aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dar-e-jism"
میرے خیال میں وہ عورتدنیا کی لذیذ ترین عورت ہےمیں اس کے اندر غرق ہو جاؤں گاوہ مجھے دور دور سےاپنا آپ دکھاتی ہےمیرے اندر بھوک اور پیاس کو بیدار کرتی ہےاور جب میں خواہش کی آگ میں جلنے لگتا ہوںوہ اطمینان سے ہنسنے لگتی ہےمیرا جی چاہتا ہے کہ میں اس کو کھا جاؤںمیں اس کو پورے کا پورا نگل جانا چاہتا ہوںجب میں اس کی طرف بڑھتا ہوںوہ مجھے ڈانٹ کر بھگا دیتی ہےاور میں درد سے تڑپ اٹھتا ہوںاور میں تنہائی میں آ کر روتا ہوںاور میں مسلسل روتا ہی رہتا ہوںجب اس سے جدائی کا درد میری برداشت سے باہر ہو جاتا ہےمیں ایک بار پھر اس کے پاس جاتا ہوںاور وہ کہتی ہے: ارے تم کہاں تھے؟مدت سے دکھائی نہیں دیےاور ایک بار پھراس کی اداؤں کا جادو مجھ پر چھا جاتا ہےاس کے جسم کی کشش مجھے مدہوش کر دیتی ہےمیں پاگلوں کی طرح اسے گھورنے لگتا ہوںمیں اپنی آنکھوں سے اس کو چومتا اور چاٹتا ہوںمیں اپنی آنکھوں سے اس کو کھاتا رہتا ہوںاور وہ خاموشی سے سب کچھ دیکھتی رہتی ہےجب میں بے تاب ہو جاتا ہوںتو اچانک وہ غصے میں آ جاتی ہےوہ مجھ سے ناراض ہو جاتی ہےاور میں ایک دھتکارے ہوئے کتے کی طرحاپنی تنہائی میں واپس آ جاتا ہوںاپنی بے بسی پر آنسو بہانے کے لیےاور میں مسلسل روتا ہی رہتا ہوںمیرے خیال میں وہ عورتدنیا کی ظالم ترین عورت ہےاور میں اس عورت سے محبت کرتا ہوںمیں اس کے اندر غرق ہو جاؤں گا
بجھا دولہو کے سمندر کے اس پارآئنہ خانوں میں اب جھلملاتے ہوئے قمقموں کو بجھا دوکہ دل جن سے روشن تھا اب ان چراغوں کی لو بجھ چکی ہےمٹا دومنقش در و بام کے جگمگاتےچمکتے ہوئے سب بتوں کو مٹا دوکہ اب لوح دل سے ہر اک نقش حرف غلط کی طرح مٹ چکا ہےاٹھا دولہو کے جزیرے میںبپھری ہوئی موت کے زرد پنجوں سے پردہ اٹھا دوکہ اب اس جزیرے میںلاشوں کے انبار بکھرے پڑے ہیںفضا میں ہر اک سمتجلتے ہوئے خون کی بو رچی ہےوہ آنکھیں جو اپنے بدن کی طرح صاف شفاف تھیںاب ان درختوں پہ بیٹھے ہوئے چیل کوؤں گدھوں کی غذا بن چکی ہیںیہ سولہ دسمبر کی بجھتی ہوئی شام ہےاور میںاس لہو کے جزیرے میں جلتا ہوا آخری آدمی ہوں
ہم وہی اہل جنوں اہل وفا صاحب دلہم کہ ہر دور میں اوراق زمانہ کے امیںوہ لہو اپنے ہی ماتھے سے بہا ہے جس سےآج دیوار خرد کی ہے لہو رنگ جبیں
کس سے اس درد جدائی کی شکایت کہیےیاں تو سینے میں نیستاں کا نیستاں ہوگاکس سے اس دل کے اجڑنے کی حکایت کہیےسننے والا بھی جو حیراں نہیں، حیراں ہوگاایسی باتوں سے نہ کچھ بات بنے گی اپنیسونی آنکھوں میں نراشا کا گھلے گا کاجلخالی سپنوں سے نہ اوقات بنے گی اپنییہ شب ماہ بھی کٹ جائے گی بے کل بے کل
ماضی کی ڈیوڑھی کی چلمنکھلے دریچے کی جالی سےچھن چھن آئیںروپ کی جوت حنا کی لالی کل کی یادیںسوندھی خوشبو ٹھنڈی بوندیںکل کے باسی آنسو جن سےفردا کے بالیں کا پردا بھیگ رہا ہےسحر زدہ محبوس حسینہسپنوں کے شیلاٹ کی رانیآئینوں میں حسن شکستہ دیکھ رہی ہےکتنے چہرے ٹوٹے ٹوٹےپہچانے ان پہچانے سےآگے پیچھے آگے پیچھے بھاگ رہے ہیںقلعے کے آسیب کی صورت کس کی سسکی کس کا نالہکمرے کی خاموش فضا میں در آیا ہے
