aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chauraahe"
کسی قصائی نےاک ہڈی چھیل کر پھینکیگلی کے موڑ سےدو کتے بھونکتے اٹھےکسی نے پاؤں اٹھائےکسی نے دم پٹکیبہت سے کتے کھڑے ہو کر شور کرنے لگےنہ جانے کیوں مرا جی چاہااپنے سب کپڑےاتار کر کسی چوراہے پر کھڑا ہو جاؤںہر ایک چیز پہ جھپٹوںگھڑی گھڑی چلاؤں
مجھے اور کچھ نہیں کہناجو کہنا تھا وہ کہہ ڈالاجو سہنا تھا وہ سہہ ڈالاتمہارے شہر میں مجھ کوملی ہے درد کی دولتچلو جو بھی یہاں پایاتمہاری چاہ میں پایاقسم لے لو کہ جیون میںکوئی خواہش نہ تھی میریکوئی حاجت نہ تھی میریبس ان نینوں کو دیکھا تونہ جانے کیا ہوا مجھ کواچانک بے خودی میں یوںکھڑے ہو کر چوراہے پرہجوم زندگی میں آجمری جاں کہہ دیا میں نےمجھے تم سے محبت ہےمجھے تم سے یہ کہنا تھاجو کہنا تھا وہ کہہ ڈالامجھے اور کچھ نہیں کہنا
پچھلے پینتالیس کڑے کوسوں میں کیا کیا موڑ آئے ہیںہر چوراہاکیا کیا وہم و گماں لایا ہےکیا آوازیںکانوں کے پردوں کو اکثر چھید گئی ہیںکیا کیا منظردھند بھری آنکھوں نے دیکھےکیسی ضربیں ذہن نے کھائیںکتنے کوس ابھی چلنا ہےکیا چوراہے کیسی چوٹیںوہم و گماں آوازیں منظرمیرا رستہ دیکھے رہے ہیںان کو گننا ان کی فکر میں ڈوبے رہنا لا حاصل ہےاصلی بات بس اتنی سی ہےختم سفر تکاپنی لاش کو کاندھا دینے کی توفیق نہیں ہے مجھ میںاور اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے
میں خود سے مایوس نہیں ہوںانساں سے مایوس ہوں تھوڑادھرتی پر آنے سے پہلےوہ اور میں ساتھ رہا کرتے تھےجنت میںلیکن اس کو صدیاں بیتیںاب اس سے میرا کیا رشتہویسے وہ بھی مجھ جیسا ہےمیری طرح کھاتا پیتا چلتا پھرتا ہےہم دونوں ہم شکل ہیں اتنےکچھ بھی کرے وہچاند پہ جائے دھرتی پرجنگ کرے اور خون بہائےآنچ مرے دامن پر آئےہم دونوں ہم شکل ہیں لیکنکیا میں اپنی ماں بہنوں کوچوراہے پر ننگا کر سکتا ہوںوہ کرتا ہےوہ پستانیں جن سے میں نے دودھ پیابلوان بنا ہوںجن پر میں نے شعر کہےتصویریں بنائیںکیا میں ان کو کاٹ کےکتوں کو کھلوا سکتا ہوںکہتے ہیں کھلوایا اس نےکیا میں نسوانی پیکر کوجو میرا موضوع سخن ہےپھول سے کوملچاند سے شیتلکی بوتلجو میری بیوی کا بدن ہے اس کوٹکڑے ٹکڑے کر سکتا ہوںاس نے کیا ہےکیا میں اپنی بیٹی سے منہ کالا کر کےاپنے بھائی بندوں ہم جنسوں کوبڈھوں جوانوں معصوموں کوزندہ جلا کرپھانسی کے تختے پہ چڑھا کران کے لہو کا تلک لگا کرمونچھ پہ تاؤ دے سکتا ہوںاس نے دیا ہےمیں خود سے مایوس نہیں ہوںانساں سے مایوس ہوں تھوڑاآج ہی سارے اخباروں میں خبر چھپی ہےاس دھرتی کے اک حصے گجرات میں اس نےمیرے منہ پر تھوک دیا ہے
ایک چوراہے پہ سب لوگ چلے آتے ہیںایک چوراہے پہ ملتے ہیں گزر جاتے ہیں
