوبر جوئبار آئینہ ہےغنچۂ گل کے لیے باد بہار آئینہ ہےنعرہ زن رہتی ہے کوئل باغ کے کاشانے میںچشم انساں سے نہاں پتوں کے عزلت خانے میںاور بلبل مطرب رنگیں نوائے گلستاںجس کے دم سے زندہ ہے گویا ہوائے گلستاںعشق کے ہنگاموں کی اڑتی ہوئی تصویر ہےخامۂ قدرت کی کیسی شوخ یہ تحریر ہےباغ میں خاموش جلسے گلستاں زادوں کے ہیںوادی کہسار میں نعرے شباں زادوں کے ہیںزندگی سے یہ پرانا خاک داں معمور ہےموت میں بھی زندگانی کی تڑپ مستور ہےپتیاں پھولوں کی گرتی ہیں خزاں میں اس طرحدست طفل خفتہ سے رنگیں کھلونے جس طرحاس نشاط آباد میں گو عیش بے اندازہ ہےایک غم یعنی غم ملت ہمیشہ تازہ ہےدل ہمارے یاد عہد رفتہ سے خالی نہیںاپنے شاہوں کو یہ امت بھولنے والی نہیںاشک باری کے بہانے ہیں یہ اجڑے بام و درگریۂ پیہم سے بینا ہے ہماری چشم تردہر کو دیتے ہیں موتی دیدۂ گریاں کے ہمآخری بادل ہیں اک گزرے ہوئے طوفاں کے ہمہیں ابھی صد ہا گہر اس ابر کی آغوش میںبرق ابھی باقی ہے اس کے سینۂ خاموش میںوادئ گل خاک صحرا کو بنا سکتا ہے یہخواب سے امید دہقاں کو جگا سکتا ہے یہہو چکا گو قوم کی شان جلالی کا ظہورہے مگر باقی ابھی شان جمالی کا ظہور
کون اب سر پے ہاتھ رکھے گامیرے بارے میں کون سوچے گا
کہ اس کے ہنسنے کا انداز یہ بتاتا ہےہوئی نہیں ہے غم دل سے رسم و راہ ابھیپڑی نہیں ہے کوئی چوٹ ابھی رگ جاں پرکسی نگاہ سے الجھی نہیں نگاہ ابھیوہ ایک عام سی لڑکی اک ایسا جذبہ ہےملی نہیں جسے الفاظ میں پناہ ابھیوہ ایک عام سی لڑکی ہے جیسے چھائی ہوئیمرے جوان خیالوں پہ بے خودی کی طرحخیال آتا ہے اک پھول بننے والی ہےوہ کمسنی جو ہے منہ بند سی کلی کی طرحجو رنگ بن کے ہے محبوس اس کے پیکر میںوہ بوئے حسن تو پھیلے گی روشنی کی طرح
پھریں ہیں راکھیاں باندھے جو ہر دم حسن کے تارےتو ان کی راکھیوں کو دیکھ اے جاں چاؤ کے مارےپہن زنار اور قشقہ لگا ماتھے اپر بارےنظیرؔ آیا ہے بامھن بن کے راکھی باندھنے پیارےبندھا لو اس سے تم ہنس کر اب اس تیوہار کی راکھی
بربط دل کے تار ٹوٹ گئےہیں زمیں بوس راحتوں کے محلمٹ گئے قصہ ہائے فکر و عمل!بزم ہستی کے جام پھوٹ گئےچھن گیا کیف کوثر و تسنیمزحمت گریہ و بکا بے سودشکوۂ بخت نا رسا بے سودہو چکا ختم رحمتوں کا نزولبند ہے مدتوں سے باب قبولبے نیاز دعا ہے رب کریمبجھ گئی شمع آرزوئے جمیلیاد باقی ہے بے کسی کی دلیلانتظار فضول رہنے دےراز الفت نباہنے والےبار غم سے کراہنے والےکاوش بے حصول رہنے دے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books