aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bardaasht"
کسی کا حکم ہے ساری ہوائیںہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیںکہ ان کی سمت کیا ہےکدھر جا رہی ہیںہواؤں کو بتانا یہ بھی ہوگاچلیں گی اب تو کیا رفتار ہوگیہواؤں کو یہ اجازت نہیں ہےکہ آندھی کی اجازت اب نہیں ہےہماری ریت کی سب یہ فصیلیںیہ کاغذ کے محل جو بن رہے ہیںحفاظت ان کی کرنا ہے ضروریاور آندھی ہے پرانی ان کی دشمنیہ سبھی جنتے ہیںکسی کا حکم ہے دریا کی لہریںذرا یہ سرکشی کم کر لیں اپنی حد میں ٹھہریںابھرنا پھر بکھرنا اور بکھر کر پھر ابھرناغلط ہے یہ ان کا ہنگامہ کرنایہ سب ہے صرف وحشت کی علامتبغاوت کی علامتبغاوت تو نہیں برداشت ہوگییہ وحشت تو نہیں برداشت ہوگیاگر لہروں کو ہے دریا میں رہناتو ان کو ہوگا اب چپ چاپ بہناکسی کا حکم ہےاس گلستاں میں بس اک رنگ کے ہی پھول ہوں گےکچھ افسر ہوں گے جو یہ طے کریں گےگلستاں کس طرح بننا ہے کل کایقیناً پھول تو یک رنگیں ہوں گےمگر یہ رنگ ہوگا کتنا گہرا کتنا ہلکایہ افسر طے کریں گےکسی کو یہ کوئی کیسے بتائےگلستاں میں کہیں بھی پھول یک رنگیں نہیں ہوتےکبھی ہو ہی نہیں سکتےکہ ہر اک رنگ میں چھپ کر بہت سے رنگ رہتے ہیںجنھوں نے باغ یک رنگیں بنانا چاہے تھےان کو ذرا دیکھوکہ جب اک رنگ میں سو رنگ ظاہر ہو گئے ہیں توکتنے پریشاں ہیں کتنے تنگ رہتے ہیںکسی کو یہ کوئی کیسے بتائےہوائیں اور لہریں کب کسی کا حکم سنتی ہیںہوائیں حاکموں کی مٹھیوں میں ہتھکڑی میںقید خانوں میں نہیں رکتیںیہ لہریں روکی جاتی ہیںتو دریا کتنا بھی ہو پر سکوں بیتاب ہوتا ہےاور اس بیتابی کا اگلا قدم سیلاب ہوتا ہے
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
اگر میں چیخوںمیں اپنے دل کی تمام گہرائیوں سے چیخوںتو کائناتی نظام میں کیا خلل پڑے گایہی کہاندھے کنویں سے اک بازگشت ہوگیکہے گی کیوں تم کو کیا ہوا ہے؟تمہی بڑے آئے ہو کہیں کےیہ آسمان و زمیںیہ سورج یہ چاند تارےتمام ماں باپ سارے اجدادشہر کے سب شریف زادےانہیں بھی دیکھویہ سب مصیبت زدہ، متانت سےبردباری میں سہہ رہے ہیںتمہی میں برداشت کی کمی ہےاگر میں چیخوں تومیری آواز بھی ملامت کرے گی مجھ کووہ سب کہیں گےکہ کون یہ شور کر رہا ہےہماری نیندیں اچاٹ کر دیںاگر میں چیخوںتو سارا امن و سکوننظم اور نسقمجھ کو خلاف قانون، دشمن خلق کہہ کرصلیب دے گامگر یہ چیخوں بھرا ہوا دلکسی بھی لمحےمجھے کہیں خوفناک راہوں پہ ڈال دے گاصلاح دے گاکہ زور سے چیخوکہ جسم کے ساتھروح بھی سرد ہو گئی پھرتو کیا کرو گے
پیٹھ پر نا قابل برداشت اک بار گراںضعف سے لرزی ہوئی سارے بدن کی جھریاں
