aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chamber"
حکمراں بھی ہیں، محل بھی ہیں، فصلیں بھی ہیںجیل خانے بھی ہیں اور گیس کے چیمبر بھی ہیں
کونسل چمبر دیکھا ہم نےزو بھی جا کر بھالو دیکھے
شیشے کے بڑے چیمبر میںپانی بھر کر
محبت کی شفق برسی تمہارے خال و خد پرآئنے چمکے تمہاری دید سے
بخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبری
اب کہاں گیسوؤں کے وہ سائے کہاںاس کی آہٹ سے چمکے ہوئے بام و در اے دل بے بصر
بات سے بات نکل چلتی ہےٹھاٹ کی آئی تھی بارات، چنبیلی نے کہا
''پتھر کی زباں'' کی شاعرہ کےچنبیلی سے نرم ہاتھ تھامے
ایک ہے ایسی لڑکی جس سے تم نے ہنس کر بات نہ کیکبھی نہ دیکھا اس کی آنکھوں میں چمکے کیسے موتی
کل ذرا سی دیر چمکے تھے مرے دیوار و درجھلملا اٹھی تھیں میری روح کی گہرائیاں
ہزار شمع اخوت بجھا کے چمکے ہیںیہ تیرگی کے ابھارے ہوئے حسیں فانوس
در و دیوار سے چمکے تھا پڑا آب طلاسیم چونے کی جگہ اس کی تھا اینٹوں میں لگا
لبوں سے نکلےکبھی وہ چمکے ستارہ بن کر
دور ہو اس کی سب بربادیچرخ پہ چمکے بن کے تارا
رات کا نرم تنفس مجھے چھو جائے گادودھیا پھول چنبیلی کے مہک اٹھیں گے
پھر اندھیرے میں کسی ہاتھ میں خنجر چمکاشب کے سناٹے میں پھر خون کے دریا چمکے
کس کی آواز کی تنویر سے عالم چمکےسربلندی تھی مقدر میں قلم سے پہلے
جو نکل آئی تھی اک پل میں نہاں خانے سےجیسے بے ساختہ انداز میں بجلی چمکے
چمڑے کے تنوروں میںاب کال پڑے گا غلے کا
جب بن سیاہ رات کے تاروں سے بھر گئےکنج چمن میں چمکے شگوفے نئے نئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books