aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "biga.dte"
جہاں زاد میں آج تیری گلی میںیہاں رات کی سرد گوں تیرگی میںترے در کے آگے کھڑا ہوںسر و مو پریشاںدریچے سے وہ قاف کی سی طلسمی نگاہیںمجھے آج پھر جھانکتی ہیںزمانہ، جہاں زاد وہ چاک ہے جس پہ مینا و جام و سبواور فانوس و گلداںکے مانند بنتے بگڑتے ہیں انساںمیں انساں ہوں لیکنیہ نو سال جو غم کے قالب میں گزرے!حسن کوزہ گر آج اک تودۂ خاک ہے جسممیں نم کا اثر تک نہیں ہےجہاں زاد بازار میں صبح عطار یوسفکی دکان پر تیری آنکھیںپھر اک بار کچھ کہہ گئی ہیںان آنکھوں کی تابندہ شوخیسے اٹھی ہے پھر تودۂ خاک میں نم کی ہلکی سی لرزشیہی شاید اس خاک کو گل بنا دے!
یہ مسافت یہ نو سال کی بے محابا مسافتترے در کے آگے مجھے کھینچ لائیمگر تو یہاں چاک پر اپنی دھن میں مگن ہے نگاہیں اٹھادیکھ تو میں جہاں زاد تیری ترے سامنے ہوںمگر تو نے سچ ہی کہا تھازمانہ جہاں زاد وہ چاک ہےجس پہ مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں کی مانندبنتے بگڑتے ہیں انساں
دوست مایوس نہ ہوسلسلے بنتے بگڑتے ہی رہے ہیں اکثر
آدم کی تاریخ کے سینے میں ڈوبے ہیںکتنے سورج کتنے چاندکیسے کیسے رنگ تھے مٹی سے پھوٹےموج ہوا کے بنتے اور بگڑتے رستوں میں ٹھہرےاور خاک ہوئےنیلے اور اتھاہ سمندر کے ہونٹوں کی پیاس بنےآنے والے دن کی آنکھوں میں لہراتی آس بنےکیسے کیسے رنگ تھے جو مٹی سے چمکےاور چمک کر پڑ گئے ماند
پہلے جتنی باتیں تھیں وہ تم سے تھیںتیرے ہی نام کی ایک ردیف سے سارے قافیےبنتے اور بگڑتے تھےمیں اپنے اندھے ہاتھوں سےتیرے جسم کے پراسرار زمانوں کی تحریریں پڑھ لیتا تھااور پھر اچھی اچھی نظمیں گھڑ لیتا تھاتو بھی تو کاغذ کے پھولوں کی مانندہر موسم میں کھل جاتی تھیاور میں ہجر و وصال کی خشکی اور تری پرتیرے لیے ہر حال میں زندہ رہ لیتا تھااپنے لیے بھی تیری طرف سےساری باتیں کہہ لیتا تھاتیری صورت میرے ہونے اور نہ ہونےجاگنے سونے کی اس دھوپ اور چھاؤں میںایک ہی جیسی رہتی تھیاور میری سانسوں کا بخت تمہارے ہی پلو سے بندھا تھالیکن اب تو تیری ساڑی کے سب لہریےمیرے جسم کو ڈس بھی چکے ہیںاب تو جاؤمیری پرانی نظموں کی الماری میں آرام سے جا کر سو جاؤکیونکہ میں اب اپنے آپ سے باتیں کرنا چاہتا ہوں
