aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "daur-e-ehtiyaaj"
سخن فریب کوئی مہرباں کی طرحدیار حسن ہے دنیا کی داستاں کی طرحیہ مسکراتی ہوئی صبح و شام و شب کی دلہندل و نظر کے لیے سود بے زیاں کی طرحیہ امتزاج زر شرق و غرب کا کلچرنگاہ حسن لیے عشق عاشقاں کی طرح
وہ اداسی کہ حوروں کو افسوس ہوہوں فرشتے بھی ایسی فضا میں خجلاور کس کس کو اے دورؔ الزام دوںکچھ پسیجا تو ہوگا خدا کا بھی دل
وقت کی گرد چھٹے گی تو بعنوان سحرمنزل شوق کی راہوں کا تعین ہوگااک نئے دور کی تعمیر کریں گے ہم سبچاند تاروں سے سجا اپنا نشیمن ہوگا
ہم وہی اہل جنوں اہل وفا صاحب دلہم کہ ہر دور میں اوراق زمانہ کے امیںوہ لہو اپنے ہی ماتھے سے بہا ہے جس سےآج دیوار خرد کی ہے لہو رنگ جبیں
نفس میں شیرانہ تیور آرزو روبہ مزاجاحتیاج و احتیاج و احتیاج و احتیاج!
میرے آبا و اجداد نے حرمت آدمی کے لیےتا ابد روشنی کے لیےکلمۂ حق کہامقتلوں قید خانوں صلیبوں میں بہتا لہو ان کے ہونے کا اعلان کرتا رہاوہ لہو حرمت آدمی کی ضمانت بناتا ابد روشنی کی علامت بنااور میں پا برہنہ سر کوچۂ احتیاجرزق کی مصلحت کا اسیر آدمیسوچتا رہ گیاجسم میں میرے ان کا لہو ہے تو پھر یہ لہو بولتا کیوں نہیں؟
خواب و خیال ہے اک اب دور شاد کامیبربادیوں کا باعث تکرار ہے مقامی
اس دور مے کشی میں کسے ہوش تھا حبیبؔکب آئی اور کب وہ پلاتی چلی گئی
دور حاضر کے تمایک شرمندہ انسان ہو
ملک کو حاصل ہو آزادیختم ہو دور ستم ایجادیدور ہو اس کی سب بربادیچرخ پہ چمکے بن کے تاراپیارا بھارت دیس ہمارا
یہی پیغام ہے ہلالؔ اپنادور جمہور جاوداں کر لو
اے سیہ فام حسینہ ترا عریاں پیکرکتنی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں غلطیدہ ہےجانے کس دور الم ناک سے لے کر اب تکتو کڑے وقت کے زندانوں میں خوابیدہ ہے
ظلم کا سد باب کب ہوگاختم دور عذاب کب ہوگا
لہریں اٹھ اٹھ کے سلامی دیں گیگنگنائیں گی ہوائیں کہ گیا دور خزاں
جہاد ختم ہوا دور آشتی آیاسنبھل کے بیٹھ گئے محملوں میں دیوانے
دیس کی حالت پھر ہو چنگیآئے وہی دور یک رنگیختم ہوں باتیں سب بے ڈھنگیاترے گلے سے طوق فرنگیگورے سب ہجرت کر جائیںملک کے پھر اچھے دن آئیں
پھر بنیں گے نئے خاکے کہ یہی صورت شبوحشت دور سیاست کی گواہی ہوگیشہر بھی شہر گلستاں کی طرح جاگے گالفظ کے ہاتھ سے دہشت کی تباہی ہوگی
دور خزاں میں بھی تری کلیاں کھلی رہیںتا حشر یہ حسین فضائیں بسی رہیں
ایسے میں کہاں فلسفہ سوجھے ہے کسی کوچلتا رہے ہر وقت جہاں دور خرافات
پرانی سطوتوں کی بارگاہیں ہیں تزلزل میںنیا دور آ رہا ہے اب زمانہ کے تسلسل میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books