aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chashma-e-faiz"
وہ بشر جو پڑھ کے بھی کہتا ہو یوںبن کے طالب اور کچھ حاصل کروںکوئی شک اس کی فضیلت میں نہیںاس کا رتبہ ہے فرشتوں سے فزوںوہ بشر کچھ بھی نہ آتا ہو جسےلیکن اس کو شوق ہو عالم بنوںاپنی بے علمی کا اس کو علم ہےنا مناسب ہے اسے جاہل گنوںوہ بشر جو ہو نرا احمق مگرخود سمجھتا ہو کہ دانش مند ہوںموت ہے اس کی حماقت کا علاجوہ رہے گا عمر بھر خوار و زبوںہر بشر اے فیضؔ یہ کوشش کرےجس طرح بھی ہو جہالت سے بچوں
اٹھ از سر نو دہر کے حالات بدل ڈالتدبیر سے تقدیر کے دن رات بدل ڈالپھر درس مساوات کی حاجت ہے جہاں کوآقائی و خدمت کے خطابات بدل ڈالکالا ہو کہ گورا ہو خدا ایک ہے سب کاقومیت بے جا کی روایات بدل ڈالچینی ہو کہ ہندی ہو برابر کے ہیں بھائیوطنیت محدود کے وہمات بدل ڈالکل چھوٹے بڑے آدم خاکی کے ہیں فرزندہر نسل سے بیزار ہو ہر ذات بدل ڈالاخلاق میں طاقت ہے فزوں تیغ و سناں سےپیکار کے یہ آہنی آلات بدل ڈالکیا ظلم ہے انسان ہو انسان کا دشمنمردان ہوس کار کی عادات بدل ڈالمحنت سے بھی مزدور کو روٹی نہیں ملتیاس بندۂ مجبور کے اوقات بدل ڈالآپس میں یہ ہر روز کی خونریزیاں کب تکخود ساختہ مذہب کی رسومات بدل ڈالحریت کامل کا وہ اعجاز دکھا تودنیائے غلامی کے طلسمات بدل ڈالخلقت کو بلا شرک سے توحید کی جانبپیروں کی فقیروں کی کرامات بدل ڈالتعلیم پہ موقوف ہے رعنائی افکاربیہودہ کتابوں کی خرافات بدل ڈالکر فکر عمل ذکر خط و خال عبث ہےاے فیضؔ ذرا اپنے خیالات بدل ڈال
نیک بچے دل سے کرتے ہیں ادب استاد کاباپ کی الفت سے بہتر ہے غضب استاد کاعام لوگوں کی جہالت دور کرنے کے لیےحق تعالی نے بنایا ہے سبب استاد کااس کی برکت سے جہاں میں پھیلتی ہیں نیکیاںکیوں نہ پھر استاد سے راضی ہو رب استاد کاکچھ نہ کچھ عمدہ سبق دیتی ہے اس کی زندگیخلق سے خالی نہیں ہے کوئی ڈھب استاد کاجس گھڑی نادان بچوں کو سکھاتا ہے وہ علمچوم لیتے ہیں فرشتے آ کے لب استاد کابس اسے پڑھنے پڑھانے سے ہمیشہ کام ہےکتنا اچھا مشغلہ ہے روز و شب استاد کاخواہ ساری عمر اس کے پاؤں دھو دھو کر پئےآدمی سے حق ادا ہوتا ہے کب استاد کاامتحاں میں حل نہ ہو جس دم کوئی مشکل سوالخود پسندوں کو پتا چلتا ہے تب استاد کاشکر کے جذبات سے گردن جھکا لیتا ہوں میںیاد آتا ہے مجھے احسان جب استاد کاکل زمانے کی نگاہوں میں وہ عزت پائے گامرتبہ پہچان جائے گا جو اب استاد کااس کی عالمگیر حیثیت ہے شاہوں کی طرحکل عجم استاد کا ہے کل عرب استاد کاچل رہے ہیں آج دنیا میں ہزاروں محکمےسچ اگر پوچھو تو ہے یہ فیضؔ سب استاد کا