تمہیں جولائی کی انیسویں تپتی جھلستی دوپہر اب یاد کب ہوگیکہ جس کی حدتیں کتنے مہینوں بعد تکہم نے بدن کے ہر دریچے پر لکھی محسوس کی تھیںاور انہیں نظمیں سمجھ کر گنگنایا تھاتمہارے جسم کی پگڈنڈیوں پر چلتے چلتے ایک ایسا موڑ آیا تھاجہاں اوہام الہامی نظر آتے ہیںاور امکان ناکامی محبت ضبط آوازیں سمندر درد بن جاتے ہیںسارے خواب پلکوں کی ہری شاخوں سے جھولے لینے لگتے ہیںسمٹ آتے ہیں سارے ہجر آنکھوں میںوہیں اس موڑ پر پہلی دفعہ میں نے یہ سمجھاروح مادہ ہےکہ اس کی اک کمیت ہے حجم ہے بوجھ رکھتی ہےاور اس کا بھی بدن ہوتا ہےجس میں ننھے ننھے آئینے یاقوت کے مانند بنتے اور بگڑتے ہیں
بے حد خوب صورت ہیں یہ تیری آنکھیںپل رہے ہیں ان میں ڈھیروں خوابکچھ ٹوٹتے ہیں ٹوٹ کر کچھ نئے بنتے ہیںاک عجب سا نور ہے ان بنتے بگڑتے خوابوں میںیہ تیری آنکھیں ہیں یا ہے پوری کہکشاں
کہ جو بنانے کی آرزو میں بگاڑتے ہیںوہ ہاتھ ہی بے بسی کے پنجرے میں بند ہیںان اداس رستوں پہ چلنے والومجھے بھی ہم راہ لے کے چلناکہ میں اکیلا کہاں رہوں گا
اے حسن کوزہ گرتو نے جانا کہ میںجسم و جاں کے تعلق کی روشن گزر گاہ سےاک جہاں کا سفر جھیل کراس رفاقت کی دہلیز تک آئی ہوںاے حسن کاش تو جان سکتاکہ اس صحن خانہ سے دہلیز تک کے سفر میںجہاں زاد کو کیوں زمانے لگے ہیںحسناس سفر میں جہاں زاد کو ایک اک گام پروقت کے تازیانے لگے ہیںحسنوقت مالک بھی ہے دیوتا بھیمحافظ بھی ہے اور خواجہ سرا بھییہ دیکھا ہے میں نےکہ جب بھی دریچوں میں تازہ شگوفہ کھلا ہےہوا سے وہ ہنس کر ذرا سا گلے بھی ملا ہےتو خواجہ سرا کی نظر سے کہاں بچ سکا ہےمگر دیکھ مجھ کوکہ میں نے یہاں ٹھیک نو سال تکپھول کاڑھے ہیں خوابوں کے بستر پہ لیکنابھی تک کوئی ان پہ سویا نہیںپھول تازہ شگفتہ اور آزردہ ہیںمیں نے نو سال صورت گری کی ہے تیرے ہر اک لمس کیرات بھر میں نے آنکھیں بھگوئی ہیں کوزوں میں اور صبح دمحلق کو تر کیا آنسوؤں سے بہتیہ مسافتیہ نو سال کی بے محابا مسافتترے در کے آگے مجھے کھینچ لائیمگر تو یہاں چاک پر اپنی دھن میں مگن ہےنگاہیں اٹھادیکھ تو میں جہاں زاد تیری ترے سامنے ہوںمگر تو نے سچ ہی کہا تھازمانہ جہاں زاد وہ چاک ہےجس پہ مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں کی مانندبنتے بگڑتے ہیں انساںسو اب ہم جو صدیوں کی لمبی مسافت سے لوٹے ہیںتو اپنے رنجور کوزوں میں جوجھا ہوا ہےیہ تیرا قصور اور نہ میری خطا ہےکوئی کوزہ گر تو ہمارا بھی ہوگاسو یہ اس کی حکمتکہ اس نے ہمیں چاک پر ڈھالتے وقتلمحوں کا پھیر اس نزاکت سے رکھاکہ ہم اپنی اپنی جگہ صرف ششدر کھڑے تھےکئی دست چابک