سگریٹ کا ایک لمبا کش اور کھانسیگھونٹ گھونٹ چائےپگھلتے خوابوں کے مومگدلے کاغذ پر دنیا کے اعمال کا پیلا زہرہم کتنے اچھے تھےجب ہماری پیٹھ کے نیچے بستر تھاآؤچلو آئینے سے پوچھیںابھی کتنا سفر باقی ہے؟اس کو توایک ہی جواب ہےاپنے چہروں کو برداشت کروباہر نکلوتو ماسک لگانا مت بھولو
میرے خیال میں وہ عورتدنیا کی لذیذ ترین عورت ہےمیں اس کے اندر غرق ہو جاؤں گاوہ مجھے دور دور سےاپنا آپ دکھاتی ہےمیرے اندر بھوک اور پیاس کو بیدار کرتی ہےاور جب میں خواہش کی آگ میں جلنے لگتا ہوںوہ اطمینان سے ہنسنے لگتی ہےمیرا جی چاہتا ہے کہ میں اس کو کھا جاؤںمیں اس کو پورے کا پورا نگل جانا چاہتا ہوںجب میں اس کی طرف بڑھتا ہوںوہ مجھے ڈانٹ کر بھگا دیتی ہےاور میں درد سے تڑپ اٹھتا ہوںاور میں تنہائی میں آ کر روتا ہوںاور میں مسلسل روتا ہی رہتا ہوںجب اس سے جدائی کا درد میری برداشت سے باہر ہو جاتا ہےمیں ایک بار پھر اس کے پاس جاتا ہوںاور وہ کہتی ہے: ارے تم کہاں تھے؟مدت سے دکھائی نہیں دیےاور ایک بار پھراس کی اداؤں کا جادو مجھ پر چھا جاتا ہےاس کے جسم کی کشش مجھے مدہوش کر دیتی ہےمیں پاگلوں کی طرح اسے گھورنے لگتا ہوںمیں اپنی آنکھوں سے اس کو چومتا اور چاٹتا ہوںمیں اپنی آنکھوں سے اس کو کھاتا رہتا ہوںاور وہ خاموشی سے سب کچھ دیکھتی رہتی ہےجب میں بے تاب ہو جاتا ہوںتو اچانک وہ غصے میں آ جاتی ہےوہ مجھ سے ناراض ہو جاتی ہےاور میں ایک دھتکارے ہوئے کتے کی طرحاپنی تنہائی میں واپس آ جاتا ہوںاپنی بے بسی پر آنسو بہانے کے لیےاور میں مسلسل روتا ہی رہتا ہوںمیرے خیال میں وہ عورتدنیا کی ظالم ترین عورت ہےاور میں اس عورت سے محبت کرتا ہوںمیں اس کے اندر غرق ہو جاؤں گا
تمہارا کیا ہوگا میرے بغیرمیرا کیا ہوگا تیرے بغیرمیں تو سوچ بھی نہیں سکتاکہ تو میرے جیتے جی مر جائےاور نہ یہ سوچ سکتا ہوںکہ تو کیسے روئے گیاگر میں تم سے پہلے مر گیاہم کتنے بے بس اور اکیلے ہیںکیا یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنی جانیں اک ہی قالب میں سمو لیںتاکہ من و تو کا جھگڑا ہی مٹ جائےہم ایک ہی شاخ کے دو پھول ہیںہمارا مذاق اور مزاج ایک ہےہمارا لطف بدن ایک ہےہمارا سچا من ایک ہےتو پھر ہم جدا کیوں ہو جائیںکوئی راستہ نہیں کیاکوئی چارہ نہیں کیاایسی کوئی صورت بناکہ ہم دو دلوں کو دھڑکتااور دنوں کو چمکتا رکھ سکیںاور پھرمیں شہر در شہر جاگتا پھروںکوچہ و بازار میں بھاگتا پھروںاور تیری آواز ہمیشہ آسماں کی بلندیوں سےاترتی رہے اور زمین کو جگاتی رہےاور میں محبت کے ساگر پر سروں کی درشا کروںجسم کتنا نحیف ہےاور ہم اس لئے اس قالب میں ڈھالے گئےکہ فنا کی لذت سے آشنا ہو جائیںمیں موت کے بارے میں کچھ زیادہ ہی سوچتا