aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bikte"
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسمریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئےجا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسمخاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سےنہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہو تموہ شوخیاں وہ تبسم وہ قہقہے نہ رہےہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھتی ہو تمچھپا چھپا کے خموشی میں اپنی بے چینیخود اپنے راز کی تشہیر بن گئی ہو تممیری امید اگر مٹ گئی تو مٹنے دوامید کیا ہے بس اک پیش و پس ہے کچھ بھی نہیںمری حیات کی غمگینیوں کا غم نہ کروغم حیات غم یک نفس ہے کچھ بھی نہیںتم اپنے حسن کی رعنائیوں پہ رحم کرووفا فریب ہے طول ہوس ہے کچھ بھی نہیںمجھے تمہارے تغافل سے کیوں شکایت ہومری فنا مرے احساس کا تقاضا ہےمیں جانتا ہوں کہ دنیا کا خوف ہے تم کومجھے خبر ہے یہ دنیا عجیب دنیا ہےیہاں حیات کے پردے میں موت پلتی ہےشکست ساز کی آواز روح نغمہ ہےمجھے تمہاری جدائی کا کوئی رنج نہیںمرے خیال کی دنیا میں میرے پاس ہو تمیہ تم نے ٹھیک کہا ہے تمہیں ملا نہ کروںمگر مجھے یہ بتا دو کہ کیوں اداس ہو تمخفا نہ ہونا مری جرأت تخاطب پرتمہیں خبر ہے مری زندگی کی آس ہو تممرا تو کچھ بھی نہیں ہے میں رو کے جی لوں گامگر خدا کے لیے تم اسیر غم نہ رہوہوا ہی کیا جو زمانے نے تم کو چھین لیایہاں پہ کون ہوا ہے کسی کا سوچو تومجھے قسم ہے مری دکھ بھری جوانی کیمیں خوش ہوں میری محبت کے پھول ٹھکرا دومیں اپنی روح کی ہر اک خوشی مٹا لوں گامگر تمہاری مسرت مٹا نہیں سکتامیں خود کو موت کے ہاتھوں میں سونپ سکتا ہوںمگر یہ بار مصائب اٹھا نہیں سکتاتمہارے غم کے سوا اور بھی تو غم ہیں مجھےنجات جن سے میں اک لحظہ پا نہیں سکتایہ اونچے اونچے مکانوں کی ڈیوڑھیوں کے تلےہر ایک گام پہ بھوکے بھکاریوں کی صداہر ایک گھر میں ہے افلاس اور بھوک کا شورہر ایک سمت یہ انسانیت کی آہ و بکایہ کارخانوں میں لوہے کا شور و غل جس میںہے دفن لاکھوں غریبوں کی روح کا نغمہیہ شاہراہوں پہ رنگین ساڑیوں کی جھلکیہ جھونپڑوں میں غریبوں کے بے کفن لاشےیہ مال روڈ پہ کاروں کی ریل پیل کا شوریہ پٹریوں پہ غریبوں کے زرد رو بچےگلی گلی میں یہ بکتے ہوئے جواں چہرےحسین آنکھوں میں افسردگی سی چھائی ہوئییہ جنگ اور یہ میرے وطن کے شوخ جواںخریدی جاتی ہیں اٹھتی جوانیاں جن کییہ بات بات پہ قانون و ضابطے کی گرفتیہ ذلتیں یہ غلامی یہ دور مجبورییہ غم بہت ہیں مری زندگی مٹانے کواداس رہ کے مرے دل کو اور رنج نہ دو
ہر آن خوشی سے آپس میں سب ہنس ہنس رنگ چھڑکتے ہیںرخسار گلالوں سے گل گوں، کپڑوں سے رنگ ٹپکتے ہیںکچھ راگ اور رنگ جھمکتے ہیں کچھ مے کے جام چھلکتے ہیںکچھ کودے ہیں، کچھ اچھلے ہیں، کچھ ہنستے ہیں، کچھ بکتے ہیں
مجھ کو دیکھو کہ میں وہی تو ہوںجس کو کوڑوں کی چھاؤں میں دنیابیچتی بھی خریدتی بھی تھیمجھ کو دیکھو کہ میں وہی تو ہوںجس کو کھیتوں سے ایسے باندھا تھاجیسے میں ان کا ایک حصہ تھاکھیت بکتے تو میں بھی بکتا تھامجھ کو دیکھو کہ میں وہی تو ہوںکچھ مشینیں بنائیں جب میں نےان مشینوں کے مالکوں نے مجھےبے جھجک ان میں ایسے جھونک دیاجیسے میں کچھ نہیں ہوں ایندھن ہوںمجھ کو دیکھو کہ میں تھکا ہاراپھر رہا ہوں جگوں سے آوارہتم یہاں سے ہٹو تو آج کی راتسو رہوں میں اسی چبوترے پر