کے بے جان پتلےمرے اور ترے درمیاں سج گئے تھےسو یہ اس کی حکمتمگر وقت اس درجہ سفاک کیوں ہےیہ مشاطۂ زندگی اتنی چالاک کیوں ہےمرے اور ترے درمیاں نو برس جس نے لا کر بچھائےیہ نو سال کس طرح میں نے بتائےکہ ساحل سے کشتی تک آتے ہوئےجیسے تختے کے ہم راہ دل ڈگمگائےوہی نو برسجو مرے اور ترے درمیاں وقت کی کرچیاں ہیںزمانہ بھی کیسی عجب کہکشاں ہےیہ دنیائے سیارگاں ہے کہ جس میںہزاروں کواکبمسلسل کسی چاک پر گھومتے ہیںیہ اجسام کے گرد اجسام کا رقص ہی زندگی ہے مری جاںمری جان تو چاک کے ساتھ مٹی کے رشتے کو پہچانتا تھاحسن تو نے مٹی کے بے جان پتلوں سےتخلیق کے جاں گسل مرحلوں میںسدا گفتگوسو طرح گفتگو کیذہانت کے پتلے محبت کے خالقفقط یہ بتا دےکہ تیرے عناصر کے اجزائے ترکیبی میںواہمہ کیسے آیاحسن تو وہاں جھونپڑے میںاکیلا گلے مل کے رویا تھا کس سےلبیب اور تو اور میںاور حقیقت میں کوئی نہیں تھاترا واہمہمیرے لب میرے گیسو سے لپٹا رہا تھالبیب ایک سایاجسے تو نے روگ اپنی جاں کا بنایایہ سایا کہیں گر حقیقت بھی ہوتاتو آخر کو تو اس حقیقت سے کیوں بے خبر تھاکہ ہر جسم کے ساتھ اک آفتاب اور مہتاب لازمیہ تثلیث قائم ہے قائم رہے گیحسن میں ترے سامنے آئنہ تھیترے ہجر اور وصل کا آئنہانہماک و تعلق کی مٹی سے گوندھے ہوئے جسم کوتیری آنکھوں کی حدت نے چمکایا تھاتیری خلوت کی حیرت نے وہ رنگ و روغن کئے تھےکہ آئینے ششدر کھڑے رہ گئے تھےمگر تیری خلوت کی حیرت میں وحشت کا جو شائبہ تھانگاہوں سے میری کہاں چھپ سکا تھامرے اور ترے درمیاں وصل کی ہر گھڑی میںنہ جانے کہاں سےوہی سوختہ بخت تیریکہ جو جانفشانی کے شعلوں سے دہکے ہوئےزندگی کے ابد تاب تنور پرانگلیاں تیرے بچوں کی تھامے کھڑیبھوک سے برسر جنگ تھیجس کے نزدیک یہتیرے کوزے ترا فن تری آگ سبمیری آنکھیں مرے پھول اور خواب سبزندگی کے ابد تاب تنور کی راکھ تھےتیری اس سوختہ بخت کو کیا خبرجب زمیں اپنے محور کی تجدید میںحرف لا سے گزر جائے گیتو ہزاروں برس بعد بھییہ ازل کے گھروندوں کی مٹی میں مدفونپھول اور بوٹے یہ کوزےاور ان میں انہی قاف آنکھوں سے چھلکے ہوئےسرخ پانی کی تلچھٹکسی کوزہ گر کے جواں لمس سے جی اٹھے توجہاں زاد اس کے لیے پھر جنم لے گیاور نو برس رقص کرتے گزر جائیں گےتیری اس سوختہ بخت کو کیا خبروہ راتوہ حلب کی کارواں سرا کا حوضجس کو میں نے جسم و جاں کی خوشبوئیں کشید کر کےقطرہ قطرہ نو برس میں آنسوؤں سے پر کیاوہ ایک رات صرف ایک رات میںتمام خشک ہو گیاہم اپنے وصل کی تمازتوں میں ایسے جل بجھےکہ راکھ تک نہیں بچییہ ایک جاں کی تشنگیمجھے تجھے بیک زماںبھلا کہاں کہاں نہ کھینچتی پھریمگر یہ تو نے کیا کہاکہ تیرے جیسی عورتیں جہان زادایسی الجھنیں ہیں جن کو آج تک کوئی نہیں سلجھا سکاکہ عورتوں کی ساخت ہے وہ طنز اپنے آپ پرجواب جن کا ہم نہیںتو پھر یہ جام و مینا و سبو و حوض و رود نیلاس زمیں کی گود میںازل کے حرف گیر تابناک خواب کے لیےکہیں بھی کچھ رقم نہیںاے حسنچاک پر سے ذرا اپنی نظریں ہٹاتو مرے نو برس تک بنائے گئے پھول تو دیکھ لےپھول تازہ شگفتہ اور آزردہ ہیںیوں نہ ہو کہ انہیںبھوک اور مفلسی کے ستائے ہوئےمیرے بچے بھی نیلام کر آئیں جا کر کہیںتیرے کوزوں کے مانند بغداد میںاے حسندامن وقت پر جتنے پھول اور بوٹے سجے ہیںجہاں زاد کی زخمی پوروں نےرنگ ان میں اپنے جنوں کے بھرے ہیںیہ تاوان ہیں چمپئی انگلیوں کاترے جام و مینا پہجس خال و خد کی نزاکت کی پرچھائیاں تھیںتجھے کیا خبر یہ کن آنکھوں کی بینائیاں تھیںحسن یہ محبتکہ جس کو تری سوختہ بخت گردانتی ہےامیروں کی بازیتو میرے تئیں یہ امیروں کی بازی کہاںصرف بازی گری تھیمحبت ہمیشہ سے مفلس کا سرمایۂ جاں رہی ہےیہی تو وہ پونجی ہےجس تک امیروں کے ہاتھ اب بھی پہنچے نہیں ہیںتجھے یہ گماں تھاکہ عورت محبت کی بازی میں بے جان پتے کی صورتکسی دست چابک کی مرہون منتوہ اس کھیل میں ایک مہرے کی صورتکہ جب جس نے چاہااسے ایک گھر سے اٹھا کرکسی دوسرے گھر کا مالک بنایاکہ عورت فقط ایک پتھر کی مورتیہ تصویر حیرتیوںہی چپ کھڑی ہےیوںہی چپ رہے گیمگر یوں نہیں ہےحسن تو نے دیکھاکہ میں قید اوہام و بند روایات میںبوڑھے عطار یوسف کی دکان پراپنی آنکھیں تجھے نذر کرتی رہیبوڑھا عطار وہ کیمیا گرکہ جس نے زمانوں کے جنگل سےچہروں کے پھول اور بوٹے چنےوہ مجھے اور تجھے جانتا تھا مگرمیں نے بازار میںتجھ سے آنکھوں کا اور دل کا سودا کیااے حسنمیرے ایک اک دریچے پہکہنہ روایات و ظالم عقائد کا جنگل اگا تھاحسنکاش تو میری آنکھوں سے میرے دریچے کو تکتاتو یہ جان سکتاجہاں تو کھڑا تھا وہاں ایک اک درز سےمیری آنکھیں مرا جسمچھن چھن کےکٹ کٹ کے گرتا رہا تھا
میں راکھ زدہ مسکراہٹ جنتی ہوںکھنچتی ہیں لکیریںاور نقوش بگڑتے چلے جاتے ہیںتمہاری مسکراہٹ کی طراوت کیوں نہیں جاتییہ تو اور ہی رنگ کا گارا ہےکس نے گوندھی ہے میری مٹیرنگ ہی نہیں بدلتامیں اپنے رنگ میںتمہارا رنگ ملاتی ہوںنہ میں رہتی ہوںاور نہ تمآوے کا خالی پن قہقہے لگانے لگتا ہےڈھلے ڈھلائےترشے ترشائےتمہیں پہچاننا مشکل تو نہیںمگر میری پوریںتمہیں پہچاننے سے قاصر ہیںتمہارا وجود کس مٹی سے بنا ہےگارے کی کھنکھناہٹ ہی نہیں جاتی
میں آخر کس کی جاگت جاگتا ہوںپپوٹوں میں یہ کس پانی کا نمکیں ذائقہ ہےمری پتلی میں کس کی رات ہےاور قرنیہ میں کون سے یگ کا سویرا ہےیہ دن بھر کونمژگانی کواڑوں کو مسلسل کھولتا اور بند کرتا ہےمری تار نظر پر بیٹھ کرآخر زمانے میں نظر کس کی اترتی ہےمیں آنکھوں سے یہ کس منظر کے اندر بھاگتا ہوںمیں آخر کس کی جاگت جاگتا ہوں؟بھلا میں کس کا سونا سو رہا ہوںیہ ریگ خواب پر بنتے بگڑتے کیا نشاں ہیںمرے اندر تو جتنے قافلے چلتے ہیںسارے اجنبی ہیںمیں ہر اک خواب میں کوئی شناسا ڈھونڈتا ہوںیہ کیسی عورتیں ہیںجو سر میں ریت کا افشاں بھرےمجھ کو جکڑتی ہیںجو بعد از اختلاط آہوں سے چیخوں سے پگھل کرریت ہو جاتی ہیں گیلی ریت میں!!یہ بچے کس صدی کے ہیںجو اپنے قہقہہ آور کھلونے میرے ہاتھوں میںتھما کر بھاگ جاتے ہیںیہ کس معبد کے جوگی ہیںصحیفوں کی زباں میں بولتے ہیںان کے فرغل پھڑپھڑاتے ہیںہوا میں ریش اڑتی ہےیہ میں کس کی خوشی کو ہنس رہا ہوںکس کا رونا رو رہا ہوںبھلا میں کس کا سونا سو رہا ہوں؟
اک ایسا زمانہ گزرا ہے جب اپنا سہارا کوئی نہ تھامنجھدار میں اپنی کشتی تھی محفوظ کنارا کوئی نہ تھاصد شکر کے وہ دن بیت گئے جب کوچہ گردی کرتے تھےاب اپنے کلب کے کاموں میں ہم وقت گزارا کرتے ہیںتفریح کے سارے کاموں میں جب روڑے سب اٹکاتے تھےجب کھیل کا نام آ جاتا تھا بل تیوری پر پڑ جاتے تھےاب اپنے سارے بزرگوں کو شیشے میں اتارا کرتے ہیںصد شکر کے وہ دن بیت گئے جب کوچہ گردی کرتے تھےاب اپنے کلب کے کاموں میں ہم وقت گزارا کرتے ہیںیہ لائبریری اپنی ہے یہ بینک کا کام ہمارا ہےیہ ریڈنگ روم ہمارا ہے یہ پارک ہمارا اپنا ہےہم اپنے بگڑتے کاموں کو خود آپ سنوارا کرتے ہیںصد شکر کے وہ دن بیت گئے جب کوچہ گردی کرتے تھےاب اپنے کلب کے کاموں میں ہم وقت گزارا کرتے ہیںاسکول میں دن بھر پڑھ لکھ کر جب شام کو ہم گھر آتے ہیںپھر اپنے کلب میں جاتے ہیں اور اپنا جی بہلاتے ہیںذہنوں کو جو شل کر دیتا ہے وہ بوجھ اتارا کرتے ہیںصد شکر کے وہ دن بیت گئے جب کوچہ گردی کرتے تھےاب اپنے کلب کے کاموں میں ہم وقت گزارا کرتے ہیں
