aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "daas"
دس کروڑ انسانو!زندگی سے بیگانو!صرف چند لوگوں نےحق تمہارا چھینا ہےخاک ایسے جینے پریہ بھی کوئی جینا ہےبے شعور بھی تم کوبے شعور کہتے ہیںسوچتا ہوں یہ ناداںکس ہوا میں رہتے ہیںاور یہ قصیدہ گوفکر ہے یہی جن کوہاتھ میں علم لے کرتم نہ اٹھ سکو لوگوکب تلک یہ خاموشیچلتے پھرتے زندانودس کروڑ انسانو!
میں نے اس سے یہ کہایہ جو دس کروڑ ہیںجہل کا نچوڑ ہیںان کی فکر سو گئیہر امید کی کرنظلمتوں میں کھو گئییہ خبر درست ہےان کی موت ہو گئیبے شعور لوگ ہیںزندگی کا روگ ہیںاور تیرے پاس ہےان کے درد کی دوامیں نے اس سے یہ کہاتو خدا کا نور ہےعقل ہے شعور ہےقوم تیرے ساتھ ہےتیرے ہی وجود سےملک کی نجات ہےتو ہے مہر صبح نوتیرے بعد رات ہےبولتے جو چند ہیںسب یہ شر پسند ہیںان کی کھینچ لے زباںان کا گھونٹ دے گلامیں نے اس سے یہ کہاجن کو تھا زباں پہ نازچپ ہیں وہ زباں درازچین ہے سماج میںبے مثال فرق ہےکل میں اور آج میںاپنے خرچ پر ہیں قیدلوگ تیرے راج میںآدمی ہے وہ بڑادر پہ جو رہے پڑاجو پناہ مانگ لےاس کی بخش دے خطا
آؤ کہ کوئی خواب بنیں کل کے واسطےورنہ یہ رات آج کے سنگین دور کیڈس لے گی جان و دل کو کچھ ایسے کہ جان و دلتا عمر پھر نہ کوئی حسیں خواب بن سکیں
نامہ نہ کوئی یار کا پیغام بھیجئےاس فصل میں جو بھیجئے بس آم بھیجئےایسا ضرور ہو کہ انہیں رکھ کے کھا سکوںپختہ اگرچہ بیس تو دس خام بھیجئےمعلوم ہی ہے آپ کو بندے کا ایڈریسسیدھے الہ آباد مرے نام بھیجئےایسا نہ ہو کہ آپ یہ لکھیں جواب میںتعمیل ہوگی پہلے مگر دام بھیجئے
یہ ضابطہ ہے بنوں دست و بازوئے قاتلیہ ضابطہ ہے دھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ دل
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
کون سا اسٹیشن ہے؟ڈاسنہ ہے صاحب جیآپ کو اترنا ہے؟''جی نہیں، نہیں،'' لیکنڈاسنہ تو تھا ہی وہمیرے ساتھ قیصر ؔتھییہ بڑی بڑی آنکھیںاک تلاش میں کھوئیرات بھر نہیں سوئیجب میں اس کو پہنچانےاس اجاڑ بستی میںساتھ لے کے آیا تھامیں نے ان سے پھر پوچھاآپ مستقل شایدڈاسنہ میں رہتے ہیں؟''جی یہاں پہ کچھ میریسوت کی دکانیں ہیںکچھ طعام خانے ہیں''میں سنا کیا بیٹھابولتا رہا وہ شخص''کچھ زمین داری ہےمیرے باپ دادا نےکچھ مکان چھوڑے تھےان کو بیچ کر میں نےکاروبار کھولا ہےاس حقیر بستی میںکون آ کے رہتا تھالیکن اب یہی بستیبمبئی ہے دلی ہےقیمتیں زمینوں کیاتنی بڑھ گئیں صاحباک زمین ہی کیا ہےکھانے پینے کی چیزیںعام جینے کی چیزیںبھاؤ دس گنے ہیں اب''بولتا رہا وہ شخص''اس قدر گرانی ہےآگ لگ گئی جیسےآسمان حد ہے بس''میں نے چونک کر پوچھاآسماں محل تھا اکسیدوں کی بستی میںآسماں نہیں صاحباب محل کہاں ہوگا؟ہنس پڑا یہ کہہ کر وہمیرے ذہن میں اس کیبات پے بہ پے گونجی
