aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "behad"
قیامت کی خبر گیری ہےبے حد ناز برداری کا عالم ہے
جسے فن کہتے آئے ہیں وہ ہے خون جگر اپنامگر خون جگر کیا ہے وہ ہے قتال تر اپناکوئی خون جگر کا فن ذرا تعبیر میں لائےمگر میں تو کہوں وہ پہلے میرے سامنے آئےوجود و شعر یہ دونوں define ہو نہیں سکتےکبھی مفہوم میں ہرگز یہ کائن ہو نہیں سکتےحساب حرف میں آتا رہا ہے بس حسب ان کانہیں معلوم ایزد ایزداں کو بھی نسب ان کاہے ازد ایزداں اک رمز جو بے رمز نسبت ہےمیاں اک حال ہے اک حال جو بے حال حالت ہےنہ جانے جبر ہے حالت کہ حالت جبر ہے یعنیکسی بھی بات کے معنی جو ہیں ان کے ہیں کیا معنیوجود اک جبر ہے میرا عدم اوقات ہے میریجو میری ذات ہرگز بھی نہیں وہ ذات ہے میریمیں روز و شب نگارش کوش خود اپنے عدم کا ہوںمیں اپنا آدمی ہرگز نہیں لوح و قلم کا ہوں
میں جب بھیزندگی کی چلچلاتی دھوپ میں تپ کرمیں جب بھیدوسروں کے اور اپنے جھوٹ سے تھک کرمیں سب سے لڑ کے خود سے ہار کےجب بھی اس ایک کمرے میں جاتا تھاوہ ہلکے اور گہرے کتھئی رنگوں کا اک کمرہوہ بے حد مہرباں کمرہجو اپنی نرم مٹھی میں مجھے ایسے چھپا لیتا تھاجیسے کوئی ماںبچے کو آنچل میں چھپا لےپیار سے ڈانٹےیہ کیا عادت ہےجلتی دوپہر میں مارے مارے گھومتے ہو تموہ کمرہ یاد آتا ہےدبیز اور خاصا بھاریکچھ ذرا مشکل سے کھلنے والا وہ شیشم کا دروازہکہ جیسے کوئی اکھڑ باپاپنے کھردرے سینے میںشفقت کے سمندر کو چھپائے ہووہ کرسیاور اس کے ساتھ وہ جڑواں بہن اس کیوہ دونوںدوست تھیں میریوہ اک گستاخ منہ پھٹ آئینہجو دل کا اچھا تھاوہ بے ہنگم سی الماریجو کونے میں کھڑیاک بوڑھی انا کی طرحآئینے کو تنبیہ کرتی تھیوہ اک گلدانننھا سابہت شیطانان دنوں پہ ہنستا تھادریچہیا ذہانت سے بھری اک مسکراہٹاور دریچے پر جھکی وہ بیلکوئی سبز سرگوشیکتابیںطاق میں اور شیلف پرسنجیدہ استانی بنی بیٹھیںمگر سب منتظر اس بات کیمیں ان سے کچھ پوچھوںسرہانےنیند کا ساتھیتھکن کا چارہ گروہ نرم دل تکیہمیں جس کی گود میں سر رکھ کےچھت کو دیکھتا تھاچھت کی کڑیوں میںنہ جانے کتنے افسانوں کی کڑیاں تھیںوہ چھوٹی میز پراور سامنے دیوار پرآویزاں تصویریںمجھے اپنائیت سے اور یقیں سے دیکھتی تھیںمسکراتی تھیںانہیں شک بھی نہیں تھاایک دنمیں ان کو ایسے چھوڑ جاؤں گامیں اک دن یوں بھی جاؤں گاکہ پھر واپس نہ آؤں گا
حال پر بچوں کے ہیں بے حد پریشاں والدینساتھ میں اولاد کے ان کا اڑا جاتا ہے چینگرچہ ہے تعلیم اور رٹنے میں بعد المشرقینسوچتے ہیں وہ کہ اچھا ذہن ہے خالق کی دینکیا خبر تھی اس طرح جی کا زیاں ہو جائے گا''یعنی یہ پہلے ہی نذر امتحاں ہو جائے گا''
پونم کی روشنی میںتاج محلکمال کی سرحد کے اس پاربے حد اکیلااور بہت اداسجیسے کوئی بلا کی حسینہہجوم کے بیچ کھڑیہر نگاہ سے ناآشناہر نگاہ میں برہنہ
