aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "beghar"
1وہ صبح کبھی تو آئے گیان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گاجب دکھ کے بادل پگھلیں گے جب سکھ کا ساگر چھلکے گاجب امبر جھوم کے ناچے گا جب دھرتی نغمے گائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیجس صبح کی خاطر جگ جگ سے ہم سب مر مر کر جیتے ہیںجس صبح کے امرت کی دھن میں ہم زہر کے پیالے پیتے ہیںان بھوکی پیاسی روحوں پر اک دن تو کرم فرمائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمانا کہ ابھی تیرے میرے ارمانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںمٹی کا بھی ہے کچھ مول مگر انسانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںانسانوں کی عزت جب جھوٹے سکوں میں نہ تولی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیدولت کے لیے جب عورت کی عصمت کو نہ بیچا جائے گاچاہت کو نہ کچلا جائے گا غیرت کو نہ بیچا جائے گااپنے کالے کرتوتوں پر جب یہ دنیا شرمائے گیوو صبح کبھی تو آئے گیبیتیں گے کبھی تو دن آخر یہ بھوک کے اور بیکاری کےٹوٹیں گے کبھی تو بت آخر دولت کی اجارہ داری کےجب ایک انوکھی دنیا کی بنیاد اٹھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمجبور بڑھاپا جب سونی راہوں کی دھول نہ پھانکے گامعصوم لڑکپن جب گندی گلیوں میں بھیک نہ مانگے گاحق مانگنے والوں کو جس دن سولی نہ دکھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیفاقوں کی چتاؤں پر جس دن انساں نہ جلائے جائیں گےسینوں کے دہکتے دوزخ میں ارماں نہ جلائے جائیں گےیہ نرک سے بھی گندی دنیا جب سورگ بنائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گی2وہ صبح ہمیں سے آئے گیجب دھرتی کروٹ بدلے گی جب قید سے قیدی چھوٹیں گےجب پاپ گھروندے پھوٹیں گے جب ظلم کے بندھن ٹوٹیں گےاس صبح کو ہم ہی لائیں گے وہ صبح ہمیں سے آئے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گیمنحوس سماجی ڈھانچوں میں جب ظلم نہ پالے جائیں گےجب ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے جب سر نہ اچھالے جائیں گےجیلوں کے بنا جب دنیا کی سرکار چلائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گیسنسار کے سارے محنت کش کھیتوں سے ملوں سے نکلیں گےبے گھر بے در بے بس انساں تاریک بلوں سے نکلیں گےدنیا امن اور خوشحالی کے پھولوں سے سجائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گی
