aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "cham.dii"
چمڑی چھلنے لگتی ہےناک میں خون کی کچی بو
بوڑھے ناخونوں اور جھریوں نےچپچپاتی چمڑی والے ہاتھوں کو
پر اُس کے خوابوں کے کردار مردنگ کی تھاپ پر ناچتےوہ سپہ سالار بھی تھا اور ایک خلاباز بھی
موٹی چمڑی کو احساس ہوتا نہیں ہےآنکھیں سیلاب میں بہ چکی ہیں
تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیم
دیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاںچلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محلیہ منقش در و دیوار یہ محراب یہ طاق
آغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہپھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہو
تیری زلفوں کی مستی برستی رہیتیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی
میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریںآبشاروں کے بہاروں کے چمن زاروں کے گیت
مخاطب ہے بندے سے پروردگارتو حسن چمن تو ہی رنگ بہار
جیلوں کے بنا جب دنیا کی سرکار چلائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گی
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینتجس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
چمن دہر میں روح چمن آرائی ہوطلعت مہر ہو فردوس کی برنائی ہو
تڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابی
جب سے چمن چھٹا ہے یہ حال ہو گیا ہےدل غم کو کھا رہا ہے غم دل کو کھا رہا ہے
چمن کی سمت کر نظرسماں تو دیکھ بے خبر
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوںکہ چلتی گاڑی سے پیڑ دیکھو
یہ لب ہیں تمہارے کہ کھلتا چمن ہےبکھیرو جو زلفیں تو شرمائے بادل
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books