جہاں میں ہر طرف ہے علم ہی کی گرم بازاریزمیں سے آسماں تک بس اسی کا فیض ہے جارییہی سرچشمۂ اصلی ہے تہذیب و تمدن کابغیر اس کے بشر ہونا بھی ہے اک سخت بیماریبناتا ہے یہی انسان کو کامل ترین انساںسکھاتا ہے یہی اخلاق و ایثار و روا دارییہی قوموں کو پہنچاتا ہے بام اوج و رفعت پریہی ملکوں کے اندر پھونکتا ہے روح بیداریاسی کے نام کا چلتا ہے سکہ سارے عالم میںاسی کے سر پہ رہتا ہے ہمیشہ تاج سرداریاسی کے سب کرشمے یہ نظر آتے ہیں دنیا میںاسی کے دم سے رونق عالم امکاں کی ہے سارییہ لا سلکی، یہ ٹیلیفون یہ ریلیں، یہ طیارےیہ زیر آب و بالائے فلک انساں کی طراریحدود استوا قطبین سے یوں ہو گئے مدغمکہ ہے اب ربع مسکوں جیسے گھر کی چار دیواریسمندر ہو گئے پایاب صحرا بن گئے گلشنکیا سائنس نے بھی اعتراف عجز و ناچاریبخار و برق کا جرار لشکر ہے اب آمادہاگلوا لے زمین و آسماں کی دولتیں ساریغرض چاروں طرف اب علم ہی کی بادشاہی ہےکہ اس کے بازوؤں میں قوت دست الٰہی ہےنگاہ غور سے دیکھو اگر حالات انسانیتو ہو سکتا ہے حل یہ عقدۂ مشکل بہ آسانیوہی قومیں ترقی کے مدارج پر ہیں فائق ترکہ ہے جن میں تمدن اور سیاست کی فراوانیاسی کے زعم میں ہے جرمنی چرخ تفاخر پراسی کے زور پر مریخ کا ہمسر ہے جاپانیاسی کی قوت بازو پہ ہے مغرور امریکہاسی کے بل پر لڑکی ہو رہی ہے رستم ثانیاشارے پر اسی کے نقل و حرکت ہے سب اٹلی کیاسی کے تابع فرمان ہیں روسی و ایرانیاسی کے جنبش ابرو پہ ہے انگلینڈ کا غرہاسی کے ہیں سب آوردے فرانسیسی و البانیکوئی ملک اب نہیں جن میں یہ جوہر ہو نہ رخشندہنہ غافل اس سے چینی ہیں نہ شامی ہیں نہ افغانیبغیر اس کے جو رہنا چاہتے ہیں اس زمانے میںسمجھ رکھیں فنا ان کے لیے ہے حکم ربانیزمانہ پھینک دے گا خود انہیں قعر ہلاکت میںوہ اپنے ہاتھ سے ہوں گے خود اپنی قبر کے بانیزمانے میں جسے ہو صاحب فتح و ظفر ہوناضروری ہے اسے علم و ہنر سے بہرہ ور ہوناترقی کی کھلی ہیں شاہراہیں دہر میں ہر سونظر آتا ہے تہذیب و تمدن سے جہاں مملوچلے جاتے ہیں اڑتے شہسواران فلک پیماخراج تہنیت لیتے ہوئے کرتے ہوئے جادوگزرتے جا رہے ہیں دوسروں کو چھوڑتے پیچھےکبھی ہوتا ہے صحرا مستقر ان کا کبھی ٹاپوکمر باندھے ہوئے دن رات چلنے پر ہیں آمادہدماغ افکار سے اور دل وفور شوق سے ملولالگ رہ کر خیال زحمت و احساس راحت سےلگے ہیں اپنی اپنی فکر میں با خاطر یکسومگر ہم ہیں کہ اصلاً حس نہیں ہم کو کوئی اس کیہمارے پائے ہمت ان مراحل میں ہیں بے قابوجہاں پہلا قدم رکھا تھا روز اولیں ہم نےنہیں سرکے اس اپنے اصلی مرکز سے بقدر مویہ حالت ہے کہ ہم پر بند ہے ہر ایک دروازہنظر آتا نہیں ہرگز کوئی امید کا پہلومگر واحسرتا پھر بھی ہم اپنے زعم باطل