aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bolling"
کھیلنے آئے دونوں کرکٹ بندر ہاتھیان کے پیچھے تھے جنگل کے سارے ساتھیکیپٹن تھا اک ٹیم کا ہاتھی مست قلندردوسری ٹیم کا کیپٹن بن بیٹھا تھا بندربندر یہ تھے قسمت والے جیتے ٹاسفوراً چیتے کو بلوایا اپنے پاساوپن کرنے اک جانب سے آیا شیرجوش میں آ کر لگایا اس نے رنوں کا ڈھیراک اوور میں بنا گیا وہ سولہ رنسترہ گیندوں میں رن اس کے ستاوناس پاری میں دھوم دھڑکا مچا گیا وہچائے سے پہلے ڈبل سینچری بنا گیا وہدیکھ کے اپنی ٹیم کی درگت ہاتھی چونکاخود کرنے بالنگ کور سے آیا دوڑاپہلی بال ہی چیتے کے اسٹمپ کو مارادوسری بال میں شیر ڈریسنگ روم سدھاراتیسری بال پہ سانبھر جی نے کیچ دیاچوتھی بال پہ ریچھ بچارا بولڈ ہوااک اوور میں چار وکٹ تھے زیرو رنہاتھی نے رکارڈ بنا ڈالا اے ونایک اننگ میں آٹھ وکٹ کیپر کے کیچننھا سا خرگوش ہوا مین آف دی میچدو سو بیس پہ بندر جی کی ٹیم آل آؤٹپہلے روز مچھندر جی کی ٹیم آل آؤٹدوسرے دن ہاتھی کے اترے بلے بازبلے بازی میں لیکن نہ تھے ممتازبندر جی نے فالو آن کی شیخی ماریسوچا ختم کریں گے ان کی جلدی پاریہاتھی آیا دو ساتھی آؤٹ ہونے پروہ چکرایا اپنی دو وکٹیں کھونے پرہاتھی کے آنے سے پاری سنبھل گئی تھیویسے بھی اب پچ کی حالت بدل گئی تھیہاتھی آیا چوکے چھکے مارا خوببندر دوڑا ادھر ادھر بیچارہ خوبتین سو تیرہ بنا کے ہاتھی ناٹ آؤٹ تھااپنے کرتب دکھا کے ہاتھی ناٹ آؤٹ تھادو وکٹوں پہ لگا تھا چھ سو رنوں کا ڈھیرپھر پاری ڈکلیئر کرنے میں کیا دیردوسری پاری میں بندر کی اڑی ہنسیاسی ہی رن بنا کے پوری ٹیم گئیتین سو رن اور دس وکٹوں سے مات ہوئیجیت ہوئی ہاتھی کی اونچی بات ہوئی
آپ کو علم ہے وہ آج نہیں آئی ہیں؟میری ہر دوست سے اس نے یہی پوچھا ہوگاکیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخرخود سے اس بات پہ سو بار وہ الجھا ہوگاکل وہ آئے گی تو میں اس سے نہیں بولوں گاآپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگاوہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھنسیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے یہ سوچا ہوگاراہداری میں ہرے لان میں پھولوں کے قریباس نے ہر سمت مجھے آن کے ڈھونڈا ہوگا
کبھی نہ کھینچا شرارت سے جس کا آنچل بھیرچا سکی مری آنکھوں میں جو نہ کاجل بھیوہ ماں جو میرے لئے تتلیاں پکڑ نہ سکیجو بھاگتے ہوئے بازو مرے جکڑ نہ سکیبڑھایا پیار کبھی کر کے پیار میں نہ کمیجو منہ بنا کے کسی دن نہ مجھ سے روٹھ سکیجو یہ بھی کہہ نہ سکی جا نہ بولوں گی تجھ سےجو ایک بار خفا بھی نہ ہو سکی مجھ سےوہ جس کو جوٹھا لگا منہ کبھی دکھا نہ سکاکثافتوں پہ مری جس کو پیار آ نہ سکاجو مٹی کھانے پہ مجھ کو کبھی نہ پیٹ سکینہ ہاتھ تھام کے مجھ کو کبھی گھسیٹ سکیوہ ماں جو گفتگو کی رو میں سن کے میری بڑکبھی جو پیار سے مجھ کو نہ کہہ سکی گھامڑشرارتوں سے مری جو کبھی الجھ نہ سکیحماقتوں کا مری فلسفہ سمجھ نہ سکیوہ ماں کبھی جسے چونکانے کو میں لک نہ سکامیں راہ چھینکنے کو جس کے آگے رک نہ سکاجو اپنے ہاتھ سے بہروپ میرے بھر نہ سکیجو اپنی آنکھوں کو آئینہ میرا کر نہ سکیگلے میں ڈالی نہ باہوں کی پھول مالا بھینہ دل میں لوح جبیں سے کیا اجالا بھیوہ ماں کبھی جو مجھے بدھیاں پہنا نہ سکیکبھی مجھے نئے کپڑوں سے جو سجا نہ سکیوہ ماں نہ جس سے لڑکپن کے جھوٹ بول سکانہ جس کے دل کے دراں کنجیوں سے کھول سکاوہ ماں میں پیسے بھی جس کے کبھی چرا نہ سکاسزا سے بچنے کو جھوٹی قسم بھی کھا نہ سکا
لیکن میں یہاں پھر آؤں گابچوں کے دہن سے بولوں گاچڑیوں کی زباں سے گاؤں گاجب بیج ہنسیں گے دھرتی میںاور کونپلیں اپنی انگلی سےمٹی کی تہوں کو چھیڑیں گیمیں پتی پتی کلی کلیاپنی آنکھیں پھر کھولوں گاسر سبز ہتھیلی پر لے کرشبنم کے قطرے تولوں گامیں رنگ حنا آہنگ غزلانداز سخن بن جاؤں گارخسار عروس نو کی طرحہر آنچل سے چھن جاؤں گاجاڑوں کی ہوائیں دامن میںجب فصل خزاں کو لائیں گیرہ رو کے جواں قدموں کے تلےسوکھے ہوئے پتوں سے میرےہنسنے کی صدائیں آئیں گیدھرتی کی سنہری سب ندیاںآکاش کی نیلی سب جھیلیںہستی سے مری بھر جائیں گیاور سارا زمانہ دیکھے گاہر قصہ مرا افسانہ ہےہر عاشق ہے سردارؔ یہاںہر معشوقہ سلطانہؔ ہے
آخری تکرار کے بعد میں نے زبان سمیٹ لی ہےاب میں ایک لفظ بھی مزید نہیں بولوں گاکھینچ تان کر زبان اپنے بدن پر لپیٹ لی ہےدعا نہیں کروں گا گرہ نہیں کھولوں گا
بولیں بئے بٹیریں قمری پکارے کو کوپی پی کرے پپیہا بگلے پکاریں تو توکیا حدحدوں کی حق حق کیا فاختوں کی ہو ہوسب رٹ رہے ہیں تجھ کو کیا پنکھ کیا پکھیروکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی ماریں
آہ جب دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہےگلشن زیست جلانے کو شرر رکھتی ہےتوپ تلوار نہ یہ تیغ و تبر رکھتی ہےبنت حوا کی طرح تیر نظر رکھتی ہےاتنا پر سوز ہوا نالۂ سفاک مراکر گیا دل پہ اثر شکوۂ بے باک مرایہ کہا سن کے سسر نے کہ کہیں ہے کوئیساس چپکے سے یہ بولیں کہ یہیں ہے کوئیسالیاں کہنے لگیں قرب و قریں ہے کوئیسالے یہ بولے کہ مردود و لعیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا ہے تو ہم زلف کے بہتر سمجھامجھ کو بیگم کا ستایا ہوا شوہر سمجھااپنے حالات پہ تم غور ذرا کر لو اگرجلد کھل جائے گی پھر ساری حقیقت تم پرمیں نے اگنے نہ دیا ذہن میں نفرت کا شجرتم پہ ڈالی ہے سدا میں نے محبت کی نظرکہہ کے