تمہیں کیازندگی جیسی بھی ہےتم نے اس کے ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیںتمہیں تو ٹوٹ کر چاہا گیا چہروں کے میلے میںمحبت کی شفق برسی تمہارے خال و خد پرآئنے چمکے تمہاری دید سےخوشبو تمہارے پیرہن کی ہر شکن سےاذن لے کر ہر طرف وحشت لٹاتی تھیتمہارے چاہنے والوں کے جھرمٹ میںسبھی آنکھیں تمہارے عارض و لب کی کنیزیں تھیںتمہیں کیاتم نے ہر موسم کی شہ رگ میں انڈیلے ذائقے اپنےتمہیں کیاتم نے کب سوچاکہ چہروں سے اٹی دنیا میں تنہا سانس لیتیہانپتی راتوں کے بے گھر ہم سفرکتنی مشقت سے گریبان سحر کے چاک سیتے ہیںتمہیں کیاتم نے کب سوچاکہ تنہائی کے جنگل میںسیہ لمحوں کی چبھتی کرچیوں سے کون کھیلا ہےتمہیں کیاتم نے کب سوچاکہ چہروں سے اٹی دنیا میںکس کا دل اکیلا ہے
دور کہیں وہ کوئل کوکی رات کے سناٹے میں دورکچی زمیں پر بکھرا ہوگا مہکا مہکا آم کا بوربار مشقت کم کرنے کو کھلیانوں میں کام سے چورکم سن لڑکے گاتے ہوں گے لو دیکھو وہ صبح کا نورچاہ شب سے پھوٹ کے نکلا میں مغموم کبھی مسرورسوچ رہا ہوں ادھر ادھر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
شام ہونے کو ہےلال سورج سمندر میں کھونے کو ہےاور اس کے پرےکچھ پرندےقطاریں بنائےانہیں جنگلوں کو چلےجن کے پیڑوں کی شاخوں پہ ہیں گھونسلےیہ پرندےوہیں لوٹ کر جائیں گےاور سو جائیں گےہم ہی حیران ہیںاس مکانوں کے جنگل میںاپنا کہیں بھی ٹھکانا نہیںشام ہونے کو ہےہم کہاں جائیں گے
ظلم کی رات بہت جلد ٹلے گی اب توآگ چولہوں میں ہر اک روز جلے گی اب توبھوک کے مارے کوئی بچہ نہیں روئے گاچین کی نیند ہر ایک شخص یہاں سوئے گاآندھی نفرت کی چلے گی نہ کہیں اب کے برسپیار کی فصل اگائے گی زمیں اب کے برسہے یقیں اب نہ کوئی شور شرابہ ہوگاظلم ہوگا نہ کہیں خون خرابا ہوگااوس اور دھوپ کے صدمے نہ سہے گا کوئیاب مرے دیش میں بے گھر نہ رہے گا کوئینئے وعدوں کا جو ڈالا ہے وہ جال اچھا ہےرہنماؤں نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہےدل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
اے جہاں دیکھ لے کب سے بے گھر ہیں ہماب نکل آئے ہیں لے کے اپنا علمیہ محلات یہ اونچے اونچے مکاںان کی بنیاد میں ہے ہمارا لہوکل جو مہمان تھے گھر کے مالک بنےشاہ بھی ہے عدو شیخ بھی ہے عدوکب تلک ہم سہیں غاصبوں کے ستماے جہاں دیکھ لے کب سے بے گھر ہیں ہماب نکل آئے ہیں لے کے اپنا علم
بڑوں کا راج تو صدیوں سے ہے زمانے میںکبھی ہوا نہیں دنیا میں راج چھوٹوں کااگر ہمیں بھی ملے اختیار اے لوگوتو ہم دکھائیں تمہیں کام کاج چھوٹوں کاملک میں بچوں کی گر سرکار ہوزندگی اک جشن اک تہوار ہوحکم دیں ایسے کلینڈر کے لئےجس میں دو دن بعد اک اتوار ہوسب کو دیں اسکول جیسا یونیفارمایک سی ہر پینٹ ہر شلوار ہوہاسٹل تعمیر ہو سب کے لئےکوئی بھی انساں نہ بے گھر بار ہوراشٹر بھاشا ہم اشاروں کو بنائیںدکھن اتر میں نہ پھر تکرار ہوہم منسٹر ہوں تو وہ سسٹم بنےجس میں مفلس ہو نہ ساہوکار ہوقومی دولت کے خزانے ہوں بھرےخود ہی لے لے جس کو جو درکار ہوعید دیوالی سبھی مل کر منائیںآدمی کو آدمی سے پیار ہوملک میں بچوں کی گر سرکار ہو
