aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chashma-e-faiz"
چشمۂ فیض شاعری اس کیاس کے ہر شعر میں روانی ہے
ہر بشر اے فیضؔ یہ کوشش کرےجس طرح بھی ہو جہالت سے بچوں
کر فکر عمل ذکر خط و خال عبث ہےاے فیضؔ ذرا اپنے خیالات بدل ڈال
گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شامدھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے رات
لب پر ہے تلخی مئے ایام ورنہ فیضؔہم تلخی کلام پہ مائل ذرا نہ تھے
وہ ہونٹ فیض سے جن کے بہار لالہ فروشبہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بہ دوش
فیضؔ دلوں کے بھاگ میں ہے گھر بھرنا بھی لٹ جانا بھیتم اس حسن کے لطف و کرم پر کتنے دن اتراؤ گے
ہے دشت اب بھی دشت مگر خون پا سے فیضؔسیراب چند خار مغیلاں ہوئے تو ہیں
شعار کی جو مدارات قامت جاناںکیا ہے فیضؔ در دل در فلک سے بلند
خوب موتی رولتے ہیں تاجران با صفافیضؔ بازار تجارت قلزم مواج ہے
مبدا کرم عام کی ہر جوئے رواں ہےسر چشمۂ فیض چمن آرائے جہاں ہے
الغرض بالیدگی پودوں کی تیرا کام ہےچشمۂ آب خضر تیری تری کا نام ہے
آسمان علم کا تھا اک درخشاں آفتابچشمۂ نور و ضیا تھا ڈاکٹر ذاکر حسین
تیرے سینے میں ہے مضطر جنبش موج خیالچشمۂ بخشش ہے تیرا چشمۂ آب حیات
تفرقہ ہے زہر قوموں کے لئےچشمۂ آب بقا ہے ایکتا
تو اپنی ذات سے خود چشمۂ ادا و صداتجھے جہاں کی ہواؤں کے رخ سے کیا نسبت
اہتمام ذوق تر جاتا رہاچشمۂ وہم و گماں
محبت چشمۂ آب بقا ٹھہرا
چشمۂ آب حیواں ابل جائےجاں بہ لب زندگی کے بدن سے
اے آرزو وہ چشمۂ حیواں نہ کر تلاشظلمات سے وہ چشمۂ حیواں چلا گیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books