تیز سی تلوار سادہ سا قلمبس یہی دو طاقتیں ہیں بیش و کمایک ہے جنگی شجاعت کا نشاںایک ہے علمی لیاقت کا نشاںآدمی کی زندگی دونوں سے ہےقوم کی تابندگی دونوں سے ہےجو نہیں ڈرتے قلم کی مار سےزیر کرتے ہیں انہیں تلوار سےجب قلم پاتا نہیں کوئی سبیلاس گھڑی تلوار ہے روشن دلیلحکمرانی کو قلم درکار ہےامن کی ضامن مگر تلوار ہےعلم کے میدان میں رازیؔ بنوجنگ کے میدان میں غازی بنووقت پر مضمون لکھو زور داروقت پر ڈٹ کر لڑو مردانہ واروہ پڑھے لکھے جو بے تلوار ہیںان کی ساری ڈگریاں بیکار ہیںبزم میں اشعار کے گوہر مفیدرزم میں تلوار کے جوہر مفیدآج تک جو بھی ہوا ہے با وقارتھا کوئی جرنیل یا مضموں نگارفیضؔ کو جتنا قلم سے پیار ہےاتنی ہی پیاری اسے تلوار ہے
جس قدر دنیا میں مخلوقات ہےسب سے اشرف آدمی کی ذات ہےاس کی پیدائش میں ہے الفت کا رازاس کی ہستی پر ہے خود خالق کو نازاس کی خاطر کل جہاں پیدا ہوایہ زمیں یہ آسماں پیدا ہواعقل کا جوہر اسے بخشا گیاعلم کا زیور اسے بخشا گیااس کے سر میں ہے نہاں ایسا دماغجس میں روشن ہے لیاقت کا چراغسوچ کر ہر کام کر سکتا ہے یہشیر کو بھی رام کر سکتا ہے یہیہ صفائی سے چٹانیں توڑ دےاپنی دانائی سے دریا موڑ دےمن چلا ہے اس کی ہمت ہے بلندڈال سکتا ہے ستاروں پر کمنداس کو خطروں کی نہیں پروا ذراآگ میں کودا یہ سولی پر چڑھااس کے ہر انداز میں اعجاز ہےعرش تک اس نور کی پرواز ہےاس کی باتوں میں عجب تاثیر ہےخاک کا پتلا نہیں اکسیر ہےیہ اگر نیکی کے زینے پر چڑھےایک دن سارے فرشتوں سے بڑھےاور اگر عصیاں کی دلدل میں پھنسےاس کا درجہ کم ہو حیوانات سےیہ کبھی روئی سے بڑھ کر نرم ہےیہ کبھی سورج سے بڑھ کر گرم ہےایک حالت پر نہیں اس کا مزاجہر زمانے میں بدلتا ہے رواجاور تھا پہلے یہ اب کچھ اور ہےآئے دن اس کا نرالا طور ہےاس نے بے حد روپ بدلے آج تکاس کی تدبیروں سے حیراں ہے فلکڈاکٹر تاجر پروفیسر وکیلان کا ہونا ہے ترقی کی دلیلاس کے پہلو میں وہ دل موجود ہےجو بھڑکنے میں نرا بارود ہےریل گاڑی ریڈیو موٹر جہازاس کی ایجادوں کا قصہ ہے درازدست کاری میں بڑا مشاق ہےجدتوں کا ہر گھڑی مشتاق ہےکھول آنکھیں جنگ کی رفتار دیکھدیکھ اس کے خوفناک اوزار دیکھیہ کہیں حاکم کہیں محکوم ہےیہ کہیں ظالم کہیں مظلوم ہےآدمی جب غیر کے آگے جھکاآدمیت سے بھٹکتا ہی گیاآدمی ملنا بہت دشوار ہےخود خدا کو آدمی درکار ہےپیارے بچو آدمی بن کر رہوہر کسی کے ساتھ ہمدردی کروسچ اگر پوچھو تو بس وہ مرد ہےجس کے دل میں دوسروں کا درد ہےفیضؔ پہنچاتا نہیں جو آدمیاس کو اپنی ذات سے ہے دشمنیاس کو اپنی ذات سے ہے دشمنی
اے کہ تو غفلت میں ہے ڈوبا ہواکام کرنا سیکھ تجھ کو کیا ہواآدمی ڈٹ کر اگر محنت کرےپھر کما لے اپنا زر کھویا ہواغور سے دوبارہ پڑھ لینے کے بعدیاد ہو جائے سبق بھولا ہوااور کمزوری میں ورزش کے طفیلخوب موٹا ہو بدن سوکھا ہوالیکن اس دنیا میں ایسا کون ہےوقت واپس لائے جو گزرا ہواجس نے اپنے فرض کی پروا نہ کیایک دن پچھتائے گا روتا ہوافیضؔ منزل پر پہنچ سکتا نہیںکوئی سیدھی راہ سے بھٹکا ہوا
