aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "buu-e-gul"
عشق آباد فنائے کل ہےگل کا حاصل وہی بوئے گل ہے
دل بہلتا نہیں کہیں میرادوست تجھ سا کوئی نہیں میراوادیٔ زندگی میں حیراں ہوںصورت بوئے گل پریشاں ہوںآ تجھے یاد کر رہی ہوں میں
موسموں کی زردیوں سے اس قدر نہ خوف کھابوئے گل مہکی ہوئی ہے کہر کے اس پار دیکھ
شاعری جو بولتی ہے ان کی اب بھی چڑھ کے سرٹوٹنے والا نہیں ہے ان کے نغموں کا سحرمثل بوئے گل ہے شہرت آج ان کی کو بہ کوشہر میرٹھ کو نہ ہو کیوں ناز اسماعیل پر
شاعر نے کہانظم لکھی ہے میں نےپوشاک خیالات کی سی ہے میں نےاک آب نئی سخن کو دی ہے میں نےتاریکیوں میں روشنی کی ہے میں نےتب نظم نےآہ سرد بھر کے یہ کہامیں دست ہوس سے بھی گریزاں اب تکتھی صورت بوئے گل پریشاں اب تکلیکن یہ کیا کہ ہو گئی ہوں میں آجالفاظ کے آواز کے پنجرے میں اسیرپڑھنے والے کے ولولے کی محتاج
ہر نفس اپنا امنگوں کی ہے تفسیر نئیآج ہر سانس سے بے باک ارادے ہیں عیاںاب کے تزئین چمن ہوگی لہو کی سرخیفصل گل اب کے نئے جلوے بکھیرے گی یہاں
آرزو میں تیری اے گل پوش شہزادی نہ پوچھکیسے عالم تاب سرداروں کے سر جاتے رہےسرزمین ہند کو جنت بنانے کے لئےکیسے کیسے دست و بازو کے شجر جاتے رہے
بجھا دولہو کے سمندر کے اس پارآئنہ خانوں میں اب جھلملاتے ہوئے قمقموں کو بجھا دوکہ دل جن سے روشن تھا اب ان چراغوں کی لو بجھ چکی ہےمٹا دومنقش در و بام کے جگمگاتےچمکتے ہوئے سب بتوں کو مٹا دوکہ اب لوح دل سے ہر اک نقش حرف غلط کی طرح مٹ چکا ہےاٹھا دولہو کے جزیرے میںبپھری ہوئی موت کے زرد پنجوں سے پردہ اٹھا دوکہ اب اس جزیرے میںلاشوں کے انبار بکھرے پڑے ہیںفضا میں ہر اک سمتجلتے ہوئے خون کی بو رچی ہےوہ آنکھیں جو اپنے بدن کی طرح صاف شفاف تھیںاب ان درختوں پہ بیٹھے ہوئے چیل کوؤں گدھوں کی غذا بن چکی ہیںیہ سولہ دسمبر کی بجھتی ہوئی شام ہےاور میںاس لہو کے جزیرے میں جلتا ہوا آخری آدمی ہوں
انشاؔ جی یہ کون آیا کس دیس کا باسی ہےہونٹوں پہ تبسم ہے آنکھوں میں اداسی ہےخوابوں کے گلستاں کی خوشبوئے دل آرا ہےیا صبح تمنا کے ماتھے کا ستارا ہےترسی ہوئی نظروں کو اب اور نہ ترسا رےاے حسن کے سوداگر اے روپ کے بنجارےرمنا دل انشاؔ کا اب تیرا ٹھکانا ہواب کوئی بھی صورت ہو اب کوئی بہانا ہو
تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےوقت کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہےاے مرے سوچ نگر کی رانی اے مرے خلد خیال کی حوراتنے دنوں جو میں گھلتا رہا ہوں تیرے بنا یونہی دور ہی دورسوچ تو کیا پھل مجھ کو ملا میں من سے گیا پھر تن سے گیاشہر وطن میں اجنبی ٹھہرا آخر شہر وطن سے گیاروح کی پیاس بجھانی تھی پر یہاں ہونٹوں کی پیاس بھی بجھ نہ سکیبچتے سنبھلتے بھی ایک سلگتا روگ بنی مرے جی کی لگیدور کی بات نہ سوچ ابھی مرے ہات میں تو ذرا ہات تو دےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےباغ میں ہے اک بیلے کا تختہ بھینی ہے اس بیلے کی سگندھاے کلیو کیوں اتنے دنوں تم رکھے رہیں اسے گود میں بندکتنے ہی ہم سے روپ کے رسیا آئے یہاں اور چل بھی دیئےتم ہو کہ اتنے حسن کے ہوتے ایک نہ دامن تھام سکےصحن چمن پر بھونروں کے بادل ایک ہی پل کو چھائیں گےپھر نہ وہ جا کر لوٹ سکیں گے پھر نہ وہ جا کر آئیں گےاے مرے سوچ نگر کی رانی وقت کی باتیں رنگ اور بوہر کوئی ساتھ کسی کا ڈھونڈے گل ہوں کہ بیلے میں ہوں کہ توجو کچھ کہنا ہے ابھی کہہ لے جو کچھ سننا ہے سن لےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیے
آسماں پر رواں سرمئی بادلوہاں تمہیں کیا اڑو اور اونچے اڑوباغ عالم کے تازہ شگفتہ گلوبے نیازانہ مہکا کرو خوش رہولیکن اتنا بھی سوچا، کبھی ظالمو!ہم بھی ہیں عاشق رنگ و بو شہر میں
خواب گراں سے غنچوں کی آنکھیں نہ کھل سکیںگو شاخ گل سے نغمہ برابر اٹھا کیا
جیسے جھک کر اس نے سرگوشی میں مجھ سے یہ کہاوہ دیار غرب ہو کہ گلستان شرق ہوظلم کے موسم میں بوئے گل سے کھلتے ہیں گلابجستجو کی منزلوں میں خواب کی مشعل لیےڈالیوں پر آ کے گرتے ہیں تھکے ماندے پرندآشیاں بندی میں رنگ و نسل کی تمییز کیاتفریق کیاجابرؔ و مجبور کی دنیا الگ عقبیٰ الگ
کیوں نہ اتراؤں کہ اب اپنا دلستاں کھل گیابوئے گل آنے لگی باب گلستاں کھل گیا
دیکھ کبھی تو موسم گل کوپت جھڑ کی آوازوں میںاور کبھی تو پربت بن جااور کبھی بہہ ساگر میںصحراؤں میں تنہا چلاور ہنستا جا گلزاروں میںپتھر سے اگا لے پھولوں کوخاروں میں شیرینی بھر دےروتی شبنم ڈھلتا سورجسانجھ کی سندر بیلا بھیصبح کا تارا چاند کا ہالہہر موسم البیلا بھی
قصر توحید کا اک برج منور تو ہےگلشن حق کے لئے بوئے گل تر تو ہے
سو رہی تھیں ندیاں اور جھک گئے تھے برگ و باربجھ گیا تھا خاک کی نبضوں میں ہستی کا شرارچاندنی مدھم سی تھی دریا کی لہریں تھیں خموشبے خودی کی بزم میں ٹوٹے پڑے تھے ساز ہوشبھینی بھینی بوئے گل رقص ہوا کچھ بھی نہ تھاصحن گلشن میں اداسی کے سوا کچھ بھی نہ تھااک حجاب تیرگی تھا دیدۂ بے دار پرکچھ دھواں سا چھا رہا تھا حسن کے انوار پراس دھوئیں میں روح کی تابندگی کھوتے ہوئےمیں نے دیکھا نوع انسانی کو گم ہوتے ہوئے
لاس اینجلز کے زرتاب شبستانوں میںسو گئی آج وہ آواز کہ جس کا جادوبوئے گل بن کے اڑا کوچہ بہ کوچہ ہر سوبن کے اک چیخ لرز جاتی ہے اب کانوں میں
کیوں شام کا آنچل میلا ہےہر سمت دھواں سا پھیلا ہےمعدوم ہوئے آثار سبھیکلیوں کی چنچل آنکھیںجھکی جھکی سی موندے پلکیںگل بدن سر نگوں ہو گئےخوشبو بھی اڑیاور گیسوئے شب میں جا الجھی
کاو کاو سخت جانیاور ایسی تنہائیجذبۂ بے اختیاریاور ایسی تنہائیآتش خاموش میں جلتا رہااور کوئی وصل کو آیا نہیںوحشت ایسی تھیکہ صحرا بھی جلا وہ بھی جلاتھی وہ داغوں کی بہارتھا چراغاں رات میںاور قیس تھا تصویر میںپھر بھی عریاں ہی تھا وہاس نے کبھی کپڑے نہ پہنےخوشبو بھرے خوشیاں بھرےبوئے گل میں اس کا نالہ تھا نہاںاور محفل کے چراغوں میں تھااس کے سچے عشق کا سچا دھواںوہ تھا تنہائی میںاور تنہائی بھی ایسی دردناکقیس اپنے سوز تنہائی میں ہی جل گیابے محابا جل گیاکاو کاو سخت جانیاور ایسی تنہائی نہ پوچھ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books