ان سے ملیے یہ ہیں اسلم گاما کے استاد ہیںدارا سنگھ اور بھولو کے بھی داؤ سب ان کو یاد ہیںمکتب اور محلے میں یہ ہر بچے سے لڑتے ہیںجس سے خفگی ہو جاتی ہے اس پر خوب بگڑتے ہیںان سے سب ڈرتے ہیں جیسے یہ بجلی کا تار ہیںان سے سب بیزار ہیںان سے ملیے بھول بھلکڑ لوگ سب ان کو کہتے ہیںعادت سے مجبور بچارے کھوئے کھوئے رہتے ہیںپیسے سودا تختی بستہ یہ جو کچھ بھی پاتے ہیںمکتب میں بازار میں یا رستے میں گم کر آتے ہیںلیکن دعویٰ یہ کرتے ہیں ہم سب سے ہشیار ہیںان سے سب بیزار ہیںان سے ملیے رام بھروسے جیسے فلمی ہیرو ہیںسالانہ اگزام میں ان کے ہر پرچے میں زیرو ہیںلیکن کتنی ہی فلموں کی انہیں کہانی یاد ہےاس نگری کا ہر قصہ ہر بات زبانی یاد ہےرام بھروسے نہیں یہ فلمی دنیا کا اخبار ہیںان سے سب بیزار ہیں
عجیب لوگ ہیںصحرا میں شہر میں گھر میںسلگتی ریت پہ ٹھٹھرے ہوئے سمندر میںخلا میں چاند کی بنجر زمیں کے سینے پرجو صبح و شام کی بے ربط راہ میں چپ چاپتعلقات کی تعمیر کرتے رہتے ہیںہوا کے دوش پہ طوفان زلزلہ سیلابدیا سلائی کی تیلی پہ ٹینک ایٹم بمکوئی جلوس کوئی پوسٹر کوئی تقریرامڈتی بھیڑ کا ہر ووٹ کوئی بیلٹ باکسپھسلتی کرسی کا جادو بسوں کی لمبی کیو،کہیں پہ صحن میں گوبر کہیں پہ گائے کا سرہر ایک گوشہ ہے شمشان قبر ہے بستراکیلا پھرتا ہے سنسان شہر میں کرفیوقریب گھور پہ چھتڑوں میں جسم کے ٹکڑےمہکتی رات سے جنمی ہوئی فسردہ صبحبگڑتے بنتے ہوئے زاویے کھسکتی اینٹتمام سلسلے بے ربط منقطع رشتےمگر وہ دوڑتے پیروں پہ اٹھتے بڑھتے ہاتھہر ایک جبر سے بے خوف بے نیازانہجو صبح و شام کی بے ربط راہ میں چپ چاپتعلقات کی تعمیر کرتے رہتے ہیںعجیب لوگ ہیں
شجر ہجرت نہیں کرتےبگڑتے موسموں روٹھی گھٹاؤںدور ہوتے پانیوں تک سے کبھینفرت نہیں کرتےیہ اپنی اجتماعی قتل گاہوں کاتماشا دیکھتے ہیں پرنئے سرسبز میدانوںخنک جھیلوں کے متلاشی نہیں ہوتےزمیں سے اپنی پیوستہ طنابیں کھینچ کر اڑنے نہیں لگتےشجر ہجرت نہیں کرتے
کبھییوں ہیکسی شب چاندنی کا ہاتھ لگتے ہیبنا دستک کے کھل جاتا ہے اک کمرے کا دروازہدریچوں سے کوئی مدہوش کن خوشبو نکلتی ہےفضا میں مسکراتی ہےہیولے سے کئی پردوں پہ بنتے ہیں بگڑتے ہیںکوئی موہوم آہٹ پھیل جاتی ہے سماعت پرکتابیں جاگ اٹھتی ہیں کوئی صفحے الٹتا ہےہوا میں سرسراتے ہیں ادھوری نظم کے ٹکڑےفضا میں تیرتے ہیں ہر طرف بھٹکے ہوئے مصرعےکہیں مدھم سروں کا ساز کوئی چھیڑ دیتا ہےاندھیرے کے سمندر میں کوئی بجرا سا چلتا ہےپرانے گیت بہتے ہیںاداسی تال دیتی ہےکبھی شیشوں پہ ہلکی نیل گوں لہریں مچلتی ہیںکسی آواز کا سایہ کھلی کھڑکی میں آتا ہےکرن کوئی ذرا سا جھلملا کر ٹوٹ جاتی ہےسمجھ میں کچھ نہیں آتااندھیرے میں بکھرتا کیا ہے کیا ترتیب پاتا ہے
