aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "davaat"
لیلیٰ ناز برافگندہ نقاب آتی تھیاپنی آنکھوں میں لیے دعوت خواب آتی تھی
جہاں میں دانش و بینش کی ہے کس درجہ ارزانیکوئی شے چھپ نہیں سکتی کہ یہ عالم ہے نورانیکوئی دیکھے تو ہے باریک فطرت کا حجاب اتنانمایاں ہیں فرشتوں کے تبسم ہائے پنہانییہ دنیا دعوت دیدار ہے فرزند آدم کوکہ ہر مستور کو بخشا گیا ہے ذوق عریانییہی فرزند آدم ہے کہ جس کے اشک خونیں سےکیا ہے حضرت یزداں نے دریاؤں کو طوفانیفلک کو کیا خبر یہ خاکداں کس کا نشیمن ہےغرض انجم سے ہے کس کے شبستاں کی نگہبانیاگر مقصود کل میں ہوں تو مجھ سے ماورا کیا ہےمرے ہنگامہ ہائے نو بنو کی انتہا کیا ہے
یہ مانا زندگی ہم کو بہت مصروف کر دے گیہمارے ذہن کو دنیا کے اندازوں سے بھر دے گیہزاروں مسئلوں پر دعوت فکر و نظر دے گیکہ جب تھوڑی سی مہلت گردش شام و سحر دے گی
خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام امراض سے شفا دےبھرے ہوئے ہیں رئیس زادے امیر زادے شریف زادےلطیف و خوش وضع چست و چالاک و صاف و پاکیزہ شاد و خرمطبیعتوں میں ہے ان کی جودت دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادےکمال محنت سے پڑھ رہے ہیں کمال غیرت سے پڑھ رہے ہیںسوار مشرق راہ میں ہیں تو مغربی راہ میں پیادےہر اک ہے ان میں کا بے شک ایسا کہ آپ اسے چاہتے ہیں جیسادکھاوے محفل میں قد رعنا جو آپ آئیں تو سر جھکا دےفقیر مانگے تو صاف کہہ دیں کہ تو ہے مضبوط جا کما کھاقبول فرمائیں آپ دعوت تو اپنا سرمایہ کل کھلا دےبتوں سے ان کو نہیں لگاوٹ مسوں کی لیتے نہیں وہ آہٹتمام قوت ہے صرف خواندن نظر کے بھولے ہیں دل کے سادےنظر بھی آئے جو زلف پیچاں تو سمجھیں یہ کوئی پالیسی ہےالکٹرک لائٹ اس کو سمجھیں جو برق وش کوئی کودےنکلتے ہیں کر کے غول بندی بنام تہذیب و درد مندییہ کہہ کے لیتے ہیں سب سے چندے جو تم ہمیں دو تمہیں خدا دےانہیں اسی بات پر یقیں ہے کہ بس یہی اصل کار دیں ہےاسی سے ہوگا فروغ قومی اسی سے چمکیں گے باپ دادےمکان کالج کے سب مکیں ہیں ابھی انہیں تجربے نہیں ہیںخبر نہیں ہے کہ آگے چل کر ہے کیسی منزل ہیں کیسے جادےدلوں میں ان کے ہیں نور ایماں قوی نہیں ہے مگر نگہباںہوائے منطق ادائے طفلی یہ شمع ایسا نہ ہو بجھا دےفریب دے کر نکالے مطلب سکھائے تحقیر دین و مذہبمٹا دے آخر کو دین و مذہب نمود ذاتی کو گو بڑھا دےیہی بس اکبرؔ کی التجا ہے جناب باری میں یہ دعا ہےعلوم و حکمت کا درس ان کو پروفیسر دیں سمجھ خدا دے
پھر برق فروزاں ہے سر وادئ سیناپھر رنگ پہ ہے شعلۂ رخسار حقیقتپیغام اجل دعوت دیدار حقیقتاے دیدۂ بینااب وقت ہے دیدار کا دم ہے کہ نہیں ہےاب قاتل جاں چارہ گر کلفت غم ہےگلزار ارم پرتو صحرائے عدم ہےپندار جنوںحوصلۂ راہ عدم ہے کہ نہیں ہےپھر برق فروزاں ہے سر وادئ سینا، اے دیدۂ بیناپھر دل کو مصفا کرو، اس لوح پہ شایدمابین من و تو نیا پیماں کوئی اترےاب رسم ستم حکمت خاصان زمیں ہےتائید ستم مصلحت مفتیٔ دیں ہےاب صدیوں کے اقرار اطاعت کو بدلنےلازم ہے کہ انکار کا فرماں کوئی اترے
میڈیا تیرا دوات اور قلم تیرے ہیںجتنے بھی ملک ہیں ڈالر کی قسم تیرے ہیںیہ شہنشاہ یہ ارباب حرم تیرے ہیںکاش تجھ کو یقیں آ جائے کہ ہم تیرے ہیں
