aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "da.nk"
زیادہ پاس مت آنامیں وہ تہہ خانہ ہوں جس میںشکستہ خواہشوں کے ان گنت آسیب بستے ہیںجو آدھی شب تو روتے ہیں پھر آدھی رات ہنستے ہیںمری تاریکیوں میںگمشدہ صدیوں کے گرد آلود نا آسودہ خوابوں کےکئی عفریت بستے ہیںمری خوشیوں پہ روتے ہیں مرے اشکوں پہ ہنستے ہیںمرے ویران دل میں رینگتی ہیں مکڑیاں غم کیتمناؤں کے کالے ناگ شب بھر سرسراتے ہیںگناہوں کے جنے بچھودموں پر اپنے اپنے ڈنک لادےاپنے اپنے زہر کے شعلوں میں جلتے ہیںیہ بچھو دکھ نگلتے اور پچھتاوے اگلتے ہیں
اور سونے کے چمکتے سکےڈنک اٹھائے ہوئے پھن پھیلائےروح اور دل پہ چلا کرتے ہیںملک اور قوم کو دن رات ڈسا کرتے ہیںروٹیاں چکلوں کی قحبائیں ہیںجن کو سرمایہ کے دلالوں نےنفع خوری کے جھروکوں میں سجا رکھا ہےبالیاں دھان کی گیہوں کے سنہرے خوشےمصر و یونان کے مجبور غلاموں کی طرحاجنبی دیس کے بازاروں میں بک جاتے ہیںاور بد بخت کسانوں کی بلکتی ہوئی روحاپنے افلاس میں منہ ڈھانپ کے سو جاتی ہےہم کہاں جائیں کہیں کس سے کہ نادار ہیں ہمکس کو سمجھائیں غلامی کے گنہ گار ہیں ہمطوق خود ہم نے پہنا رکھا ہے ارمانوں کواپنے سینے میں جکڑ رکھا طوفانوں کواب بھی زندان غلامی سے نکل سکتے ہیںاپنی تقدیر کو ہم آپ بدل سکتے ہیں(3)آج پھر ہوتی ہیں زخموں سے زبانیں پیداتیرہ و تار فضاؤں سے برساتا ہے لہوراہ کی گرد کے نیچے سے ابھرتے ہیں قدمتارے آکاش پہ کمزور حبابوں کی طرحشب کے سیلاب سیاہی میں بہے جاتے ہیںپھوٹنے والی ہے مزدور کے ماتھے سے کرنسرخ پرچم افق صبح پہ لہراتے ہیں
وہ سرد رات جبکہ سفر کر رہا تھا میںرنگینیوں سے ظرف نظر بھر رہا تھا میںتیزی سے جنگلوں میں اڑی جا رہی تھی ریلخوابیدہ کائنات کو چونکا رہی تھی ریلمڑتی اچھلتی کانپتی چنگھاڑتی ہوئیکہرے کی وہ دبیز ردا پھاڑتی ہوئیپہیوں کی گردشوں میں مچلتی تھی راگنیآہن سے آگ بن کے نکلتی تھی راگنیپہنچی جدھر زمیں کا کلیجہ ہلا دیادامن میں تیرگی کے گریباں بنا دیاجھونکے ہوا کے برف بچھاتے تھے راہ میںجلوے سما رہے تھے لرز کر نگاہ میںدھوکے سے چھو گئیں جو کہیں سرد انگلیاںبچھو سا ڈنک مارنے لگتی تھیں کھڑکیاںپچھلے پہر کا نرم دھندلکا تھا پر فشاںمایوسیوں میں جیسے امیدوں کا کارواںبے نور ہو کے ڈوبنے والا تھا ماہتابکہرے میں کھپ گئی تھی ستاروں کی آب و تابقبضہ سے تیرگی کے سحر چھوٹنے کو تھیمشرق کے حاشیے میں کرن پھوٹنے کو تھیکہرے میں تھا ڈھکے ہوئے باغوں کا یہ سماںجس طرح زیر آب جھلکتی ہوں بستیاںبھیگی ہوئی زمیں تھی نمی سی فضا میں تھیاک کشت برف تھی کہ معلق ہوا میں تھیجادو کے فرش سحر کے سب سقف و بام تھےدوش ہوا پہ پریوں کے سیمیں خیام تھےتھی ٹھنڈے ٹھنڈے نور میں کھوئی ہوئی نگاہڈھل کر فضا میں آئی تھی حوروں کی خواب گاہبن بن کے پھین سوئے فلک دیکھتا ہوادریا چلا تھا چھوڑ کے دامن زمین کااس شبنمی دھندلکے میں بگلے تھے یوں رواںموجوں پہ مست ہو کے چلیں جیسے مچھلیاںڈالا کبھی فضاؤں میں خط کھو گئے کبھیجھلکے کبھی افق میں نہاں ہو گئے کبھیانجن سے اڑ کے کانپتا پھرتا تھا یوں دھواںلیتا تھا لہر کھیت میں کہرے کے آسماںاس وقت کیا تھا روح پہ صدمہ نہ پوچھئےیاد آ رہا تھا کس سے بچھڑنا نہ پوچھئےدل میں کچھ ایسے گھاؤ تھے تیر ملال کےرو رو دیا تھا کھڑکی سے گردن نکال کے
