زباں دراز

عمار اقبال

زباں دراز

عمار اقبال

MORE BYعمار اقبال

    میں اپنی بیماری بتانے سے معذور ہوں

    مجھے زبان کی عجیب بیماری ہو گئی ہے

    سو گفتگو سے پرہیز کرنے پر مجبور ہوں

    میرا لہجہ کرخت اور آواز بھاری ہو گئی ہے

    زبان میں فی لفظ ایک انچ اضافہ ہو رہا ہے

    پہلے بھی تو یہ کاندھوں پر پڑی تھی

    تمہیں میری مشکل کا اندازہ ہو رہا ہے

    تم جو مجھ سے بات کرنے پر اڑی تھیں

    آخری تکرار کے بعد میں نے زبان سمیٹ لی ہے

    اب میں ایک لفظ بھی مزید نہیں بولوں گا

    کھینچ تان کر زبان اپنے بدن پر لپیٹ لی ہے

    دعا نہیں کروں گا گرہ نہیں کھولوں گا

    ہر پسلی دوسری پسلی میں دھنستی جا رہی ہے

    میری زبان میرے بدن پر کستی جا رہی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے