aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "click"
زباں پر ذائقہ آتا تھا جو صفحے پلٹنے کااب انگلی کلک کرنے سے بس اک
عشق کہتے ہیں جسے اک نیا سمجھوتہ ہےپہلے دل ملتے تھے اب نام کلک ہوتا ہے
کیف میں اک ''لغزش پا'' کلک گوہر بار کی''اضطراری ایک جنبش سی'' لب گفتار کی
کلک کیا جو بٹناسکرین غائب تھی
کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردےپیران کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو
حتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سےخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
ہم بند شب و روز میں جکڑے ہوئے بندےتو خالق اعصار و نگارندۂ آنات
دنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیر
وہ آنکھ جس کے بناؤ پہ خالق اترائےزبان شعر کو تعریف کرتے شرم آئے
تقصیر میری خالق عالم بہل کرےآسان مجھ غریب کی مشکل اجل کرے
جس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہےخالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہے
اے تیشہ بدست دیوتاؤ!تخلیق عظیم ہے کہ خالق
میں لفظوں کا آقاتخیل کا خالق
ایسے الزام کہ خود اپنے تراشے ہوئے بتجذبۂ کاوش خالق کو نگوں سار کریں
دفن کر دے گا جو خالق کو بھی مخلوق سمیتاور یہ آبادیاں بن جائیں گی پھر ریت ہی ریت
مسکرا کر خالق ارض و سما نے دی ندااے غزال مشرقی آ تخت کے نزدیک آ
کچھ بچ بھی گئی ہیں پٹنے سے کچھ مار بھی کھائے بیٹھے ہیںتجھ سے تو ہمیں کوئی شکوہ اے خالق صبح و شام نہیں
سجا سنوار کے جس کو ہزار ناز کیےاسی پہ خالق کونین شرمسار سا ہے
گرچہ ہے تعلیم اور رٹنے میں بعد المشرقینسوچتے ہیں وہ کہ اچھا ذہن ہے خالق کی دین
ذہانت کے پتلے محبت کے خالق فقط یہ بتا دےکہ تیرے عناصر کے اجزائے ترکیب میں واہمہ کیسے آیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books