aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chiikh"
لوگ عورت کی ہر اک چیخ کو نغمہ سمجھےوہ قبیلوں کا زمانہ ہو کہ شہروں کا رواج
ہے مرثیہ خواں قوم ہیں اردو کے بہت کمکہہ دو کہ انیسؔ اس کا لکھیں مرثیۂ غمجنت سے دبیرؔ آ کے پڑھیں نوحۂ ماتمیہ چیخ اٹھے دل سے نہ حلقوم سے نکلےاردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
جہاں زاد کیسے ہزاروں برس بعداک شہر مدفون کی ہر گلی میںمرے جام و مینا و گل داں کے ریزے ملے ہیںکہ جیسے وہ اس شہر برباد کا حافظہ ہوںحسن نام کا اک جواں کوزہ گر اک نئے شہر میںاپنے کوزے بناتا ہوا عشق کرتا ہوااپنے ماضی کے تاروں میں ہم سے پرویا گیا ہےہمیں میں کہ جیسے ہمیں ہوں سمویا گیا ہےکہ ہم تم وہ بارش کے قطرے تھے جو رات بھر سےہزاروں برس رینگتی رات بھراک دریچے کے شیشوں پہ گرتے ہوئے سانپ لہریںبناتے رہے ہیںاور اب اس جگہ وقت کی صبح ہونے سے پہلےیہ ہم اور یہ نوجواں کوزہ گرایک رویا میں پھر سے پروئے گئے ہیںجہاں زادیہ کیسا کہنہ پرستوں کا انبوہکوزوں کی لاشوں میں اترا ہےدیکھویہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیںکبھی جام و مینا کی لم تک نہ پہنچیںیہی آج اس رنگ و روغن کی مخلوق بے جاںکو پھر سے الٹنے پلٹنے لگے ہیںیہ ان کے تلے غم کی چنگاریاں پا سکیں گےجو تاریخ کو کھا گئی تھیںوہ طوفان وہ آندھیاں پا سکیں گےجو ہر چیخ کو کھا گئی تھیںانہیں کیا خبر کس دھنک سے مرے رنگ آئےمرے اور اس نوجواں کوزہ گر کےانہیں کیا خبر کون سی تتلیوں کے پروں سےانہیں کیا خبر کون سے حسن سےکون سی ذات سے کس خد و خال سےمیں نے کوزوں کے چہرے اتارےیہ سب لوگ اپنے اسیروں میں ہیںزمانہ جہاں زاد افسوں زدہ برج ہےاور یہ لوگ اس کے اسیروں میں ہیںجواں کوزہ گر ہنس رہا ہے!یہ معصوم وحشی کہ اپنے ہی قامت سے ژولیدہ دامنہیں جویا کسی عظمت نارسا کےانہیں کیا خبر کیسا آسیب مبرم مرے غار سینے پہ تھاجس نے مجھ سے اور اس کوزہ گر سے کہااے حسن کوزہ گر جاگدرد رسالت کا روز بشارت ترے جام و میناکی تشنہ لبی تک پہنچنے لگا ہےیہی وہ ندا کے پیچھے حسن نام کایہ جواں کوزہ گر بھیپیاپے رواں ہے زماں سے زماں تکخزاں سے خزاں تک
سہمی سہمی سی فضاؤں میں یہ ویراں مرقداتنا خاموش ہے فریاد کناں ہو جیسےسرد شاخوں میں ہوا چیخ رہی ہے ایسےروح تقدیس و وفا مرثیہ خواں ہو جیسے
وہ ایک طرز سخن کی خوشبووہ ایک مہکا ہوا تکلملبوں سے جیسے گلوں کی بارشکہ جیسے جھرنا سا گر رہا ہوکہ جیسے خوشبو بکھر رہی ہوکہ جیسے ریشم الجھ رہا ہوعجب بلاغت تھی گفتگو میںرواں تھا دریا فصاحتوں کاوہ ایک مکتب تھا آگہی کاوہ علم و دانش کا مے کدہ تھاوہ قلب اور ذہن کا تصادمجو گفتگو میں رواں دواں تھاوہ اس کے الفاظ کی روانیوہ اس کا رک رک کے بات کرناوہ شعلۂ لفظ اور معانیکہیں لپکنا کہیں ٹھہرناٹھہر کے پھر وہ کلام کرنابہت سے جذبوں کی پردہ داریبہت سے جذبوں کو عام کرناجو میں نے پوچھاگزشتہ شب کے مشاعرے میں بہت سے شیدائی منتظر تھےمجھے بھی یہ ہی پتہ چلا تھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیںمگر ہوا کیاذرا توقف کے بعد بولے نہیں گیا میںنہ جا سکا میںسنو ہوا کیامیں خود کو مائل ہی کر نہ پایایہ میری حالت میری طبیعتپھر اس پہ میری یہ بد مزاجی و بد حواسییہ وحشت دلمیاں حقیقت ہے یہ بھی سن لو کہ اب ہمارے مشاعرے بھینہیں ہیں ان وحشتوں کے حاملجو میری تقدیر بن چکی ہیںجو میری تصویر بن چکی ہیںجو میری تقصیر بن چکی ہیںپھر اک توقفکہ جس توقف کی کیفیت پر گراں سماعت گزر رہی تھیاس ایک ساعت کا ہاتھ تھامے یہ اک وضاحت گزر رہی تھیادب فروشوں نے جاہلوں نے مشاعرے کو بھی اک تماشہ بنا دیا ہےغزل کی تقدیس لوٹ لی ہے ادب کو مجرا بنا دیا ہےسخن وروں نے بھی جانے کیا کیا ہمارے حصے میں رکھ دیا ہےستم تو یہ ہے کہ چیخ کو بھی سخن کے زمرے میں رکھ دیا ہےالٰہی توبہسماعتوں میں خراشیں آنے لگی ہیں اب اور شگاف ذہنوں میں پڑ گئے ہیںمیاں ہمارے قدم تو کب کے زمیں میں خفت سے گڑ گئے ہیںخموشیوں کے دبیز کہرے سے چند لمحوں کا پھر گزرناوہ جیسے خود کو اداسیوں کے سمندروں میں تلاش کرناوہ جیسے پھر سرمئی افق پر ستارے الفاظ کے ابھرنایہ زندگی سے جو بے نیازی ہے کس لیے ہےیہ روز و شب کی جو بد حواسی ہے کس لیے ہےبس اتنا سمجھوکہ خود کو برباد کر چکا ہوںسخن تو آباد خیر کیا ہومگر جہاں دل دھڑک رہے ہوں وہ شہر آباد کر چکا ہوںبچا ہی کیا ہےتھا جس کے آنے کا خوف مجھ کو وہ ایک ساعت گزر چکی ہےوہ ایک صفحہ کہ جس پے لکھا تھا زندگی کو وہ کھو چکا ہےکتاب ہستی بکھر چکی ہےپڑھا تھا میں نے بھی زندگی کومگر تسلسل نہیں تھا اس میںادھر ادھر سے یہاں وہاں سے عجب کہانی گڑھی گئی تھیسمجھ میں آئی نہ اس لیے بھی کے درمیاں سے پڑھی گئی تھیسمجھتا کیسےنہ فلسفی میں نہ کوئی عالمعقوبتوں کے سفر پہ نکلا میں اک ستارہ ہوں آگہی کااجل کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اک استعارہ ہوں زندگی کاعتاب نازل ہوا ہے جس پر میں وہ ہی معتوب آدمی ہوںستم گروں کو طلب ہے جس کی میں وہ ہی مطلوب آدمی ہوںکبھی محبت نے یہ کہا تھا میں ایک محبوب آدمی ہوںمگر وہ ضرب جفا پڑی ہے کہ ایک مضروب آدمی ہوںمیں ایک بیکل سا آدمی ہوں بہت ہی بوجھل سا آدمی ہوںسمجھ رہی ہے یہ دنیا مجھ کو میں ایک پاگل سا آدمی ہوںمگر یہ پاگل یہ نیم وحشی خرد کے ماروں سے مختلف ہےجو کہنا چاہا تھا کہہ نہ پایاکہا گیا جو اسے یہ دنیا سمجھ نہ پائینہ بات اب تک کہی گئی ہےنہ بات اب تک سنی گئی ہےشراب و شعر و شعور کا جو اک تعلق ہے اس کے بارے میں رائے کیا ہےسنا ہے ہم نے کہ آپ پر بھی بہت سے فتوے لگے ہیں لیکنشراب نوشی حرام ہے تویہ مسئلہ بھی بڑا عجب ہےمیں ایک میکش ہوں یہ تو سچ ہےمگر یہ میکش کبھی کسی کے لہو سے سیراب کب ہوا ہےہمیشہ آنسو پیے ہیں اس نے ہمیشہ اپنا لہو پیا ہےیہ بحث چھوڑو حرام کیا ہے حلال کیا ہے عذاب کیا ہے ثواب کیا ہےشراب کیا ہےاذیتوں سے نجات ہے یہ حیات ہے یہشراب و شب اور شاعری نے بڑا سہارا دیا ہے مجھ کوسنبھال رکھا شراب نے اور رہی ہے محسن یہ رات میریاسی نے مجھ کو دئے دلاسے سنی ہے اس نے ہی بات میریہمیشہ میرے ہی ساتھ جاگی ہمیشہ میرے ہی ساتھ سوئیمیں خوش ہوا تو یہ مسکرائی میں رو دیا تو یہ ساتھ روئییہ شعر گوئی ہے خود کلامی کا اک ذریعہاسی ذریعہ اسی وسیلہ سے میں نے خود سے وہ باتیں کی ہیںجو دوسروں سے میں کہہ نہ پایاحرام کیا ہے حلال کیا ہے یہ سب تماشے ہیں مفتیوں کےیہ سارے فتنے ہیں مولوی کےحرام کر دی تھی خود کشی بھی کہ اپنی مرضی سے مر نہ پائےیہ مے کشی بھی حرام ٹھہری کہ ہم کو اپنا لہو بھی پینے کا حق نہیں ہےکہ اپنی مرضی سے ہم کو جینے کا