وہ چالیس راتوں سے سویا نہ تھاوہ خوابوں کو اونٹوں پہ لادے ہوئےرات کے ریگزاروں میں چلتا رہاچاندنی کی چتاؤں میں جلتا رہامیز پرکانچ کے اک پیالے میں رکھے ہوئےدانت ہنستے رہےکالی عینک کے شیشوں کے پیچھے سے پھرموتیے کی کلی سر اٹھانے لگیآنکھ میں تیرگی مسکرانے لگیروح کا ہاتھچھلنی ہوا سوئی کی نوک سےخواہشوں کے دیےجسم میں بجھ گئےسبز پانی کی سیال پرچھائیاںلمحہ لمحہ بند میں اترنے لگیںگھر کی چھت میں جڑےدس ستاروں کے سایوں تلےعکس دھندلا گئےعکس مرجھا گئے
ریڈیو نے دس بجے شب کے خبر دی عید کیعالموں نے رات بھر اس نیوز کی تردید کی
جب خیالوں میں ترے جسم کو چھو لیتا ہوںزندگی شعلۂ ماضی سے جھلس جاتی ہےجب گزرنا ہوں غم حال کے ویرانے سےمیرے احساس کی ناگن مجھے ڈس جاتی ہے
ملک بھر کو قید کر دے کس کے بس کی بات ہےخیر سے سب ہیں کوئی دو چار دس کی بات ہے
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سےسایۂ شام غریباں کی طرحشورش دیدۂ گریاں کی طرحموسم کنج بیاباں کی طرحکتنا بے نطق ہے یادوں کا ہجومجیسے ہونٹوں کی فضا یخ بستہجیسے لفظوں کو گہن لگ جائےجیسے روٹھے ہوئے رستوں کے مسافر چپ چاپجیسے مرقد کے سرہانے کوئی خاموش چراغجیسے سنسان سے مقتل کی صلیبجیسے کجلائی ہوئی شب کا نصیبمیرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سےپھر سے زخموں کی قطاریں جاگیںاول شام چراغاں کی طرحہر نئے زخم نے پھر یاد دلایا مجھ کواسی کمرے میں کبھیمحفل احباب کے ساتھگنگناتے ہوئے لمحوں کے شجر پھیلتے تھےرقص کرتے ہوئے جذبوں کے دہکتے لمحےقریۂ جاں میں لہو کی صورتشمع وعدہ کی طرح جلتے تھےسانس لیتی تھی فضا میں خوشبوآنکھ میں گلبن مرجاں کی طرحسانس کے ساتھ گہر ڈھلتے تھےآج کیا کہیے کہ ایسا کیوں ہےشام چپ چاپفضا یخ بستہدل مرا دل کہ سمندر کی طرح زندہ تھاتیرے ہوتے ہوئے تنہا کیوں ہےتو کہ خود چشمۂ آواز بھی ہےمیری محرم مری ہم راز بھی ہےتیرے ہوتے ہوئے ہر سمت اداسی کیسیشام چپ چاپفضا یخ بستہدل کے ہم راہ بدن ٹوٹ رہا ہو جیسےروح سے رشتۂ جاں چھوٹ رہا ہو جیسےاے کہ تو چشمۂ آواز بھی ہےحاصل نغمگیٔ ساز بھی ہےلب کشا ہو کہ سر شام فگاراس سے پہلے کہ شکستہ دل میںبد گمانی کی کوئی تیز کرن چبھ جائےاس سے پہلے کہ چراغ وعدہیک بہ یک بجھ جائےلب کشا ہو کہ فضا میں پھر سےجلتے لفظوں کے دہکتے جگنوتیر جائیں تو سکوت شب عریاں ٹوٹےپھر کوئی بند گریباں ٹوٹےلب کشا ہو کہ مری نس نس میںزہر بھر دے نہ کہیںوقت کی زخم فروشی پھر سےلب کشا ہو کہ مجھے ڈس لے گیخود فراموشی پھر سےمیرے کمرے میں اتر آئیخموشی پھر سے
زہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہےحالانکہ در ایں اثنا کیا کچھ نہیں دیکھا ہےپر لکھے تو کیا لکھے؟ اور سوچے تو کیا سوچے؟کچھ فکر بھی مبہم ہے کچھ ہاتھ لرزتا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دیوانی نہیں اتنی جو منہ میں ہو بک جائےچپ شاہ کا روزہ بھی یوں ہی نہیں رکھا ہےبوڑھی بھی نہیں اتنی اس طرح وہ تھک جائےاب جان کے اس نے یہ انداز بنایا ہےہر چیز بھلاوے کے صندوق میں رکھ دی ہےآسانی سے جینے کا اچھا یہ طریقہ ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!گھر بار، سمجھتی تھی، قلعہ ہے حفاظت کادیکھا کہ گرہستی بھی مٹی کا کھلونا ہےمٹی ہو کہ پتھر ہو ہیرا ہو کہ موتی ہوگھر بار کے مالک کا گھر بار پہ قبضہ ہےاحساس حکومت کے اظہار کا کیا کہنا!انعام ہے مذہب کا جو ہاتھ میں کوڑا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دیوار پہ ٹانگا تھا فرمان رفاقت کاکیا وقت کے دریا نے دیوار کو ڈھایا ہےفرمان رفاقت کی تقدیس بس اتنی ہےاک جنبش لب پر ہے، رشتہ جو ازل کا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دو بیٹوں کو کیا پالا ناداں یہ سمجھتی تھیاس دولت دنیا کی مالک وہی تنہا ہےپر وقت نے آئینہ کچھ ایسا دکھایا ہےتصویر کا یہ پہلو اب سامنے آیا ہےبڑھتے ہوئے بچوں پر کھلتی ہوئی دنیا ہےکھلتی ہوئی دنیا کا ہر باب تماشہ ہےماں باپ کی صورت تو دیکھا ہوا نقشہ ہےدیکھے ہوئے نقشے کا ہر رنگ پرانا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!سوچا تھا بہن بھائی دریا ہیں محبت کےدیکھا کہ کبھی دریا رستہ بھی بدلتا ہےبھائی بھی گرفتار مجبوریٔ خدمت ہیںبہنوں پہ بھی طاری ہے قسمت کا جو لکھا ہےاک ماں ہے جو پیڑوں سے باتیں کیے جاتی ہےکہنے کو ہیں دس بچے اور پھر بھی وہ تنہا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے
تم سمجھتی ہو یہ گلدان میں ہنستے ہوئے پھولمیری افسردگئ دل کو مٹا ہی دیں گےیہ حسیں پھول کہ ہیں جان گلستان بہارمیرے سوئے ہوئے نغموں کو جگا ہی دیں گےتم نے دیکھی ہیں دمکتی ہوئی شمعیں لیکنتم نے دیکھے نہیں بجھتے ہوئے دیپک ہمدموہی دیپک جو نگاہوں کا سہارا پا کرایک لمحے کے لئے جلتے ہیں بجھ جاتے ہیںکبھی اک اشک سے دھل جاتے ہیں صدیوں کے غبارکائنات اور نکھر اور سنور جاتی ہےکبھی ناکام تمنا کی صدائے مبہمقہقہہ بن کے فضاؤں میں بکھر جاتی ہےٹوٹتے تاروں کے سنگیت سنے ہیں تم نےوہ بھی نغمے ہیں جو ہونٹوں سے گریزاں ہی رہےپھڑپھڑاتے ہوئے دیکھے ہیں فضاؤں میں کبھیوہ فسانے جو نگاہوں سے بیاں ہو نہ سکےکبھی کانٹوں سے بہل جاتی ہے روح غمگیںاور معصوم شگوفوں کی رسیلی خوشبونیشتر بن کے رگ جاں میں اتر جاتی ہےہاں یہی پھول یہی جان گلستان بہارناگ بن کر کبھی احساس کو ڈس لیتے ہیں
