aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chaskaa"
دعااے راجہ پرجا کے مالکاے ساری دنیا کے مالکاے دونوں عالم کے داتاتیرا نہیں کسی سے ناتاکوئی نہیں ہے تیرا ہمسرتو ہے سب سے بالا برترہم ہیں تیرے در کے بھکاریشرم ہے تیرے ہاتھ ہماریجس کو چاہے عزت دے دےجس کو چاہے ذلت دے دےعزت ذلت کا تو مالکدوزخ جنت کا تو مالکمالک تو دونوں عالم کاخالق تو جن و آدم کاچاہتے ہیں ہم تجھ سے عزتدے دے مولا دے دے عزتعزت دے ہم کو دنیا میںراحت دے ہم کو عقبیٰ میںعلم و عمل میں حصہ دے کرکر دے ہم کو سب سے بہتریاد سے اپنی شاد ہمیں کردنیا میں آباد ہمیں کرعقل بھی دے اور علم عطا کرفہم بھی دے اور حلم عطا کرجس سے تو ہو راضی مولابات وہی ہے اچھی مولاطاعت کا اپنی چسکا دےاپنی الفت کا سودا دےعشق کی بو موجود ہو دل میںتو ہی تو موجود ہو دل میںبن جائے ہر کام ہماراحق پر ہو انجام ہمارا
ہے زباں پر سب کی مدحت علم کیکیوں نہ ہو دل میں محبت علم کیکیوں نہ ہو ہر اک کو چاہت علم کیہر کسی کو ہے ضرورت علم کیعلم کے رتبے سے واقف ہے جہاںگوشے گوشے میں ہے شہرت علم کیجس کو چسکا لگ گیا ہے علم کاپوچھئے اس سے حقیقت علم کیبس اسی نے پائی عزت ملک میںدل سے کی ہے جس نے خدمت علم کیسارے دنیا کا چہیتا ہے یہ علمرہتی ہے ہر دل میں الفت علم کیوہ ذلیل و خوار دنیا میں ہواجس کسی نے کی نہ عزت علم کیدو جہاں کی اس کو نعمت مل گئیہو گئی جس پر عنایت علم کیسرخ رو ہوتا ہے وہ اک دن ضروررہتی ہے جس دل کو چاہت علم کیتخت شاہی کیا ہے ملتا ہے خدااس سے بڑھ کر کیا ہو برکت علم کیکیوں کسی کے آگے وہ پھیلائے ہاتھہاتھ آئی جس کے دولت علم کیہے یہ کنجی عیش اور آرام کیکیا بتاؤں قدر و قیمت علم کیساری دنیا پا رہی ہے جس سے فیضہے حقیقت میں وہ دولت علم کیجان سے اس کو سمجھتے ہیں عزیزجن پہ روشن ہے حقیقت علم کیہو وہ بچہ یا ہو بوڑھا یا جوانہر کسی کو ہے ضرورت علم کیجاؤ جوہرؔ ہر کہیں بے خوف تمکوئی لوٹے گا نہ دولت علم کی
جواں عورت کی گلتی لاشکوڑے سے ملی ہےاس کو تھوڑا چٹ پٹا کر دولکھو سترہ برس کی گندمی لڑکیجسے انسان نے نوچاجسے کتوں نے کھایااور پولس نے قبر میں ڈالاخبر یہ بن گئی ہےاس خبر کو پانچ کالم چوکھٹے میں ڈال کر چھاپواور اس کے ساتھ سڑتی لاش کیتصویر بھی دے دوکئی دن سے کراچی خون کی ہولی نہیں کھیلابہت اخبار پھیکا ہےکہیں سے کوئی دہشت گرد ڈاکو اور قاتلڈھونڈ کر لاؤکہیں ہو خوف کا چسکاکہیں کوئی اسکینڈل ہوکہیں پر جنس کی تذلیل ہوتی ہوکہیں پر مسخ لاشے ہوںکہیں پر خون کی بو ہو
کس بلا کی تیرگی اے چرخ نیلی فام ہےکچھ پتا چلتا نہیں یہ صبح ہے یا شام ہےیہ شب غم ہے کہ یارب موت کا پیغام ہےکوئی دم میں اب تو صبح زندگی کی شام ہےاٹھ گیا وہ کون سا مہرہ بساط بزم سےسوگ ہے ہر گھر میں ہر گھر میں بپا کہرام ہےپہلے تھا نیرے کا چسکا اب مئے گلفام ہےوہ تو تھا آغاز اپنا اور یہ انجام ہےکال کا غم زر کا ماتم اور روزی کا الماپنا ایسی زندگی کو دور سے پرنام ہےجوہری قوت سے کر لینا ہڑپ سنسار کوپختہ راؤں کی نظر میں اک خیال خام ہےکیا بیاں کیجے شراب ناب کی نیرنگیاںوہ پری شیشے میں ساغر میں مئے گلفام ہےہو گیا مے خانہ چوپٹ اک نگاہ قہر سےاب نہ وہ ساقی نہ مے ہے اور نہ دور جام ہےکوچۂ جاناں میں ہے ٹوپی اتاروں کی مہماس کی مشق ناز کا یہ اک نیا اقدام ہےشیخ میں اور حضرت واعظ میں اتنا فرق ہےایک کا بے مغز سر ہے ایک کو سرسام ہےحسن افزوں ہو گیا زلفیں جو ان کی کٹ گئیںاب جسے دیکھو انہی کا بندۂ بے دام ہےسیفٹی ریزر اور آئینہ ہوں جس کے دو رفیقاپنی اصلاح آپ کر لینا انہی کا کام ہےشیخ جی بیٹھے ہوئے ہیں مے کدے میں قبلہ رودل میں نیت مے کی ہے لب پر خدا نام ہےاپنی نااہلی سے ہم خود ہائے رسوا ہو گئےاور بے کاری بچاری مفت میں بدنام ہےشیخ جی دن رات بیٹھے مارتے ہیں مکھیاںہیں تو ناکارہ مگر چوبیس گھنٹے کام ہےنظم سے لیتا ہوں مضموں اور غزل سے قافیےبعد اس کے جو رہا عصمتؔ فقط الہام ہے
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراق ظلمت و نورسنا ہے ہو بھی چکا ہے وصال منزل و گامبدل چکا ہے بہت اہل درد کا دستورنشاط وصل حلال و عذاب ہجر حرامجگر کی آگ نظر کی امنگ دل کی جلنکسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیںکہاں سے آئی نگار صبا کدھر کو گئیابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیںابھی گرانیٔ شب میں کمی نہیں آئینجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئیچلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیںاور یہ سب دریچہ ہائے خیالجو تمہاری ہی سمت کھلتے ہیںبند کر دوں کچھ اس طرح کہ یہاںیاد کی اک کرن بھی آ نہ سکے