نہیں یہ ڈھیر مٹی کے سبق آموز عبرت ہیںکروں اے ہم نشیں کیونکر نہ ان سے استفادہ میںنشان رفتگاں میں نے ہر اک منزل میں پایا ہےاسی عبرت کدے نے کیا خیال ان کا جمایا ہےقیاس اپنا کیا ان پر جو میں نے اے شریف انساںنظر آیا مجھے ان میں کوئی خنداں کوئی گریاںیہاں مظلوم ہی رہتے نہیں ہیں بلکہ ظالم بھینظر پہلو بہ پہلو آتے ہیں محکوم و حاکم بھینہ دیکھا تم نے شاید ان کو اب تک چشم عبرت سےخدا را لو سبق کچھ بھی تو ان الواح تربت سےہمایوں ہے یہاں آسودہ وہ قبر ہلاکو ہےسنا ہے یہ کوئی مرشد ہے اور وہ ایک ڈاکو ہےوہ شہ زور آج بیکس ہیں جو کمزوروں سے لڑتے تھےخدا جانے کہ اہل حلم سے کیونکر بگڑتے تھےکرو یاد ان بزرگوں کو شرافت جن پہ ہے نازاںنہ بھولو ان کو بھی جو تھے سپہ سالار شربازاںنگاہوں میں انہیں رکھو ابھرنا ہے اگر تم کوخیالوں میں انہیں پرکھو سنورنا ہے اگر تم کو
مٹتے ابھرتے چہروں کے دریا میںبنتے بگڑتے رشتوں کے طوفان کے بیچایک جزیرہ ہے کہ جہاں پرخود کو ڈھونڈ نکالا میں نےخود کو چہکتے دیکھا میں نےخود کو مہکتے پایا میں نےدر نہ دریچہدیوار نہ چھتمجھ سے ملنے آ سکتے ہو جب چاہوپر یاد رہےتم کو اپنا جسم اتار کے آنا ہوگا ساحل پر
سنومیری محبت کوئی موت نہیںجس کا ذائقہ چکھنا تم پر لازم ہومیری محبت تو عاشقوں کے شمشان گھاٹ پراگا وہ سایہ دار پیڑ ہےجس کی ڈالوں پر اجنبی پرندے اپنا گھر بناتے ہیںاور جس کی جڑوں میں میرے ہم نفساپنی وحشتوں کی جھلستی راکھ ڈالتے ہیںتم جو میرے ہم زاد ہوتمہارے لیے تو میری محبت زندگی ہےجس میں مانند گلزار تخلیق کا ہر پہلوتمہارا انتظاری رہتا ہےتم جو میرے ہم رقص ہوتم کیوں اپنے محور سے دست بردار ہوتے ہوکہ تمہارے ایسا کرنے سےمیرے نظام شخصی کا توازن بگڑنے لگتا ہےاور بگڑتے زاویوں سے جو منظرمیری آنکھیں دیکھتی ہیںاس میں اسرافیل اپنے نرسنگھے کی سمت درست کرتا ہےاور عزرائیل ایک عزم عظیم سے اپنے پر تولنے لگتا ہےبے شک کل نفس ذآئقة الموتکل نفس ذآئقة الموتمگر میری محبت کوئی موت نہیںجس کا ذائقہ چکھنا تم پر لازم ہو
خرد کے گنبدوں میں سرگراںافلاک کی وسعتستاروں اور سیاروں کی ٹولیفصیل دہر میں بنتے بگڑتےیہ سیہ روزنمیں ان کے پار جانا چاہتا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books