اتنے گھراتنے سیارےکنکر پتھر کون گنےدس سے اوپر کون گنے
تیرے مدھر گیتوں کے سہارےبیتے ہیں دن رین ہمارےتیری اگر آواز نہ ہوتیبجھ جاتی جیون کی جوتیتیرے سچے سر ہیں ایسےجیسے سورج چاند ستارےتیرے مدھر گیتوں کے سہارےبیتے ہیں دن رین ہمارےکیا کیا تو نے گیت ہیں گائےسر جب لاگے من جھک جائےتجھ کو سن کر جی اٹھتے ہیںہم جیسے دکھ درد کے مارےتیرے مدھر گیتوں کے سہارےبیتے ہیں دن رین ہمارےمیراؔ تجھ میں آن بسی ہےانگ وہی ہے رنگ وہی ہےجگ میں تیرے داس ہیں اتنےجتنے ہیں آکاش پہ تارےتیرے مدھر گیتوں کے سہارےبیتے ہیں دن رین ہمارے
اک پٹری پر سردی میں اپنی تقدیر کو روئےدوجا زلفوں کی چھاؤں میں سکھ کی سیج پہ سوئےراج سنگھاسن پر اک بیٹھا اور اک اس کا داسبھئے کبیر اداساونچے اونچے ایوانوں میں مورکھ حکم چلائیںقدم قدم پر اس نگری میں پنڈت دھکے کھائیںدھرتی پر بھگوان بنے ہیں دھن ہے جن کے پاسبھئے کبیر اداسگیت لکھائیں پیسے نا دیں فلم نگر کے لوگان کے گھر باجے شہنائی لیکھک کے گھر سوگگائک سر میں کیوں کر گائے کیوں نا کاٹے گھاسبھئے کبیر اداسکل تک تھا جو حال ہمارا حال وہی ہے آججالبؔ اپنے دیس میں سکھ کا کال وہی ہے آجپھر بھی موچی گیٹ پہ لیڈر روز کریں بکواسبھئے کبیر اداس
عجب کردار تھا عثمان بابا کاہر اک بچہ تھا اس کا سر چڑھا وہ چاہے جس کا ہوسکینہ ماروی سے لے کےوہ گلیوں میں جھاڑو دینے والےاپنے جوزف داس کا لڑکا تلک اس کا چہیتا تھاعجب فہرست تھی اس کی کہ اس فہرست میں کوئینہ گورا تھا نہ کالا تھا نہ اونچا تھا نہ نیچا تھا
ہاتھ اٹھے گا دستکوں کودر تو لیکن کھلا ملے گاجیسے تم کو سدا ملا تھا
فروری پھولوں کی گاڑی پہ سوار آتی ہےمارچ آتا ہے تو باغوں میں بہار آتی ہےہم نے بلا جو گھمایا تو کئی بھاگ لیےایک چوکے ہی میں اپریل مئی بھاگ لیےتیز گرمی نے پسینے میں نہایا ہم کوجون جولائی نے دو ماہ ستایا ہم کویہ خبر لے کے اگست اور ستمبر آئےامتحانوں میں بڑی شان کے نمبر آئےیاد کرتے ہیں سبق لیٹے ہوئے بستر میںلکھنے پڑھنے کا مزہ آتا ہے اکتوبر میںیاد رہ رہ کے ہمیں دس کا پہاڑا آیاجب بھی آیا ہے نومبر ہمیں جاڑا آیاگرم مفلر سے جو کانوں کو چھپایا ہم نےتالیاں دے کے دسمبر کو بھگایا ہم نےپھر نئے سال کا مطلب ہمیں سمجھاتی ہےجنوری سبز دوپٹے میں چلی آتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books