نیند نہیں آتی ہے

اشفاق حسین

نیند نہیں آتی ہے

اشفاق حسین

MORE BYاشفاق حسین

    تم نے لکھا ہے

    نیند نہیں آتی ہے تم کو

    تم سے بہت ہی دور ہوں نا میں

    اس دھرتی سے

    اس دھرتی تک

    بیچ میں کتنے دریا اور سمندر ہوں گے

    یہ تو سچ ہے

    لیکن ان ماؤں کا سوچو

    جن کے بیٹے

    چاند تلک اک دن جائیں گے

    جا کے وہاں پر بس جائیں گے

    ایسے میں

    جب رات آئے گی

    چاند زمیں پر نکلا ہوگا

    چاند میں ان کا چہرہ ہوگا

    لیکن ان کے گھر کا آنگن

    کتنا سونا سونا ہوگا

    دروازوں پر خاموشی کا پہرہ ہوگا

    آنکھوں میں ویرانی ہوگی

    دل میں بھی سناٹا ہوگا

    رات آئے گی

    اور آنکھوں سے

    نیند کی پریاں روٹھی ہوں گی

    وہ بس چاند کو دیکھتی ہوں گی

    جاگتی ہوں گی

    ان ماؤں کے بارے میں بھی

    کچھ تو سوچو

    شاید تم کو نیند آ جائے

    میں تو اتنی دور نہیں ہوں

    میں تو یہیں پر ہی بستا ہوں

    سانس یہیں پر ہی لیتا ہوں

    میں تو زمیں پر ہی رہتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY