aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bak"
عہد گم گشتہ کی تصویر دکھاتی کیوں ہوایک آوارۂ منزل کو ستاتی کیوں ہووہ حسیں عہد جو شرمندہ ایفا نہ ہوااس حسیں عہد کا مفہوم جتاتی کیوں ہوزندگی شعلہ بے باک بنا لو اپنیخود کو خاکستر خاموش بناتی کیوں ہومیں تصوف کے مراحل کا نہیں ہوں قائلمیری تصویر پہ تم پھول چڑھاتی کیوں ہوکون کہتا ہے کہ آہیں ہیں مصائب کا علاججان کو اپنی عبث روگ لگاتی کیوں ہوایک سرکش سے محبت کی تمنا رکھ کرخود کو آئین کے پھندوں میں پھنساتی کیوں ہومیں سمجھتا ہوں تقدس کو تمدن کا فریبتم رسومات کو ایمان بناتی کیوں ہوجب تمہیں مجھ سے زیادہ ہے زمانے کا خیالپھر مری یاد میں یوں اشک بہاتی کیوں ہوتم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کر دوورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو
لو وہ چاہ شب سے نکلا پچھلے پہر پیلا مہتابذہن نے کھولی رکتے رکتے ماضی کی پارینہ کتابیادوں کے بے معنی دفتر خوابوں کے افسردہ شہابسب کے سب خاموش زباں سے کہتے ہیں اے خانہ خرابگزری بات صدی یا پل ہو گزری بات ہے نقش بر آبیہ روداد ہے اپنے سفر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
ہے امتحاں سر پر کھڑا محنت کرو محنت کروباندھو کمر بیٹھے ہو کیا محنت کرو محنت کروبے شک پڑھائی ہے سوا اور وقت ہے تھوڑا رہاہے ایسی مشکل بات کیا محنت کرو محنت کروشکوے شکایت جو کہ تھے تم نے کہے ہم نے سنےجو کچھ ہوا اچھا ہوا محنت کرو محنت کرومحنت کرو انعام لو انعام پر اکرام لوجو چاہو گے مل جائے گا محنت کرو محنت کروجو بیٹھ جائیں ہار کر کہہ دو انہیں للکار کرہمت کا کوڑا مار کر محنت کرو محنت کروتدبیریں ساری کر چکے باتوں کے دریا بہہ چکےبک بک سے اب کیا فائدہ محنت کرو محنت کرویہ بیج اگر ڈالوگے تم دل سے اسے پا لو گے تمدیکھو گے پھر اس کا مزا محنت کرو محنت کرومحنت جو کی جی توڑ کر ہر شوق سے منہ موڑ کرکر دو گے دم میں فیصلہ محنت کرو محنت کروکھیتی ہو یا سوداگری ہو بھیک ہو یا چاکریسب کا سبق یکساں سنا محنت کرو محنت کروجس دن بڑے تم ہو گئے دنیا کے دھندوں میں پھنسےپڑھنے کی پھر فرصت کجا محنت کرو محنت کروبچپن رہا کس کا بھلا انجام کو سوچو ذرایہ تو کہو کھاؤ گے کیا محنت کرو محنت کرو
زہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہےحالانکہ در ایں اثنا کیا کچھ نہیں دیکھا ہےپر لکھے تو کیا لکھے؟ اور سوچے تو کیا سوچے؟کچھ فکر بھی مبہم ہے کچھ ہاتھ لرزتا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دیوانی نہیں اتنی جو منہ میں ہو بک جائےچپ شاہ کا روزہ بھی یوں ہی نہیں رکھا ہےبوڑھی بھی نہیں اتنی اس طرح وہ تھک جائےاب جان کے اس نے یہ انداز بنایا ہےہر چیز بھلاوے کے صندوق میں رکھ دی ہےآسانی سے جینے کا اچھا یہ طریقہ ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!گھر بار، سمجھتی تھی، قلعہ ہے حفاظت کادیکھا کہ گرہستی بھی مٹی کا کھلونا ہےمٹی ہو کہ پتھر ہو ہیرا ہو کہ موتی ہوگھر بار کے مالک کا گھر بار پہ قبضہ ہےاحساس حکومت کے اظہار کا کیا کہنا!انعام ہے مذہب کا جو ہاتھ میں کوڑا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دیوار پہ ٹانگا تھا فرمان رفاقت کاکیا وقت کے دریا نے دیوار کو ڈھایا ہےفرمان رفاقت کی تقدیس بس اتنی ہےاک جنبش لب پر ہے، رشتہ جو ازل کا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دو بیٹوں کو کیا پالا ناداں یہ سمجھتی تھیاس دولت دنیا کی مالک وہی تنہا ہےپر وقت نے آئینہ کچھ ایسا دکھایا ہےتصویر کا یہ پہلو اب سامنے آیا ہےبڑھتے ہوئے بچوں پر کھلتی ہوئی دنیا ہےکھلتی ہوئی دنیا کا ہر باب تماشہ ہےماں باپ کی صورت تو دیکھا ہوا نقشہ ہےدیکھے ہوئے نقشے کا ہر رنگ پرانا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!سوچا تھا بہن بھائی دریا ہیں محبت کےدیکھا کہ کبھی دریا رستہ بھی بدلتا ہےبھائی بھی گرفتار مجبوریٔ خدمت ہیںبہنوں پہ بھی طاری ہے قسمت کا جو لکھا ہےاک ماں ہے جو پیڑوں سے باتیں کیے جاتی ہےکہنے کو ہیں دس بچے اور پھر بھی وہ تنہا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے
کاش اک ''دیوار رنگ''میرے ان کے درمیاں حائل نہ ہو!یہ سیہ پیکر برہنہ راہرویہ گھروں میں خوبصورت عورتوں کا زہر خندیہ گزر گاہوں پہ دیو آسا جواںجن کی آنکھوں میں گرسنہ آرزؤں کی لپکمشتعل، بے باک مزدوروں کا سیلاب عظیم!ارض مشرق، ایک مبہم خوف سے لرزاں ہوں میںآج ہم کو جن تمناؤں کی حرمت کے سببدشمنوں کا سامنا مغرب کے میدانوں میں ہےان کا مشرق میں نشاں تک بھی نہیں!
اٹھی ہے مغرب سے گھٹاپینے کا موسم آ گیاہے رقص میں اک مہ لقانازک ادا ناز آفریںہاں ناچتی جا گائے جانظروں سے دل برمائے جاتڑپائے جا تڑپائے جااو دشمن دنیا و دیں!تیرا تھرکنا خوب ہےتیری ادائیں دل نشیںلیکن ٹھہر تو کون ہےاو نیم عریاں نازنیںکیا مشرقی عورت ہے توہرگز نہیں ہرگز نہیںتیری ہنسی بے باک ہےتیری نظر چالاک ہےاف کس قدر دل سوز ہےتقریر بازاری تریکتنی ہوس آموز ہےیہ سادہ پرکاری تریشرم اور عزت والیاںہوتی ہیں عفت والیاںوہ حسن کی شہزادیاںپردے کی ہیں آبادیاںچشم فلک نے آج تکدیکھی نہیں ان کی جھلکسرمایۂ شرم و حیازیور ہے ان کے حسن کاشوہر کے دکھ سہتی ہیں وہمنہ سے نہیں کہتی ہیں وہکب سامنے آتی ہیں وہغیرت سے کٹ جاتی ہیں وہاعزاز ملت ان سے ہےنام شرافت ان سے ہےایمان پر قائم ہیں وہپاکیزہ و صائم ہیں وہتجھ میں نہیں شرم و حیاتجھ میں نہیں مہر و وفاسچ سچ بتا تو کون ہےاو بے حیا تو کون ہےاحساس عزت کیوں نہیںشرم اور غیرت کیوں نہیںیہ پر فسوں غمزے ترےنا محرموں کے سامنےہٹ سامنے سے دور ہومردود ہو مقہور ہوتقدیر کی ہیٹی ہے توشیطان کی بیٹی ہے توجس قوم کی عورت ہے تواس قوم پر لعنت ہے تولیکن ٹھہر جانا ذراتیری نہیں کوئی خطامردوں میں غیرت ہی نہیںقومی حمیت ہی نہیںوہ ملت بیضا کہ تھیسارے جہاں کی روشنیجمعیت اسلامیاںشاہنشہ ہندوستاںاب اس میں دم کچھ بھی نہیںہم کیا ہیں ہم کچھ بھی نہیںملی سیاست اٹھ گئیبازو کی طاقت اٹھ گئیشان حجازی اب کہاںوہ ترکتازی اب کہاںاب غزنوی ہمت گئیاب بابری شوکت گئیایمان عالمگیر کامسلم کے دل سے اٹھ گیاقوم اب جفا پیشہ ہوئیعزت گدا پیشہ ہوئیاب رنگ ہی کچھ اور ہےبے غیرتی کا دور ہےیہ قوم اب مٹنے کو ہےیہ نرد اب پٹنے کو ہےافسوس یہ ہندوستاں!یہ گلشن جنت نشاں!ایمان داروں کا وطنطاعت گزاروں کا وطنرہ جائے گا ویرانہ پھربن جائے گا بت خانہ پھرلیکن مجھے کیا خبط ہےتقریر کیوں بے ربط ہےایسا بہک جاتا ہوں میںمنہ آئی بک جاتا ہوں میںاتنا شرابی ہو گیاعقل و خرد کو کھو گیامجھ کو زمانے سے غرضمٹنے مٹانے سے غرضہندوستاں سے کام کیااندیشۂ انجام کیاجینے دو جینے دو مجھےپینے دو پینے دو مجھےجب حشر کا دن آئے گااس وقت دیکھا جائے گاہاں ناچتی جا گائے جانظروں سے دل برمائے جاتڑپائے جا تڑپائے جااو دشمن دنیا و دیں
بھرا ہوا ہے نگاہوں میں زندگی کے دھواںبس ایک شعلۂ شب تاب میں شرر کیوں ہےمرے وجود میں جس سے کئی خراشیں ہیںوہ اک شکن ترے ماتھے پہ مختصر کیوں ہےجمی ہوئی ہے ستاروں پہ آنسوؤں کی نمیترے چراغ کی لو اتنی تیز تر کیوں ہے
دھرتی دھڑک رہی ہے مرے ساتھ ایفریقادریا تھرک رہا ہے تو بن دے رہا ہے تالمیں افریقہ ہوں دھار لیا میں نے تیرا روپمیں تو ہوں میری چال ہے تیری ببر کی چال''آ جاؤ ایفریقا''آؤ ببر کی چال''آ جاؤ ایفریقا''
وہ پرودرۂ عشوہ بازیکنکھیوں سے یوں دیکھتی تھیکہ جیسے وہ ان سرنگوں آرزوؤں کو پہچانتی ہوجو کرتی ہیں اکثر یوں ہی روشناسیکبھی دوستی کی تمناکبھی علم کی پیاس بن کر!وہ کولہے ہلاتی تھی ہنستی تھیاک سوچی سمجھی حسابی لگاوٹ سےجیسے وہ ان خفیہ سرچشمہ گاہوں کے ہر راز کو جانتی ہووہ تختے کے پیچھے کھڑی قہقہے مارتی لوٹتی تھیکہا میں نے خالد سے:بہروپئے!اس ولایت میں ضرب مثل ہے''کہ اونٹوں کی سوداگری کی لگن ہوتو گھر ان کے قابل بناؤاور اس شہر میں یوں تو استانیاں ان گنت ہیںمگر اس کی اجرت بھلا تم کہاں دے سکو گے!''وہ پھر مضطرب ہو کے بے اختیاری سے ہنسنے لگی تھی!وہ بولی ''یہ سچ ہےکہ اجرت تو اک شاہی بھر کم نہ ہوگیمگر فوجیوں کا بھروسہ ہی کیا ہےبھلا تم کہاں باز آؤ گےآخر زباں سیکھنے کے بہانےخیانت کرو گے''وہ ہنستی ہوئیاک نئے مشتری کی طرف ملتفت ہو گئی تھی!
حسن جب افسردہ پھولوں کی طرح پامال تھاجب محبت کا غلط دنیا میں استعمال تھابے خودی کے نام پر جب دور جام بادہ تھاجب تجلیٔ حقیقت سے ہر اک دل سادہ تھازیست کا اور موت کا ادراک دنیا کو نہ تھاظلم کا احساس جب بے باک دنیا کو نہ تھابند آنکھیں کر کے اس دنیا کے مکروہات سےتو نے حاصل کی ضیائے دل، تجلیات سےبرف زاروں کو ترے انفاس نے گرما دیاتیرے استغنا نے تخت سلطنت ٹھکرا دیایاد تیری آج بھی ہندستاں میں تازہ ہےچین، جاپان اور تبت تک ترا آوازہ ہےروشنی جس کی نہ ہوگی ماند وہ مشعل ہے توسر زمین ہند کا عرفانیٔ اول ہے تو
مئی کے مہینے کا مانوس منظرغریبوں کے ساتھی یہ کنکر یہ پتھروہاں شہر سے ایک ہی میل ہٹ کرسڑک بن رہی ہےزمیں پر کدالوں کو برسا رہے ہیںپسینے پسینے ہوئے جا رہے ہیںمگر اس مشقت میں بھی گا رہے ہیںسڑک بن رہی ہےمصیبت ہے کوئی مسرت نہیں ہےانہیں سوچنے کی بھی فرصت نہیں ہےجمعدار کو کچھ شکایت نہیں ہےسڑک بن رہی ہےجواں نوجواں اور خمیدہ کمر بھیفسردہ جبیں بھی بہشت نظر بھیوہیں شام غم بھی جمال سحر بھیسڑک بن رہی ہےجمعدار سائے میں بیٹھا ہوا ہےکسی پر اسے کچھ عتاب آ گیا ہےکسی کی طرف دیکھ کر ہنس رہا ہےسڑک بن رہی ہےیہ بے باک الفت پر الھڑ اشارہبسنتی سے رامو تو رامو سے رادھاجمعدار بھی ہے بسنتی کا شیداسڑک بن رہی ہےجو سر پہ ہے پگڑی تو ہاتھوں میں ہنٹرچلا ہے جمعدار کس شان سے گھربسنتی بھی جاتی ہے نظریں بچا کرسڑک بن رہی ہےسمجھتے ہیں لیکن ہیں مسرور اب بھیاسی طرح گاتے ہیں مزدور اب بھیبہرحال واں حسب دستور اب بھیسڑک بن رہی ہے
رات کے عکس تخیل سے ملاقات ہو جس کا مقصودکبھی دروازے سے آتا ہے کبھی کھڑکی سےاور ہر بار نئے بھیس میں در آتا ہےاس کو اک شخص سمجھنا تو مناسب ہی نہیںوہ تصور میں مرے عکس ہے ہر شخص کا ہر انساں کاکبھی بھر لیتا ہے اک بھولی سی محبوبۂ نادان کا بہروپ کبھیایک چالاک جہاں دیدہ و بے باک ستمگر بن کردھوکا دینے کے لیے آتا ہے بہکاتا ہےاور جب وقت گزر جائے تو چھپ جاتا ہے
زمیں کے سینے سے اور آستین قاتل سےگلوئے کشتہ سے بے حس زبان خنجر سےصدا لپکتی ہے ہر سمت حرف حق کی طرحمگر وہ کان جو بہرے ہیں سن نہیں سکتےمگر وہ قلب جو سنگیں ہیں ہل نہیں سکتےکہ ان میں اہل ہوس کی صدا کا سیسہ ہےوہ جھکتے رہتے ہیں لب ہائے اقتدار کی سمتوہ سنتے رہتے ہیں بس حکم حاکمان جہاںطواف کرتے ہیں ارباب گیر و دار کے گرد