لمحوں کی زبانیں گنگ ہوئیںعقدے کی کڑیاں کھلتی گئیںجب تیز تھی آندھی دور کہیںاڑتی تھی قبائے جسم وہیںبے چین ہوئی پھر روح بہتکچھ بے آواز سی چیخیں تھیںتحلیل ہوا میں ہوتی تھیںکچھ ابر کے ٹکڑے آوارہجیسے خوشیوں کا پشتارہتھک کر بکھرا دے کوئی انہیںپروائی کا جھونکا ہلکا ساپھر دور اڑا لے جائے انہیں
شب کا سناٹااب تو پگھل جائے گاروح کی تیرگی بھی بکھر جائے گیمیرے اس آئینہ خانۂ جسم میںکتنے سورجبہ یک وقت در آئے ہیںاب زمیں کی تریخشک ہو جائے گیسانپ کا زہرسارا نکل جائے گا
سفید گھوڑے پر سوار اجنبیدر مکان پر کھڑا تھا چپ مگرمجھے حصار جاں کے پاس بھیکھڑا دکھائی دے رہا تھا اور میںایک چیخ روکنے کی جستجو میںصد ہزار چیخ مجتمع کیےآب تیغ جسم کھو چکا تھااور ایک صرف ایک سرخ بوند کا نشان تھاسفید گھوڑے پر سوار اجنبی چلا گیا
آج پھر تا بہ چمن در پئے گلہائے چمنگنگناتا ہوا زنبور بہار آ ہی گیا
جلا ڈالو وعدوں کی جھوٹی کتابیںغلط لکھنے والا قلم توڑ ڈالوبجا دو تکبر کی اینٹوں سے اینٹیںدر و بام جاہ و حشم توڑ ڈالوپہاڑوں میں رستہ بنانے کا دن ہےیہ دن بھوک کے طیش کھانے کا دن ہے
مے خانہ سلامت ہے تو ہم سرخئ مے سےتزئین در و بام حرم کرتے رہیں گے
ندا آئیانبوہ شیدائیاںنازنینان شہر تخیلغزالان فکر و نظرغم گساران دار و صلیب و رسندیر سے عقیدت کی نایاب سوغات لے کردر گنبد فن پہ سجدہ کناں ہیں
شعار کی جو مدارات قامت جاناںکیا ہے فیضؔ در دل در فلک سے بلند
دی کس نے در دل پہ صدا عید مبارک
حدود جسم سے باہر نکل کے مل کسی دندکھا نکال کے سینے سے اپنے دل کسی دن
ایک مشرک ہوں مرا شرک محبت سب سےایک کافر ہوں مرا کفر صداقت پہ یقیںیہ در و بام ہوس تمکنت قصر ستمرات کٹ جائے گی کھل جائے گا ظلمت کا بھرم
آفات کا طوفان مڑا جب مری جانبتاراج کیا گھر کو مرے چشم زدن میںایسی مرے مسکن کی ہوئی شکل و شباہتجیسے کوئی پامال شدہ لاش ہو رن میںسب ہو گئے اجزائے مکاں خاک میں شاملبیٹھا ہوں لیے دل میں غم سقف و در و طاقہم راہ مکاں کے گئی ہر چیز بھی گھر کیمحفوظ ہیں لیکن مرے دیوان کے اوراق
گھروں میں قید در و بام کی ہر اک الجھنگلی گلی کے لبوں سے لپٹ رہی ہوگی
دیکھو ذرا فلک پر کوؤں کی ڈار آئیکیسے مزے میں اڑ کر ان کی قطار آئی
بجھے بجھے سے ہیں شاعر کے ذہن و دل کے دیےبھٹک رہا ہے کہاں جائے روشنی کے لئےروش روش پہ درخشاں ہے برق خوف و ہراسجھلس رہے ہیں در و بام جذبہ و احساسنظر اداس ہے ویراں ہیں سارے نظارےجبین صبح سے پھوٹے لہو کے فوارےزمیں پہ لاشوں کے گلشن میں خوں کی نمیاب اہتمام بہار چمن میں کیا ہے کمیجمال صبح وطن آنسوؤں میں مدغم ہےعروس فصل بہاراں کی آنکھ پر نم ہےبہ فیض جبر و ستم غم نے فتح پائی ہےوفا کے نام پہ دل نے شکست کھائی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books