پڑے ہیں گیٹ وے آف انڈیا کے فرش پر بے گھر بھکاریادھر ہیں کچھ جواریادھر اک ہپی لڑکی اپنے ہپی دوست کے پہلو میں سمٹیچلم کا دم لگاتی ہےسراغ جنت الموط کے طالب ہیں دونوں ایک سادھو سےحشیشی نشے کے دریا میں غوطے کھا رہے ہیںحشیشی نشے ہی کی موج ہے گویا سمندر کی صدا بھیسمندر کی سیاہی پر وہ پیلی روشنی کے پھولجہازوں نے بکھیرے ہیںاندھیرے میں نظر آتا نہیں جن کا کوئی مستولجہاز آرام کرتے ہیںجہازی شہر کے عشرت کدوں میں غوطہ زن ہوں گےہجوم حشر ساماں کے سمندر میںجہازی چند قطروں کی طرح گھل مل گئے ہوں گےیہاں تو نارسی سس بھی کہیں بھی خود گرفتہ رہ نہیں سکتا
رات دن خواب بنتی ہوئی زندگیدل میں نقد اضافی کی لوآنکھ بار امانت سے چورموج خوں بے نیاز مآلدشت بے رنگ سے درد کے پھول چنتی ہوئی زندگیخوف واماندگی سے خجلآرزوؤں کے آشوب سے مضمحلمنہ کے بل خاک پر آ پڑیہر طرف اک بھیانک سکوتکوئی نوحہ نہ آنسو نہ پھولحاصل جسم و جاں بے نشاں رہ گزاروں کی دھولاجنبی شہر میںخاک بر سر ہوئی زندگیکیسی بے گھر ہوئی زندگی
بچپن کی گلیوں میں جن جن گھروں کے شیشے میری گیند سے ٹوٹے تھےان سب کی کرچیں کبھی کبھی میری آنکھوں میں چبھنے لگتی ہیںجلتی دوپہروں میں میرے ہاتھوں اجڑے ہوئے گھونسلوں کے بے حال پرندوں کیچیخیں فریادیں میری بے گھر شاموں میں کہرام مچاتی رہتی ہیںچکناچور دنوں ریزہ ریزہ راتوں میں سوئے ہوئے سب خواب جگاتی رہتی ہیںاپنے خنجر اپنے ہی سینے میں اترنے لگتے ہیںزندہ چہرے جلتے بجھتے لمحوں کی آغوش میں مرنے لگتے ہیں
کیسے کیسے نام لکھے تھےوقت نے ماہ و سال کے رخ پرطوفانوں نے پالا ماراسارے ہو گئے تتربترصیقل کر کے رکھنا چاہاہم نے کچھ ناموں کو بچا کرعمر کی موجیں بہا لے گئیںسارے لعل اور سارے جواہرطرز خرام کے پھول کھلے تھےآتی جاتی راہ گزر پرآج ہے صرف غبار کا پردہکیسی منزل کیسا منظردھجی دھجی بکھر رہی ہےتنی ہوئی احساس کی چادرکچھ حرفوں کی مدھم سی لوکانپ رہی ہے لرز لرز کرخوشبو اپنی کھو بیٹھا ہےسب شعروں کا مشک اور عنبرصورت اپنی بدل چکے ہیںعہد عقیدے مسجد منبرکیسے خالی ہاتھ کھڑے ہیںشاہ وزیر امیر گداگراجڑی خواب و خیال کی دنیااپنے گھروں میں سب ہیں بے گھرکیوں کر جوڑیں اپنے ٹکڑےہار گئے ہیں سارے رفوگرخونی بادل گہرے گہرےچھٹے نہیں ہیں برس برس کراور زمینیں آنکھیں موندےمست ہوئی ہیں لہو پی پی کرایک طلسمی کھیل رچا ہےجانے کون ہے یہ جادوگر
کیا اس نظام کو جاگیر دار بدلے گا؟جومیرے ووٹ سے منتخب ہوتا ہےاورمیرے خوابوں پر ٹیکس لگاتا ہےکیااس نظام کو سرمایہ دار بدلے گا؟جومجھ سے بارہ گھنٹے کی بیگار لیتا ہےمگرآٹھ گھنٹے کی اجرت دینے پر بھی تیار نہیں!کیا دانشور اس نظام کو بدل سکتا ہے؟مگر وہ توایک پلاٹ یا غیر ملکی دورے کے عوضحکمرانوں کے لیے لغت میں سے ستائشی الفاظجمع کرتا رہتا ہے!تاجر اس نظام کو کیسے بدلے گا؟وہ تو بجٹ کی تمام مراعات سمیٹ کرساری مہنگائیمیرے کھاتے میں درج کر دیتا ہےسیاست دان اس نظام کا محافظ کیوں نہ ہو!