منی تیرے دانت کہاں ہیںدانت تھے میں نے دودھ پلا کر سات برس میں پالےآ کر ان کو لے گئے چوہے لمبی مونچھوں والےگڑ کا ان کو ماٹ ملا تھا میٹھا اور مزے دارلاکھ خوشامد کر کے مجھ سے لے لئے دانت ادھارمنی تیرے دانت کہاں ہیںبلی تھی اک مامی موسی چپکے چپکے آئیپنجوں پر تھی دیگ کی کھرچن ہونٹوں پر بالائیبولی گڑ کے ماٹ پہ میں نے چوہے دیکھے چارحصہ آدھوں آدھ رہے گا دے دو دانت ادھارمنی تیرے دانت کہاں ہیںبعد میں بوڑھا موتی آیا رونی شکل بنائےبولا بی بی اس بلی کا کچھ تو کریں اپائےدودھ نہ چھوڑے گوشت نہ چھوڑے ہیں بڈھا لاچاراس کو کروں شکار جو مجھ کو دے دو دانت ادھاراچھی منی تم نے اپنے اتنے دانت گنوائےکچھ چوہوں نے کچھ بلی نے کچھ موتی نے پائےباقی جو دو چار رہے ہیں وہ ہم کو دلواؤاک دعوت میں آج ملیں گے تکے اور پلاؤمرغی کے پائے کا سالن بیگن کا آچاردو گی یا کسی اور سے مانگوںہاں دیے ادھاربابا ہاں ہاں دیے ادھارمنی تیرے دانت کہاں ہیں
سید سے آج حضرت واعظ نے یہ کہاچرچا ہے جا بجا ترے حال تباہ کاسمجھا ہے تو نے نیچر و تدبیر کو خدادل میں ذرا اثر نہ رہا لا الہ کاہو تجھ سے ترک صوم و صلوٰۃ و زکوٰۃ و حجکچھ ڈر نہیں جناب رسالت پناہ کاشیطان نے دکھا کے جمال عروس دہربندہ بنا دیا ہے تجھے حب جاہ کااس نے دیا جواب کہ مذہب ہو یا رواجراحت میں جو مخل ہو وہ کانٹا ہے راہ کاافسوس ہے کہ آپ ہیں دنیا سے بے خبرکیا جانیے جو رنگ ہے شام و پگاہ کایورپ کا پیش آئے اگر آپ کو سفرگزرے نظر سے حال رعایا و شاہ کاوہ آب و تاب و شوکت ایوان خسرویوہ محکموں کی شان وہ جلوہ سپاہ کاآئے نظر علوم جدیدہ کی روشنیجس سے خجل ہو نور رخ مہر و ماہ کادعوت کسی امیر کے گھر میں ہو آپ کیکمسن مسوں سے ذکر ہو الفت کا چاہ کانوخیز دل فریب گل اندام نازنیںعارض پہ جن کے بار ہو دامن نگاہ کارکئے اگر تو ہنس کے کہے اک بت حسیںسن مولوی یہ بات نہیں ہے گناہ کااس وقت قبلہ جھک کے کروں آپ کو سلامپھر نام بھی حضور جو لیں خانقاہ کاپتلون و کوٹ و بنگلہ و بسکٹ کی دھن بندھےسودا جناب کو بھی ہو ترکی کلاہ کامنبر پہ یوں تو بیٹھ کے گوشے میں اے جنابسب جانتے ہیں وعظ ثواب و گناہ کا
اک دم سےچلتے چلتےاس نے کمر کے جھٹکے سےراہ چلنے والےشہدوں، حرام خوروںسے التفات مانگااور دعوت نظر دیاس کے ضخیمکولھوں نےآگ اور لذتخالی دلوں میں بھر دی
نگاہوں کی دعوت کو پامال کرنامذاق لطافت کو پامال کرنا
بخارا سمرقند اک خال ہندو کے بدلے!بجا ہے بخارا سمرقند باقی کہاں ہیں؟بخارا سمرقند نیندوں میں مدہوشاک نیلگوں خامشی کے حجابوں میں مستوراور رہروؤں کے لیے ان کے در بندسوئی ہوئی مہ جبینوں کی پلکوں کے مانندروسی ''ہمہ اوست'' کے تازیانوں سے معذوردو مہ جبینیں!بخارا سمرقند کو بھول جاؤاب اپنے درخشندہ شہروں کیطہران و مشہد کے سقف و در و بام کی فکر کر لوتم اپنے نئے دور ہوش و عمل کے دل آویز چشموں کواپنی نئی آرزوؤں کے ان خوبصورت کنایوں کومحفوظ کر لو!ان اونچے درخشندہ شہروں کیکوتہ فصیلوں کو مضبوط کر لوہر اک برج و بارو پر اپنے نگہباں چڑھا دوگھروں میں ہوا کے سواسب صداؤں کی شمعیں بجھا دو!کہ باہر فصیلوں کے نیچےکئی دن سے رہزن ہیں خیمہ فگنتیل کے بوڑھے سودا گروں کے لبادے پہن کروہ کل رات یا آج کی رات کی تیرگی میںچلے آئیں گے بن کے مہماںتمہارے گھروں میںوہ دعوت کی شب جام و مینا لڑھائیں گےناچیں گے گائیں گےبے ساختہ قہقہوں ہمہموں سےوہ گرمائیں گے خون محفل!