یہ سانپ آج جو پھن اٹھائےمرے راستے میں کھڑا ہےپڑا تھا قدم چاند پر میرا جس دناسی دن اسے مار ڈالا تھا میں نےاکھاڑے تھے سب دانت کچلا تھا سر بھیمروڑی تھی دم توڑ دی تھی کمر بھی
چپکے سے کانوں میں کہہ جاخوشیوں کا سندیس سنا جاپریم تو اپنی ڈگر بتا جاکیا تو جوگن بن بیٹھیدور کہیں مایا سے چھپ کرتو بن گئی انوکھیدیکھ ری تیرے سوگ میں کیسا حال کیا ہم نے اپنادکھ کے کنکر پتھر چنتے کومل ہاتھ ہیں پتھرائےجیون کے رستے پر بکھرے کانٹے سو سو ڈنک اٹھائےنفرت کی آندھی سے دھندلے پڑ گئے چندا تارےگھر آئی ہے چاروں اوردیکھ گھٹا گھنگھورآنکھوں سے اوجھل ہے امبرپاپ کا جھونکا چلے بھینکرہلچل مچ گئی باہر اندرچاروں اور بگولے اڑتے ادھر ادھر بولائےجیسے ان کو کھوج کسی کیسر ٹکراتے سر کو اٹھائے سر کو جھکائےسر کے بل کچھ پھرتے ہیںسب کو کھوج ہے تیریپریم کہاں تو چھپ کر بیٹھیہم سے کیوں ہے روٹھیآ دیکھ کہ تیرے نہ ہونے سےکیا کیا دکھ ہم نے جھیلےپریم پجاری جتنے تھے سب بن گئے اتیاچاریخود ہی اتیاچار کرے ہےبن بیٹھے بے چارےاپنے اتیاچار کو بھوگےکیسے کھیل نرالےلیکن ان کے من میں کیسی جوالا جاگ اٹھی ہےاب تو تیری ہی ان کو بس انتم آس لگی ہےاے جوگنکیا تو بھی ڈھونڈھے کوئی پریم پجاریاس کی کھوج میں بن گئی ہے تو بالکل ہی بن باسیمن میں جھانک کے دیکھ لے سب کےتیری چاہ بسی ہےدوری تیری بھڑکائے ہے اب تو من میں ڈاہاور ہمارے ہونٹوں کا ہر شبد بنا ہے آہ
اک خوشبو درد سر کی مرجھائی کلیوں کو کھلائے جاتی ہےذہن میں بچھو امیدوں کے ڈنک لگاتے ہیںہچکی لے کر پھر خود ہی مر جاتے ہیںدل کی دھڑکن سچائی کے تلخ دھوئیں کو گہرا کرتی پیہم بڑھتی جاتی ہےپیٹ میں بھوک ڈکاریں لیتی رہتی ہےپھر رگ رگ میں سوئیاں بن کر بھاگی بھاگی پھرتی ہےپورے جسم میں درد کا اک لاوا سا بہتا رہتا ہےایسا مجھ کو لگتا ہےجیسے میںآخری قے میں اس دنیا کی ساری غذائیں خواب و حقیقت کی آلائشآدرشوں کی میٹھی شرابیںاک بے معنی کشش میں الجھایہ جیونسارا کا سارا اگل دوں گاشاید مجھ کو اس لمحے نروان ملے
اف یہ پچھلے پہر کا سناٹاذہن پر ڈنک مارتا جائےایک اک زخم ابھارتا جائے
یہ چھوٹی بڑی آنکھوں کی چتکبری مچھلیاںاپنے تیز نکیلے ڈنک لیے بڑھتی ہیں میری طرفاور میں بھاگتا ہوں مسلسل پیچھے کی طرفجیسے شارپ شوٹر کو دیکھ بھاگتا ہے کوئی ٹارگٹمسلسل پیچھے کی طرف بھاگتے ہوئے میں مانگتا ہوں دعاآخری کوچ کی دیوار تک پہنچنے سے پہلےآ جائے کوئی اسٹیشنکھل جائے کوئی دروازہاور میں جھٹکے سے کود کر پا سکوں نجات
زمیں گھومیہوا بدلیچلو موسم بدلتا ہےسلیمؔ اب تم پہاڑوں سے اتر آؤوہ دیکھوچیونٹیوں کے پر نکل آئےکیسے اڑتی پھر رہی ہیںآج شان بے نیازی سےکہ جیسے مطمئن ہیںمکڑیوں کی سرفرازی سےسلیمؔ اب تم پہاڑوں سے اتر آؤتمہاری دور کی آواز کیسے گونج بن کرپلٹ آئی ہےجیسے بستیوں کےسبھی گھر ہوئے ہیںکوئی ہتھیار بھی سالم نہیںنکیلے دانتکانٹےڈنکناخنحفاظت کے سبھی سامان جیسے چھن گئے ہیںتبھی تو ظالموں سےچند روزہ عافیت کی بھیک پا کرخدا کی گود میں بے فکر سوتے ہیںسمجھتے ہیںکہ مظلومی کا یہ بہروپ ہیفقرۂ قناعت کا بدل ہےکوئی پتھر اٹھائے کھینچ مارےدکھاوے کے لیے پتھر اٹھا کر چوم لیں گےیہ کس دنیا میں بستے ہیںیہ کس کا پاس رکھتے ہیںخود اپنی موت کی نظارگی کا زخم دے کردرندوں کی نگاہوں سےالوہی روشنی کی آس رکھتے ہیںسلیمؔ اب تم پہاڑوں سے اتر آؤ