میں جو چورہے پہ کھڑیاپنی کمان کی طرف لوٹنا چاہتی ہوںوہ جو لہو میں پھنساکچھ اور جینا چاہتا ہےسایہ جیسے کسی دیوار کے ساتھ شامل ہو گیا ہوپانیوں میں جیسے علم ٹھنڈے ہو رہے ہوںتم کہ شام کے سورج سے دھوپ چراتے ہومیں کہ صبح کی رات بھی چرا لیتی ہوںاور تھکا ماندہ صبح کا تاراجب سارے آسمان پہ اکیلا ہوتا ہےاسی وقت کی قدر کرتی ہوںتو دھرتی کا ایک دنمیری عمر کا ایک حصہ کاٹ ڈالتا ہے
میری ایک بری عادت تھیتو میری عادت کے ہاتھوں کیسی زچ اور کتنی دق تھیجب حیرت کی انگلی تھامے تیرے ساتھ چلا کرتا تھااک شیریں مسکان کی بیلیں میرے تن بوٹے کے اوپر استحقاق سے چڑھتی تھیںاور اک لمس کا گاتا پانی نس نس دیپ جلاتا تھالمس کے جگنو اور مسکان کی تتلی میرے کھلونے تھےان دونوں کی دوری سہنا جینے جیسا مشکل تھاان کو پلو میں باندھے تو جب بھی دور کہیں جاتی تھیمیں وسواس کی ڈور سے لپٹا پیچھے پیچھے آ جاتا تھاسب لوگوں سے، ہر رستے سے تیرا پتہ پوچھا کرتا تھااب حیرت کی انگلی تھامے تو اک ایسے دیس گئی ہےجس کے سب بازار اور گلیاں، سارے گھر اور سب چوبارےگہری دھند میں سربستہ ہیں، گزرے کل سے پیوستہ ہیںمیں اس دھند کے چوراہے پر نم آنکھوں کو پونچھ رہا ہوںروتے روتے سوچ رہا ہوںکس کو روکوں کس سے پوچھوں کیا میری ماں کو دیکھا ہے؟اس رستے سے ہو کے گئی تھیاپنی ایک بری عادت سے کیسا زچ اور کتنا دق ہوں
چھیل چھبیلاٹھمک ٹھمک کر بیچ سڑک میںآتی جاتی ہر گاڑی سےبھیک کی پونجی اچک رہا ہےفقرے کستے کالج کے نوخیز جوانوں سے ہنس ہنس کرباتیں کرتا مٹک رہا ہےچوراہے کا اشارہ بے شرمی سے گھور رہا ہےلال پراندہ لپک لپک کرنقلی کولھوں کو مس کرتا لٹک رہا ہےجعلی ڈھلوانوں سے وہ رنگین دوپٹہایک طرف کو ڈھلک رہا ہےکالی گاڑی والا کتنی بے زاری سےہاتھ کو اس کے جھٹک رہا ہےپیروں میں گھنگرو چھنکاتامردانہ چہرے پر مل کر جھوٹ کا غازہنسوانی رنگوں میں لتھڑا ایک ہیولیٰجسم اور جنس کے گھن چکر میں بھٹک رہا ہے
سب آنکھیں ٹانگوں میں جڑی ہیںریڑھ کی ہڈی کے منکوں میں کان لگے ہیںناف کے اوپر روئیں روئیں میں ایک زباں ہےپتلونیں ساری آوازیں سن لیتی ہیںدو پتلونیں جھگڑ رہی ہیں''اتنی قیمت کیوں لیتی ہو تم میں ایسی کیا خوبی ہے''کیسے گاہک ہو تم آخر مول بدن کا دے سکتے ہوپتی ورتا کا مول تمہارے پاس نہیں ہےچست نکیلا بریزیر یہ چیخ رہا ہےشرم نہیں آتی کتوں کو چرچ کے آگے کھڑے ہوئے ہیںرستم ٹھرہ پئے کھڑا ہے بس اسٹاپ کی چھت کے نیچےاور سہراب سے پوچھ رہا ہے''بیٹا مال کہاں ملتا ہے؟''