میںسمجھتے ہیں زمانے بھر سے آگے خود کو منزل میںضرورت ہے کہ ہم میں روشنی ہو علم کی پیدانظر آئے ہمیں بھی تاکہ اصل حالت دنیاہمیں معلوم ہو حالات اب کیا ہیں زمانے کےہمارے ساتھ کا جو قافلہ تھا وہ کہاں پہنچاجو پستی میں تھے اب وہ جلوہ گر ہیں بام رفعت پرجو بالک بے نشاں تھے آج ہے ان کا علم برپاہماری خوبیاں سب دوسروں نے چھین لیں ہم سےزمانے نے ہمیں اتنا جھنجھوڑا کر دیا ننگاروا داری، اخوت، دوستی، ایثار ،ہمدردیخیال ملک و ملت، درد قوم، اندیشۂ فردایہ سب جوہر ہمارے تھے کبھی اے واۓ محرومیبنے ہیں خوبیٔ قسمت سے جو اب غیر کا حصااگر ہو جائیں راغب اب بھی ہم تعلیم کی جانبتو کر سکتے ہیں اب بھی ملک میں ہم زندگی پیدابہت کچھ وقت ہم نے کھو دیا ہے لیکن اس پر بھیاگر چاہیں تو کر دیں پیش رو کو اپنے ہم پسپانکما کر دیا ہے کاہلی نے گو ہمیں لیکنرگوں میں ہے ہماری خون ابھی تک دوڑتا پھرتاکوئی مخفی حرارت گر ہمارے دل کو گرما دےہمارے جسم میں پھر زندگی کی روح دوڑا دےوطن والو بہت غافل رہے اب ہوش میں آؤاٹھو بے دار ہو عقل و خرد کو کام میں لاؤتمہارے قوم کے بچوں میں ہے تعلیم کا فقداںیہ گتھی سخت پیچیدہ ہے اس کو جلد سلجھاؤیہی بچے بالآخر تم سبھوں کے جانشیں ہوں گےتم اپنے سامنے جیسا انہیں چاہو بنا جاؤبہت ہی رنج دہ ہو جائے گی اس وقت کی غفلتکہیں ایسا نہ ہو موقع نکل جانے پہ پچھتاؤیہ ہے کار اہم دو چار اس کو کر نہیں سکتےخدا را تم بھی اپنے فرض کا احساس فرماؤیہ بوجھ ایسا نہیں جس کو اٹھا لیں چار چھ مل کرسہارا دو، سہارا دوسروں سے اس میں دلواؤجو ذی احساس ہیں حاصل کرو تم خدمتیں ان کیجو ذی پروا ہیں ان کو جس طرح ہو اس طرف لاؤغرض جیسے بھی ہو جس شکل سے بھی ہو یہ لازم ہےتم اپنے قوم کے بچوں کو اب تعلیم دلواؤاگر تم مستعدی کو بنا لو گے شعار اپنایقیں جانو کہ مستقبل ہے بے حد شاندار اپناخداوندا! دعاؤں میں ہماری ہو اثر پیداشب غفلت ہماری پھر کرے نور سحر پیداہمارے سارے خوابیدہ قویٰ بے دار ہو جائیںسر نو ہو پھر ان میں زندگی کی کر و فر پیداہمیں احساس ہو ہم کون تھے اور آج ہم کیا ہیںکریں ماحول ملکی کے لیے گہری نظر پیداملا رکھا ہے اپنے جوہر کامل کو مٹی میںہم اب بھی خاک سے کر سکتے ہیں لعل و گہر پیدااگر چاہیں تو ہم مشکل وطن کی دم میں حل کر دیںہزاروں صورتیں کر سکتے ہیں ہم کارگر پیدابظاہر گو ہم اک تودہ ہیں بالکل راکھ کا لیکناگر چاہیں تو خاکستر سے کر دیں سو شرر پیداوطن کا نکبت و افلاس کھو دیں ہم اشارے میںجہاں ٹھوکر لگا دیں ہو وہیں سے کان زر پیداہم اس منزل کے آخر پر پہنچ کر بالیقیں دم لیںاگر کچھ تازہ دم ہو جائیں اپنے ہم سفر پیداجو کوشش متحد ہو کر کہیں اک بار ہو جائےیقیں ہے ملک کی قسمت کا بیڑا پار ہو جائے