خواب اب حسن تصور کے افق سے ہیں پرےدل کے اک جذبۂ معصوم نے دیکھے تھے جو خواباور تعبیروں کے تپتے ہوئے صحراؤں میںتشنگی آبلہ پا شعلہ بکف موج سرابیہ تو ممکن نہیں بچپن کا کوئی دن مل جائےیا پلٹ آئے کوئی ساعت نایاب شبابپھوٹ نکلے کسی افسردہ تبسم سے کرنیا دمک اٹھے کسی دست بریدہ میں گلابآہ پتھر کی لکیریں ہیں کہ یادوں کے نقوشکون لکھ سکتا ہے پھر عمر گزشتہ کی کتاببیتے لمحات کے سوئے ہوئے طوفانوں میںتیرتے پھرتے ہیں پھوٹی ہوئی آنکھوں کے حبابتابش رنگ شفق آتش روئے خورشیدمل کے چہرے پہ سحر آئی ہے خون احبابجانے کس موڑ پہ کس راہ میں کیا بیتی ہےکس سے ممکن ہے تمناؤں کے زخموں کا حسابآستینوں کو پکاریں گے کہاں تک آنسواب تو دامن کو پکڑتے ہیں لہو کے گردابدیکھتی پھرتی ہے ایک ایک منہ خاموشیجانے کیا بات ہے شرمندہ ہے انداز خطابدر بدر ٹھوکریں کھاتے ہوئے پھرتے ہیں سوالاور مجرم کی طرح ان سے گریزاں ہے جوابسرکشی پھر میں تجھے آج صدا دیتا ہوںمیں ترا شاعر آوارہ و بے باک و خرابپھینک پھر جذبۂ بے تاب کی عالم پہ کمندایک خواب اور بھی اے ہمت دشوار پسند
انہیں شعلوں کی تمازت کا سہارا لے کربربریت کے ہر ایوان سے ٹکرایا ہوںہر کڑے وقت میں سنگین چٹانوں کی طرحتند حالات کے طوفان سے ٹکرایا ہوںتو کہاں اور مری جرأت بے باک کہاںتجھ کو اس کاہش جاں سوز کا ادراک کہاں
پیارے بیٹے ابراہیمؔتمہیں شکایت ہے کہ ایک عرصے سے میں نے کچھ لکھا لکھا یا نہیںاقبالؔ نے کہا تھانالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںپھر فیضؔ نے کہا تھابول کہ لب آزاد ہیں تیرےبہت اکساتا ہوں اپنے آپ کولیکن زبان کی گرہ کھلتی ہی نہیںاور دل کا شعلہ لب معجز بیاں پر آتا ہی نہیںہائے ناصرؔ کاظمیبس غالبؔ کی طرح کان لپیٹ کر بیٹھ جاتا ہوںکھلا کر فائدہ عرض ہنر میں خاک نہیںبولوں گا تو سنے گا کونکسی کے کان میں پڑ بھی گئی تو سمجھے گا کونآج کل تو بڑے بڑے کھڑ پینچوں کی حالت یہ ہےکہ کوئی سنتا ہے تو سمجھتا نہیںکوئی سمجھتا ہے تو سنتا نہیںاور بہت ہیں جو سنتے بھی نہیں سمجھتے بھی نہیںپھر میرے پاس نالہ کو ہے کیاکون سی ضروری بات ہے جو ان کہی رہ گئی ہےسارے فلسفے سارے نظریے سارے مسائل تو بیان ہو چکےشاعروں نے لطیف سے لطیف جذبے کو سو سو طرح سے باندھ ڈالاموسیقاروں نے نازک سے نازک احساس کو پابند لے کر دیانہ کسی کے لیے کچھ کہنے کو باقی ہےنہ کسی میں سننے کا یارا ہےیہی غنیمت ہے کہ دل بھر آئے تو منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑا لیںآخر جب خدا نے ابھی خدائی نہ بنائی تھیتو اکیلے میں کیا کرتا ہو وہخود ہی بولتا ہوگا خود ہی سنتا ہوگا وہمیرا یہ مقام تو نہیں لیکن حالت یہی ہےخود ہی بولتا ہوں خود ہی سنتا ہوںبس یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کہا کیا ہے اور سنا کیا ہےویسے یہ سمجھے سمجھانے والی بات بھی ٹیڑھی خیر ہےغالبؔ نے کہا تھابک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ کچھ نہ سمجھے خدا کریے کوئیاور اس سے پہلے میر دردؔ نے بہت درد سے بتایا تھاسمجھتے تھے نہ مگر سنتے تھے ترانۂ درد سمجھ میں آنے لگا جب تو پھر سنا نہ گیاوالسلام
الف لفظ و معانی سے مبراالف تنہائی کا روشن ہیولیٰالف آزاد آوازوں کے شر سےالف بے باک ہر عیب و ہنر سےالف تکمیلی مرکز کا محرکالف ہر لمحے کے سینے میں دھڑکنالف صدیوں کے صحرا پر مسلطالف آبی نہ سیمابی تسلسلتسلسل سانس کی زنجیر آہنگتسلسل خواب کی تعبیر بے رنگتسلسل لفظ کی تفسیر فرہنگ
مٹیالے مٹیالے بادل گھوم رہے ہیں میدانوں کے پھیلاؤ پردریا کی دیوانی موجیں ہمک ہمک کر ہنس دیتی ہیں اک ناؤ پرسامنے اودے سے پربت کی ابر آلودہ چوٹی پر ہے ایک شوالاجس کے عکس کی تابانی سے پھیل رہا ہے چاروں جانب ایک اجالاجھلمل کرتی ایک مشعل سے محرابوں کے گہرے سائے رقصیدہ ہیںہر سو پریاں ناچ رہی ہیں جن کے عارض رخشاں نظریں دزدیدہ ہیںعنبر اور لوبان کی لہریں دوشیزہ کی زلفوں پہ ایسے بل کھاتی ہیںچاندی کے ناقوس کی تانیں دھندلے دھندلے نظاروں میں گھل جاتی ہیںہاتھ بڑھائے سر نہوڑائے پتلے سایوں کا اک جھرمٹ گھوم رہا ہےپوجا کی لذت میں کھو کر مندر کے تابندہ زینے چوم رہا ہےایک بہت پتلی پگڈنڈی ساحل دریا سے مندر تک کانپ رہی ہےناؤ چلانے والی لڑکی چپو کو ماتھے سے لگائے ہانپ رہی ہےدیوانی کو کون بتائے اس مندر کی دھن میں سب تھک ہار گئے ہیںسائے بن کے گھوم رہے ہیں جو بے باک چلانے والے پار گئے ہیںوہ جب ناؤ سے اترے گی مٹیالے مٹیالے بادل گھر آئیں گےمیدانوں پر کہساروں پر دریا پر ناؤ پر سب پر چھا جائیں گےاول تو پگڈنڈی کھو کر گر جائے گی غاروں غاروں میں بیچاریبچ نکلی تو ہو جائے گی اس کے نازک دل پر اک ہیبت سی طاریہوش میں آئی تو رگ رگ پر ایک نشہ سا بے ہوشی کا چھایا ہوگاجسم کے بدلے اس مندر میں دھندلا اک لچکیلا سایا ہوگا
دکھتی ہڈیاں کہتی ہے آرام کرو ابدل کہتا ہے ابھی نہیں ابھی تو کام پڑا ہے سبمگر ایک اور ہی بولی بولتا ہے دماغپہلے کون سا تیر مار لیا تھا آپ نے جو اب پھر چلے ہیں جوہر دکھانےسرونٹے کا ڈان کھوتے اور سرشار کا خدائی فوجداری بھیتڑپتے ہوں گے قبر میں پڑے پڑےآپ کی بے قراریاں دیکھ کردنیا ہی تو بدل ڈالی آپ نے اپنی تحریروں اور تقریروں سےاور کیا کہنے ہیں آپ کی سیاست کےسوتوں کو جگا دیا آپ نےزیر دستوں کو اٹھا دیا زبردستوں کو گرا دیا آپ نےسچ مچ کا انقلاب ہی تو برپا کر کے رکھ دیا آپ نےچھوڑ جانے دیجیے