کچھ کام کرو کچھ کام کرودنیا میں پیدا نام کرودن بھر محنت میں شاد رہوجب رات پڑے آرام کروانجام خدا کے ہاتھ میں ہےتم کوشش صبح و شام کروتکلیف سے راحت ملتی ہےیہ سودا لو وہ دام کروہمت سے آگے بڑھ جاؤبڑھ کر حاصل انعام کروہمدردی سے غم خواری سےہر شخص کے دل کو رام کرولوگوں میں تمہاری قدر بڑھےبچو کوئی ایسا کام کروتعلیم جہاں میں پھیلاؤاس فیضؔ کا چرچا عام کرو
غور کے قابل ہے دنیا کا نظاماس کا ہر ذرہ ہے عبرت کا مقامجنگ سے ہوتی ہے پیدا مفلسیمفلسی سے امن ہو جاتا ہے عامامن میں قومیں کہاں لیتی ہیں مالمال سے بڑھتا ہے کبر اے نیک نامکبر ہے پھر پیش خیمہ جنگ کابس یہی چکر ہے جاری صبح و شامآئے دن ہوتی ہیں یوں تبدیلیاںکوئی آقا بن گیا کوئی غلامآدمی کو زندگی میں چاہیےہر گھڑی کرتا رہے نیکی کے کامنیکیوں کا فیضؔ جاری ہو اگرخود بخود مٹ جائیں یہ جھگڑے تمام
اس میں کیا شک ہے تجارت بادشاہی کاج ہےغور کر کے دیکھ لو تاجر کے سر پر تاج ہےہند کی تاریخ پڑھ کر ہی سبق حاصل کروجو تجارت کرنے آئے تھے اب ان کا راج ہےزندہ رہ سکتا نہیں ہرگز تجارت کے بغیرہم نے یہ مانا کہ یورپ مرکز افواج ہےہر دکان اپنی جگہ ہے ایک چھوٹی سلطنتنفع کہتے ہیں جسے دراصل اس کا باج ہےجز تجارت قوم کی ملکی سیاست کچھ نہیںلطف آزادی اسی میں ہے یہی سوراج ہےزندگی کی رفعتوں سے ہے تجارت ہی مرادہاں یہی بام ترقی ہے یہی معراج ہےمرد تاجر کو خدا کی ذات پر ہے اعتمادمرد چاکر ہر گھڑی اغیار کا محتاج ہےجب سے ہم غیروں کے آگے جھک گئے مثل کماںتب سے اپنا دل ستم کے تیر کا آماج ہےچل رہی ہیں زور سے بیکاریوں کی آندھیاںنوجواں کا گلستان زندگی تاراج ہےیہ ضروری کام کل پر ٹالنا اچھا نہیںبالیقیں ہم کو تجارت کی ضرورت آج ہےوائے حسرت کیوں تمہاری عقل پر پتھر پڑےجس کو تم کنکر سمجھتے ہو وہی پکھراج ہےپھر خریدو بیاہ کا سامان پہلے جان لوبس تجارت ہی عروس قومیت کا راج ہےوہ ہمیشہ قدر کرتے ہیں سودیشی مال کیقوم کا احساس ہے جن کو وطن کی لاج ہےخوب موتی رولتے ہیں تاجران با صفافیضؔ بازار تجارت قلزم مواج ہے
گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شامدھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے راتاور مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گیاور ان ہاتھوں سے مس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہاتان کا آنچل ہے کہ رخسار کہ پیراہن ہےکچھ تو ہے جس سے ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیںجانے اس زلف کی موہوم گھنی چھاؤں میںٹمٹماتا ہے وہ آویزہ ابھی تک کہ نہیںآج پھر حسن دل آرا کی وہی دھج ہوگیوہی خوابیدہ سی آنکھیں وہی کاجل کی لکیررنگ رخسار پہ ہلکا سا وہ غازے کا غبارصندلی ہاتھ پہ دھندھلی سی حنا کی تحریراپنے افکار کی اشعار کی دنیا ہے یہیجان مضموں ہے یہی شاہد معنی ہے یہیآج تک سرخ و سیہ صدیوں کے سائے کے تلےآدم و حوا کی اولاد پہ کیا گزری ہے؟