ہوںجب تیری سانسیں میرے شانوں پر دستک نہیں دیتیںتو میں کانپ اٹھتا ہوںمیں موت کے سکوت سے ڈرتا ہوںمگر وہ گھڑی آئے گیجب ہم میں سے ایک پہلے زمین میں اترے گاسوسن کے سفید اور کاسنی پھولوں کی چادر اوڑھےہر طرف سے رونے کی آواز آئے گیپھر خاموشی ہوگیسکوت ہوگااور قبر میں سکوت اچھا لگے گااور قبر سے باہر جسے سکوت برداشت کرنے کی سزا ملے گیاس کی حالت کتنی بھیانک ہوگیاب تو ہی بتا کیا کریںکتنی مشکل صورت حال ہےکہ تیرے گداز بدن کے لمس سے اورتیرے لفظوں کی کھنکھناہٹ سے ہیمیں تیری محبت کو سمجھ سکتا ہوںبدن سے پرےسرحد ادراک کے اس پارمیں تم تک رسائی پانے سے قاصر ہوںاور جب جسم کا یہ رشتہ ٹوٹ جائے گاتو جہاں ہم اس وقت سوچ میں گم ہیںوہاں ایک خالی پنجرہ ہوگا
تاکہ میں برداشت کر سکوںدنیا کی لاپروائیاذیت سے تڑپتا ہوا دلاور اپنی موت
تم ان ساری عورتوں سے زیادہ خوب صورت ہوجنہوں نے میرے خیالات پر شعلوں کا ایک ہالہ سا بنائے رکھااور جن کی محبت کا بوجھ برداشت کرتے ہوئے میرے قدم تم تک آ پہنچےتمہارا چہرہ بھلے میری نظروں سے گریزاں رہا میری آنکھیں روشن ہیںاس چمکیلے گلیشیئر کی طرح جو دھوپ میں دور سے نظر آ جائےیہی وہ لمحہ ہے جو وقت کے سمندر میں جذب ہوا تو اسے اپنی وسعت کا اندازہ ہوایہی لمحہ جب موسموں کی دنیا میں داخل ہوا تو خزاں کو بہار سے افضل قرار دیا گیامجھے پتا ہے تمہارے کان روز اول سے اب تک کے شاعروں کی لا یعنی تقریروں سے بھرے ہوئے ہیںتمہارا دل ان گنت عاشقوں کے بوسیدہ جذبوں سے متاثرہ سر زمین ہےلیکن یقین کرواس کائنات کی ہر شے اور ہر وہ شے جس سے مل کر یہ کائنات بنی ہےقائم رہنے کے لئے تمہارے وجود کا سہارا لیتی ہےتمہارے وجود کے احساس کا سہارا لیتی ہےمیں بھی صرف تمہیں محسوس ہی کر سکتا ہوںتم سے بات نہیں کر سکتالیکن وہ لوگ جو تم سے ہم کلام ہونے کی آس پہ اس دنیا میں آئے ہیںجن کے ذہن ابھی تک تمہاری آنکھوں کے ساحلوں سے نا آشنا ہیںوو جلوسوں کی شکل میں تمہاری طرف آئیں گے اور آخر کار خالی ہاتھ لوٹ جائیں گےمیری نظمیں ان کے لئے مشعل راہ ہیںاور یہ خاموش المیہ انہیں ہر جہان میں سرخ رو کر سکتا ہےشرط یہ ہے کہ میں کسی بہانے تمہارے بارے میں لکھتا رہوں
تمہاری دید کی خواہش لیےجب بھی تمہاری جھیل آنکھوں تک پہنچتی ہیںوہاں پہلے سے ہی اک آنکھ یعنی تیسریموجود ہوتی ہےیہ سن رکھا تھا میں نےروزمرہ کی مثالوں میںکہ اندھوں میں جو کانا ہواسی کا راج چلتا ہےمگر اندر ہی اندر ہر کوئی واقف ہےبھیتر جو کہانی ہےیہاں کانا تو بینا شخص پر بھی راج کرتا ہےیہ کانا کیا کوئی دجال ہےتم جس سے ڈر کرمجھ سے پہلے اس کواپنا آپ اچھے سے دکھاتی ہےتم اپنی دید کا پہلا نوالہ اس کو دیتی ہومجھے جھوٹا کھلاتی ہونہیں کھانا مجھے دجال کا جھوٹایہ میں اس سے نہیںبس دل ہی دل میں خود سے کہتا ہوںاسے معلوم ہی کب ہےکہ یہ جو تیسری ہےاس کے ریٹینا کا پچھلا در جہاں کھلتا ہےوہ دیوار دنیا کو نکلتی ہےمیری برداشت سہ جائےاگر بس ایک ہی دجال تم کو دیکھ سکتا ہویہاں لیکن تمہارا سب کا سبدنیا میں جتنے ہیںوہ سب کے سبمیں یہ سب سہ نہیں سکتاتمہیں دیکھے بنا بھی رہ نہیں سکتامجھے بی پی کا کوئی مسئلہ پہلے نہیں تھاہاں مگر اب خون میرا کھولتا ہےجب کبھی گاڑی چلاتے وقت کوئی بورڈ آ جائےجہاں لکھا ہوا ہو اسپیڈ کم رکھیںیہاں سے کچھ قدم آگے سڑک پرکیمرے کی آنکھ تم کو دیکھتی ہے
درپیش اچانک جو ہوئی ایک ضرورتواہیؔ سے ہوئی ریل پہ چڑھنے کی حماقتآ دھمکی ذرا وقت سے پہلے ہی وہ گاڑیواہیؔ نے گھڑی دیکھی تو لاحق ہوئی حیرتحیرت تھی کہ تعجیل کی کیا وجہ ہے آخرتاخیر تو ہے ریل کی دیرینہ روایتالقصہ ٹکٹ منزل مقصود کا لے کراسباب لئے دوڑ کے پہنچا وہ بہ عجلتآگے سے بھی پیچھے سے بھی کھاتا ہوا دھکےداخل ہوا اک چھوٹے سے ڈبے میں بہ دقتڈبہ تھا کہ اک گنج شہیداں کا نمونہتھوڑی سی جگہ تنگ تر از گوشۂ تربتتربت میں مگر پاؤں تو پھیلاتے ہیں مردےزندوں کو نہیں ریل میں اس کی بھی سہولتاسباب پہ بیٹھا تھا کوئی ٹانگ اڑائےکھڑکی پہ کھڑا تھا کوئی دیوار کی صورتاس بھیڑ میں گنجائش الفاظ کہاں تھیالفاظ بھی ہونٹوں سے نکلتے تھے بہ دقتتھا دم بخود اک گوشے میں سمٹا ہوا واہیؔکم بخت کو تھی سانس کے لینے کی ضرورتاور سانس کے لینے کا نہ تھا کوئی بھی امکاںتھی بند ہوا آکسیجن کی تھی یہ قلتتھے ایک بزرگ اس کے مقابل میں جو بیٹھےدیکھی نہ گئی ان سے جو واہیؔ کی یہ حالتفرمانے لگے آپ کہاں جاؤ گے بھیابرداشت بھی کر پاؤ گے رستے کی صعوبتیہ ریل نہیں حضرت سوداؔ کی ہے گھوڑیدور زمیں طے کرتی ہے اک دن کی مسافتکل اس کو پہنچنا تھا جہاں آج ہے پہنچیچوبیس پہر لیٹ ہے اللہ رے سرعتمیں اپنی تباہی کا بیاں کیا کروں بھیاپٹنہ میں تھی کل میرے مقدمے کی سماعتپٹنہ ہے مگر آج بھی دلی کی طرح دورروتی ہے مری شامت اعمال کو قسمتیہ سنتے ہی کان اس کے کھڑے ہو گئے فوراًکی عرض کہ یہ آپ نے کیا کہہ دیا حضرتمیں نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہے وقت پہ آئیچوبیس پہر لیٹ قیامت ہے قیامتبولے وہ بزرگ آپ بڑے سادہ ہیں بھیاہم لوگ کسی کام میں کرتے نہیں عجلتمعلوم نہیں آپ کو یہ نکتۂ تاریخجو قوم کی خصلت ہے نہ ہی ریل کی خصلتوہ ریل کی رفتار ہو یا وقت کی رفتاراس ملک میں دونوں کو تساہل کی ہے عادتپابندئ اوقات میں ہے شان غلامیآزاد ہوا ہند تو کیا اس کی ضرورت