بہت ہو گئی جنابسنہرے حرفوں میں لکھا جا چکا ہے آپ کا نام ان لکھی تاریخ میںآپ وہ ہیرو ہیں کوئی گیت نہیں گاتا جس کےوہ گمنام سپاہی ہیں جسے صرفآسمان کی آنکھ نے دیکھا ہوتا ہے داد شجاعت دیتےاگر آپ کے ہاتھوں واقعی کوئی اچھا کام سرزد ہو گیا تھا تویقیناً پتا ہوگا اس کا خدا کووہ اس کا ضرور اجر دے گا آپ کواور صبر سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے اجرصبر کیجیے ذرادکھتی ہڈیوں کی بھی سن لیجیے ذرااس خانہ خراب دل کی مان کر ہی تو آپ ہوئے ہیں خانہ خرابہمیشہ بہکایا ہے اس نے آپ کوغلط سلط راستوں پر چلایا ہے آپ کوجہاں چپ رہنے میں مصلحت تھی وہاں بولنے پر اکسایا ہے آپ کوجب ہاتھ بڑھا کر جام اٹھانے کا وقت تھا توانکساری کے چکر میں پھنسایا ہے آپ کوذرا اپنے بدن سے پوچھیے اپنی عمر اور پھر پوچھ کر دیکھیے دل سےآپ ستر کے ہیں نا مگر بدن کہے گا سالاور دل بتائے گا چالیس سالاس دل پر خون کی گلابی نےحلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے اچھے بھلے انسان کاپڑھے لکھے شریف آدمی کو دھکیل دیا ہےسیاست کے قصاب خانے میںبھئی جس کا کام اسی کو ساجے اور کرے تو ٹھینگا باجےآپ کیوں پریشان ہوتے ہیں ہر بری خبر پرویسے کبھی خیر کی خبر بھی آئی ہے وطن عزیز سےیاد نہیں رہا آپ کے تو مرشد بھی کہتے تھے بار باروہ کام ہماری ذمہ داری نہیں ہوتا جس کی انجام دہی کا سامان نہ دے خداعمر فاروق کو زیب دیتا تھا فکر مند ہونافرات کے کنارے بھوک سے مر جانے والے کتے کے لیےاس لیے کہ وہ تھے خلیفۂ وقتتو کن میں خواہ مخواہآپ تو کوتوال بھی نہیں کسی شہر کےاور چلے ہیں پورے ملک کی فکر کرنےبلکہ ساری انسانیت کا غم پال رکھا ہے آپ نے تومیں نے پہلے بھی کہا شاعروں کی بک بک نہ سنا کریں آپ زیادہبقول خدا وہ تو عادی ہیں غلط بیانی کےہاہا کانٹا چبھے کسی کو تڑپتے ہیں ہم امیر سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہےآپ کو اوروں کی پڑی ہیں پہلے اپنی تو نبیڑ لیں آپچیرٹی بگنس ایٹ ہوم جنابآئیے سکون سے بیٹھے دو گھڑیزیادہ دیر کھڑے رہنے سے اور بڑھ جائے گا گھٹنے کا دردکیا خیال ہے سبز چائے کے بارے میںیا پھر پی لیجئے ٹھنڈا میٹھا روح افزاسینے آسمانی موسیقی باخ اور موتزارٹ کیڈھیلا چھوڑیئے ذرا اعصاب کوسو جائیے سو جائیے نیند آ جائے اگرلوری دوں آپ کورات دن گردش میں ہیں سات آسماںہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
جن سر افرازوں کی روحیں آج ہیں افلاک پرموت خود حیراں تھی جن کی جرأت بے باک پر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books