رات گئے تک گھایل نغمے کرتے ہیں اعلان یہاںیہ دنیا ہے سنگ دلوں کی کوئی نہیں انسان یہاںعزت والوں کی ذلت کا سب سے بڑا بازار ہے یہچکتے ہیں غیرت کے سودے بکتے ہیں ایمان یہاںبھیک میں بھی مانگو تو کوئی پیار نہ ڈالے جھولی میںبن مانگے مل جاتے ہیں رسوائی کے سامان یہاںزر داروں کو نغموں میں جب جسم دکھائی دیتا ہےایک مہکتی سیج پہ اکثر ٹوٹتی ہے ہر تان یہاںممتا کے ہونٹوں پر جب چاندی کی مہریں لگتی ہیںماں خود اپنی بیٹی کو کر دیتی ہے قربان یہاںاپنا خون ہی بڑھ کر اپنے خون کی بولی دیتا ہےکس نے کس پر ہاتھ بڑھایا کوئی نہیں پہچان یہاںپاپ کے اس مندر میں کیا کیا بھاؤ بتائے رام جنیشام ڈھلے جب آن براجیں سونے کے بھگوان یہاںرات گئے تک جاگے سانولی کالے چوروں کی خاطراور اگر انکار کرے کہلائے نا فرمان یہاںجھلمل کرتی پوشاکوں سے چاہے بدبو آتی ہوخود جل کر محفل کو خوشبو دیتا ہے لوبان یہاں
اگر تم بیچنا چاہوادائیں بھی وفائیں بھیحسیں خوابوں کے رنگوں کی ردائیں بھییہ دنیا ہےیہاں آواز بکتی ہےیہاں تصویر بکتی ہےیہاں پر حرف کی حرمتیہاں تحریر بکتی ہےیہ بازار جہاں اک بیکراں گہرا سمندر ہےیہاں پر کشتیاں ساحل پہ آ کر ڈوب جاتی ہیںمسافر مر بھی جاتے ہیںمگر رونق نہیں جاتییہ انسانوں کا جنگل ہےاور اس جنگل کا سماں ہر وقت رہتا ہےاگر تم بیچنا چاہوادائیں بھی وفائیں بھیحسیں خوابوں کے رنگوں کی ردائیں بھیمرے دل میں بھی اک بازار سجتا ہےجہاں پر شام ہوتے ہی ہجوم یاس ہوتا ہے غموں کی بھیڑ لگتی ہےکئی یوسف سر بازار بکتے ہیں اگر تم بیچنا چاہو
خوں میں ڈوبی ہوئی شاعریغم سے وابستہ اک نغمگیسرد ہوتی ہوئی زندگی زندگیجاں گھلاتی ہوئی آگہیایک بجھتے ہوئے خواب کی روشنیخوب صورت دکانوں کے آراستہ شیلف میںلا کے آخر سجا دی گئییعنی بکنے بکنے کی شے ہی بنا دی گئیلکھنے والے کا احساس اپنی جگہپر تجارت کے اپنے تقاضے بھی ہیںذہن کا گھونٹ ہو یا کہ تریاق ہونرخ بازار کی نسبتوں سے سبھیاک سجاوٹ بناوٹ کے پابند ہیں
دق تجھ سے کتابیں ہیں بہت کرم کتابیتو دشمن دزدیدہ ہے خاکی ہو کہ آبیالفاظ کی کھیتی ہے فقط تیری چراگاہمعنی کی زمیں تیرے سب سایوں نے دابیہونے کو تری اصل ہے صیاد مکیں گاہکہنے کو فقط تیری حقیقت ہے سرابیتو نے تو ہر اک سمت لگائی ہیں سرنگیںپارینہ ہو فرمان کتابیں ہوں نصابیبادامی ہو کاغذ تو مزا اور ہی کچھ ہےلقمہ ہوا تحریر کا ہر مغز شتابیگھن ساتھ ہی گیہوں کے ہے پستہ ہوا دیکھابرگشتہ ورق لا نہ سکا تجھ پہ خرابیکیا خوب ہے یہ مجلس اوراق کہن بھیویران کتب خانوں کی دیمک تری لابیفردوسی و خلدوں کی کتابیں ہیں ہراساںوہ قلعہ معنی تیرا حملہ ہے جوابیپردہ ہے خموشی تری آہنگ فنا کیبھونرا ہے فقط کنج گلستاں کا ربابیتو چاٹ گیا دانش کہنہ کی فصیلیںبنیاد عمارت کو ہے ڈھانا تری ہابیاعداد کے قالب میں ہے تو صفر کی طاقتصفحات کے سوراخ کا بے نام حسابیتاریخ کے اس سیل میں انسان نے پائیایک آدھ کوئی موج نفس وہ بھی حبابیبکتے سر بازار ہیں مانند زغال آججو تازہ نفس خواب تغیر تھے شہابیکھا جاتی ہے اک دن اسے سب گرد زمانہمٹی کی وہ صحنک ہو کہ چینی کی رکابیبدلی ہوئی دنیا میں تغیر کا عمل ہےتو کرم کتابی نہیں اک کرم خلل ہے