کہ اس کی برکت سےوہ سرکاری اسکول اور ڈسپنسری میں اپنی بھینس باندھ سکتا ہےاورسایہ دینے والے غیر سرکاری درخت کے نیچےکلاس لینے والے ضدی ٹیچر کواپنی پجارو سے باندھ کر گھسیٹے جانے کی دھمکی دیتا ہےمیں نےصحافی سے اس نظام کو بدلنے کی درخواست کیمگر وہتھانہ محرر کے پاس بیٹھ کر چائے پینے اور خبریں لکھنے میں مگن تھایہ سب جانتے ہوئےمیں اگلے پانچ سال کے لیےاپنا چہرہ اپنے حلقے کے پٹواری کو دے دوں گاجو اسےعکس شجرہ میں لپیٹ کر رکھ لے گااورووٹ کی پرچی پر میرا انگوٹھا خود ہی لگا لے گا
بین کرتی عورتوں سےہم پوچھ رہے ہیں میرؔ کے شعر کا مطلببے گھر بھونروں سے کہہ رہے ہیںشکنتلا کو رجھانے کے لیےلو بھری دوپہر میںکوکنے کا تقاضہ کر رہے ہیں کوئل سےاس مشکل وقت میںکچھ لوگ کہہ رہے ہیں ہم سےاپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیےایک ٹوٹے ہوئے برتن کوچاک سے وفاداری ثابت کرنے کے لیےکچھ لوگ تالیاں بجا رہے ہیںکچھ حیران ہو کر دیکھ رہے ہیںان کی اور ہماری شکلیہ معصوم ہیںانہیں معاف کر دینا میرے خدااور ممکن ہو تو ہمیں بھیکہ ہم جی رہے ہیںاس مشکل وقت میں بھی
جب کھلی آنکھوں سے اپنے آس پاسدیکھتا ہوں اپنی دنیا کس قدر محدود و تنگاور پھراک جاگتے لمحے میں میںبند کر لیتا ہوں اپنی آنکھ اوردیکھتا ہوں سامنے پھیلا ہوا اک جہان بے کناردیکھتا ہوں اپنی ہی آنکھوں سے وہ سارے مناظرشہر اور آبادیاںسیکڑوں صدیوں سے جو محفوظ ہیںکس کو دیکھوں کس کو چھوڑوںایسی اک دنیا نہ جس کا اور چھورنہ تو سمتیں اور حدیںاور افق ناپید، غائب آسماںسوچتا ہوں آہ میرا یہ سفر کتنا طویلفاصلے اتنے کہ ان کی اب کوئی منزل نہیںطے کروں گا اور تھک جاؤں گا میںاور میری نیند روٹھی ہی رہے گی تاکہ میں آرام لوںکھول دیتا ہوں یہ آنکھیںاور اب خوش ہوں چلو فرصت ملی اس مفت کی بیگار سےکیا بتاؤں میرے اندر سے اس دمدو نئی آنکھیں نکل کرمیری آنکھوں کی جگہ لیتی ہیںپھر پہنچ جاتا ہوں اس دنیا میںجس سے بھاگ کر آیا تھا میںپھر وہی سارے مناظر شہر اور آبادیاںجیسے اک آسیب بن کر میرے سر پہ چھا گئیںآہ مجھ کو کھا گئیںکاش کوئی وہ کھلی آنکھیں مجھے واپس دلا دےمیں ہمیشہ کے لئے بن جاؤں گا اس شخص کاآج تک وہ شخص میری آنکھ سے اوجھل ہے، میںموت تک کیا سو سکوں گاموت ہی وہ اپنی پیاری نیند ہےجو ہمیشہ کے لیے اپنے مسافر کو سلاتی ہےاسے تحفہ عطا کرتی ہےجس کو ہم کبھی آرام کہتے کبھی امن و سکوںمیں اسی کی کالی زلفوں کا اسیرمیں اسی اپنی دلہن کا منتظر ہوں