حق نہیں ہےکسے بتائیںضمیر و ظرف بشر پہ موقوف ہیں مسائلسمندروں میں انڈیل جتنی شراب چاہےنہ حرف پانی پہ آئے گا اور نہ اوس کی تقدیس ختم ہوگیتو مے کشی کو حرام کہنے سے پہلے دیکھوکہ پینے والے کا ظرف کیا ہے ہیں کس کے ہاتھوں میں جام و مینایہ نکتہ سنجی یہ نکتہ دانی جو مولوی کی سمجھ میں آتی تو بات بنتینہ دین و مذہب کو جس نے سمجھا نہ جس نے سمجھا ہے زندگی کوطہورا پینے کی بات کر کے حرام کہتا ہے مے کشی کوجو دین و مذہب کا ذکر آیا تو میں نے پوچھاکہ اس حوالے سے رائے کیا ہےیہ خود پرستی خدا پرستی کے درمیاں کا جو فاصلہ ہےجو اک خلا ہے یہ کیا بلا ہےیہ دین و مذہب فقط کتابیںبجز کتابوں کے اور کیا ہےکتابیں ایسی جنہیں سمجھنے کی کوششیں کم ہیں اور زیادہ پڑھا گیا ہےکتابیں ایسی کہ عام انساں کو ان کے پڑھنے کا حق ہے لیکنانہیں سمجھنے کا حق نہ ہرگز دیا گیا ہےکہ ان کتابوں پہ دین و مذہب کے ٹھیکیدار اجارہ داروں کی دسترس ہےاسی لیے تو یہ دین و مذہب فساد د فتنہ بنے ہوئے ہیںیہ دین و مذہبجو علم و حکمت کے ساتھ ہو تو سکون ہوگاجو دسترس میں ہو جاہلوں کی جنون ہوگایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ زندگی کا جواز کیا ہےیہ تم ہو جی جی کے مر رہے ہو یہ میں ہوں مر مر کے جی رہا ہوںیہ راز کیا ہےہے کیا حقیقت مجاز کیا ہےسوائے خوابوں کے کچھ نہیں ہےبجز سرابوں کے کچھ نہیں ہےیہ اک سفر ہے تباہیوں کا اداسیوں کی یہ رہ گزر ہےنہ اس کو دنیا کا علم کوئی نہ اس کو اپنی کوئی خبر ہےکبھی کہیں پر نظر نہ آئے کبھی ہر اک شے میں جلوہ گر ہےکبھی زیاں ہے کبھی ضرر ہےنہ خوف اس کو نہ کچھ خطر ہےکبھی خدا ہے کبھی بشر ہےہوا حقیقت سے آشنا تو یہ سوئے دار و رسن گیا ہےکبھی ہنسا ہے یہ زیر خنجر کبھی یہ سولی پہ ہنس دیا ہےکبھی یہ گل نار ہو گیا ہے سناں پہ گفتار ہو گیا ہےکبھی ہوا ہے یہ غرق دریاکبھی یہ تقدیر دشت و صحرارقم ہوا ہے یہ آنسوؤں میںکبھی لہو نے ہے اس کو لکھاحکایت دل حکایت جاں حکایت زندگی یہی ہےاگر سلیقے سے لکھی جائے عبارت زندگی یہی ہےیہ حسن ہے اس دھنک کی صورتکہ جس کے رنگوں کا فلسفہ ہی کبھی کسی پر نہیں کھلا ہےیہ فلسفہ جو فریب پیہم کا سلسلہ ہےکہ اس کے رنگوں میں اک اشارہ ہے بے رخی کااک استعارہ ہے زندگی کاکبھی علامت ہے شوخیوں کیکبھی کنایہ ہے سادگی کابدلتے موسم کی کیفیت کے ہیں رنگ پنہاں اسی دھنک میںکشش شرارت و جاذبیت کے شوخ رنگوں نے اس دھنک کو عجیب پیکر عطا کیا ہے اک ایسا منظر عطا کیا ہےکہ جس کے سحر و اثر میں آ کرلہو بہت آنکھیں رو چکی ہیں بہت تو بینائی کھو چکی ہیںبصارتیں کیا بصیرتیں بھی تو عقل و دانائی کھو چکی ہیںنہ جانے کتنے ہی رنگ مخفی ہیں اس دھنک میںبس ایک رنگ وفا نہیں ہیںاس ایک رنگت کی آرزو نے لہو رلایا ہے آدمی کویہی بتایا ہے آگہی کویہ اک چھلاوا ہے زندگی کاحسین دھوکہ ہے زندگی کامگر مقدر ہے آدمی کافریب گندم سمجھ میں آیا تو میں نے جانایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ ایک لغزش ہے جس کے دم سے حیات نو کا بھرم کھلا ہے
وہ کیسی تاریک گھڑی تھیجب مجھ کو احساس ہوا تھامیں تنہا ہوںاس دن بھی سیدھا سادہ سورج نکلا تھاشہر میں کوئی شور نہیں تھاگھر میں کوئی اور نہیں تھااماں آٹا گوندھ رہی تھیںابا چارپائی پر بیٹھے اونگھ رہے تھےدھیرے دھیرے دھوپ چڑھی تھیاور اچانک دل میں یہ خواہش ابھری تھیمیں دنیا سے چھٹی لے لوںاپنے کمرے کو اندر سے تالا دے کر کنجی کھو کرزور سے چیخوں، چیختا جاؤںلیکن کوئی نہ سننے پائےچاقو سے ایک ایک رگ و ریشے کو کاٹوںاور بھیانک سچائی کا دریا پھوٹےہر کپڑے کو آگ لگا دوںشعلوں میں ننگے پن کا سناٹا کودےوہ دن تھا اور آج کا دن ہےکمرے کے اندر سے تالا لگا ہوا ہےکنجی گم ہےمیں زوروں سے چیخ رہا ہوںمیرے جسم کا ایک ایک ریشہ کٹا ہوا ہےسب کپڑوں میں آگ لگی ہےباہر سب پہلے جیسا ہےکوئی نہیں جو کمرے کا دروازہ توڑےکوئی نہیں جو اپنا کھیل ذرا سا چھوڑے
آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیاکتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیںموسم وصل کی کرنوں کا وہ انبوہ رواںجس کے ہم راہ کسی زہرہ جبیں کی ڈولیایسے اتری تھی کہ جیسے کوئی آیت اترےہجر کی شام کے بکھرے ہوئے کاجل کی لکیرجس نے آنکھوں کے گلابوں پہ شفق چھڑکی تھیجیسے خوشبو کسی جنگل میں برہنہ ٹھہرےخلقت شہر کی جانب سے ملامت کا عذابجس نے اکثر مجھے ہونے کا یقیں بخشا تھادست اعدائیں وہ کھنچتی ہوئی تہمت کی کماںبارش سنگ میں کھلتی ہوئی تیروں کی دکاںمہرباں دوست رفاقت کا بھرم رکھتے ہوئےاجنبی لوگ دل و جاں میں قدم رکھتے ہوئےآج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیاکتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیںاب نہ پندار وفا ہے نہ محبت کی جزادست اعداء کی کشش ہے نہ رفیقوں کی سزاتختۂ دار نہ منصب نہ عدالت کی خلشاب تو اک چیخ سی ہونٹوں میں دبی رہتی ہےراس آئے گا کسے دشت بلا میرے بعدکون مانگے گا اجڑنے کی دعا میرے بعدآج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
جہاں میں چار طرف چیخ ہے کراہے ہیںستم رسیدہ دلوں سے نکلتی آہیں ہیںہے شور نالہ و آہ و بکا چہار طرفکہاں کی عید ہے ماتم بپا چہار طرفمنائے کیسے کوئی عید ہر طرف غم ہےمنائے کیسے کوئی عید آنکھ پر نم ہےسنائے کیسے کوئی گیت ساز ٹوٹ گئےجگائے کیسے کوئی آس اپنے چھوٹ گئے
مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھےابل پڑے الجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کے پر ہراس قافلےگرے بڑھے مڑے بھنور ہجوم کے
کلیجہ پھنک رہا ہے اور زباں کہنے سے عاری ہےبتاؤں کیا تمہیں کیا چیز یہ سرمایہ داری ہےیہ وہ آندھی ہے جس کی رو میں مفلس کا نشیمن ہےیہ وہ بجلی ہے جس کی زد میں ہر دہقاں کا خرمن ہےیہ اپنے ہاتھ میں تہذیب کا فانوس لیتی ہےمگر مزدور کے تن سے لہو تک چوس لیتی ہےیہ انسانی بلا خود خون انسانی کی گاہک ہےوبا سے بڑھ کے مہلک موت سے بڑھ کر بھیانک ہےنہ دیکھے ہیں برے اس نے نہ پرکھے ہیں بھلے اس نےشکنجوں میں جکڑ کر گھونٹ ڈالے ہیں گلے اس نےبلائے بے اماں ہے طور ہی اس کے نرالے ہیںکہ اس نے غیظ میں اجڑے ہوئے گھر پھونک ڈالے ہیںقیامت اس کے غمزے جان لیوا ہیں ستم اس کےہمیشہ سینۂ مفلس پہ پڑتے ہیں قدم اس کےکہیں یہ خوں سے فرد مال و زر تحریر کرتی ہےکہیں یہ ہڈیاں چن کر محل تعمیر کرتی ہےغریبوں کا مقدس خون پی پی کر بہکتی ہےمحل میں ناچتی ہے رقص گاہوں میں تھرکتی ہےبظاہر چند فرعونوں کا دامن بھر دیا اس نےمگر گل باغ عالم کو جہنم کر دیا اس نےدرندے سر جھکا دیتے ہیں لوہا مان کر اس کانظر سفاک تر اس کی نفس مکروہ تر اس کاجدھر چلتی ہے بربادی کے ساماں ساتھ چلتے ہیںنحوست ہم سفر ہوتی ہے شیطاں ساتھ چلتے ہیںیہ اکثر لوٹ کر معصوم انسانوں کو راہوں میںخدا کے زمزمے گاتی ہے چھپ کر خانقاہوں میںیہ ڈائن ہے بھری گودوں سے بچے چھین لیتی ہےیہ غیرت چھین لیتی ہے حمیت چھین لیتی ہےیہ انسانوں سے انسانوں کی فطرت چھین لیتی ہےیہ آشوب ہلاکت فتنۂ اسکندر و دارازمیں کے دیوتاؤں کی کنیز انجمن آراہمیشہ خون پی کر ہڈیوں کے رتھ میں چلتی ہےزمانہ چیخ اٹھتا ہے یہ جب پہلو بدلتی ہےگرجتی گونجتی یہ آج بھی میداں میں آتی ہےمگر بد مست ہے ہر ہر قدم پر لڑکھڑاتی ہےمبارک دوستو لبریز ہے اب اس کا پیمانہاٹھاؤ آندھیاں کمزور ہے بنیاد کاشانہ
تیز ندی کی ہر اک موج تلاطم بردوشچیخ اٹھتی ہے وہیں دور سے فانی فانیکل بہا لوں گی تجھے توڑ کے ساحل کی قیوداور پھر گنبد و مینار بھی پانی پانی
گھنے درختوں میں پروا کی سیٹی گونجیدو دکشوں میں قیدی روحیں چیخ رہی ہیںکونوں میں دبکے ہوئے جھینگر چلاتے ہیںمحرابوں سے بھوتوں کے سر ٹکراتے ہیںقلعے کے اک برج کے اندرایک پری (شیلاٹ کی رانی)خندق کے ان دیکھے پانی کی گہرائیاندیشے کے بالشتوں سے ماپ رہی ہے
چاند کیوں ابر کی اس میلی سی گٹھری میں چھپا تھااس کے چھپتے ہی اندھیروں کے نکل آئے تھے ناخناور جنگل سے گزرتے ہوئے معصوم مسافراپنے چہروں کو کھرونچوں سے بچانے کے لیے چیخ پڑے تھے
یہ تو صدیوں کا قصہ تھایہاں تو ایک بڑا سا پیڑ ہوا کرتا تھاجلتی، تپتی، بھنتی اور سلگتی رت میںاس کے نیچےیہیں کہیں پرایک جزیرہ سا آباد رہا کرتا تھاخنک خنک سائے میںہنستے ،گاتے مسکاتے لوگوں کیاک بستی تھییہاں تو ایک بڑا سا پیڑ ہوا کرتا تھایہی دھوپجو آج یہاں پر چیخ رہی ہےپل بھر سستا لینے کو ترسا کرتی تھییہ تو صدیوں کا قصہ تھایہاں تو ایک بڑا سا پیڑ ہوا کرتا تھا
اتر دکھن پورب پچھم ہر سمت سے اک چیخ آتی ہےنوع انساں کاندھوں پہ لئے گاندھی کی ارتھی جاتی ہے
مرا جنون وفا ہے زوال آمادہشکست ہو گیا تیرا فسون زیبائیان آرزوؤں پہ چھائی ہے گرد مایوسیجنہوں نے تیرے تبسم میں پرورش پائیفریب شوق کے رنگیں طلسم ٹوٹ گئےحقیقتوں نے حوادث سے پھر جلا پائیسکون و خواب کے پردے سرکتے جاتے ہیںدماغ و دل میں ہیں وحشت کی کار فرمائیوہ تارے جن میں محبت کا نور تاباں تھاوہ تارے ڈوب گئے لے کے رنگ و رعنائیسلا گئی تھیں جنہیں تیری ملتفت نظریںوہ درد جاگ اٹھے پھر سے لے کے انگڑائیعجیب عالم افسردگی ہے رو بہ فروغنہ جب نظر کو تقاضا نہ دل تمنائیتری نظر ترے گیسو تری جبیں ترے لبمری اداس طبیعت ہے سب سے اکتائیمیں زندگی کے حقائق سے بھاگ آیا تھاکہ مجھ کو خود میں چھپائے تری فسوں زائیمگر یہاں بھی تعاقب کیا حقائق نےیہاں بھی مل نہ سکی جنت شکیبائیہر ایک ہاتھ میں لے کر ہزار آئینےحیات بند دریچوں سے بھی گزر آئیمرے ہر ایک طرف ایک شور گونج اٹھااور اس میں ڈوب گئی عشرتوں کی شہنائیکہاں تلک کرے چھپ چھپ کے نغمہ پیرائیوہ دیکھ سامنے کے پر شکوہ ایواں سےکسی کرائے کی لڑکی کی چیخ ٹکرائیوہ پھر سماج نے دو پیار کرنے والوں کوسزا کے طور پر بخشی طویل تنہائیپھر ایک تیرہ و تاریک جھونپڑی کے تلےسسکتے بچے پہ بیوہ کی آنکھ بھر آئیوہ پھر بکی کسی مجبور کی جواں بیٹیوہ پھر جھکا کسی در پر غرور برنائیوہ پھر کسانوں کے مجمع پہ گن مشینوں سےحقوق یافتہ طبقے نے آگ برسائیسکوت حلقۂ زنداں سے ایک گونج اٹھیاور اس کے ساتھ مرے ساتھیوں کی یاد آئینہیں نہیں مجھے یوں ملتفت نظر سے نہ دیکھنہیں نہیں مجھے اب تاب نغمہ پیرائیمرا جنون وفا ہے زوال آمادہشکست ہو گیا تیرا فسون زیبائی