بادل بادل اس کے قطرےگہری اداس چھاؤں ہوائیں بیوہ کی چوڑیوں کی طرح سے چھن چھنٹوٹ رہی ہیںیہ کیسا ساون ہے دل میں کالا ناگ یاں ڈنک مارتا ہےمیں بادل روؤں کہ خون تھوکوںخون کہ قطرہ قطرہ رات کے خوف سے خشک ہوا ہےرات مجھے اپنے ہاتھ سے مسل رہی ہےمیں میلا کپڑا ہوں جو نہ پہننے کے کام آئے نہ ہی رکھنے کےمجھ کو جلا دو میری راکھ ہوا میں اڑا دواس راکھ کے گہرے اور سیاہ بادلاس شہر کی چھتوں پر برسیں گے جن کے کوڑھ زدہ وجودمدت سے روشنی کو ترس گئے ہیںاور جن کو محبت کی بارش ہی صحت مند کر سکتی ہےوہ سمجھیں تو
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
وہ ہیئت داں وہ عالم ناف شب میں چھت پہ جاتا تھارصد کا رشتہ سیاروں سے رکھتا تھا نبھاتا تھااسے خواہش تھی شہرت کی نہ کوئی حرص دولت تھیبڑے سے قطر کی اک دوربین اس کی ضرورت تھیمری ماں کی تمناؤں کا قاتل تھا وہ قلامہمری ماں میری محبوبہ قیامت کی حسینہ تھیستم یہ ہے یہ کہنے سے جھجکتا تھا وہ فہامہتھا بے حد اشتعال انگیز بد قسمت او علامہخلف اس کے خذف اور بے نہایت نا خلف نکلےہم اس کے سارے بیٹے انتہائی بے شرف نکلےمیں اس عالم ترین دہر کی فکرت کا منکر تھامیں فسطائی تھا جاہل تھا اور منطق کا ماہر تھاپر اب میری یہ شہرت ہے کہ میں بس اک شرابی ہوںمیں اپنے دودمان علم کی خانہ خرابی ہوںسگان خوک زاد برزن و بازار بےمغزیمری جانب اب اپنے تھوبڑے شاہانہ کرتے ہیںزنا زادے مری عزت بھی گستاخانہ کرتے ہیںکمینے شرم بھی اب مجھ سے بے شرمانہ کرتے تھے
فلک کا تجھے شامیانہ دیازمیں پر تجھے آب و دانہ دیا
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
سنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہےسنا ہے شیر كا جب پیٹ بھر جائے تو وو حملہ نہیں کرتادرختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہےہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیںتو مینا اپنے بچے چھوڑ کرکوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہےسنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہےسنا ہے جب کسی ندی کے پانی میںبئے کے گھونسلے كا گندمی سایہ لرزتا ہےتو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیںکبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے توکسی لکڑی کے تختے پرگلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیںسنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہےخداوندا! جلیل واماں معتبر! دانا واماں بینا منصف واماں اکبر!مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی كا کوئی قانون نافذ کر!کوئی دستور نافذ کر
تم آج ہزاروں میل یہاں سے دور کہیں تنہائی میںیا بزم طرب آرائی میںمیرے سپنے بنتی ہوں گی بیٹھی آغوش پرائی میںاور میں سینے میں غم لے کر دن رات مشقت کرتا ہوںجینے کی خاطر مرتا ہوںاپنے فن کو رسوا کر کے اغیار کا دامن بھرتا ہوںمجبور ہوں میں مجبور ہو تم مجبور یہ دنیا ساری ہےتن کا دکھ من پر بھاری ہےاس دور میں جینے کی قیمت یا دار و رسن یا خواری ہےمیں دار و رسن تک جا نہ سکا تم جہد کی حد تک آ نہ سکیںچاہا تو مگر اپنا نہ سکیںہم تو دو ایسی روحیں ہیں جو منزل تسکیں پا نہ سکیںجینے کو جئے جاتے ہیں مگر سانسوں میں چتائیں جلتی ہیںخاموش وفائیں جلتی ہیںسنگین حقائق زاروں میں خوابوں کی ردائیں جلتی ہیںاور آج جب ان پیڑوں کے تلے پھر دو سائے لہرائے ہیںپھر دو دل ملنے آئے ہیںپھر موت کی آندھی اٹھی ہے پھر جنگ کے بادل چھائے