طبیعت جبریہ تسکین سے گھبرائی جاتی ہےہنسوں کیسے ہنسی کمبخت تو مرجھائی جاتی ہےبہت چمکا رہا ہوں خال و خط کو سعیٔ رنگیں سےمگر پژمردگی سی خال و خط پر چھائی جاتی ہےامیدوں کی تجلی خوب برسی شیشۂ دل پرمگر جو گرد تھی تہ میں وہ اب تک پائی جاتی ہےجوانی چھیڑتی ہے لاکھ خوابیدہ تمنا کوتمنا ہے کہ اس کو نیند ہی سی آئی جاتی ہےمحبت کی نگوں ساری سے دل ڈوبا سا رہتا ہےمحبت دل کی اضمحلال سے شرمائی جاتی ہےفضا کا سوگ اترا آ رہا ہے ظرف ہستی میںنگاہ شوق روح آرزو کجلائی جاتی ہےیہ رنگ مے نہیں ساقی جھلک ہے خوں شدہ دل کیجو اک دھندلی سی سرخی انکھڑیوں میں پائی جاتی ہےمرے مطرب نہ دے للّٰلہ مجھ کو دعوت نغمہکہیں ساز غلامی پر غزل بھی گائی جاتی ہے
مسلماں قرض لے کر عید کا ساماں خریدیں گےجو دانا ہیں وہ بیچیں گے جو ہیں ناداں خریدیں گےجو سیاں شوق سے کھائیں وہ سویاں خریدیں گےمرکب سود کا سودا بہ نقد جاں خریدیں گےمسلمانوں کے سر پر جب مہ شوال آتا ہےتو ان کی اقتصادیات میں بھونچال آتا ہےبہم دست و گریباں سیلز مین اور ان کے گاہک ہیںوہ غل برپا ہے جیسے نغمہ زن جوہڑ میں مینڈک ہیںمزاجاً روزہ دار شام بارود اور گندھک ہیںاور ان میں نظم اور ضبط اور روا داری یہاں تک ہیںکہ شدت بھوک کی اور پیاس کی ایسے مٹاتے ہیںبہ زعم روزہ ابنائے وطن کو کاٹ کھاتے ہیںجو مجھ ایسے ہیں رند ان کو بھی زعم پارسائی ہےاور اس مضمون کی اک دعوت افطار آئی ہےکہ اک چالیس سالہ طفل کی روزہ کشائی ہےفرشتے اس پہ حیراں دم بخود ساری خدائی ہےخداوند دوعالم سے وہ یہ بیوپار کرتے ہیںجو رکھا ہی نہیں روزہ اسے افطار کرتے ہیںمیاں بیوی چلے بازار کو بہر خریداریمٹھائی پھل سویاں عطر جوتے گوشت ترکاریجو شے بیوی نے لی وہ دوش پر شوہر کے دے ماریوہ بے چارہ تو خچر ہے برائے بار برداریبزور قرض دوکانوں پہ اتنا فضل باری ہےکہ اس گھمسان میں انسان پر انسان طاری ہےلیا بیوی نے شوہر کے لئے جوتا جو ارزاں ہےوہ امریکی مدد کی طرح اس کے سر پہ احساں ہےکہ اس سے فائدہ پہنچے گا اس کو جس کی دوکاں ہےاور اس شوہر کا جوتا خود اسی کے سر پہ رقصاں ہےیہ صورت دیکھ کر کہتے ہیں اکثر دل میں بن بیاہے''دل و دیں نقد لا ساقی سے گر سودا کیا چاہے''جو سلنے کو دیئے کپڑے وہ ہیں سب حبس بیجا میںکہ درزی چھپ گیا جب اطلس و کمخواب و دیبا میںتو ریڈی میڈ کپڑوں کی دکانیں جھانکتا تھا میںفلک پر قیمتیں لٹکی ہوئی تھیں شاخ طوبیٰ میںمبارک ماہ کے اندر ہمیں سے نفع خوری ہےنہیں ہوتا ہے باطل جس سے روزہ یہ وہ چوری ہےیہ سویاں جو بل کھاتی ہوئی معدے میں جائیں گیسیاسی گتھیوں کو اور الجھانا سکھائیں گیہماری آنے والی نسل کے لیڈر بنائیں گیجو لیڈر بن چکے ہیں ایبڈو ان کو کرائیں گی''قد و گیسو میں قیس و کوہ کن کی آزمائش ہےجہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے''مہینے بھر کے روزوں بعد حق نے دن یہ دکھلایاعلی الاعلان کھایا دوستوں کے ساتھ جو پایایہ پہلے ڈر تھا ہم کو جھانک کر دیکھے نہ ہمسایہبجز خوف خدا دن میں بظاہر کچھ نہ تھا کھایاحسینوں مہ وشوں کو اب سر بازار دیکھیں گےگئے وہ دن کہ کہتے تھے پس از افطار دیکھیں گے