سرتاج تمہیں سر پہ بٹھایا میں نےتم تو بیٹے تھے فقط باپ بنایا میں نےمیں نے سسرال میں ہر شخص کی عزت کی ہےساس سسرے نہیں نندوں کی بھی خدمت کی ہےجیٹھ دیور سے جٹھانی سے محبت کی ہےمیں نے دن رات مشقت ہی مشقت کی ہےپھر بھی ہونٹوں پہ کوئی شکوہ گلہ کچھ بھی نہیںمیرے دن رات کی محنت کا صلہ کچھ بھی نہیںصبح دم بچوں کو تیار کراتی ہوں میںناشتہ سب کے لئے روز بناتی ہوں میںباسی تم کھاتے نہیں تازہ پکاتی ہوں میںچھوڑنے بچوں کو اسکول بھی جاتی ہوں میںمیں کہ انسان ہوں انسان نہیں جن کوئیمیری تقدیر میں چھٹی کا نہیں دن کوئیوہ بھی دن تھے کہ دلہن بن کے میں جب آئی تھیساتھ میں جینے کی مرنے کی قسم کھائی تھیپیار آنکھوں میں تھا آواز میں شہنائی تھیکبھی محبوب تمہاری یہی ہرجائی تھیاپنے گھر کے لیے یہ ہستی مٹا دی میں نےزندگی راہ محبت میں لٹا دی میں نےکس قدر تم پہ گراں ایک فقط ناری ہےدال روٹی جسے دینا بھی تمہیں بھاری ہےمجھ سے کب پیار ہے اولاد تمہیں پیاری ہےتم ہی کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےگھر تو بیوی سے ہے بیوی جو نہیں گھر بھی نہیںیہ ڈبل بیڈ یہ تکیہ نہیں چادر بھی نہیںمیں نے مانا کہ وہ پہلی سی جوانی نہ رہیہر شب وصل نئی کوئی کہانی نہ رہیقلزم حسن میں پہلی سی روانی نہ رہیاب میں پہلے کی طرح رات کی رانی نہ رہیاپنی اولاد کی خاطر میں جواں ہوں اب بھیجس کے قدموں میں ہے جنت وہی ماں ہوں اب بھیتھے جو اجداد تمہارے نہ تھا ان کا یہ شعارتم ہو بیوی سے پریشان وہ بیوی پہ نثارتم کیا کرتے ہو ہر وقت یہ جو تم بیزارتم ہو گفتار کے غازی وہ سراپا کرداراپنے اجداد کا تم کو تو کوئی پاس نہیںہم تو بے حس ہیں مگر تم بھی تو حساس نہیںنہیں جن مردوں کو پروائے نشیمن تم ہواچھی لگتی ہے جسے روز ہی الجھن تم ہوبن گئے اپنی گرہستی کے جو دشمن تم ہوہو کے غیروں پہ فدا بیوی سے بد ظن تم ہوپھر سے آباد نئی کوئی بھی وادی کر لوکسی کل بسنی سے اب دوسری شادی کر لو
یہ جی چاہتا ہے کہ تم ایک ننھی سی لڑکی ہو اور ہم تمہیں گود میں لے کے اپنی بٹھا لیںیوں ہی چیخو چلاؤ ہنس دو یوں ہی ہاتھ اٹھاؤ ہوا میں ہلاؤ ہلا کر گرا دوکبھی ایسے جیسے کوئی بات کہنے لگی ہوکبھی ایسے جیسے نہ بولیں گے تم سےکبھی مسکراتے ہوئے شور کرتے ہوئے پھر گلے سے لپٹ کر کرو ایسی باتیںہمیں سرسراتی ہوا یاد آئےجو گنجان پیڑوں کی شاخوں سے ٹکرائے دل کو انوکھی پہیلی بجھائے مگر وہ پہیلی سمجھ میں نہ آئے
کس کے نزدیک اب میں بیٹھوں گادل کی باتیں میں کس سے بولوں گا