ہیںمیں سوچ رہا ہوں ان کا بھی اپنی ہی طرح انجام نہ ہوان کا بھی جنوں ناکام نہ ہوان کے بھی مقدر میں لکھی اک خون میں لتھڑی شام نہ ہوسورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھےچاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھےہمارا پیار حوادث کی تاب لا نہ سکامگر انہیں تو مرادوں کی رات مل جائےہمیں تو کشمکش مرگ بے اماں ہی ملیانہیں تو جھومتی گاتی حیات مل جائےبہت دنوں سے ہے یہ مشغلہ سیاست کاکہ جب جوان ہوں بچے تو قتل ہو جائیںبہت دنوں سے یہ ہے خبط حکمرانوں کاکہ دور دور کے ملکوں میں قحط بو جائیںبہت دنوں سے جوانی کے خواب ویراں ہیںبہت دنوں سے ستم دیدہ شاہراہوں میںنگار زیست کی عصمت پناہ ڈھونڈھتی ہےچلو کہ آج سبھی پائمال روحوں سےکہیں کہ اپنے ہر اک زخم کو زباں کر لیںہمارا راز ہمارا نہیں سبھی کا ہےچلو کہ سارے زمانے کو رازداں کر لیںچلو کہ چل کے سیاسی مقامروں سے کہیںکہ ہم کو جنگ و جدل کے چلن سے نفرت ہےجسے لہو کے سوا کوئی رنگ راس نہ آئےہمیں حیات کے اس پیرہن سے نفرت ہےکہو کہ اب کوئی قاتل اگر ادھر آیاتو ہر قدم پہ زمیں تنگ ہوتی جائے گیہر ایک موج ہوا رخ بدل کے جھپٹے گیہر ایک شاخ رگ سنگ ہوتی جائے گیاٹھو کہ آج ہر اک جنگ جو سے یہ کہہ دیںکہ ہم کو کام کی خاطر کلوں کی حاجت ہےہمیں کسی کی زمیں چھیننے کا شوق نہیںہمیں تو اپنی زمیں پر ہلوں کی حاجت ہےکہو کہ اب کوئی تاجر ادھر کا رخ نہ کرےاب اس جگہ کوئی کنواری نہ بیچی جائے گییہ کھیت جاگ پڑے اٹھ کھڑی ہوئیں فصلیںاب اس جگہ کوئی کیاری نہ بیچی جائے گییہ سر زمین ہے گوتم کی اور نانک کیاس ارض پاک پہ وحشی نہ چل سکیں گے کبھیہمارا خون امانت ہے نسل نو کے لئےہمارے خون پہ لشکر نہ پل سکیں گے کبھیکہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہےتو اس دمکتے ہوئے خاکداں کی خیر نہیںجنوں کی ڈھالی ہوئی ایٹمی بلاؤں سےزمیں کی خیر نہیں آسماں کی خیر نہیںگذشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بارعجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیںگذشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بارعجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیںتصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
میں جب بھیزندگی کی چلچلاتی دھوپ میں تپ کرمیں جب بھیدوسروں کے اور اپنے جھوٹ سے تھک کرمیں سب سے لڑ کے خود سے ہار کےجب بھی اس ایک کمرے میں جاتا تھاوہ ہلکے اور گہرے کتھئی رنگوں کا اک کمرہوہ بے حد مہرباں کمرہجو اپنی نرم مٹھی میں مجھے ایسے چھپا لیتا تھاجیسے کوئی ماںبچے کو آنچل میں چھپا لےپیار سے ڈانٹےیہ کیا عادت ہےجلتی دوپہر میں مارے مارے گھومتے ہو تموہ کمرہ یاد آتا ہےدبیز اور خاصا بھاریکچھ ذرا مشکل سے کھلنے والا وہ شیشم کا دروازہکہ جیسے کوئی اکھڑ باپاپنے کھردرے سینے میںشفقت کے سمندر کو چھپائے ہووہ کرسیاور اس کے ساتھ وہ جڑواں بہن اس کیوہ دونوںدوست تھیں میریوہ اک گستاخ منہ پھٹ آئینہجو دل کا اچھا تھاوہ بے ہنگم سی الماریجو کونے میں کھڑیاک بوڑھی انا کی طرحآئینے کو تنبیہ کرتی تھیوہ اک گلدانننھا سابہت شیطانان دنوں پہ ہنستا تھادریچہیا ذہانت سے بھری اک مسکراہٹاور دریچے پر جھکی وہ بیلکوئی سبز سرگوشیکتابیںطاق میں اور شیلف پرسنجیدہ استانی بنی بیٹھیںمگر سب منتظر اس بات کیمیں ان سے کچھ پوچھوںسرہانےنیند کا ساتھیتھکن کا چارہ گروہ نرم دل تکیہمیں جس کی گود میں سر رکھ کےچھت کو دیکھتا تھاچھت کی کڑیوں میںنہ جانے کتنے افسانوں کی کڑیاں تھیںوہ چھوٹی میز پراور سامنے دیوار پرآویزاں تصویریںمجھے اپنائیت سے اور یقیں سے دیکھتی تھیںمسکراتی تھیںانہیں شک بھی نہیں تھاایک دنمیں ان کو ایسے چھوڑ جاؤں گامیں اک دن یوں بھی جاؤں گاکہ پھر واپس نہ آؤں گا