اے مجاز اے ترانہ بار مجاززندہ پیغمبر بہار مجازاے بروۓ سمن وشاں گل پوشاے بہ کوۓ مغاں تمام خروشاے پرستار مہ رخان جہاںاے کماں دار شاعران جواںتجھ سے تاباں جبین مستقبلاے مرے سینۂ امید کے دلاے مجاز اے مبصر خد و خالاے شعور جمال و شمع خیالاے ثریا فریب و زہرہ نوازشاعر مست و رند شاہد بازناقد عشوۂ شباب ہے توصبح فردا کا آفتاب ہے توتجھ کو آیا ہوں آج سمجھانےحیف ہے تو اگر برا مانےخود کو غرق شراب ناب نہ کردیکھ اپنے کو یوں خراب نہ کرشاعری کو تری ضرورت ہےدور فردا کی تو امانت ہےصرف تیری بھلائی کو اے جاںبن کے آیا ہوں ناصح ناداںایک ٹھہراؤ اک تکان ہے تودیکھ کس درجہ دھان پان ہے توننگ ہے محض استخواں ہوناسخت اہانت ہے ناتواں ہونااستخوانی بدن دخانی پوستایک سنگین جرم ہے اے دوستشرم کی بات ہے وجود سقیمناتوانی ہے اک گناہ عظیمجسم اور علم طرفہ طاقت ہےیہی انسان کی نبوت ہےجو ضعیف و علیل ہوتا ہےعشق میں بھی ذلیل ہوتا ہےہر ہنر کو جو ایک دولت ہےعلم اور جسم کی ضرورت ہےکثرت بادہ رنگ لاتی ہےآدمی کو لہو رلاتی ہےخوش دلوں کو رلا کے ہنستی ہےشمع اختر بجھا کے ہنستی ہےاور جب آفت جگر پہ لاتی ہےرند کو مولوی بناتی ہےمے سے ہوتا ہے مقصد دل فوتمے ہے بنیاد مولویت و موتکان میں سن یہ بات ہے نشترمولویت ہے موت سے بد تراس سے ہوتا ہے کار عمر تماماس سے ہوتا ہے عقل کو سرساماس میں انساں کی جان جاتی ہےاس میں شاعر کی آن جاتی ہےیہ زمین آسمان کیا شے ہےآن جائے تو جان کیا شے ہےگوہر شاہ وار چن پیارےمجھ سے اک گر کی بات سن پیارےغم تو بنتا ہے چار دن میں نشاطشادمانی سے رہ بہت محتاطغم کے مارے تو جی رہے ہیں ہزارنہیں بچتے ہیں عیش کے بیمارآن میں دل کے پار ہوتی ہےپنکھڑی میں وہ دھار ہوتی ہےجوئے عشرت میں غم کے دھارے ہیںیخ و شبنم میں بھی شرارے ہیںہاں سنبھل کر لطافتوں کو برتٹوٹ جائے کہیں نہ کوئی پرتدیکھ کر شیشۂ نشاط اٹھایہ ورق ہے ورق ہے سونے کاکاغذ باد یہ نگینہ ہےبلکہ اے دوست آبگینہ ہےساغر شبنم خوش آب ہے یہآبگینہ نہیں حباب ہے یہروک لے سانس جو قریب آئےٹھیس اس کو کہیں نہ لگ جائےتیغ مستی کو احتیاط سے چھوورنہ ٹپکے گا انگلیوں سے لہومستیوں میں ہے تاب جلوۂ ماہاور سیہ مستیاں خدا کی پناہخوب ہے ایک حد پہ قائم نشہہلکا پھلکا سبک ملائم نشہہاں ادب سے اٹھا ادب سے جامتاکہ آب حلال ہو نہ حرامجام پر جام جو چڑھاتے ہیںاونٹ کی طرح بلبلاتے ہیںزندگی کی ہوس میں مرتے ہیںمے کو رسوائے دہر کرتے ہیںیاد ہے جب جگرؔ چڑھاتے تھےکیا الف ہو کے ہن ہناتے تھےمیری گردن میں بھر کے چند آہیںپاؤں سے ڈالتے تھے وہ بانہیںعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیاف گھٹا ٹوپ نشے کا طوفانبھوت عفریت دیو جن شیطانلات گھونسہ چھڑی چھری چاقولب لباہٹ لعاب کف بدبوطنز آوازہ برہمی افسادطعن تشنیع مضحکہ ایرادشور ہو حق ابے تبے ہے ہےاوکھیاں گالیاں دھماکے قےمس مساہٹ غشی تپش چکرسوز سیلاب سنسنی صرصرچل چخے چیخ چناں چنیں چنگھاڑچخ چخے چاؤں چاؤں چیل چلھاڑلپا ڈکی لتام لام لڑائیہول ہیجان ہانک ہاتھا پائیکھلبلی کاؤں کاؤں کھٹ منڈلہونک ہنگامہ ہمہمہ ہلچلالجھن آوارگی ادھم اینٹھنبھونک بھوں بھوں بھنن بھنن بھن بھندھول دھپا دھکڑ پکڑ دھتکارتہلکہ تو تڑاق تف تکراربو بھبھک بھیے بکس برر بھونچالدبدبے دندناہٹیں دھمالگاہ نرمی و لطف و مہر و سلامگاہ تلخی و ترشی و دشنامعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیصرف نشے کی بھیگنے دے مسیںان کو بننے نہ دے کبھی مونچھیںالاماں خوفناک کالا نشہاوہ ریش و بروت والا نشہاژدر مرگ او دیو خوں خواریالاماں نشۂ ''جٹادھاری''نشے کا جھٹ پٹا ہے نور حیاتجھٹپٹے کو بنا نہ کالی راتنشے کی تیز روشنی بھی غلطچودھویں کی سی چاندنی بھی غلطذہن انساں کو بخشتا ہے جمالنشہ ہو جب یہ قدر نور ہلالغرفۂ عقل بھیڑ تو اکثرپر اسے کچ کچا کے بند نہ کررات کو لطف جام ہے پیارےدن کا پینا حرام ہے پیارےدن ہے عفریت آز کی کھنکارات پازیب نازکی جھنکاردن ہے خاشاک خاک دھول دھواںرات آئینہ انجمن افشاںدن مسلح دواں کمر بستہرات طاق و رواق و گلدستہدن ہے فولاد سنگ تیغ علمرات کمخواب پنکھڑی شبنمدن ہے شیون دہائیاں دکھڑےرات مست انکھڑیاں جواں مکھڑےدن کڑی دھوپ کی بد آہنگیرات پچھلے پہر کی سارنگیدن بہادر کا بان بیر کی رتھرات چمپاکلی انگوٹھی نتھدن ہے طوفان جنبش و رفتاررات میزان کاکل و رخسارآفتاب و شراب ہیں بیریبوتلیں دن کو ہیں پچھل پیریکر نہ پامال حرمت اوقاترات کو دن بنا نہ دن کو راتپی مگر صرف شام کے ہنگاماور وہ بھی بہ قدر یک دو جاموہی انساں ہے خرم و خورسندجو ہے مقدار و وقت کا پابندمیرے پینے ہی پر نہ جا مری جاںمجھ سے جینا بھی سیکھ ہیں قرباںاس کے پینے میں رنگ آتا ہےجس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہےیہ نصائح بہت ہیں بیش بہاجلد سو جلد جاگ جلد نہاباغ میں جا طلوع سے پہلےتا نگار سحر سے دل بہلےسرو و شمشاد کو گلے سے لگاہر چمن زاد کو گلے سے لگامنہ اندھیرے فضائے گلشن دیکھساحل و سبزہ زار و سوسن دیکھگاہ آوارہ ابر پارے دیکھان کی رفتار میں ستارے دیکھجیسے کہرے میں تاب روئے نکوجیسے جنگل میں رات کو جگنوگل کا منہ چوم اک ترنم سےنہر کو گدگدا تبسم سےجسم کو کر عرق سے نم آلودتاکہ شبنم پڑھے لہک کے درودپھینک سنجیدگی کا سر سے بارناچ اچھل دندنا چھلانگیں ماردیکھ آب رواں کا آئینہدوڑ ساحل پہ تان کر سینہمست چڑیوں کا چہچہانا سنموج نو مشق کا ترانہ سنبوستاں میں صبا کا چلنا دیکھسبزہ و سرو کا مچلنا دیکھشبنم آلود کر سخن کا لباسچکھ دھندلکے میں بوئے گل کی مٹھاسشاعری کو کھلا ہوائے سحراس کا نفقہ ہے تیری گردن پررقص کی لہر میں ہو گم لب نہریوں ادا کر عروس شعر کا مہرجذب کر بوستاں کے نقش و نگارذہن میں کھول مصر کا بازارنرم جھونکوں کا آب حیواں پیبوئے گل رنگ شبنمستاں پیگن گنا کر نظر اٹھا کر پیصبح کا شیر دغدغہ کر پیتاکہ مجرے کو آئیں کل برکاتدولت جسم و علم و عقل و حیاتیہ نہ طعنہ نہ یہ الہنا ہےایک نکتہ بس اور کہنا ہےغیبت نور ہو کہ کثرت نورظلمت تام ہو کہ شعلۂ طورایک سا ہے وبال دونوں کاتیرگی ہے مآل دونوں کادرخور صاحب مآل نہیںہر وہ شے جس میں اعتدال نہیںشادمانی سے پی نہیں سکتاجس کو ہوکا ہو جی نہیں سکتااے پسر اے برادر اے ہم رازبن نہ اس طرح دور کی آوازکوئی بیمار تن نہیں سکتاخادم خلق بن نہیں سکتاخدمت خلق فرض ہے تجھ پردور ماضی کا قرض ہے تجھ پرعصر حاضر کے شاعر خوددارقرض داری کی موت سے ہشیارذہن انسانیت ابھار کے جازندگانی کا قرض اتار کے جاتجھ پہ ہندوستان ناز کرےعمر تیری خدا دراز کرے