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجحوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آجآبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آجحسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آججس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہارتیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدارتیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردارتا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصارکوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو کہ بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہےتپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہےپاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہےبن کے سیماب ہر اک ظرف میں ڈھل جاتی ہےزیست کے آہنی سانچے میں بھی ڈھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےزندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیںنبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیںاڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیںجنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیںاس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےگوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیےفرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیےقہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیےزہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیےرت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیںتجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیںتو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیںتیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیںاپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکلضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکلنفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکلقید بن جائے محبت تو محبت سے نکلراہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑتیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑطوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑتوڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویںتیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیںہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیںمیں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیںلڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
ردیف و قافیہ کیا ہیں شکست ناروا کیا ہےشکست ناروا نے مجھ کو پارہ پارہ کر ڈالاانا کو میری بے اندازہ تر بے چارہ کر ڈالامیں اپنے آپ میں ہارا ہوں اور خوارانہ ہارا ہوںجگر چاکانہ ہارا ہوں دل افگارانہ ہارا ہوں
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستگر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکنتری آنکھوں کی اداسی تیرے سینے کی جلنمیری دل جوئی مرے پیار سے مٹ جائے گیگر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سےجی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغتیری پیشانی سے ڈھل جائیں یہ تذلیل کے داغتیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائےگر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستروز و شب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوںمیں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریںآبشاروں کے بہاروں کے چمن زاروں کے گیتآمد صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیتتجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوںکیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسمگرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیںکیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوشدیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیںکس طرح عارض محبوب کا شفاف بلوریک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہےکیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخ گلابکس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہےیونہی گاتا رہوں گاتا رہوں تیری خاطرگیت بنتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطرپر مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیںنغمہ جراح نہیں مونس و غم خوار سہیگیت نشتر تو نہیں مرہم آزار سہیتیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوااور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیںاس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیںہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا
جی چاہتا ہے اک دوسرے کو یوں آٹھ پہر ہم یاد کریںآنکھوں میں بسائیں خوابوں کو اور دل میں خیال آباد کریںخلوت میں بھی ہو جلوت کا سماں وحدت کو دوئی سے شاد کریں
نہ آرام شب کو نہ راحت سویرےغلاظت میں گھر نالیوں میں بسیرےجو بگڑیں تو اک دوسرے کو لڑا دوذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دویہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والےیہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والےمظلوم مخلوق گر سر اٹھائےتو انسان سب سرکشی بھول جائےیہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیںیہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبا لیںکوئی ان کو احساس ذلت دلا دےکوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے
اک روز مگر برکھا رت میں وہ بھادوں تھی یا ساون تھادیوار پہ بیچ سمندر کے یہ دیکھنے والوں نے دیکھامستانہ ہاتھ میں ہاتھ دیئے یہ ایک کگر پر بیٹھے تھےیوں شام ہوئی پھر رات ہوئی جب سیلانی گھر لوٹ گئےکیا رات تھی وہ جی چاہتا ہے اس رات پہ لکھیں افسانااس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا
اور کچھ دیر میں جب پھر مرے تنہا دل کوفکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرےدرد آئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغوہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرے
میں جب بھیزندگی کی چلچلاتی دھوپ میں تپ کرمیں جب بھیدوسروں کے اور اپنے جھوٹ سے تھک کرمیں سب سے لڑ کے خود سے ہار کےجب بھی اس ایک کمرے میں جاتا تھاوہ ہلکے اور گہرے کتھئی رنگوں کا اک کمرہوہ بے حد مہرباں کمرہجو اپنی نرم مٹھی میں مجھے ایسے چھپا لیتا تھاجیسے کوئی ماںبچے کو آنچل میں چھپا لےپیار سے ڈانٹےیہ کیا عادت ہےجلتی دوپہر میں مارے مارے گھومتے ہو تموہ کمرہ یاد آتا ہےدبیز اور خاصا بھاریکچھ ذرا مشکل سے کھلنے والا وہ شیشم کا دروازہکہ جیسے کوئی اکھڑ باپاپنے کھردرے سینے میںشفقت کے سمندر کو چھپائے ہووہ کرسیاور اس کے ساتھ وہ جڑواں بہن اس کیوہ دونوںدوست تھیں میریوہ اک گستاخ منہ پھٹ آئینہجو دل کا اچھا تھاوہ بے ہنگم سی الماریجو کونے میں کھڑیاک بوڑھی انا کی طرحآئینے کو تنبیہ کرتی تھیوہ اک گلدانننھا سابہت شیطانان دنوں پہ ہنستا تھادریچہیا ذہانت سے بھری اک مسکراہٹاور دریچے پر جھکی وہ بیلکوئی سبز سرگوشیکتابیںطاق میں اور شیلف پرسنجیدہ استانی بنی بیٹھیںمگر سب منتظر اس بات کیمیں ان سے کچھ پوچھوںسرہانےنیند کا ساتھیتھکن کا چارہ گروہ نرم دل تکیہمیں جس کی گود میں سر رکھ کےچھت کو دیکھتا تھاچھت کی کڑیوں میںنہ جانے کتنے افسانوں کی کڑیاں تھیںوہ چھوٹی میز پراور سامنے دیوار پرآویزاں تصویریںمجھے اپنائیت سے اور یقیں سے دیکھتی تھیںمسکراتی تھیںانہیں شک بھی نہیں تھاایک دنمیں ان کو ایسے چھوڑ جاؤں گامیں اک دن یوں بھی جاؤں گاکہ پھر واپس نہ آؤں گا
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمیاور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمیزردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمینعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئےمنکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرےکیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیےحتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سےخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمیفرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کاشداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدانمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملایہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیایاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمیکل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہورشیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زوراور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمیمسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاںبنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواںپڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاںاور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاںجو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمیاور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمیپگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمیچلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمیاور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمیچلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مالاور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈالیاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جالسچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لالاور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہقاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہتاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہدوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہاور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار باراور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوارحقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مارکاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہاراور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمیبیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگااور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچاکہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لاکس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنااور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمیطبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجاگاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجارنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگااور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزاجو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہااور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیاکالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں تواگورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سابد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمیاک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیںروپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیںجھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیںکم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیںاور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمیحیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہےاور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہےہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہےدیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہےفولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمیمرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیارنہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوارکلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزارسب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروباراور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمیاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیریہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیریاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیراچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیرؔاور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
میں اس کی آنکھوں کو دیکھتا رہتا ہوںمگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آتامیں اس کی باتوں کو سنتا رہتا ہوںمگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آتااب اگر وہ کبھی مجھ سے ملےتو میں اس سے بات نہیں کروں گااس کی طرف دیکھوں گا بھی نہیںمیں کوشش کروں گامیرا دل کہیں اور مبتلا ہو جائےاب میں اسے یاد بنا دینا چاہتا ہوں
بندۂ مزدور کو جا کر مرا پیغام دےخضر کا پیغام کیا ہے یہ پيام کائناتاے کہ تجھ کو کھا گیا سرمايہ دار حيلہ گرشاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری براتدست دولت آفريں کو مزد یوں ملتی رہیاہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکوٰۃساحر الموط نے تجھ کو دیا برگ حشيشاور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخ نباتنسل قومیت کلیسا سلطنت تہذیب رنگخواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مسکراتکٹ مرا ناداں خیالی دیوتاؤں کے لیےسکر کی لذت میں تو لٹوا گیا نقد حیاتمکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دارانتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور ماتاٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہےمشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہےہمت عالی تو دریا بھی نہیں کرتی قبولغنچہ ساں غافل ترے دامن میں شبنم کب تلکنغمۂ بيداریٔ جمہور ہے سامان عیشقصۂ خواب آور اسکندر و جم کب تلکآفتاب تازہ پیدا بطن گیتی سے ہواآسمان ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلکتوڑ ڈالیں فطرت انساں نے زنجیریں تمامدوریٔ جنت سے روتی چشم آدم کب تلکباغبان چارہ فرما سے یہ کہتی ہے بہارزخم گل کے واسطے تدبیر مرہم کب تلککرمک ناداں طواف شمع سے آزاد ہواپنی فطرت کے تجلی زار میں آباد ہودنیائے اسلام
وقت کے اگلے شہر کے سارے باشندےسب دن سب راتیںجو تم سے ناواقف ہوں گےوہ کب میری بات سنیں گےمجھ سے کہیں گےجاؤ اپنی راہ لو راہیہم کو کتنے کام پڑے ہیںجو بیتی سو بیت گئیاب وہ باتیں کیوں دہراتے ہوکندھے پر یہ جھولی رکھےکیوں پھرتے ہو کیا پاتے ہومیں بے چارہاک بنجارہآوارہ پھرتے پھرتے جب تھک جاؤں گاتنہائی کے ٹیلے پر جا کر بیٹھوں گاپھر جیسے پہچان کے مجھ کواک بنجارہ جان کے مجھ کووقت کے اگلے شہر کے سارے ننھے منے بھولے لمحےننگے پاؤںدوڑے دوڑے بھاگے بھاگے آ جائیں گےمجھ کو گھیر کے بیٹھیں گےاور مجھ سے کہیں گےکیوں بنجارےتم تو وقت کے کتنے شہروں سے گزرے ہوان شہروں کی کوئی کہانی ہمیں سناؤان سے کہوں گاننھے لمحو!ایک تھی رانیسن کے کہانیسارے ننھے لمحےغمگیں ہو کر مجھ سے یہ پوچھیں گےتم کیوں ان کے شہر نہ آئیںلیکن ان کو بہلا لوں گاان سے کہوں گایہ مت پوچھوآنکھیں موندواور یہ سوچوتم ہوتیں تو کیسا ہوتاتم یہ کہتیںتم وہ کہتیںتم اس بات پہ حیراں ہوتیںتم اس بات پہ کتنی ہنستیںتم ہوتیں تو ایسا ہوتاتم ہوتیں تو ویسا ہوتا
چاند سے جب بھی بادل گزرادل سے گزرا عکس تمہاراپھول جو چٹکے میں نے جاناتم نے شاید مجھ کو پکارا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books