رات بے حد چپ ہے اور اس کا اندھیرا شرمگیںشام پڑتے ہی دمکتے تھے جو رنگوں کے نگیںدور تک بھی اب کہیں ان کا نشاں ملتا نہیں
کتنی دل کش ہوتی ہیں خوش فہمیاںختم ہونے سے پہلےبڑے رنگین ہوتے ہیں خواببکھرنے سے پہلےبہت حسین ہوتے ہیں پھولمرجھانے سے پہلےبے حد خوبصورت ہوتی ہے محبتبے وفائی سے پہلےہر آغاز پہنچتا ہے انجام کوملن کا پیچھا کرتی ہے جدائیدن کے پہلو میں رہتی ہے راتاور زندگی کا دامن تھامےسایہ سی چلتی ہے موتزندگی کے اتار چڑھاؤدل پر چھوڑ جاتے ہیں نقشاگر انسان کا بس چلتاکیا وہ خوشی کے پل ہی نہیں چنتا
سچ ہے پیاسی ہوں میںبے حد پیاسیلیکن تم سے کس نے کہاکہ تم میری پیاس بجھاؤکہیں زیادہ خالی ہو تممجھ سے کہیں زیادہ ریتےاور تمہیں احساس تک نہیںبھرنا چاہتے ہو تماپنا خالی پنمیری پیاس بجھانے کے نام پرتعجب ہےمجھے مکمل بنانا چاہتا ہےایک آدھاادھورا انسان
میں چاہتا ہوںوہ دن بے حد شفاف ہوتمہاری آنکھوں کی طرحبے حد روشن ہوتمہارے چہرے جیسااور اتنا گرمجس قدر تمہارا بدناس دن کی شفقتمہارے ہونٹوں سے ملتی ہواس دن کی ہوا میں ایسی خوشبو ہوجو تمہاری سانسوں کی مہک یاد دلائےاس دن کی شام کی سیاہیتمہاری پلکوں جیسی ہواور راتتمہارے بالوں سے نکلی ہواس قدر صاف دنمجھے سارا سال نہیں ملتااور تمہارے ساتھ ایک دن بسر کرنے کیمیری خواہش پوری نہیں ہوتی
تمہارا یہ پیار بھرا جملہمجھے زندگی جینا آسان بناتا ہےمیری کمہلائی ہوئی زندگی کوتر و تازگی سی بخشتا ہےتمہارے پیار بھرے الفاظکانوں میں رس گھولنے لگتے ہیںآنکھوں میں اک چمک سی آ جاتی ہےہونٹوں پہ مسکان چھا جاتی ہےتم جب بھی مجھ سے یہ کہتے ہو کہتم سچ میں بہت اچھی ہومیری بے جان سی روح میں جان آ جاتی ہےمیں اپنا دکھ درد بھول جاتی ہوںاپنی ہی ذات کے گنبد میں قیدچہکنے لگتی ہوں مہکنے لگتی ہوںتم جب بھی مجھ سے یہ کہتے ہو کہتم سچ میں بہت اچھی ہوتمہاری یاد میں کھوئی کھوئی سیتمہارے پیار کی خوشبو سے معطرمیں لمحوں میں صدیاں جی لیتی ہوںہاں لمحوں میں صدیاں جی لیتی ہوںاور پھر میں سوچنے لگتی ہوںمجھے ایسا لگتا ہے کہگر میں بہت اچھی ہوں تومجھے دیکھنے والی وہ آنکھیںدراصل بے حد دل کش ہیںوہ دل جس میں میں بستی ہوںبے انتہا خوب صورت ہےمجھے جینے کا حوصلہ دینے والیتمہاری پیار بھری سوچسچ میں بہت اچھی ہےسچ تو یہ ہے کہمیں نہیں تم بہت اچھے ہوتم سچ میں بہت اچھے ہوہاں تم بہت ہی اچھے ہو
تاریخ بہ ہر دور الٹتی ہے ورق اورمذہب میں ہے لیکن وطنیت کا سبق اورتو مرد مسلماں ہے تو اک بات ذرا سنآگوش تیقن سے حقیقت کی صدا سنیہ سچ ہے مسلمان تباہی سے گھرا ہےاک وسوسۂ لا متناہی سے گھرا ہےآلام کی حد اپنے شکنجے میں لئے ہےاک دور مصائب ہے کہ نرغے میں لئے ہےآرام ہے مفقود سکوں پاس نہیں ہےاب جیسے کہ جینے کی کوئی آس نہیں ہےآفات نگل جانے کو منہ کھول رہے ہیںخطرات