کیا تم نے ایک عورت کو دیکھا ہےاس کی چھاتیوں کے درمیان ایک سانپ رینگ رہا ہےاس کی رانوں کے درمیان سفید پانی کا چشمہ ہےمیں پیاس سے مر رہا ہوںلیکن میں اسے ہاتھ نہیں لگا سکتامیں ایک درخت کے اندر قید ہوںکیا تم نے ایک عورت کو دیکھا ہےمیں اس کو دیکھ رہا ہوںوہ ایک سانپ کو کھا گئی ہےمیری خواہشیں اس کے پیٹ میں ہیںاس نے مجھے چھوڑ دیا ہےلوگ تالیاں بجا رہے ہیںیہ تماشا ازل سے جاری ہےمیں انتظار کر رہا ہوںجاؤ اسے ڈھونڈ کر لاؤموت میرے لیے نئی نہیں ہےمیں ہمیشہ مرتا رہا ہوںلیکن میری زندگی ختم نہیں ہوئیمیری خواہشیں اس کے اندر رقص کر رہی ہیںجاؤ مجھے ڈھونڈ کر لاؤدرخت کے پتے گر رہے ہیںہوا چیخ رہی ہےمیں نے ایک عورت کو آسمان پر اڑتے ہوئے دیکھا ہےکیا تم نے بھی کچھ دیکھا ہے
پھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہےاور مٹتے ہوئے مدھم سے نقوشدور ماضی کی خلاؤں میں نظر آتے ہیںجیسے چھوڑی ہوئی منزل کا نشاںجیسے کچھ دور سے آتی ہوئی آواز جرسکون سہمے ہوئے مایوس دیوں کو دیکھےپھر بھی یہ مجھ کو خیال آتا ہےکتنی نوخیز امیدوں کو سہارے نہ ملےکتنی ڈوبی ہوئی کشتی کو کنارے نہ ملےزلف لہرائی پہ ساون کی گھٹا بن نہ سکیصبح ہنستی رہی بجھتے رہے کتنے چہرےچوڑیاں ٹوٹ گئیں مانگ کے سیندور اجڑےگود ویران ہوئینغمے تخلیق ہوئے ہونٹ سلےکتنے فن پاروں کے انبار لگےشاہراہوں پہ جلانے کے لئےآشیانے کا تصور ہی ابھی آیا تھابجلیاں کوند گئیںہیروشیما چیخ اٹھاکتنا پر ہول سماںکتنی بھیانک تاریخیہ مہ و سال کے پھیلے ہوئے جالپھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہےروز و شب جیسے اندھیرے میں لٹیروں کے گروہاپنی تاریک کمیں گاہوں میں چھپ کر بیٹھیںاور داماندہ سارا ہی کوئیاجنبی راہوں سے ڈرتا ہوا گھبرایا ہوااپنی کوئی ہوئی منزل کی طرف جاتا ہواور لٹیرے اسے تنہا پا کراس کے سینے کا لہو لے لیں امیدوں کے دیے بجھ جائیںکون لیکن دل انساں کی تپش چھین سکےپھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہےکتنی باریک ہے یہ صبح کی پہلی کرنکون جانے کہ نئی دام بھی کیا لائے گیکان میں آج بھی مانوس صدا آتی ہےوہی ڈالر کا طلسموہی تہذیب و تمدن کے پرانے دعوےوہی پسماندہ ممالک کی ترقی کا فریبوہی تاریخ سیاست کے پرانے شاطرایٹمی جنگ کا اعلان کیا کرتے ہیںکون لیکن دل انساں کی تپش چھین سکےارتقا آہن و فولاد سے کس طرح رکےٹوٹ جائیں گے مہ و سال کے پھیلے ہوئے جالپھر نیا سال دبے پاؤں چلا آتا ہےجاؤ تاریک مکانوں میں چراغاں کر دوآج زنجیر کی اک اور کڑی ٹوٹ گئیآج دنیا کے عواماپنے سینے سے لگائے ہوئے اپنی تاریخاپنے ہاتھوں میں نئے عہد کا فرمان لئےاک نئی راہ پہ بڑھتے ہی چلے جاتے ہیںروز و شب جیسے اندھیرے میں لٹیروں کے گروہہاتھ باندھے ہوئے قدموں پہ جبینیں رکھ دیںپھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہےجاؤ تاریک مکانوں میں چراغاں کر دو
میر ہو مرزا ہو میرا جی ہونارسا ہاتھ کی نمناکی ہےایک ہی چیخ ہے فرقت کے بیابانوں میںایک ہی طول الم ناکی ہےایک ہی روح جو بے حال ہے زندانوں میںایک ہی قید تمنا کی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books