دل فسردہ کو اب طاقت قرار نہیںنگاہ شوق کو اب تاب انتظار نہیںنہیں نہیں مجھے برداشت اب نہیں کی نہیںخدا کے واسطے کہنا نہ اب کی بار ''نہیں''ہمیشہ وعدے کیے اب کے مل ہی جا آ کرحیات و وعدہ و دنیا کا اعتبار نہیںدکھائی اپنی محبت کو چیر کر سینہمگر نمود مرا شیوہ و شعار نہیںمری بہن مری محبوبہ حب عجب شے ہےجہان خاک نہیں کچھ جو دوست دار نہیں
میرے بدن کی چار دیواری کے لئےکھنکتی ہوئی مٹی کم تھیاس لئے خدا نے آنکھوں میں کانچ بھر دیااور جہنم کے لپکتے ہوئے شعلوں کی جلن لہو میں رکھ دیمیرے ہاتھوں میں لق و دق صحراؤں کی رتیلی وحشتچبائے ہوئے عکس کی لکیریں بناتی رہتی ہےاور ذہن کے رستے ہوئے پتیلے میںدن بھر برداشت کا لاوا کھولتا ہے
تمہاری رضا کو لوگمیری خطا کہتے ہیںمیرے ہاتھوں سے وہ پوشاکچھین لی گئیجو میں پہننے والی تھیاور پہنی ہوئی پوشاکمیں اتار چکی تھیمیرے سارے آنے والے موسممنسوخ کر دیے گئے تھےمیں نے کوئی احتجاج نہیں کیااپنا سر تسلیم خم کر دیا تھامجھے اتنی ایذا دی گئیکہ ارمانوں کا ریشم کاتنااب میری برداشت سے باہر ہےاور پھر موسم منسوخ نہ ہوتےپھول ریشم بٹورتےمیری عریانی ڈھک جاتیتمہاری تابع داری میںمیں نے اپنی مٹھی کبھی کھول کر نہیں دیکھیکون اپنے خواب کاایک ٹکڑا کاٹ کرمیری عریانی ڈھانپ دے گالاؤ میں اپنے ہاتھ کی لکیریں مٹا دوں
میں روشنی میں اتنی غلطیاں کرتا ہوںجتنی لوگ اندھیرے میں نہیں کرتے ہوں گےمیں ان دنوں ایک منصوبہ تیار کرنے میں مصروف ہوںہر طرح کی ناکامیوں سے پاک منصوبہتاکہ جیسے ہی موقع ملےمیں خود کو قتل کر دوںمجھے ایسے چوراہے کا بھی انتخاب کرنا ہےجس کے عین وسط میںلاش کو اس طرح لٹکانا ممکن ہوکہ اس کا نظارہ کیا جا سکے چاروں اور سےسنگساری کے حامیوں کو خصوصی دعوت دی جائے گیخاص طور پر قریبی دوستوں کوتم بھی پتھر ہی برسانامیری لاش برداشت نہیں کر سکے گیپھول کی ضربلیکن میں کیا کروںمیں روشنی میں بھی اتنی غلطیاں کرتا ہوںجتنی لوگ اندھیرے میں نہیں کرتے ہوں گے
سانپ کا زہرہمارے جسم میں داخل ہو کرمستی میں نعرہ لگاتا ہےخون کی ہر بوند میں اترتے ہوئےلطف و انبساط سےناچنے لگتا ہےہمارا بدناس کے لیےتمام شریانوں کے در کھول دیتا ہےمدافعت کے لیے بنائے گئے تمام مورچےمنہدم ہو جاتے ہیںچند گھنٹوں میںسارا جسم تاراج ہو جاتا ہےتھکن سے چور زہرایک نیند لینے کا فیصلہ کرتا ہےلیکن اس کی نیند جلد ہی ٹوٹ جاتی ہےہمارے بدن کا تعفن اس کی برداشت سے باہر ہےجسم کے اندھیرے میںسانپ کا زہرٹھوکریں کھاتا پھرتا ہےاسے جسم سے باہر نکلنے کا راستہ نہیں ملتاوہ دوڑ دوڑ کر ہانپ جاتا ہےایک مردہ بدن میںایڑیاں رگڑ رگڑ کربالآخرخود بھی مر جاتا ہے