رشتے میرے من کیاترن ہےقربتوں کا لمسدائمی نہیںتنہائی کا لمسسچا ہےپر من پگلا ہےبچے جیسے روتا ہےمحبت پہننا چاہتا ہےدل کی محبترات کو سڑکوں پہ بکتےغباروں جیسے ہوتی ہےجس کی گیسآدھی رات کو گھر پہنچنے تکنکل جاتی ہےجانتی ہوںپر من پگلا ہےبچے جیسے روتا ہے
اس مہینے میں غارتگری منع تھی، پیڑ کٹتے نہ تھے تیر بکتے نہ تھےبے خطر تھی زمیں مستقر کے لیےاس مہینے میں غارتگری منع تھی، یہ پرانے صحیفوں میں مذکور ہےقاتلوں، رہزنوں میں یہ دستور تھا، اس مہینوں کی حرمت کے اعزاز میںدوش پر گردن خم سلامت رہےکربلاؤں میں اترے ہوئے کاروانوں کی مشکوں کا پانی امانت رہےمیری تقویم میں بھی مہینہ ہے یہاس مہینے کئی تشنہ لب ساعتیں، بے گناہی کے کتبے اٹھائے ہوئےروز و شب بین کرتی ہیں دہلیز پر اور زنجیر در مجھ سے کھلتی نہیںفرش ہموار پر پاؤں چلتا نہیںدل دھڑکتا نہیںاس مہینے میں گھر سے نکلتا نہیں
تو چھن گیا تو لگا جیسےلکیریں میری ہتھیلی کے کاغذ سے گر گئی ہیںاور ہاتھ کفن سے زیادہسفید ہو گئے ہیںاب جانے کون سے لمحے کی پر کارلائینوں کی عبارت دوبارہ لکھےمیں نے جیت ادھار تو نہیں مانگی تھیہجر کسی ظالم چودھری کی طرحتمام وصل کا اناج اٹھا کر لے گیا ہےاور بھوک جسم پہ بالوں کی طرح اگنے لگی ہےوقت سے میرا مذاق کبھی نہیں رہاپھر جانے کیوںسب یہ مجھ سے کسی بہت قریبی دوست کی طرحکھیلتا رہتا ہےتیرے آنسو میری آنکھوں کونرگس کا سونپ کر گئے ہیںجانے سرخ گلاب کا ذائقہ بینائی کب چکھےسنورستے ابھی اپنے مسافر بھولے نہیںلوٹ آؤورنہ معلوم ہے تمہیںاب نیا گھر بنتے دیر نہیں لگتیرستے سکڑی ہوئی کلیاںاور کھیت صحن بننے سے پہلے چلے آؤکہ طویل دوریاںاپنے محور سے ہٹنے کے مترادف ہیںاور مدار سے نکلے ہوئے چاندایک دن اخبار کی سرخی بن کرباقی ردی کے بھاؤ بکتے ہیں
تمہیں معلوم ہے بیٹیتمہارا باپ شاعر ہےکہ جس نے عمر بھر الفاظ کے سکے کمائے ہیںوہی سکے جو اس بازار میں چلتے نہیں جس میںسبھی ایسی دکانیں ہیںجہاں کاغذ کے ٹکڑوں کے عوض کچھ خواب بکتے ہیںجہاں پر بیٹیوں کے قیمتی ارمان بکتے ہیں
فیض لے کر میرؔ سے آیا ہوادیکھیے اک شخص اترایا ہواہر سخنور سے یہی کہتا ہے ابمستند ہے میرا فرمایا ہوامانتا ہوں یہ بجا ہے ٹھیک ہےاس نے جو جتنا کہا ہے ٹھیک ہےیہ نیا اسلوب لائے کس طرحشعر میں جدت دکھائے کس طرحاس کا ہر اک لفظ ہے مانگا ہوایعنی اب تک جو کہا ہے بھیک ہےاس پہ کھلتے ہی نہیں غم بعد کےعہد و عصر خانماں برباد کےمیرؔ و غالبؔ کا زمانہ اور ہےعہد حاضر کا فسانہ اور ہےاس کو کیا معلوم کیا سے کیا ہوئےہائے کتنے حشر ہیں برپا ہوئےاس کو کیا معلوم غربت کی گھڑیخواب سارے ایک پل میں مر گئےاس کو کیا معلوم چھن جانے کا غمجان سے پیارے بھی اپنے نہ رہےاس کو کیا معلوم ہے اقصیٰ کا دکھجب نہتوں پر بھی میزائل چلےاس کو کیا معلوم کہ کشمیر میںکس طرح سے ماؤں کے بیٹے کٹےاس کو کیا معلوم سونامی کا دنشہر پل میں ڈوب کر میداں بنےاس کو کیا معلوم نو گیارہ کے بعدکس طرح کے ظلم تھے ڈھائے گئےاس کو کیا معلوم بم کے زور پرجرم مظلوموں سے منوائے گئےاس کو کیا معلوم کاروبار ہےجنگ کا میدان بکتے اسلحےہم سنائیں گر حروف آگہیبھول جائے ہر دلیل شاعریانگلیاں کانوں میں دے کر زور سےچیخ مارے اور مر جائے ابھی
جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشتشاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہےآگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھاپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاجب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیاتلتی ہے کہیں دیناروں میں بکتی ہے کہیں بازاروں میںننگی نچوائی جاتی ہے عیاشوں کے درباروں میںیہ وہ بے عزت چیز ہے جو بٹ جاتی ہے عزت داروں میںعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیامردوں کے لئے ہر ظلم روا عورت کے لیے رونا بھی خطامردوں کے لئے ہر عیش کا حق عورت کے لیے جینا بھی سزامردوں کے لئے لاکھوں سیجیں، عورت کے لیے بس ایک چتاعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاجن سینوں نے ان کو دودھ دیا ان سینوں کو بیوپار کیاجس کوکھ میں ان کا جسم ڈھلا اس کوکھ کا کاروبار کیاجس تن سے اگے کونپل بن کر اس تن کو ذلیل و خوار کیاسنسار کی ہر اک بے شرمی غربت کی گود میں پلتی ہےچکلوں ہی میں آ کر رکتی ہے فاقوں سے جو راہ نکلتی ہےمردوں کی ہوس ہے جو اکثر عورت کے پاپ میں ڈھلتی ہےعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاعورت سنسار کی قسمت ہے پھر بھی تقدیر کی ہیٹی ہےاوتار پیمبر جنتی ہے پھر بھی شیطان کی بیٹی ہےیہ وہ بد قسمت ماں ہے جو بیٹوں کی سیج پہ لیٹی ہےعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
حسنؔ نامی ہمارے گھر میں اک سقراطؔ گزرا ہےوہ اپنی نفی سے اثبات تک معشر کے پہنچا ہےکہ خون رایگاں کے امر میں پڑنا نہیں ہم کووہ سود حال سے یکسر زیاں کارانہ گزرا ہےطلب تھی خون کی قے کی اسے اور بے نہایت تھیسو فوراً بنت اشعت کا پلایا پی گیا ہوگاوہ اک لمحے کے اندر سرمدیت جی گیا ہوگا
میں نے مانا کہ تم اک پیکر رعنائی ہوچمن دہر میں روح چمن آرائی ہوطلعت مہر ہو فردوس کی برنائی ہوبنت مہتاب ہو گردوں سے اتر آئی ہو
اب سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دوتم چاند سے ماتھے والے ہواور اچھی قسمت رکھتے ہوبچے کی سو بھولی صورتاب تک ضد کرنے کی عادتکچھ کھوئی کھوئی سی باتیںکچھ سینے میں چبھتی یادیںاب انہیں بھلا دو سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دوسو جاؤ تم شہزادے ہواور کتنے ڈھیروں پیارے ہواچھا تو کوئی اور بھی تھیاچھا پھر بات کہاں نکلیکچھ اور بھی یادیں بچپن کیکچھ اپنے گھر کے آنگن کیسب بتلا دو پھر سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دویہ ٹھنڈی سانس ہواؤں کییہ جھلمل کرتی خاموشییہ ڈھلتی رات ستاروں کیبیتے نہ کبھی تم سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
افلاس زدہ دہقانوں کے ہل بیل بکے کھلیان بکےجینے کی تمنا کے ہاتھوں جینے کے سب سامان بکے
یہ چاند بیتے زمانوں کا آئنہ ہوگابھٹکتے ابر میں چہرہ کوئی بنا ہوگا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books