موت اور زیست کی روزانہ صف آرائی میںہم پہ کیا گزرے گی اجداد پہ کیا گزری ہے؟ان دمکتے ہوئے شہروں کی فراواں مخلوقکیوں فقط مرنے کی حسرت میں جیا کرتی ہےیہ حسیں کھیت پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا!کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہےیہ ہر اک سمت پر اسرار کڑی دیواریںجل بجھے جن میں ہزاروں کی جوانی کے چراغیہ ہر اک گام پہ ان خوابوں کی مقتل گاہیںجن کے پرتو سے چراغاں ہیں ہزاروں کے دماغیہ بھی ہیں ایسے کئی اور بھی مضموں ہوں گےلیکن اس شوخ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے ہونٹہائے اس جسم کے کمبخت دل آویز خطوطآپ ہی کہیے کہیں ایسے بھی افسوں ہوں گے
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعدپھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعدکب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہارخون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعدتھے بہت بے درد لمحے ختم درد عشق کےتھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعددل تو چاہا پر شکست دل نے مہلت ہی نہ دیکچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعدان سے جو کہنے گئے تھے فیضؔ جاں صدقہ کیےان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
لب پر ہے تلخی مئے ایام ورنہ فیضؔہم تلخی کلام پہ مائل ذرا نہ تھے
وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاںوہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاںہزار فتنے تہ پائے ناز خاک نشیںہر اک نگاہ خمار شباب سے رنگیںشباب جس سے تخیل پہ بجلیاں برسیںوقار جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیںادائے لغزش پا پر قیامتیں قرباںبیاض رخ پہ سحر کی صباحتیں قرباںسیاہ زلفوں میں وارفتہ نکہتوں کا ہجومطویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوموہ آنکھ جس کے بناؤ پہ خالق اترائےزبان شعر کو تعریف کرتے شرم آئےوہ ہونٹ فیض سے جن کے بہار لالہ فروشبہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بہ دوشگداز جسم قبا جس پہ سج کے ناز کرےدراز قد جسے سرو سہی نماز کرےغرض وہ حسن جو محتاج وصف و نام نہیںوہ حسن جس کا تصور بشر کا کام نہیںکسی زمانے میں اس رہگزر سے گزرا تھابصد غرور و تجمل ادھر سے گزرا تھااور اب یہ راہگزر بھی ہے دل فریب و حسیںہے اس کی خاک میں کیف شراب و شعر مکیںہوا میں شوخیٔ رفتار کی ادائیں ہیںفضا میں نرمیٔ گفتار کی صدائیں ہیںغرض وہ حسن اب اس رہ کا جزو منظر ہےنیاز عشق کو اک سجدہ گہ میسر ہے
۱دور جا کر قریب ہو جتنےہم سے کب تم قریب تھے اتنےاب نہ آؤ گے تم نہ جاؤ گےوصل ہجراں بہم ہوئے کتنے۲چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کارنگ بدلے کسی صورت شب تنہائی کادولت لب سے پھر اے خسرو شیریں دہناںآج ارزاں ہو کوئی حرف شناسائی کاگرمئی رشک سے ہر انجمن گل بدناںتذکرہ چھیڑے تری پیرہن آرائی کاصحن گلشن میں کبھی اے شہ شمشاد قداںپھر نظر آئے سلیقہ تری رعنائی کاایک بار اور مسیحائے دل دل زدگاںکوئی وعدہ کوئی اقرار مسیحائی کاساز و سامان بہم پہنچا ہے رسوائی کا۳کب تک دل کی خیر منائیں کب تک رہ دکھلاؤ گےکب تک چین کی مہلت دو گے کب تک یاد نہ آؤ گےبیتا دید امید کا موسم خاک اڑتی ہے آنکھوں میںکب بھیجو گے درد کا بادل کب برکھا برساؤ گےعہد وفا یا ترک محبت جو چاہو سو آپ کرواپنے بس کی بات ہی کیا ہے ہم سے کیا منواؤ گےکس نے وصل کا سورج دیکھا کس پر ہجر کی رات ڈھلیگیسوؤں والے کون تھے کیا تھے ان کو کیا جتلاؤ گےفیضؔ دلوں کے بھاگ میں ہے گھر بھرنا بھی لٹ جانا بھیتم اس حسن کے لطف و کرم پر کتنے دن اتراؤ گے
روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیںگلشن میں چاک چند گریباں ہوئے تو ہیںاب بھی خزاں کا راج ہے لیکن کہیں کہیںگوشے رہ چمن میں غزلخواں ہوئے تو ہیںٹھہری ہوئی ہے شب کی سیاہی وہیں مگرکچ کچھ سحر کے رنگ پرافشاں ہوئے تو ہیںان میں لہو جلا ہو ہمارا کہ جان و دلمحفل میں کچھ چراغ فروزاں ہوئے تو ہیںہاں کج کرو کلاہ کہ سب کچھ لٹا کے ہماب بے نیاز گردش دوراں ہوئے تو ہیںاہل قفس کی صبح چمن میں کھلے گی آنکھباد صبا سے وعدہ و پیماں ہوئے تو ہیںہے دشت اب بھی دشت مگر خون پا سے فیضؔسیراب چند خار مغیلاں ہوئے تو ہیں
شعار کی جو مدارات قامت جاناںکیا ہے فیضؔ در دل در فلک سے بلند
ہم کو جو مل گیا تسلسل سےنذر طوفان سنگ تو نہ کریںاپنے اسلاف سے جو فیض ملااس کو وحشت برنگ تو نہ کریں
مبدا کرم عام کی ہر جوئے رواں ہےسر چشمۂ فیض چمن آرائے جہاں ہے
وجد میں ہے جہان شعر و سخنسحر ساحر کی حکمرانی ہےچشمۂ فیض شاعری اس کیاس کے ہر شعر میں روانی ہےاس کی پیری ہے ترجمان شباباس کے شعروں میں نوجوانی ہےاہل محفل ہیں جس کے شیدائیاس کا انداز خوش بیانی ہےیہ حسینی ہے برہمن ہمدماس کا ہر شعر جاودانی ہےاس کا ایماں ہے جان یکجہتیاس کی فطرت میں مہربانی ہےدل یہ ہندو کا جاں مسلماں کییہ صفت اس کی خاندانی ہےجن بزرگوں پہ تھا وطن کو نازان بزرگوں کی یہ نشانی ہےاس پہ سایہ ہے کامیابی کااس کی قسمت میں کامرانی ہےجعفریؔ شاعری میں ساحرؔ کیہر دکھی دل کی ترجمانی ہے
تیرے سینے میں ہے مضطر جنبش موج خیالچشمۂ بخشش ہے تیرا چشمۂ آب حیات
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books