بات کرتے ہوئے جذبات کا گھٹنا بڑھنالہجۂ نرم میں سانسوں کا اترنا چڑھناغزل اشک کے ہر لفظ کو رو کر پڑھناجو ہوا میں نے نہ سوچا تھا مقدر نکلادونوں کی قوت برداشت سے باہر نکلا
میرا غم معتبر تھاتکلف کی قبا نوچ کر جس نےمعصوم رنگ آتشیں بھرا تھاتخلیق کے بند جذبوں کواخلاق کے ہاتھوں پر دھرا تھازندگی جس کے لئےدار تھیکوئے دل دار بھیروح کی تفسیر بھیرنگ حنا کی تنویر بھیبرداشت جس نے کیآرزوؤں کی تضحیک بھیمقدس جذبات کی تذلیل بھیلبوں پر جس کےکتنے اعتراضات تھےنہاں جس کے دل میںکتنے اعتراضات تھےکچھ سطورکچھ سطور کے درمیاں بھی تھاکہیں تحریککہیں ٹھہراؤ کا سماں بھی تھاکہیں خوابکہیں خوابوں کا صورت گر بھی تھاہم اور تم جسے نہ جان سکےاس کے خوابوں کو نہ پہچان سکے
ہمالہ کے نوکیلے بدن سے پھسلتی ہوئی چنچل بوندیںاس کے قدموں پہ جا گریںوہ ہمالہ کے پیروں کو چومتی رہیں اور المیہ گیت گاتی رہیںمیرے محبوب ہم کہ بس تیری داسیاں بن کرترے قدموں کو ہمیشہ چومتے رہنا چاہتی ہیں،یہ ڈھلوان ہمیں جنوب کی اور جتنا بھی آگے بہا لے جائےلیکن ایک دنہم سمندر سے اٹھنے والی ہواؤں کی رتھ پر سوار ہو کرپھر سے تیری جانب لوٹ آئیں گےیہ گیت دہراتے ہوئےتمام داسیاں اپنے محبوب کو آخری بوسہ دے کرایک لمبے سفر کے لئے نکل جاتیں ہیںجھرنا،ندی،دریا،سمندر۔۔۔ہمالہ کی ہیبت سے برف ہو جانے والا سورججب ہمالہ سے لپٹی سرد ہواؤں سے نہ جیت سکاتواپنی ہار کا بدلہ لینےہمالہ کی داسیوں کے تعاقب میں نکل پڑتا ہےجوں جوں داسیاں ہمالہ سے دور ہوتی جا رہی ہیںاس (سورج) کا قہر آگ بن کر ان (داسیوں) پر برستا چلا جاتاوہ ایک ایک کر کے تمام داسیوں کو نگلنا چاہتا ہےاور وہ ایسا ہی کرتا ہے اور کرتا ہی چلا جاتا ہےیہاں تک کہہر داسی کے گیلے بدن سے اس کی روح بھاپ بن کر اڑ جاتیلا زوال قربانی خدا قبول کرتا ہےموت اندھی ہو جاتی ہے۔۔۔۔اور زندگی پانی بن کر ان (داسیوں) کی رگوں میں دوڑنے لگتی ہےجنوب سے اٹھنے والی ہواان داسیوں کی پاک روحوں کواپنے کاندھے پر لادے شمال کی جانب واپسی کا سفر کرتیں ہیںدنہفتےمہینے۔۔۔۔داسیوں کو اپنا دیوتا پھر نظر آنے لگاوہ ہوا کو کچھ اور تیز چلنے کو کہتیوہ سب بے چین ہیںبے قرار ہیںوہ اپنے نرم ہونٹوں سےہمالہ کے خاکستری لبوں کو چومنا چاہتی تھیںوہ اپنے محبوب کو یہ بتانا چاہتی ہیں کہتیری محبت میں موت نے ہم سے ہمارا بدن چھین لیا ہےہر بدلی کے دل میں یہ خواہش تھیکہ ہمالہ انہیں اپنی بانہوں میں سمیٹےاورہمیشہ سے سر اٹھائے کھڑے رہنے والے ہمالہ کیچوڑی چھاتی سے ٹکرا کر برس جاناہر بدلی کا خواب ہے،داسیاں ہوا سے کچھ اور تیز چلنے پر اصرار کرتیں ہیںلیکن اب ہوا کو یہ سب دیکھنا برداشت نہیںوہ،ان بدلیوں سے چلا چلا کر کہتی۔۔۔۔۔۔