ہم نے ان عالی بناؤں سے کیا اکثر سوالآشکارا جن سے ان کے بانیوں کا ہے جلالشان و شوکت کی تمہاری دھوم ہے آفاق میںدور سے آ آ کے تم کو دیکھتے ہیں با کمالقوم کو اس شان و شوکت سے تمہاری کیا ملادو جواب اس کا اگر رکھتی ہو یارائے مقالسرنگوں ہو کر وہ سب بولیں زبان حال سےہو سکا ہم سے نہ کچھ الانفعال الانفعالبانیوں نے تھا بنایا اس لیے گویا ہمیںہم کو جب دیکھیں خلف اسلاف کو رویا کریں
بولیں اماں محمد علیؔ کیجان بیٹا خلافت پہ دے دوساتھ تیرے ہیں شوکتؔ علی بھیجان بیٹا خلافت پہ دے دوگر ذرا سست دیکھوں گی تم کودودھ ہرگز نہ بخشوں گی تم کومیں دلاور نہ سمجھوں گی تم کوجان بیٹا خلافت پہ دے دوغیب سے میری امداد ہوگیاب حکومت یہ برباد ہوگیحشر تک اب نہ آباد ہوگیجان بیٹا خلافت پہ دے دوکھانسی آئے اگر تم کو جانیمانگنا مت حکومت سے پانیبوڑھی اماں کا کچھ غم نہ کرناکلمہ پڑھ پڑھ خلافت پہ مرناپورے اس امتحاں میں اترناجان بیٹا خلافت پہ دے دوہوتے میرے اگر سات بیٹےکرتی سب کو خلافت پہ صدقےہیں یہی دین احمد کے رستےجان بیٹا خلافت پہ دے دوحشر میں حشر برپا کروں گیپیش حق تم کو لے کے چلوں گیاس حکومت پہ دعویٰ کروں گیجان بیٹا خلافت پہ دے دوچین ہم نے شفیقؔ اب نہ پایاجان بیٹا خلافت پہ دے دو
ننھی سے یہ بولیں نانیمیری پیاری گڑیا رانیآ جا میری گود میں آ جاسن لے مجھ سے ایک کہانییہ جو اپنی گول زمیں ہےپہلے پہل تھی پانی پانیسب دنیا تھی ایک سمندرجس کی لہریں تھیں طوفانیرفتہ رفتہ ابھری خشکیہولے ہولے اترا پانیپیڑ پہاڑ چٹانیں صحراجنگل کا جنگل حیوانیساری چیزیں ہو گئیں پیداتب آئی وہ صبح سہانیجب اللہ نے حکم سے اپنےدکھلانے کو اپنی نشانیدنیا میں انسان کو بھیجاخوب بڑھی نسل انسانیتم کو سن کر حیرت ہوگیمیری پیاری گڑیا رانیحصے چار زمیں کے ہوں توایک ہے خشکی تین ہے پانیلیکن استعمال کے قابلزیادہ پانی نہیں ہے جانیتھوڑا تھوڑا خرچ کریں ہمشروع نہ کر دیں نہر بہانی
فردوس بنائے ہوئے ساون کے مہینےاک گل رخ و نسریں بدن و سرو سہی نےماتھے پہ ادھر کاکل ژولیدہ کی لہریںگردوں پہ ادھر ابر خراماں کے سفینےمینہ جتنا برستا تھا سر دامن کہساراتنے ہی زمیں اپنی اگلتی تھی دفینےاللہ رے یہ فرمان کہ اس مست ہوا میںہم منہ سے نہ بولیں گے اگر پی نہ کسی نےوہ مونس و غم خوار تھا جس کے لیے برسوںمانگی تھیں دعائیں مرے آغوش تہی نےگل ریز تھے ساحل کے لچکتے ہوئے پودےگل رنگ تھے تالاب کے ترشے ہوئے زینےبارش تھی لگاتار تو یوں گرد تھی مفقودجس طرح مئے ناب سے دھل جاتے ہیں سینےدم بھر کو بھی تھمتی تھیں اگر سرد ہوائیںآتے تھے جوانی کو پسینے پہ پسینےبھر دی تھی چٹانوں میں بھی غنچوں کی سی نرمیاک فتنۂ کونین کی نازک بدنی نےگیتی سے ابلتے تھے تمنا کے سلیقےگردوں سے برستے تھے محبت کے قرینےکیا دل کی تمناؤں کو مربوط کیا تھاسبزے پہ چمکتی ہوئی ساون کی جھڑی نےبدلی تھی فلک پر کہ جنوں خیز جوانیبوندیں تھیں زمیں پر کہ انگوٹھی کے نگینےشاخوں پہ پرندے تھے جھٹکتے ہوئے شہ پرنہروں میں بطیں اپنے ابھارے ہوئے سینےاس فصل میں اس درجہ رہا بے خود و سرشارمیخانے سے باہر مجھے دیکھا نہ کسی نےکیا لمحۂ فانی تھا کہ مڑ کر بھی نہ دیکھادی کتنی ہی آواز حیات ابدی نے