ہر اک سمت بہم بول رہے ہیںپژمردگی و خوف کا ہر گھر میں ہے پھیراہر دل میں ہراسانی بے حد کا ہے ڈیرابے ربط ہے بے ضبط ہے بے راہ نما ہےمسلم ہے کہ بے عزم ہے بے حوصلہ پا ہےامواج حوادث میں ہے ایمان پرستیطوفان کی زد پر ہے مسلمان کی کشتییہ بات جہاں میں ہے پرانی بھی نئی بھیہر قوم کو ملتی ہے سزا اس کے کئے کیتم آج مگر اپنوں سے منہ موڑ رہے ہواب سر پہ مصیبت ہے تو گھر چھوڑ رہے ہویہ فعل مسلمان کے شایاں تو نہیں ہےیہ دیں نہیں مذہب نہیں ایماں تو نہیں ہےبھارت کے بہ ہر حال وفادار بنو تمناموس کے عزت کے نگہ دار بنو تم
جس قدر دنیا میں مخلوقات ہےسب سے اشرف آدمی کی ذات ہےاس کی پیدائش میں ہے الفت کا رازاس کی ہستی پر ہے خود خالق کو نازاس کی خاطر کل جہاں پیدا ہوایہ زمیں یہ آسماں پیدا ہواعقل کا جوہر اسے بخشا گیاعلم کا زیور اسے بخشا گیااس کے سر میں ہے نہاں ایسا دماغجس میں روشن ہے لیاقت کا چراغسوچ کر ہر کام کر سکتا ہے یہشیر کو بھی رام کر سکتا ہے یہیہ صفائی سے چٹانیں توڑ دےاپنی دانائی سے دریا موڑ دےمن چلا ہے اس کی ہمت ہے بلندڈال سکتا ہے ستاروں پر کمنداس کو خطروں کی نہیں پروا ذراآگ میں کودا یہ سولی پر چڑھااس کے ہر انداز میں اعجاز ہےعرش تک اس نور کی پرواز ہےاس کی باتوں میں عجب تاثیر ہےخاک کا پتلا نہیں اکسیر ہےیہ اگر نیکی کے زینے پر چڑھےایک دن سارے فرشتوں سے بڑھےاور اگر عصیاں کی دلدل میں پھنسےاس کا درجہ کم ہو حیوانات سےیہ کبھی روئی سے بڑھ کر نرم ہےیہ کبھی سورج سے بڑھ کر گرم ہےایک حالت پر نہیں اس کا مزاجہر زمانے میں بدلتا ہے رواجاور تھا پہلے یہ اب کچھ اور ہےآئے دن اس کا نرالا طور ہےاس نے بے حد روپ بدلے آج تکاس کی تدبیروں سے حیراں ہے فلکڈاکٹر تاجر پروفیسر وکیلان کا ہونا ہے ترقی کی دلیلاس کے پہلو میں وہ دل موجود ہےجو بھڑکنے میں نرا بارود ہےریل گاڑی ریڈیو موٹر جہازاس کی ایجادوں کا قصہ ہے درازدست کاری میں بڑا مشاق ہےجدتوں کا ہر گھڑی مشتاق ہےکھول آنکھیں جنگ کی رفتار دیکھدیکھ اس کے خوفناک اوزار دیکھیہ کہیں حاکم کہیں محکوم ہےیہ کہیں ظالم کہیں مظلوم ہےآدمی جب غیر کے آگے جھکاآدمیت سے بھٹکتا ہی گیاآدمی ملنا بہت دشوار ہےخود خدا کو آدمی درکار ہےپیارے بچو آدمی بن کر رہوہر کسی کے ساتھ ہمدردی کروسچ اگر پوچھو تو بس وہ مرد ہےجس کے دل میں دوسروں کا درد ہےفیضؔ پہنچاتا نہیں جو آدمیاس کو اپنی ذات سے ہے دشمنیاس کو اپنی ذات سے ہے دشمنی
یہ لوگ وہ ہیں کہ جن کے یادوں کے کینوس پروصال موسم کی ایک مبہم لکیر بھی تو نہیں بنی ہےپہ میری یادوں کے ہاتھ میں توتمہاری پوروں کا لمس اب تک گلاب بن کر مہک رہا ہےمجھے یقیں ہےکہ جب بھی چاہوںتمہارے بے حد حسین ہاتھوں کو تھامنے کا ہر ایک لمحہمرے خیالوں کے دائرے سے نکل کے مجھ کووصال موسم کی خوشبوؤں میں محیط کر دےمجھے یقیں ہےمیں زندگی کی یہ سب مسافتکڑی مسافتتمہاری یادوں کی خوشبوؤں میں بھی کاٹ سکتا ہوں کاٹ لوں گا