ابلیسیہ عناصر کا پرانا کھیل یہ دنیائے دوںساکنان عرش اعظم کی تمناؤں کا خوںاس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارسازجس نے اس کا نام رکھا تھا جہان کاف و نوںمیں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خوابمیں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوںمیں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کامیں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوںکون کر سکتا ہے اس کی آتش سوزاں کو سردجس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوز دروںجس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلندکون کر سکتا ہے اس نخل کہن کو سرنگوںپہلا مشیراس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظامپختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوامہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجودان کی فطرت کا تقاضا ہے نماز بے قیامآرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیںہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خامیہ ہماری سعئ پیہم کی کرامت ہے کہ آجصوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمامطبع مشرق کے لیے موزوں یہی افیون تھیورنہ قوالی سے کچھ کم تر نہیں علم کلامہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیاکند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغ بے نیامکس کی نو میدی پہ حجت ہے یہ فرمان جدیدہے جہاد اس دور میں مرد مسلماں پر حرامدوسرا مشیرخیر ہے سلطانیٔ جمہور کا غوغا کہ شرتو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے با خبرپہلا مشیرہوں مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھےجو ملوکیت کا اک پردہ ہو کیا اس سے خطرہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباسجب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگرکاروبار شہر یاری کی حقیقت اور ہےیہ وجود میر و سلطاں پر نہیں ہے منحصرمجلس ملت ہو یا پرویز کا دربار ہوہے وہ سلطاں غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظرتو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظامچہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک ترتیسرا مشیرروح سلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطرابہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جوابوہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیبنیست پیغمبر ولیکن در بغل دارد کتابکیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہ پردہ سوزمشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روز حساباس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فسادتوڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طنابچوتھا مشیرتوڑ اس کا رومتہ الکبریٰ کے ایوانوں میں دیکھآل سیزر کو دکھایا ہم نے پھر سیزر کا خوابکون بحر روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہواگاہ بالد چوں صنوبر گاہ نالد چوں ربابتیسرا مشیرمیں تو اس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیںجس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجابپانچواں مشیر ابلیس کو مخاطب کر کےاے ترے سوز نفس سے کار عالم استوارتو نے جب چاہا کیا ہر پردگی کو آشکارآب و گل تیری حرارت سے جہان سوز و سازابلہ جنت تری تعلیم سے دانائے کارتجھ سے بڑھ کر فطرت آدم کا وہ محرم نہیںسادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگارکام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طوافتیری غیرت سے ابد تک سر نگوں و شرمسارگرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحر تماماب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتباروہ یہودی فتنہ گر وہ روح مزدک کا بروزہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تارزاغ دشتی ہو رہا ہے ہمسر شاہین و چرغکتنی سرعت سے بدلتا ہے مزاج روزگارچھا گئی آشفتہ ہو کر وسعت افلاک پرجس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مشت غبارفتنۂ فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آجکانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جوئبارمیرے آقا وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہےجس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار
جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگےیہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسفکی دکان پر میں نے دیکھاتو تیری نگاہوں میں وہ تابناکیتھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوںجہاں زاد نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!یہ وہ دور تھا جس میں میں نےکبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانبپلٹ کر نہ دیکھاوہ کوزے مرے دست چابک کے پتلےگل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاںوہ سر گوشیوں میں یہ کہتےحسن کوزہ گر اب کہاں ہے؟وہ ہم سے خود اپنے عمل سےخدا وند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزراکہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرےتغاروں میں مٹیکبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میںسنگ بستہ پڑی تھیصراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداںمری ہیچ مایہ معیشت کے اظہار فن کے سہارےشکستہ پڑے تھےمیں خود میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہسر چاک ژولیدہ مو سر بہ زانوکسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کےگل و لا سے خوابوں کے سیال کوزے بناتا رہا تھاجہاں زاد نو سال پہلےتو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھیکہ میں نے حسن کوزہ گر نےتری قاف کی سی افق تاب آنکھوںمیں دیکھی ہے وہ تابناکیکہ جس سے مرے جسم و جاں ابر و مہتاب کارہگزر بن گئے تھےجہاں زاد بغداد کی خواب گوں راتوہ رود دجلہ کا ساحلوہ کشتی وہ ملاح کی بند آنکھیںکسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیےایک ہی رات وہ کہربا تھیکہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجوداس کی جاں اس کا پیکرمگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلاحسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books