مندر کی چوکھٹ پر بیٹھی اندھی آنکھیںآتے جاتے اوتاروں کی خفیہ جیبیں تاک رہی ہیںہسپتال کے اونچے نیچے زینوں پر اک اک مردے کوگاندھی جی دونوں ہاتھوں سے انجکشن دیتے پھرتے ہیںواشنگٹن وتنام میں بیٹھا برہم پتر کے پانی کو وہسکی کے جام میں گھول رہا ہےلندن لنکا کی سڑکوں پہ سر نیوڑھائے گھوم رہا ہےکانگوں آوارہ پھرتا ہے پیرس کے گندے چکلوں میںبدھ کے ٹوٹے پھوٹے بت کے سر پر بوڑھا کرگسمردوں کی مجلس میں بیٹھا اپنی بپتا سنا رہا ہےمسجد کے سائے میں بیٹھا کمسن گیدڑاس کی گواہی میں کہتا ہےبیچارہ کم سن ہے اس کی چونچ سے اب تکدودھ کی خوشبو سی آتی ہے''اوپر نیلے کھلے گگن میںایک کبوتر اپنی چونچ میں اک زیتون کی شاخ لیے اڑتا پھرتا ہےاور اس شاخ کے دونوں جانبایٹم بم کے پات لگے ہیںانساں کا دایاں بازو اک برگ خزاں کی طرح لرز کر ٹوٹ رہا ہےاور اس کے بائیں بازو پر کوہ ہمالیہ دھرا ہوا ہےجانے پھر بھی وہ تلوار کی دھار پہ کیسے چل سکتا ہےمیں اس بھیڑ میں چوراہے پر تنہا بیٹھا سوچ رہا ہوںدنیا اسرافیل کے پہلے صور کے بعد یوں ہی لگتی ہے''گیس کے کمرے ''میں شاید یوں ہی ہوتا ہےپوپ پال کی ٹوپی میرے بھیجے میں دھنستی جاتی ہے
اپنی اپنی راہوں پر مدت تک چلتے چلتےآج اچانک اک چوراہے پر جو تم سے میل ہواتو میں نے تیری گہری آنکھوں میں جھانکااور چونک اٹھیان میں تپتے صحراؤں کا بسیرا تھااور دور دور تک ویرانے تھےریت کے دھندلے دھندلے بادل اڑتے پھرتے تھےلیکن میں نے ایک لمحے کو یہ منظر بھی دیکھ لیاکہ تپتے جلتے صحراؤں میںمیرے نام کا اک آنسو، اک ٹھنڈا میٹھا نخلستان بھی اگا ہوا تھا
میں روشنی میں اتنی غلطیاں کرتا ہوںجتنی لوگ اندھیرے میں نہیں کرتے ہوں گےمیں ان دنوں ایک منصوبہ تیار کرنے میں مصروف ہوںہر طرح کی ناکامیوں سے پاک منصوبہتاکہ جیسے ہی موقع ملےمیں خود کو قتل کر دوںمجھے ایسے چوراہے کا بھی انتخاب کرنا ہےجس کے عین وسط میںلاش کو اس طرح لٹکانا ممکن ہوکہ اس کا نظارہ کیا جا سکے چاروں اور سےسنگساری کے حامیوں کو خصوصی دعوت دی جائے گیخاص طور پر قریبی دوستوں کوتم بھی پتھر ہی برسانامیری لاش برداشت نہیں کر سکے گیپھول کی ضربلیکن میں کیا کروںمیں روشنی میں بھی اتنی غلطیاں کرتا ہوںجتنی لوگ اندھیرے میں نہیں کرتے ہوں گے
چاہے چوراہے کی شوبھا ہوں کہ مندر میں مکیںبت کہیں بھی سجیں پتھر کے سوا کچھ بھی نہیںنہ کوئی لغزش پا ان میں گماں ہے نہ یقیںزندگی محو سفر محو سفر محو سفرہر نفس میل کا پتھر ہے سر راہ گزر
اک لاش کو اک چوراہے پرکچھ لوگ کھڑے تھے گھیرے ہوئےلگتا تھا تماشا ہو جیسےسب اپنی اپنی کہتے تھےمردے کا پتا بتلانے لگےاف قوم کا اک معمار ہے یہسب جھوٹ بڑا عیار ہے یہرہبر ہے یہ اک سالار ہے یہبکواس کہ اک غدار ہے یہافسوس کہ اک فن کار ہے یہکیا خوب ارے بیکار ہے یہ
چوراہے پر بورڈ لگا ہےبیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤلیکن ٹھیک اسی کے آگےچند درندے کھڑے ہوئے ہیںآتی جاتی ہر تتلی کے پر کو تکتےرنگ سے خائفچاہتے ہیں کہ ہر تتلی کے پر کو نوچیںرنگ اڑا دیںشاید ان کو علم نہیں کہرنگ یہ سارےماں اور باپ کی برسوں کی محنت کا ثمرہبرسوں کی کاوش کا نتیجہ ہوتے ہیںلیکن یہ احساس ہی کب ہے درندوں کوکیسے ماں اور باپ نے رنگ چنے ہیں سارےنقش بنائےاور علم و دانش کی راہوں پر چھوڑا ہےاپنی چنچل اور متوالی تتلی کوپر پھیلانےتاکہ ان کے رنگ تمام نکھرتے جائیںپھر بھی اکثر ڈر لگتا ہےیہ علم و دانش کے رستےکس درجہ پر خوف و خطر ہیںہر لمحہ لٹنے کا ڈر ہےحالانکہ چوراہے پر ہیں چند محافظنظر جمائےحلف اٹھائےدھاک بٹھائےلیکن پھر بھی ڈر لگتا ہےشام ڈھلے چوراہے کے یہ چند محافظمیری چنچل تتلی کے یہ کٹے پھٹے پراڑے ہوئے رنگمیرے دروازے کے آگے ڈال نہ جائیں
ہلکی ہلکی بھنبھناہٹ سی ہوئی کچھ دیر تکاور ان آنکھوں نے دیکھابیچ چوراہے پہ اوندھی لاش کے نزدیک سےلوگ یوں آ جا رہے تھےجیسے لیٹا ہو مداری کوئی چادر اوڑھ کران سب کے بیچ
چار برس کےمیلے کچلےدبلے پتلے لڑکے میں تھیغضب کی پھرتیچوراہے پر ایک طرف کی ہری لائٹ سےدوسری سمت کی لال لائٹ تکبجلی کی تیزی سے وہ آتا جاتا تھاجو مل جائے اس کے آگےپھیلاتا تھا اپنی ہتھیلیجس میںخوشحالی اور لمبے جیون کیریکھائیں تھیںچوراہے تک ہی محدود تھی اس کی دنیاجس کو اس نے نہیں چنا تھاٹریفک لائٹ کے ارد گرد تھا اس کا جیونوہ بھی اس نے نہیں چنا تھاٹوٹے پل کے نیچے اس کا جنم ہوا تھاوہ بھی اس نے نہیں چنا تھاکل شبٹریفک لائٹ کو توڑنے والے ٹرک سے دب کرموت ہو گئی اس کیوہ بھی اس نے نہیں چنی تھی
گیت ہمارے بھٹک رہے ہیں نفرت کے صحراؤں میںلاش پڑی ہے مانوتا کی دنیا کے چوراہے پرتہذیب کے ایوانوں میں ہر سو شور بپا ہے ماتم کاننگی ہو کر ناچ رہی ہے بربریت کاشانوں میں
اشارہ کس نے توڑا ہےکہ چوراہے کے بیچوں بیچہم اک دوسرے سے اس طرح ٹکرا گئے ہیں
شہر کے کھیلتے کودتے ننھے منے سے بچوں نے مل کر مجھےبرف کی اک پہاڑی سے کاٹاتراشامرے ہاتھ پاؤں سجائےمجھے برف کے چھوٹے چھوٹے سے گولوں سے مضبوط کر کےبڑے پیار سےایک چوراہے پہ لا کر کھڑا کر دیامجھ سے کچھ دیر اٹھکھیلیاںدل لگی کا بہانہ بنیں
بھوکی آنکھیں چوراہے پردوڑتے دوڑتے تھکنے لگی ہیںاکھڑی ہوئی سانسوں کو لے کر ہانپ رہی ہیںکھلتی ہوئی خواہش کی کلیاںتیز ہواؤں کے ماتھے کا جھومر بن کر لٹک رہی ہیںمشفق سائے پہیوں کے نیچے دبے پڑے ہیںسورج اپنے اندھے سفر پر چلتے چلتے اوب گیا ہےبوجھل بوجھل قدموں سے وہ اپنا رستہ ناپ رہا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books