کبھی کبھی بے حد ڈر لگتا ہےکہ دوستی کے سب روپہلے رشتےپیار کے سارے سنہرے بندھنسوکھی ٹہنیوں کی طرحچٹخ کر ٹوٹ نہ جائیںآنکھیں کھلیں، بند ہوں دیکھیںلیکن باتیں کرنا چھوڑ دیںہاتھ کام کریںانگلیاں دنیا بھر کے قضیے لکھیںمگر پھول جیسے بچوں کےڈگمگاتے چھوٹے چھوٹے پیروں کوسہارا دینا بھول جائیںاور سہانی شبنمی راتوں میںجب روشنیاں گل ہو جائیںتارے موتیا چمیلی کی طرح مہکیںپریت کی ریتنبھائی نہ جائےدلوں میں کٹھورتا گھر کر لےمن کے چنچل سوتے سوکھ جائیںیہی موت ہے!اس دوسری سےبہت زیادہ بریجس پر سب آنسو بہاتے ہیںارتھی اٹھتی ہےچتا سلگتی ہےقبروں پر پھول چڑھائے جاتے ہیںچراغ جلتے ہیںلیکن یہ، یہ توتنہائی کے بھیانک مقبرے ہیںدائمی قید ہےجس کے گول گنبد سےاپنی چیخوں کی بھیبازگشت نہیں آتیکبھی کبھی بے حد ڈر لگتا ہے
بیتی رات کا پھر انتظار رکاایک دم سے میرے کمرے کا دروازہ کھلااسی بیچ میں کچھ آہٹ ہوئیجس سے خوشی نہیں مجھے گھبراہٹ ہوئیکون ہے میرا برسو پرانا سوال تھاتمہارا پتی اس جواب کا خیال تھاایسا لگا مانو یہ اکیلے نہ تھےساتھ میں ان کے کچھ مہماں تھےشاید چھیڑنے آئے ہوں گےمجھ تک ان کو لائے ہوں گےپر نہیں یہ آوازیں قریب تھیبے حد قریبجیسے وہ کمرے میں موجود ہوںجیسے خطرے میں میرا وجود ہومیں اٹھنے والی تھیکچھ پوچھنے والی تھیکے تبھی ایک ہاتھ رکا میرے کندھوں پرپھسلنے لگا میرے گالوں پر میرے بالوں پر
مناظر خوبصورت ہیںچلو چھو کر انہیں دیکھیںانہیں محسوس کرنے کے لیےآنکھوں کو رکھ دیں نرم سبزے پرلبوں کو سرخ پھولوں پرہوا میں خوشبوؤں کا لمسجو گردن کو چھوتا ہےاسے سارے بدن پر پھیل جانے دیںجہاں پر پاؤں پڑتے ہیںوہاں تلووں سے شبنم کی نمی آنکھوں تلک آئےتو پھر سبزے پہ رکھی آنکھ سے پیروں تلک پہنچےانہیں میں جذب ہو جاؤںکسی بے حد حسیں منظر میںگہری نیند سو جاؤں،
بے حد خوب صورت ہیں یہ تیری آنکھیںپل رہے ہیں ان میں ڈھیروں خوابکچھ ٹوٹتے ہیں ٹوٹ کر کچھ نئے بنتے ہیںاک عجب سا نور ہے ان بنتے بگڑتے خوابوں میںیہ تیری آنکھیں ہیں یا ہے پوری کہکشاں
ایک مردہ تھا جسے میں خود اکیلااپنے کندھوں پر اٹھائےآج آخر دفن کر کے آ گیا ہوںبوجھ بھاری تھا مگر اپنی رہائی کے لیےبے حد ضروری تھا کہ اپنے آپ ہی اس کو اٹھاؤںاور گھر سے دور جا کر دفن کر دوں
فائلیں گھر میں پڑی ہیں اور دفتر میں ہے گھرشغل بیکاری بہت ہے وقت بے حد مختصررات دن سر پر مسلط لنچ عصرانے ڈنراور حکومت خرچ اگر دے دے تو حج کا بھی سفرآج کل پیش نظر ہے ملک و ملت کی فلاحاک بھتیجے کی دکاں کا بھی کروں گا افتتاح
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books