گھر سے بستہ اور ٹفن کے ساتھ نکلنا مکتب کوآدھے ہی رستے سے گھوم کے واپس آناشام ڈھلے تککھیلنا کودناجھگڑے کرناپھر مل جاناباغ سے جا کر آم چراناپکڑے جاناگھر پر آ کر ڈانٹیں سنناکبھی کبھی تھپڑ بھی کھاناگنے کے مرجھائے اور کالے پھولوں سےنقلی داڑھی مونچھ بناناچھپ کر جوٹھی بیڑی پیناکھیتوں میں جھاڑے کو جاناادھر ادھر کی باتیں کرنااک گورے لڑکے کے پیچھے تکتے رہناکم عمری میں بالغ ہوناالٹے سیدھے دھیان میں شب بھرجاگتے رہناکتنا اچھا لگتا تھاوہ راتیں کتنی پیاری تھیںوہ دن کتنے البیلے تھے
سو یقین ہے میراجس عظیم ساعت میںمہرباں فرشتے نےتم کو مجھ میں ڈھالا ہےاس بلیغ ساعت میںاس نے شاعری کی ہےاس نے حمد لکھی ہے
کہانی کا ہدایت کار بھی شاید تری آنکھوں کی گہرائی سے خائف تھاوہ مل جائے تو بولیں گےکہ اس کردار کا جانا نہ بنتا تھا!
دل کے بلیغ طنز سے میں سٹپٹا گیاشاید کہ یہ عمل بھی حماقت کے نام ہے
پیارے بیٹے ابراہیمؔتمہیں شکایت ہے کہ ایک عرصے سے میں نے کچھ لکھا لکھا یا نہیںاقبالؔ نے کہا تھانالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںپھر فیضؔ نے کہا تھابول کہ لب آزاد ہیں تیرےبہت اکساتا ہوں اپنے آپ کولیکن زبان کی گرہ کھلتی ہی نہیںاور دل کا شعلہ لب معجز بیاں پر آتا ہی نہیںہائے ناصرؔ کاظمیبس غالبؔ کی طرح کان لپیٹ کر بیٹھ جاتا ہوںکھلا کر فائدہ عرض ہنر میں خاک نہیںبولوں گا تو سنے گا کونکسی کے کان میں پڑ بھی گئی تو سمجھے گا کونآج کل تو بڑے بڑے کھڑ پینچوں کی حالت یہ ہےکہ کوئی سنتا ہے تو سمجھتا نہیںکوئی سمجھتا ہے تو سنتا نہیںاور بہت ہیں جو سنتے بھی نہیں سمجھتے بھی نہیںپھر میرے پاس نالہ کو ہے کیاکون سی ضروری بات ہے جو ان کہی رہ گئی ہےسارے فلسفے سارے نظریے سارے مسائل تو بیان ہو چکےشاعروں نے لطیف سے لطیف جذبے کو سو سو طرح سے باندھ ڈالاموسیقاروں نے نازک سے نازک احساس کو پابند لے کر دیانہ کسی کے لیے کچھ کہنے کو باقی ہےنہ کسی میں سننے کا یارا ہےیہی غنیمت ہے کہ دل بھر آئے تو منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑا لیںآخر جب خدا نے ابھی خدائی نہ بنائی تھیتو اکیلے میں کیا کرتا ہو وہخود ہی بولتا ہوگا خود ہی سنتا ہوگا وہمیرا یہ مقام تو نہیں لیکن حالت یہی ہےخود ہی بولتا ہوں خود ہی سنتا ہوںبس یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کہا کیا ہے اور سنا کیا ہےویسے یہ سمجھے سمجھانے والی بات بھی ٹیڑھی خیر ہےغالبؔ نے کہا تھابک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ کچھ نہ سمجھے خدا کریے کوئیاور اس سے پہلے میر دردؔ نے بہت درد سے بتایا تھاسمجھتے تھے نہ مگر سنتے تھے ترانۂ درد سمجھ میں آنے لگا جب تو پھر سنا نہ گیاوالسلام