چھوڑ آیا ہوں میں اپنا چھوٹا سا گھرتعاقب کرتا ہے وہ اب میرا عمر بھرجنگل کنارے پربتوں کے تلےہری بھری وادیوں میںجہاں بہتے تھے برساتی پرنالےچھوڑ آیا ہوں میں اپنا چھوٹا سا گھرحد نگاہ تک وہ خوشنما منظربادلوں کی اوٹ سے پہاڑی نظارےبجلی کی چمک بادل کی گرجکبھی چھت ٹپکتی تھی تو کبھی ہلتی تھیں دیواریںکتاب کاپیوں کو سینے میں چھپاناسرد ہوا کے جھونکوں سے چراغ کا ٹمٹماناوہ تیرا معصوم چہرہوہ تیرا بھیگی پلکوں سے مسکراناوہ آزمائش کی کالی راتیں وہ امتحانوں کا ڈرچھوڑ آیا ہوں میں اپنا چھوٹا سا گھرحافظے میں دفن ہے جس کا اب بھی وہ منظرمٹ میلی سی تھیں جس کی دیواریںسرخ تھا جس کا چھپرجنگلے کی کمزور سلاخوں سےآنکھوں میں آنسو لیےایک لڑکا دیکھا کرتا تھاقومی شاہراہ کا منظرجہاں سے دیوانہ وار بسوں اور ٹرکوں کا کارواںبھاگتا دوڑتا رہتا تھا بڑے شہروں کی سمتہاں بڑے شہروں کی سمتجن کی خود لاپتہ تھیں سمتیں!!آج چالیس سال بعد وہ لڑکا سوچتا ہےبڑا شہر سراب ہے سنہری ہرن کا خواب ہےبڑے شہر کی چاہ میں دوڑتے دوڑتےوہ بے سمت بے منظر بے گھر ہو گیا ہےلیکن پھر کبھی کبھی اسے احساس ہوتا ہےاس کی بھی اپنی اساس ہےاس کا سہانہ منظر اس کے پاس ہےاس کا بھی اپنا گھر ہےوہ چھوٹا سا گھر وہ مٹ میلی دیواریںوہ سرخ چھپرجہاں آشنا نگاہیںجہاں محبت آمیز باہیںآج بھی اس کا انتظار کر رہی ہیں
اوس میں تر کوئی بے گھر تتلینیند پیڑ کی خواب شاخ پرپیلے دھانی اندیشوں کیدھنک پہن کے سوتی ہے۔۔۔۔۔۔اس کہرے میںوہ جادو گر بیربہوٹی کرن دکھائی دےجو اس کے مجروح پروں سےشبنم کی زنجیر توڑ کےاسے رہائی دے
نادار آدمی کوئی زردار آدمیخرکار آدمی کوئی بیگار آدمیہے طرفہ اک تماشا پس آدمی سداپردے پہ زندگی کے اداکار آدمی
ہوا ہمارے دالانوں میں رک سی گئی ہےتم سے اجازت لے کرمیدانوں کی خوشبو پھیلا دے گیمری کتابوں اور تمہاری پوشاکوں میںاس سے پوچھوکیسے ہیں وہ لوگ جنہیں پچھلی برسات میںہم نے بے گھر دیکھا تھااور کیسی ہے وہ بچیجس نے ہم دونوں کو اپنے مٹی کے پیالے میں دودھ پلایا تھاکیسے ہیں سورج مکھی کے ننھے منے بیٹےجن کو ہم نے پیار کیا تھااور وہ سادہ لوح چرواہےجن سے ہم نے اپنا رستہ پوچھا تھاکیسے ہیں دریا کے گیتجنہیں ادھورا چھوڑ آئے تھےکس نے ہم دونوں کے بعد انہیں گایا ہےکون ہمارے بعد وہاں سے گزراجہاں نومبر آ کر ٹھہر گیا تھااور نومبر دھوپ میںجیسے سیاحوں کی وردی پہنےہر منظر میں پھیل رہا تھاہمیں بتاؤتم کیسی ہواور کیسے ہیں زندہ رہنے والے زمانے
وقت بہت ہے ہمارے پاسوقت گزاری کے لیےکمپیوٹر اسکرین پر روشن رہتے ہیںبے حساب گڈمڈ حروف بے شمار بے خال و خطآوازیں!اجنبیت کی تہوں سے نئے رشتے نئے تعلقجنہیں لٹکایا جا سکے کلینڈر کی طرحسخت دل دیواروں پرجنہیں لٹکایا جا سکے کلینڈر کی طرحسب سے اچھا کھیل ہےاجنبیت کو کریدنااور کرید رہے ہیں ہمارے بچےنئے رشتے نئے گھر نئے وطنکھیل ہی کھیل میںکتنا بے رشتہ کتنا بے گھر کتنا بے وطن کر دیا ہےہمیں ہمارے بچوں نے!!!ہمارے پاس تو صرف دیواریں بچی ہیںجن پر لٹکائی جا سکتی ہےبے مصرف رشتوں کی فراغت!!اور وقت بہت ہے ہمارے پاس!!!
ہم بے احتیاط لمحوں کا قصاص نہیں تھےہم حلال کے تھےمگر بے گھر پیدا ہوئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books