اے بدلیوتم سب احسان فراموش ہوکہ جب تمہیں سورج نے جلا کر بھاپ بنا دیاتو تمہاری سوکھی لاشوں کو میں نے کاندھا دیاوہ میں ہی تھی کہ جس نے تمہیں اپنی آغوش میں بھرااور آسمان تک لے آئیلیکن آج تم اس ہمالہ پرپھر سے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہو!تم آج پھر اس ہمالہ سے ٹکرا کر برسنا چاہتی ہو۔۔۔۔تف ہے تمہاری دیوانگی پر!ہوا طیش میں آ کر کچھ اور تیز چلنے لگتیوہ ایک ایک کر کے ہر بدلی کو ہمالہ کی چوڑی چھاتی سے ٹکرا دیتیاور بدلی اپنے محبوب کا لمس محسوس کرتے ہیایک بار پھر بوندوں میں بکھر جاتی ہےاور ہمالہ کے قدموں پہ گرتی ہر بونددوبارہ وہی پرانا گیت دہراتی ہیں۔۔۔۔اے میرے محبوب ہم کہ بس تیری داسیاں بن کرترے قدموں کو ہمیشہ چومتے رہنا چاہتی ہیں،یہ ڈھلوان ہمیں جنوب کی اور جتنا بھی آگے بہا لے جائےلیکن ایک دنہم سمندر سے اٹھنے والی ہواؤں کی رتھ پر سوار ہو کرپھر سے تیری جانب لوٹ آئیں گے
دریائے طبیعت کو رواں ہم نے کیا ہےدر ہاٸے معانی کو عیاں ہم نے کیا ہےیوں حال دل زار بیاں ہم نے کیا ہےخود ان کو بھی اب اشک فشاں ہم نے کیا ہےان میں بھی نظر کچھ کی حقائق سے ہے محرومیہ تجزیۂ دیدہ وراں ہم نے کیا ہےکم ہیں بہت انسانیت و خلق کی قدریںیہ تجربۂ اہل جہاں ہم نے کیا ہےہے بات ہماری ہی کہ رندوں کو بہر طورزیر اثر پیر مغاں ہم نے کیا ہےکیا خوب ابھر آئے نقوش گل و لالہآنکھوں کو جو خوں نابہ فشاں ہم نے کیا ہےاک موڑ دیا ہے رخ تاریخ کو جس نےکردار وہ عالم پہ عیاں ہم نے کیا ہےماحول کے ظلمت کدۂ تیرہ شبی کواک جلوہ گہ کاہکشاں ہم نے کیا ہےگویا ہیں دل و دیدہ زباں ساکت و خاموشاس طرز سے بھی شور فغاں ہم نے کیا ہےپیہم رہے ہم حسن یقیں کے متجسسکب کوئی غلط وہم و گماں ہم نے کیا ہےعبرت کدۂ دہر کی اک کھینچ دی تصویرجب ذکر جہان گزراں ہم نے کیا ہےشائستگیٔ فکر کو بھی ناز ہے جس پرپیدا وہی اسلوب بیاں ہم نے کیا ہےلبیک کہا ہے رسن و دار کو جس نےوہ حوصلۂ قلب تپاں ہم نے کیا ہےخلاق دو عالم کا کیا ذکر و تصورکیا خوب علاج غم جاں ہم نے کیا ہےہم نے ہی بنایا انہیں مردان خوش انفاستبدیل رخ بادہ کشاں ہم نے کیا ہےہر خلوت و جلوت میں جو کہتے رہے دائموہ برسر منبر بھی بیاں ہم نے کیا ہےہر حال میں راضی رہے ہم اس کی رضا میںکب تبصرۂ سود و زیاں ہم نے کیا ہےکہسار و سما جس کے اٹھانے سے تھے معذوربرداشت وہ اک بار گراں ہم نے کیا ہےحق گوئی اگر جرم ہے یہ جرم نکو ترہم ڈٹ کے یہ کہتے ہیں کہ ہاں ہم نے کیا ہےانسان ہیں انسان ہم اک اشرف مخلوقتسخیر جو یہ کون و مکاں ہم نے کیا ہےجس درجہ پئے عالم بالا ہے ضروریانعامؔ وہ سامان کہاں ہم نے کیا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books