تمہاری دعوت قبول مجھ کو مگر تم اتنا خیال رکھنابیئر کسی بھی برانڈ کی ہو چکن فرائیڈ حلال رکھنا
آؤ لان میں بیٹھیںشام کا سورج دیکھیںزرد خزاں کی سرگم سےجی کو بہلائیںجنگل کو اک گیت سنائیںسرخ سنہرےپیڑ سے گرتےدرد کے پتےہاتھ میں لے کران کی ریکھاؤں کو دیکھیںپتوں کو چٹکی میں گھمائیںاپنے اپنے ہاتھ کی دونوں پڑھیں لکیریںاک دوجے کی آنکھوں کی گہرائی میں اتریںپھول سجے ہیں جو گلدان میں میز کے اوپران کو چومیںدودھ کے جیسے اجلے کپوں میںکیتلی سے تم چائے انڈیلوبنا شکر اور بنا دودھ کی چائے سنہریاچھی لگتی ہے جب پیار کی بات کریںماضی کے قصے دہرائیںہنستے ہنستے آنکھوں میں آنسو آ جائیںان باتوں سے چائے میٹھی ہو جاتی ہےآؤ لان میں بیٹھیںچینی چائے پئیں ہم
کس طرح ریت کے سمندر میںکشتیٔ زیست ہے رواں سوچو
تیرا ظاہر خوش نما ہے تیرا باطن ہے سیاہہر ادا تیری مکمل دعوت جرم و گناہ
کیا لے گا خاک مردہ و افتادہ بن کے توطوفان بن کہ ہے تری فطرت میں انقلابکیوں ٹمٹمائے کرمک شب تاب کی طرحبن سکتا ہے تو اوج فلک پر اگر شہابوہ خاک ہو کہ جس میں ملیں ریزہ ہائے زروہ سنگ بن کہ جس سے نکلتے ہیں لعل نابچڑیوں کی طرح دانے پہ گرتا ہے کس لیےپرواز رکھ بلند کہ تو بن سکے عقابوہ چشمہ بن کہ جس سے ہوں سرسبز کھیتیاںرہ رو کو تو فریب نہ دے صورت سراب
بربط نواز بزم الوہی ادھر تو آدعوت دہ پیام عبودی ادھر تو آ
پھر دل میں درد سلسلہ جنباں ہے کیا کروںپھر اشک گرم دعوت مژگاں ہے کیا کروںپھر چاک چاک سینہ ہے آواز دوں کسےپھر تار تار جیب و گریباں ہے کیا کروںپھر اتصال گردن و خنجر ہے کیا کہوںپھر اختلاط زخم و نمک داں ہے کیا کروںپھر اک گرہ حریف نفس ہے کسے بتاؤںپھر اک کھٹک رفیق رگ جاں ہے کیا کروںسینے میں ایک دشنہ سا لیتا ہے کروٹیںرگ رگ میں ایک آگ سی غلطاں ہے کیا کروںجس چیز پر مدار تھا درمان زیست کاوہ شے پھر آج درد کا عنواں ہے کیا کروںپھر سر پر ابر دور جنوں ہے گھرا ہواپھر دل میں بوئے زلف پریشاں ہے کیا کروںپھر عشق ناصبور کا پرتو ہے روح پرپھر دل حضور عقل پشیماں ہے کیا کروںبیتے دنوں کی یاد پر افشاں ہے کیا کروںراتوں کی نم ہواؤں میں تاروں کی چھاؤں میںبیتے دنوں کی یاد پرافشاں ہے کیا کروںجس چاندنی کو کھوئے ہوئے مدتیں ہوئیںپھر ذہن کے افق سے نمایاں ہے کیا کروںتقدیر نے کبھی جو نکالا تھا اک جلوسپھر جادۂ نفس پہ خراماں ہے کیا کروںوہ غم کہ دے چکا ہوں جسے بارہا شکستپھر دل سے جوشؔ دست و گریباں ہے کیا کروں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books