ایک ٹہنی پہ بیٹھے تھے مٹھو میاںآ گیا ایک کوا بھی اڑ کر وہاںآئیے آئیے شوق فرمائیےمیٹھا امرود ہے آپ بھی کھائیےبولا کوا کہ خاموش ٹیں ٹیں نہ کرورنہ میں پھوڑ دوں گا ابھی تیرا سربے وقوفوں سے میں بات کرتا نہیںاپنے درجے سے نیچے اترتا نہیںکون سا تو عقاب اور شاہین ہےمنہ لگانا تجھے میری توہین ہےبولیں کوے نے جب ایسی بڑ بولیاںتو غصے میں بولے یہ مٹھو میاںتو نے کیا تیر مارے ہیں میں بھی سنوںتیری چالاکیوں پر ذرا سر دھنوںبولا کوا کہ او رٹو طوطے یہ سنمیری دانش کا ہر شخص گاتا ہے گنکر دوں روشن ابھی تیرے چودہ طبقیاد ہے بچے بچے کو میرا سبقایک دن جب بہت سخت پیاسا تھا میںیہ سمجھ لے کہ بس ادھ مرا سا تھا میںایک مٹکے میں پانی کی دیکھی جھلکچونچ ڈالی تو پہنچی نہ پانی تلکذہن نے کام کرنا شروع کر دیامٹکا کنکر سے بھرنا شروع کر دیاان کی تعداد مٹکے میں جب بڑھ گئیسطح پانی کی اوپر تلک چڑھ گئیمیں نے پانی گٹاگٹ گٹاگٹ پیاپھر پھدکتے ہوئے کائیں کائیں کیادیکھ لے کس قدر تیز طرار ہوںکتنا چالاک ہوں کتنا ہشیار ہوںبولے مٹھو میاں مار کر قہقہہبے وقوفی کی بس ہو گئی انتہاجانے مٹکے میں پانی تھا کب سے پڑاپھر ڈھکنا بھی نہیں تھا کھلا تھا گھڑاگندے کنکر بھی بھرتا گیا اس میں توپی گیا ایسے پانی کو پھر آخ تھوایسے پانی سے لگتی ہیں بیماریاںپیش آتی ہیں کتنی ہی دشواریاںخود کو کہتا عقل مند و دانا ہے تولیکن افسوس احمق کا نانا ہے توتو اگر گندی چیزیں نہ کھائے پیےلوگ پالیں تجھے تو مزے سے جیےصاف ہوتا تو گھر گھر بلاتے تجھےاس طرح مار کر کیوں بھگاتے تجھےکوا سنتے ہی یہ بات رونے لگااپنے پر آنسوؤں سے بھگونے لگااور کہنے لگا بات سچ ہے تریلوگ کرتے ہیں نفرت شکل سے مریکوا رو رو کے جب آہ بھرنے لگااس پہ مٹھو نے یہ ترس کھا کر کہاچھوڑ دے اس تکبر بڑائی کو تواپنی عادت بنا لے صفائی کی توگندا پانی نہ پی گندی چیزیں نہ کھاان میں ہوتا ہے ڈیرا جراثیم کایہ جراثیم بیمار کر دیتے ہیںاچھے خاصوں کو بیکار کر دیتے ہیںیوں بظاہر تھا کوا بہت کائیاںاس کو سمجھا کے ہر بات مٹھو میاںاڑ گئے اپنے پر پھڑپھڑاتے ہوئےمٹھو بیٹے کے نعرے لگاتے ہوئے
پلٹ کر دیکھ بھر سکتی ہیںبھیڑیںبولنا چاہیں بھی تو بولیں گی کیسےہو چکی ہیں سلب آوازیں کبھی کیلوٹنا ممکن نہیں ہےصرف چلنا اور چلتے رہنا ہےخوابوں کے غار کی جانبجس کا رستہسنہرے بھیڑیوں کے دانتوں سے ہو کر گزرتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books